منازل سلوک اور مسئلہ وحدت الوجود و وحدت الشہود
سالکِ راہ خدا چار منازل سلوک کی سیر کی تکمیل کے بعد ولایت سے سرفراز کیا جاتا ہے. ذیل میں ان عوالم کی مختصر تفصیل پیش خدمت ہے.
عالم ناسوت: اسے عالم شہادت بھی کہتے ہیں جس میں اس ظاہری دنیا اور جسمانیت یعنی انفس و آفاق میں رب تعالیٰ کی نشانیوں اور قدرت کی مشاہدہ روحانیت کے مسافر (سالک) کو کرایا جاتا ہے. صوفیاء کرام کے نزدیک جسم انسانی کے اندر ہی ساری کائنات کا نقشہ موجود ہے اور اس عالم کی سیر میں رب العزت کی قدرت اور مشیّت سے ربط کا علم و ادارک سالک حاصل کرتا ہے. یہ سلوک الی اللہ کی پہلی منزل ہے.
عالم ملکوت: عالم ناسوت کی سیر کی تکمیل کے بعد سالک علم ملکوت کی سیر شروع کرتا ہے. ملکوت ارواح و ملائکہ کا عالم ہے. ناسوت کو عالم خلق اور ملکوت کو عالم امر بھی کہا جاتا ہے. اس عالم میں سالک انبیاء کرام علیہم السلام، فرشتوں، صالحین کی ارواح سے ملتا اور فیض یاب ہوتا ہے. اس عالم میں روح اور اس سے متعلقہ اسرار و لطائف سالک پر منکشف ہوتے ہیں.
عالم جبروت: یہ عالم رب العالمین کے اسماء و صفات کا ہے. یہاں سالک اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرتا اور صفات و اسماء کے مخلوق کے معاملات سے تعلق اور انکا فیض اس پر منکشف ہوتا ہے.. کس شخص یا شے میں سے کس صفت کا ظہور زیادہ ہے یا کس اسم مبارک سے اسے فیض مل رہا ہے یہ سب اس عالم سے متعلقہ ہے.. یہاں پر سالک کو زبردست روحانی قوت اور تصرف بھی عطا ہوتا ہے مگر منزل مقصود اس سے آگے ہے.. گو کہ یہ عالم عالم لاہوت سے مطلقاً جدا بھی نہیں اور اسکا عین بھی نہیں.
عالم لاہوت: یہ عالم ذات باری تعالیٰ کے وصال و قرب کا ہے. یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر سالک کو ولایت سے نوازا جاتا ہے. اس عالم کی کوئی انتہاء نہیں ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ لامحدود ہے جو اس عالم کی سیر میں جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی اسکے درجات بلند تر ہیں.
اس عالم میں سالک کو فنا فی اللہ اور بقا باللہ سے سرفراز کیا جاتا ہے.
وحدت الوجود اور وحدت الشہود:
وحدۃالوجود کی سادہ اور آسان تعریف کر یں تو اس سے مراد اللہ تعا لی کی یاد میں ایسے گم ہو جانا ہے کہ سالک کے ذہن و حافظہ و وجدان و مشاہدہ میں سوائے ذات باری تعالیٰ کے کچھ نہ رہے حتی کہ سالک کی اپنی ذات بھی معدوم ہو جائے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جب سورج جلوہ افروز ہوتا ہے تو جاند ستارے غائب ہو جاتے ہیں.
اور وحدۃالشہود سے مراد "ایک دیکھنا ہے"یعنی چاروں طرف" تُو ہی تُو "ہے والا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ سالک ہر چیز میں جلوہ باری تعالٰی دیکھا ہے یہاں بھی کیفیت وہی ہے کہ جیسے سورج کی جلوہ افروزی سے چاند ستارے غائب ہو جاتے لیکن سالک کے علم و شعور میں اشیاء کا وجود باقی رہتا ہے۔
یعنی وحدۃالوجود میں توحید الہٰی کے غلبہ، سرور کی کیفیات کے دوران میں سالک وجدانی طور پر ذات الہٰی میں ایسا محوو مستغرق ہوتا ہے کہ وجود باری کے علاوہ اور کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور سالک کے قلب و ذہن سے ما سوا اللہ یکسر دور ہو جاتے ہیں اور صرف وجود حق کا ادراک و احساس ہی باقی رہ جاتا ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ وجودی سلوک میں سالک کو کامل محویت و فنا حاصل ہوتی ہے جبکہ شہودی سلوک میں حقیقت اشیاء کا ادراک محو نہیں ہوتا جو کہ ظاہراً صحیح معلوم ہوتا ہے مگر وجودی حضرات کہ یہاں بھی حقیقت اشیاء کا انکار گمراہی ہے. تخلیق و عنایات الہیہ کا انکار یا حلول و اتحاد کفر خالص ہے اس لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے اختلاف کو نزاع لفظی کہا ہے جو کہ بہت حد تک درست بات ہے.
یہاں پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ کچھ جہلا و گمراہ لوگ جو وحدت الوجود کی الف ب تک نہیں سمجھتے وہ ہندوانہ و مشرکانہ نظریات کی پیروی کرتے ہوئے ہر شے کو خدا کا ذات کا حصہ یا خدا کو ہر شے میں حلول کیا ہوا جانتے ہیں اور ایسے لوگ اپنے آپ کو شریعت کی پابندیوں یعنی نماز روزہ وغیرہ سے بھی مبرا جانتے ہیں انکا اسلامی تصوف یا مسلمان صوفیاء کے نظریہ وحدت الوجود سے دور کا بھی تعلق نہیں کیونکہ مسلمان صوفیاء کے نزدیک خواہ وہ وجودی ہوں یا شہودی ذات باری تعالیٰ وراء الورا ثم وراء الوراء ہے اور خود کو شریعت کی پابندیوں سے آزاد جاننا جو کی پیغمبران عظام کے لیے بھی جائز نہ ہوا، ایسا عقیدہ محض الحاد و زندقہ ہے اسلامی تصوف تو شریعتِ اسلامی کی دل و جان و اخلاص اور کامل پابندی کرتے ہوئے مرتبہ احسان تک پہنچنے کا نام ہے نہ کہ اطاعت خدا و رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے آزادی کا.
سالکِ راہ خدا چار منازل سلوک کی سیر کی تکمیل کے بعد ولایت سے سرفراز کیا جاتا ہے. ذیل میں ان عوالم کی مختصر تفصیل پیش خدمت ہے.
عالم ناسوت: اسے عالم شہادت بھی کہتے ہیں جس میں اس ظاہری دنیا اور جسمانیت یعنی انفس و آفاق میں رب تعالیٰ کی نشانیوں اور قدرت کی مشاہدہ روحانیت کے مسافر (سالک) کو کرایا جاتا ہے. صوفیاء کرام کے نزدیک جسم انسانی کے اندر ہی ساری کائنات کا نقشہ موجود ہے اور اس عالم کی سیر میں رب العزت کی قدرت اور مشیّت سے ربط کا علم و ادارک سالک حاصل کرتا ہے. یہ سلوک الی اللہ کی پہلی منزل ہے.
عالم ملکوت: عالم ناسوت کی سیر کی تکمیل کے بعد سالک علم ملکوت کی سیر شروع کرتا ہے. ملکوت ارواح و ملائکہ کا عالم ہے. ناسوت کو عالم خلق اور ملکوت کو عالم امر بھی کہا جاتا ہے. اس عالم میں سالک انبیاء کرام علیہم السلام، فرشتوں، صالحین کی ارواح سے ملتا اور فیض یاب ہوتا ہے. اس عالم میں روح اور اس سے متعلقہ اسرار و لطائف سالک پر منکشف ہوتے ہیں.
عالم جبروت: یہ عالم رب العالمین کے اسماء و صفات کا ہے. یہاں سالک اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرتا اور صفات و اسماء کے مخلوق کے معاملات سے تعلق اور انکا فیض اس پر منکشف ہوتا ہے.. کس شخص یا شے میں سے کس صفت کا ظہور زیادہ ہے یا کس اسم مبارک سے اسے فیض مل رہا ہے یہ سب اس عالم سے متعلقہ ہے.. یہاں پر سالک کو زبردست روحانی قوت اور تصرف بھی عطا ہوتا ہے مگر منزل مقصود اس سے آگے ہے.. گو کہ یہ عالم عالم لاہوت سے مطلقاً جدا بھی نہیں اور اسکا عین بھی نہیں.
عالم لاہوت: یہ عالم ذات باری تعالیٰ کے وصال و قرب کا ہے. یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر سالک کو ولایت سے نوازا جاتا ہے. اس عالم کی کوئی انتہاء نہیں ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ لامحدود ہے جو اس عالم کی سیر میں جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی اسکے درجات بلند تر ہیں.
اس عالم میں سالک کو فنا فی اللہ اور بقا باللہ سے سرفراز کیا جاتا ہے.
وحدت الوجود اور وحدت الشہود:
وحدۃالوجود کی سادہ اور آسان تعریف کر یں تو اس سے مراد اللہ تعا لی کی یاد میں ایسے گم ہو جانا ہے کہ سالک کے ذہن و حافظہ و وجدان و مشاہدہ میں سوائے ذات باری تعالیٰ کے کچھ نہ رہے حتی کہ سالک کی اپنی ذات بھی معدوم ہو جائے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جب سورج جلوہ افروز ہوتا ہے تو جاند ستارے غائب ہو جاتے ہیں.
اور وحدۃالشہود سے مراد "ایک دیکھنا ہے"یعنی چاروں طرف" تُو ہی تُو "ہے والا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ سالک ہر چیز میں جلوہ باری تعالٰی دیکھا ہے یہاں بھی کیفیت وہی ہے کہ جیسے سورج کی جلوہ افروزی سے چاند ستارے غائب ہو جاتے لیکن سالک کے علم و شعور میں اشیاء کا وجود باقی رہتا ہے۔
یعنی وحدۃالوجود میں توحید الہٰی کے غلبہ، سرور کی کیفیات کے دوران میں سالک وجدانی طور پر ذات الہٰی میں ایسا محوو مستغرق ہوتا ہے کہ وجود باری کے علاوہ اور کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور سالک کے قلب و ذہن سے ما سوا اللہ یکسر دور ہو جاتے ہیں اور صرف وجود حق کا ادراک و احساس ہی باقی رہ جاتا ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ وجودی سلوک میں سالک کو کامل محویت و فنا حاصل ہوتی ہے جبکہ شہودی سلوک میں حقیقت اشیاء کا ادراک محو نہیں ہوتا جو کہ ظاہراً صحیح معلوم ہوتا ہے مگر وجودی حضرات کہ یہاں بھی حقیقت اشیاء کا انکار گمراہی ہے. تخلیق و عنایات الہیہ کا انکار یا حلول و اتحاد کفر خالص ہے اس لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے اختلاف کو نزاع لفظی کہا ہے جو کہ بہت حد تک درست بات ہے.
یہاں پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ کچھ جہلا و گمراہ لوگ جو وحدت الوجود کی الف ب تک نہیں سمجھتے وہ ہندوانہ و مشرکانہ نظریات کی پیروی کرتے ہوئے ہر شے کو خدا کا ذات کا حصہ یا خدا کو ہر شے میں حلول کیا ہوا جانتے ہیں اور ایسے لوگ اپنے آپ کو شریعت کی پابندیوں یعنی نماز روزہ وغیرہ سے بھی مبرا جانتے ہیں انکا اسلامی تصوف یا مسلمان صوفیاء کے نظریہ وحدت الوجود سے دور کا بھی تعلق نہیں کیونکہ مسلمان صوفیاء کے نزدیک خواہ وہ وجودی ہوں یا شہودی ذات باری تعالیٰ وراء الورا ثم وراء الوراء ہے اور خود کو شریعت کی پابندیوں سے آزاد جاننا جو کی پیغمبران عظام کے لیے بھی جائز نہ ہوا، ایسا عقیدہ محض الحاد و زندقہ ہے اسلامی تصوف تو شریعتِ اسلامی کی دل و جان و اخلاص اور کامل پابندی کرتے ہوئے مرتبہ احسان تک پہنچنے کا نام ہے نہ کہ اطاعت خدا و رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے آزادی کا.
No comments:
Post a Comment