Wednesday, 26 May 2021

حجر ابن عدی کا صحابی ہونا ثابت نہیں

 

*حجر بن عدی کا صحابی ہونا ثابت نہیں سب سے پہلے جو بد دیانتی کی جاتی ہے وہ یہی ہے کہ حجر بن عدی کو صحابی کہہ کر پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے حجر بن عدی 'رضی اللہ عنہ' کو شہید کر دیا گیا اور اس طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو مطعون کرنے کیلئے میدان تیار کیا جاتا ہے* 


*یہ بات بڑے بڑے ائمہ اور محدثین نے لکھی کہ حجر ابن عدی صحابی نہیں تھا*


*🔴 امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب التاریخ الکبیر میں لکھا حجر ابن عدی صحابی نہیں تھا*

*(کتاب التاریخ الکبیر القسم الاول من الجز الثانی صفحہ 72)*


*🔴 ابو حاتم الرازی فرماتے ہیں* *حجر ابن عدی صحابی نہیں تھا*

*(الجرح والتعدیل جلد 1 صفحہ* *266)*


*🔴  امام ابن حبان اپنی کتاب الثقات میں لکھتے ہیں حجر ابن عدی صحابی نہیں تھا*

*(الثقات جلد 4 صفحہ 176)* 


*🔴 خلیفہ بن خیاط بہت بڑے مؤرخ ہیں کہتے ہیں حجر ابن عدی صحابی نہیں تھا*

*(تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 213)*


*🔴 ابن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں حجر ابن عدی صحابی نہیں تھا*

*(الطبقات الکبری ابن سعد المجلد السادس صفحہ 217)* 


*🔴 امام ابن الجوزی رحمہ اللہ (جن کو روافض ان کی ایک کتاب کے حوالے سے بہت پرموٹ کرتے ہیں) اپنی کتاب تلقیح فھوم اہل الاثر میں فرماتے ہیں حجر ابن عدی کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس کی نبی مکرم ﷺ سے کوئی روایت ہے لیکن حجر ابن عدی کا صحابی ہونا ثابت نہیں*

*(تلقیح فھوم اہل الاثر صفحہ 149)*


*بعض اہل علم کو تاریخ کی چند روایات سے غلطی لگی کہ حجر ابن عدی صحابی تھا لیکن حجر ابن عدی کا صحابی ہونا کسی صحیح سند ثابت نہیں*

کیا حجر ابن عدی کو ظلماً شہید کیا گیا؟

   مستدرک حاکم کی 13 روایات کا تحقیقی جائزہ 🔴* 

مرزا جہلمی اور اس کے مقلدین مستدرک حاکم کی یہ 13 روایات پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں اور کہتے ہیں حجر ابن عدی کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ظلماً شہید کروایا 

ان 13 روایات میں 10 دس روایات ضعیف ہیں اور باقی 3 صحیح روایات مرزا کے دعوی پر پوری نہیں اترتیں


🔴 پہلی روایت (مستدرک حاکم 5972) 

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، حَدَّثَنِي مَوْلَى زِيَادٍ قَالَ‏:‏ أَرْسَلَنِي زِيَادٌ إِلَى حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ وَيُقَالُ فِيهِ‏:‏ ابْنُ الْأَدْبَرِ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ، ثُمَّ أَعَادَنِي الثَّانِيَةَ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ قَالَ‏:‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، إِنِّي أُحَذِّرُكَ أَنْ تَرْكَبَ أَعْجَازَ أُمُورٍ هَلَكَ مَنْ رَكِبَ صُدُورَهَا‏. 

زیاد کے آزادکردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ مجھے زیادنے حضرت حجر بن عدی کی جانب ان کو بلانے کے لئے بھیجا ، ان کو’ابن ادبر کہا جا تا تھا۔ حضرت حجر نے آنے سے انکار کر دیا۔ زیاد نے دوسری مرتبہ بھیجا لیکن انہوں نے اس باربھی آنے سے منع کر دیا۔ اس نے تیسری مرتبہ یہ کہ کر بھیجا کہ تم ایسے امور کی دم کے پیچھے پڑنے سے باز آ جاؤ جن امور کے سینوں پر سوار ہونے والے بھی ہلاک ہو گئے ۔ 

یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں محمد بن الزبیر الحنظلی متروک ہے اور مولی زیاد مجہول ہے 


🔴 دوسری روایت (مستدرک حاکم 5973) 

‏حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبَى بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عُلَاثَةَ قَالَ‏:‏ رَأَيْتُ حُجْرَ بْنَ الْأَدْبَرِ حِينَ أَخْرَجَ بِهِ زِيَادٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَرِجْلَاهُ مِنْ جَانِبٍ وَهُوَ عَلَى بَعِيرٍ‏. 

زیاد بن علاثہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت حجر بن ادبر کو دیکھا جب زیاد نے ان کوحضرت معاویہ کی جانب بھیجا۔ (ان کی کیفیت یہ تھی کہ ان کو اونٹ کے ساتھ ایک جانب باندھا گیا تھا اوران کے پاؤں ایک جانب لٹک رہے تھے۔ 

یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں سلیمان بن مہران الاعمش مدلس ہیں عن سے بیان کر رہے ہیں اور سماع کی صراحت موجود نہیں 


‏🔴 تیسری روایت (مستدرک حاکم 5974) 

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ‏:‏ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ الْكِنْدِيُّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَ قَدْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ- وَشَهِدَ الْقَادِسِيَّةَ، وَشَهِدَ الْجَمَلَ، وَصِفِّينَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَتَلَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبَى سُفْيَانَ بِمَرْجِ عَذْرَاءَ، وَكَانَ لَهُ ابْنَانِ‏:‏ عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَتَلَهُمَا مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ صَبْرًا، وَقُتِلَ حُجْرٌ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَخَمْسِينَ‏. 

مصعب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں حجر بن عدی کندی کی کنیت ’’ابوعبد الرحمن‘‘ تھی ۔ آپ رسول اللہ کی بارگاہ میں آۓ تھے، جنگ قادسیہ، جنگ جمل اورصفین میں حضرت علی رض کے ہمراہ شریک ہوۓ تھے ۔ معاویہ بن ابوسفیان رض نے ان کو مقام ’’ مرج عذراء‘‘ پر شہید کیا ،ان کے دو بیٹے تھے ،عبداللہ اور عبدالرحمن ۔ان دونوں کو مصعب بن عمیر نے باندھ کر شہید کیا تھا ۔ حضرت حجر بن عدی با ۵۳ ہجری میں شہید ہوۓ ۔ 

یہ روایت سخت منقطع ہے 

امام مصعب بن عبداللہ الزبیری 156 ہجری میں پیدا ہوئے ہیں اور حجر بن عدی کا قتل 51 ہجری میں ہوا یعنی حجر ابن عدی کے قتل کے 105 سال بعد امام مصعب بن عبداللہ الزبیری پیدا ہوئے اور اس روایت میں امام مصعب بن عبداللہ الزبیری اور حجر ابن عدی کے درمیان سند موجود نہیں

 

🔴 چوتھی روایت (مستدرک حاکم 5976) 

حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ‏:‏ رَأَيْتُ حُجْرَ بْنَ عَدِيٍّ وَهُوَ يَقُولُ‏:‏ أَلَا إِنِّي عَلَى بَيْعَتِي لَا أَقِيلُهَا، وَلَا أَسْتَقِيلُهَا سَمَاعَ اللَّهِ وَالنَّاسِ‏. 

ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے حجر ابن عدی کو دیکھا ہے وہ اللہ تعالی اور لوگوں کو گواہ بناتے ہوۓ کہہ رہے تھے خبر دار! میں اپنی بیعت پر قائم ہوں نہ میں نے اس کوتوڑا ہے اور نہ توڑنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ 

یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں سفیان ثوری مدلس ہیں اور عن سے بیان کر رہے ہیں اور سماع کی صراحت موجود نہیں

 

🔴 پانچویں روایت (مستدرک حاکم 5978) 

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِي، بِبَغْدَادَ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرِيدِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبَى شَيْخٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا أَبُو مِخْنَفٍ، أَنَّ هَدِيَّةَ بْنَ فَيَّاضٍ الْأَعْوَرَ، أُمِرَ بِقَتْلِ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ، فَمَشَى إِلَيْهِ بِالسَّيْفِ، فَارْتَعَدَتْ فَرَائِصُهُ، فَقَالَ‏:‏ يَا حُجْرُ، أَلَيْسَ زَعَمْتَ أَنَّكَ لَا تَجْزَعُ مِنَ الْمَوْتِ، فَإِنَّا نَدَعُكَ فَقَالَ‏:‏ وَمَا لِي لَا أَجْزَعُ، وَأَنَا أَرَى قَبْرًا مَحْفُورًا، وَكَفَنًا مَنْشُورًا، وَسَيْفًا مَشْهُورًا، وَإِنَّنِي وَاللَّهِ لَنْ أَقُولَ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ قَالَ‏:‏ فَقَتَلَهُ وَذَلِكَ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ‏. 

ابومخنف فرماتے ہیں: ہدیہ بن فیاض اعور کو حکم دیا گیا کہ حجر بن عدی کوقتل کردو، وہ اپنی تلوار لے کر ان کی جانب بڑھا، تو حجر پر کپکپی طاری ہوگئی ، ہدیہ بن فیاض نے کہا: کیا تم یہ دعوی نہیں کیا کرتے تھے کہ تم موت سے نہیں گھبراتے ہو؟ تا کہ ہم تجھے چھوڑ دیں ۔ حجر نے کہا: میں کیوں نہ گھبراؤں کہ مجھے کھودی ہوئی قبر نظر آ رہی ہے، مجھے بکھرا ہوا کفن دکھائی دے رہا ہے، اورتلوار سونتی ہوئی نظر آ رہی ہے ۔ اور خدا کی قسم! میں وہ بات ہر گز نہیں کہہ سکتاجو اللہ تبارک وتعالی کو ناراض کر دے ۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد ہدیہ بن فیاض نے اس کو شہید کر دیا۔ یہ واقعہ شعبان کے مہینے میں ۵۱ ہجری کا ہے ۔ 

یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں ابومخنف لوط بن یحیی رافضی کذاب راوی ہے محدثین کی ابومخنف پر شدید جرح موجود ہے محدثین اس کو کذاب اور رافضی کہا ہے 


🔴 چھٹی روایت (مستدرک حاکم 5979) 

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ‏:‏ لَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا، وَلَا تُطْلِقُوا عَنِّي قَيْدًا، وَادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي فَإِنَّا نَلْتَقِي غَدًا بِالْجَادَّةِ‏. 

محمد بن سیرین فرماتے ہیں: حجر بن عدی نے فرمایا: تم میراخون نہ دھونا ، اور نہ ہی میری بیڑیاں اتارنا اور مجھے میرے انہی کپڑوں میں دفن کرنا ، کیونکہ کل ہماری ملاقات اپنے نظریے پر قائم رہتے ہوۓ ہوگی ۔ 

یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں اشعث بن سوار ضعیف راوی ہے

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے امام طبری نے اس روایت کی ایک سند بیان کی ہے لیکن اس میں بھی ھشام بن حسان کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے

(تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 256)

 

🔴 ساتویں روایت (مستدرک حاکم 5981) 

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ زِيَادًا، أَطَالَ الْخُطْبَةَ، فَقَالَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ‏:‏ الصَّلَاةَ، فَمَضَى فِي خُطْبَتِهِ، فَقَالَ لَهُ‏:‏ الصَّلَاةَ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَصَى، وَضَرَبَ النَّاسُ بِأَيْدِيهِمْ إِلَى الْحَصَى، فَنَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ كَتَبَ فِيهِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ‏:‏ أَنْ سَرِّحْ بِهِ إِلَيَّ، فَسَرَّحَهُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ‏:‏ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ‏:‏ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنَا‏؟‏ إِنِّي لَا أُقِيلُكَ، وَلَا أَسْتَقِيلُكَ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَلَمَّا انْطَلِقُوا بِهِ طَلَبَ مِنْهُمْ أَنْ يَأْذَنُوا لَهُ، فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، فَأْذِنُوا لَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ‏:‏ لَا تُطْلِقُوا عَنِّي حَدِيدًا، وَلَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا، وَادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ قَالَ‏:‏ فَقُتِلَ‏. 

محمد بن سیرین فرماتے ہیں: زیاد نے خطبہ لمبا کر دیا تو حجر بن عدی نے کہا: نماز کا وقت ہو چکا ہے۔ لیکن زیاد نے اپنا خطبہ جاری رکھا ، حضرت حجر نے دوبارہ کہا کہ نماز کا وقت ہو چکا ہے اور ساتھ اپنا ہاتھ زمین پر مارا، ساتھ ہی دوسرے لوگوں نے بھی ہاتھ زمین پر مارے۔ زیاد منبر سے نیچے اترا اور نماز پڑھا دی اور حجر کے بارے حضرت معاویہ کی جانب خط لکھا، سیدنا معاویہ رض نے جوابی مکتوب میں لکھا کہ ان کو میرے پاس بھیج دو، زیاد نے ان کو سیدنا معاویہ رض کے پاس بھیج دیا ، جب حجر بن عدی سیدنا معاویہ رض کے پاس پہنچے، تو کہا: السلام علیک یا امیرالمومنین ساتھ ہی فرمایا: اور امیر المؤمنین تو میں خود ہوں ۔ میں نہ تجھ سے کوئی بات کروں گا اور نہ تیری سنوں گا ۔ سیدنا معاویہ رض نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ جب ان کوقتل کے لئے لے کر جار ہے تھے تو انہوں نے نماز پڑھنے کے لیے کچھ دیر مہلت کا مطالبہ کیا ان کو مہلت دی گئی ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی پھر فرمایا: میری بیڑیاں مجھ سے نہ اتارنا اور نہ ہی میرے جسم سے میراخون دھونا ، مجھے میرے انہی کپڑوں میں کفن دینا، کیونکہ ( کل قیامت کے دن میراتمہارے ساتھ جھگڑا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد اس کو قتل کر دیا گیا۔ ہشام کہتے ہیں محمد بن سیرین سے جب بھی شہید کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ حجر والا واقعہ سنایا کرتے تھے 

یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں ھشام بن حسان مدلس ہیں عن سے بیان کر رہےہیں

 

🔴 آٹھویں روایت (مستدرک حاکم 5982) 

حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا مَخْشِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ- خَطَبَهُمْ، فَقَالَ‏:‏ ‏"‏ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا‏؟‏ ‏"‏ قَالُوا‏:‏ يَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ‏:‏ ‏"‏ فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا‏؟‏ ‏"‏ قَالُوا‏:‏ الْبَلَدُ الْحَرَامُ قَالَ‏:‏ ‏"‏ فَأَيُّ شَهْرٍ‏؟‏ ‏"‏ قَالُوا‏:‏ شَهْرٌ حَرَامٌ قَالَ‏:‏ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، كَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏. 

مخشی بن حجر بن عدی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ کون سادن ہے ؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا دن ہے۔ آپ نے پوچھا: یہ شہر کون ساشہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والاشہر ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون سامہینہ ہے ؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اس طرح حرام ہیں، جیسے آج کے دن کی حرمت ہے، جیسے اس مہینے کی حرمت ہے، جیسے اس شہر کی حرمت ہے ۔ تم میں سے جولوگ اس وقت یہاں موجود ہیں ان کو چاہئے کہ یہ باتیں ان لوگوں تک بھی پہنچا دیں جو اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں ۔ تم میرے بعد کفر میں مت لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔ 

یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں عباد بن عمر لکھا اصل میں میں یہ عبادہ بن عمر ہے یہ مجہول راوی ہے

اس روایت میں مخشی بن حجر بن عدی لکھا ہے ہالانکہ مخشی بن حجر کوئی راوی نہیں ہے یہ مخشی بن حجیر ہے اس کا کوئی پتا نہیں یہ کون ہے 

مخشی بن حجیر کو مخشی بن حجر بن عدی لکھنا یہ امام حاکم کی خطاء ہے

اور یہ خطاء الحاکم کے رجال پر جو کتاب لکھی گئی اس میں یہ بیان کیا ہے کہ مخشی بن حجیر کو امام حاکم نے حجر بن عدی کے ترجمے میں ذکر کیا ہے لیکن امام طبرانی رح اور امام حجر رح کو اس خطاء کا پتا چل گیا انہوں نے اس کو حجیر نامی صحابی کے ترجمے میں ذکر کیا ہے لہٰذا حجر بن عدی اور ہے اور حجیر اور ہیں 

(الرجال الحاکم جلد 2 صفحہ 318)

 

🔴 نویں روایت (مستدرک حاکم 5983) 

سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ يَقُولُ‏:‏ سَمِعْتُ ابْنَ قُتَيْبَةَ يَقُولُ‏:‏ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ‏:‏ قَدْ أَدْرَكَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ الْجَاهِلِيَّةَ، وَأَكَلَ الدَّمَ فِيهَا، ثُمَّ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ- وَسَمِعَ مِنْهُ، وَشَهِدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْجَمَلَ، وَصِفِّينَ، وَقُتِلَ فِي مُوَالَاةِ عَلِيٍّ‏. 

ابراہیم بن یعقوب فرماتے ہیں کہ حجر بن عدی نے زمانہ جاہلیت بھی پایا ، اس زمانے میں خون بھی کھایا، پھر رسول اللہ ﷺ کی صحبت بھی پائی ، آپ ﷺ سے دین کے احکام بھی سنے ۔ حضرت علی رض کے ہمراہ جنگ جمل اورسفین میں شریک بھی ہوۓ ،اور حضرت علی رض کے وفاداروں میں شہید ہوۓ 

یہ روایت سخت منقطع ہے

ابراہیم بن یعقوب سے حجر بن عدی کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے ان دونوں کے درمیان سند موجود نہیں 


🔴 دسویں روایت (مستدرک حاکم 5984) 

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- فَقَالَتْ‏:‏ يَا مُعَاوِيَةُ، قَتَلْتَ حُجْرًا وَأَصْحَابَهُ، وَفَعَلْتَ الَّذِي فَعَلْتَ، وَذَكَرَ الْحِكَايَةَ بِطُولِهَا‏. 

حضرت سعید بن مسیب،مروان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (مروان کہتا ہے کہ میں حضرت معاویہ کے ہمراہ ام المؤمنین حضرت عائشہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، ام المؤمنین نے کہا: تو نے حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا ہے اور ان کے ساتھ تم نے بہت زیادتی کی ہے، اس کے بعد راوی نے پورا قصہ بیان کیا ہے۔ 

یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں علی بن زید بن جدعان سخت ضعیف راوی ہے 



🔴 مستدرک الحاکم کی 13 روایات میں سے 3 صحیح روایات 🔴 


🔴 گیارہویں روایت (مستدرک حاکم 5977) 

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَهِشَامٌ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَبْدٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ‏:‏ لَمَّا بَعَثَ زِيَادٌ بِحُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بِحَبْسِهِ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ‏:‏ مَرْجُ عَذْرَاءَ، ثُمَّ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِيهِ قَالَ‏:‏ فَجَعَلُوا يَقُولُونَ‏:‏ الْقَتْلَ الْقَتْلَ‏.

قَالَ‏:‏ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسَدٍ الْبَجَلِيُّ، فَقَالَ‏:‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْتَ رَاعِينَا وَنَحْنُ رَعِيَّتُكَ، وَأَنْتَ رُكْنُنَا وَنَحْنُ عِمَادُكَ، إِنْ عَاقَبْتَ قُلْنَا‏:‏ أَصَبْتَ، وَإِنْ عَفَوْتَ قُلْنَا‏:‏ أَحْسَنْتَ وَالْعَفْوُ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى، وَكُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ‏:‏ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ قَوْلِهِ‏. 

جب زیاد نے حجر ابن عدی کو گرفتار کرکے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو معاویہ رضی اللہ عنہ اس کو مرجع عذراء نامی جگہ پر قید کرنے کا حکم دیا اور لوگوں سے مشورہ کیا اور سارے لوگ کہنے لگے کہ اس فسادی کو قتل کرو عبداللہ بن زید بن اسد البجلی اٹھے اور کہا اے امیر المؤمنین آپ ہمارے حکمران ہیں اور ہم آپ کی رعایا اگر آپ اس کو سزا دیں تو ہم اس کو درست سمجھیں گے اور اگر آپ معاف کر دیں تو ہم اُسے بھی اچھا ہی سمجھیں گے میری رائے یہ ہے کہ اس کو معاف کر دیں معاف کرنا تقوی کے زیادہ قریب ہے لوگ ان یہ بات سن کر منتشر ہو گئے 


🔴 بارہویں روایت (مستدرک حاکم 5980) 

حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَارِزِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ قَيْسٍ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ‏:‏ مَا وَفَدَ جَرِيرٌ قَطُّ إِلَّا وَفَدْتُ مَعَهُ، وَمَا دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ إِلَّا دَخَلْتُ مَعَهُ، وَمَا دَخَلْنَا مَعَهُ عَلَيْهِ إِلَّا ذَكَرَ قَتْلَ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ‏. 

ابو زرعہ بن عمرو بن جریر بیان کرتے ہیں جریر جب بھی سفر پر گئے میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہا ہوں اور وہ جب بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے میں ہمیشہ ان کے ہمراہ رہا ہوں اور ہم جب بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے حجر ابن عدی کے قتل کا تذکرہ ضرور ہوا

🔴 تیرہویں روایت (مستدرک حاکم 5975) 

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ‏:‏ لَمَّا كَانَ لَيَالِي بَعْثِ حُجْرٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ جَعَلَ النَّاسُ يَتَحَيَّرُونَ وَيَقُولُونَ‏:‏ مَا فَعَلَ حُجْرٌ‏؟‏ فَأَتَى خَبَرُهُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ مُخْتَبِئٌ فِي السُّوقِ، فَأَطْلَقَ حَبْوَتَهُ وَوَثَبَ، وَانْطَلَقَ فَجَعَلْتُ أَسْمَعُ نَحِيبَهُ، وَهُوَ مُوَلٍّ‏. 

نافع فرماتے ہیں: جب حجر بن عدی کو سیدنا معاویہ رض کی جانب بھیجا جار ہاتھا ، لوگ بہت حیران تھے اور پوچھتے تھے کہ مجرم کا قصور کیا ہے؟ یہ خبر حضرت عبداللہ بن عمر رض تک پہنچی ، وہ اس وقت بازار میں کسی جگہ روپوش تھے، آپ نے روپوشی ختم کی اور لوگوں کے درمیان آگئے ۔ جب وہ واپس جار ہے تھے تو میں ان کی پھوٹ پھوٹ کر رونے کی آواز میں سن رہا تھا۔ 

اس روایت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ابن عمر رض حجر ابن عدی کے ظلماً شہید کیئے جانے پر روئے ہالانکہ یہ بات درست نہیں کیونکہ مستدرک حاکم 5977 نمبر روایت کو دیکھا جائے تو حجر ابن عدی کو لوگوں سے مشورے کے بعد ہی قتل کیا گیا وہ اتفاقی طور پر ایک فسادی آدمی تھا

Tuesday, 25 May 2021

اماموں کو انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ماننا کفر ہے

 سوال:

علامہ صاحب کیا واقعی شیعہ کتب میں لکھا ہے کہ انبیاء کرام سے بارہ امام افضل ہیں اور کیا یہ عقیدہ اہلسنت کے مطابق کفر ہے؟ نیز انبیاء کرام علیھم السلام کے افضل ہونے پر دلائل بھی ضرور ارسال فرمائیں

.

جواب:

جی ہاں شیعہ کی کتب میں یہ عقیدہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ ائمہ کرام بارہ امام تو تمام مخلوق ، تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں سوائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے...چند حوالہ جات درج ذیل ہیں:

إن النبي والأئمة الاثني عشري ع أفضل من سائر المخلوقات من الأنبياء والأوصياء السابقين والملائكة وغيرهم

بےشک نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور بارہ امام افضل ہیں انبیاء سے اوصیاء سابقین سے ملائکہ وغیرہ تمام مخلوقات سے

(شیعہ کتاب فصول مھمۃ1/403)

.

تفضيل الأئمة عليهم السلام بعد النبي صلى الله عليه وآله على جميع الخلق

نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد(انبیاء اولیاء وغیرہ)تمام مخلوق سے ائمہ( بارہ امام )افضل ہیں

(شیعہ کتاب بحار الانوار27/332)

.

أئمة عليهم السلام أفضل الخلق بعد رسول الله

نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد(انبیاء اولیاء وغیرہ)تمام مخلوق سے ائمہ(بارہ امام)افضل ہیں

(شیعہ کتاب حلیة الابرار2/397)

.

مسألة تفضيل الأئمة (عليهم السلام) على الأنبياء (عليهم السلام) هذه المسألة مطروحة في كتب أصحابنا

ائمہ کی انبیاء پر فضیلت، ہمارے اصحاب کی کتب(شیعہ کی کتب)اس مسلے سے بھری پڑی ہیں

(شیعہ کتاب تفضیل الائمۃ  ص7)

.=====================

انبیاء کرام علیھم السلام بےشک ائمہ صحابہ اہلبیت تمام مخلوق سے افضل ہیں چند دلائل درج ذیل ہیں:

اللہ کریم نے قرآن مجید میں کم و بیش بائیس انبیاء کرام کا ذکر فرمایا پھر فرمایا کہ:

القرآن:

کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی  الۡعٰلَمِیۡنَ

ترجمہ:

بے شک ہم نے ہر نبی کو تمام مخلوق پر فضلیت دی ہے

(سورہ انعام آیت86)

.

وَمِنَ الْأَحْكَامِ الْمُسْتَنْبَطَةِ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ: أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ يَجِبُ أَنْ يَكُونُوا أَفْضَلَ مِنْ كُلِّ الْأَوْلِيَاءِ، لِأَنَّ عُمُومَ قَوْلِهِ تَعَالَى: وَكلًّا فَضَّلْنا عَلَى الْعالَمِينَ يُوجِبُ ذَلِكَ

اس آیت مبارکہ سے ثابت ہونے والے احکام میں سے یہ ہے کہ لازم ہے کہ انبیاء علیہم السلام اولیاء پر فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی کے اس فرمان کا عموم یہ تقاضا کر رہا ہے 

[مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير ,13/53]

.


وفضلنا جميعهم على العالمين

اور ہم نے انبیاء کرام کو تمام مخلوق پر فضیلت دی ہے 

[تفسير الطبري = جامع البيان ,11/512]


وفيه دليل على فضلهم على من عداهم من الخلق

اس میں دلیل ہے کہ انبیائے کرام کو فضیلت ہے تمام مخلوقات پر 

[تفسير البيضاوي = أنوار التنزيل وأسرار التأويل ,2/171]

.

أنهم فضلوا على العالمين بالنبوة

انبیائے کرام علیہم السلام کو تمام مخلوق پر نبوت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے 

[تفسير الماتريدي = تأويلات أهل السنة ,4/154]

.

القرآن:

أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّالِحِينَ

اللہ نے جن پر فضل کیا یعنی انبیائے کرام صدیقین شہداء صالحین 

(سورہ نساء آیت69)

.

أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا ذَكَرَ مَرَاتِبَ أَوْلِيَائِهِ فِي كِتَابِهِ بَدَأَ بِالْأَعْلَى مِنْهُمْ وَهُمُ النَّبِيُّونَ

اللہ تعالی نے اس آیت میں اپنے پیاروں کے مراتب کا ذکر کیا ہے اور سب سے اعلیٰ و افضل سے ابتدا کی ہے اور وہ انبیاء ہیں 

[تفسير القرطبي ,5/273]

.

قسمهم أربعة بحسب منازلهم

اللہ نے اپنے پیاروں کو چار اقسام پر تقسیم کیا ہے ان کے مرتبےفضیلت  کے لحاظ سے(یعنی پہلا مرتبہ انبیاء کرام کا ہے پھر صدیقین کا ہے پھر شہداء کا پھر صالحین کا) 

[تفسير البيضاوي = أنوار التنزيل وأسرار التأويل ,2/82]

.========================

الحدیث:

حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم بن بهدلة، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، قال: قلت: يا رسول الله , اي الناس اشد بلاء؟ قال: " الانبياء، ثم الامثل، فالامثل،

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے اشد ابتلاء کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”انبیاء پر، پھر ان پر کم جو ان سے کم مرتبہ و فضیلت میں ہیں، پھر ان پر کم جو ان سے کم مرتبہ و فضیلت میں ہیں

امام ترمذی کہتے ہیں: 

 یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

(ترمذی حدیث2398 ابن ماجہ حدیث4023

صحیح ابن حبان حدیث2900

شیعہ کتاب وسائل الشیعہ3/262

شیعہ کتاب بحار الانوار74/142

شیعہ کتاب میزان الحکمۃ1/302

شیعہ کتاب الکافی2/252

شیعہ کتاب الفصول المھمۃ3/304

.

اس حدیث پاک میں واضح فرمان موجود ہے کہ انبیاء کرام علیھم السلام مخلوق میں سب سے افضل ہیں 

.

امام بخاری لکھتے ہیں

أَشَدُّ النَّاسِ بَلاَءً الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ

سب سے اشد ابتلاء انبیاء پر، پھر ان پر کم جو ان سے کم مرتبہ و فضیلت میں ہیں، پھر ان پر کم جو ان سے کم مرتبہ و فضیلت میں ہیں

(صحيح البخاري  قبل الحدیث5648)

۔

اس حدیث پاک میں الامثل کا لفظ آیا ہے جس جس کا معنی سنی شیعہ کتابوں میں افضل و اشرف ہے

أَيِ: الْأَفْضَلُ فَالْأَفْضَلُ

امثل سے مراد افضل ہے 

[حاشية السندي على سنن ابن ماجه ,2/490]

.

أي الأشرف فالأشرف والأعلى فالأعلى في الرتبة والمنزلة

امثل سے مراد یہ ہے کہ سب سے زیادہ شرف و فضیلت والا مرتبہ اور منزلت میں اعلی

شیعہ کتاب حاشية بحار الانوار74/142

.

الحدیث:

: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اخْتَارَ أَصْحَابِي عَلَى جَمِيعِ الْعَالَمِينَ , إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی نے تمام تمام مخلوق پر میرے صحابہ کو فضیلت دی ہے سوائے نبیوں کے اور رسولوں کے( یعنی نبی اور رسول تو صحابہ اہل بیت ائمہ وغیرہ سب مخلوق سے افضل ہیں )

(الشريعة للآجري حدیث1153)

[جامع الأحاديث حدیث36945]

[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد حدیث16383]

[كشف الأستار عن زوائد البزار حدیث2763]


رجالہ موثون

اس حدیث پاک کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں(لہذا یہ حدیث حسن صحیح ہے معتبر قابل حجت ہے )

[روضة المحدثين ,8/151]

.======================

وَلَا نُفَضِّلُ أَحَدًا مِنَ الْأَوْلِيَاءِ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ،

ہم اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ہم کسی بھی ولی کو کسی بھی نبی پر فضیلت نہیں دیتے 

[العقيدة الطحاوية مع الشرح ت الأرناؤوط2/741]


من فضل ولياً على نبي من الأنبياء فقد كفر؛ لأن هذا يخالف صريح القرآن وصريح السنة،

جس نے ولی کو کسی بھی نبی پر فضیلت دی تو بے شک اس نے کفر کیا کیونکہ اس کا یہ فعل صریح قرآن اور صریح سنت کے خلاف ہے 

[شرح الطحاوية - يوسف الغفيص ,29/6]

.

وأنه يكفر من قال: إن  الولي أفضل من النبي

اور بے شک اسکو کافر قرار دیا جائے گا جس نے کہا کہ ولی تو نبی سے افضل ہے

(اعلام بقواطع الاسلام ص203)


تفضيل الولي على النبي وهو  كفر جلي

ولی کو کسی بھی نبی پر فضیلت دینا واضح کفر ہے 

(تفسیر نسفی، تفسیر مدارک2/315)

.

مِنْ تَفْضِيلِ الْوَلِيِّ كُفْرٌ

ولی کو نبی پر فضیلت دینا کفر ہے 

(بریقہ محمودیہ1/207)

.

فَالنَّبِيُّ أَفْضَلُ مِنَ الْوَلِيِّ وَهُوَ أَمْرٌ مَقْطُوعٌ بِهِ عَقْلًا وَنَقْلًا وَالصَّائِرُ إِلَى خِلَافِهِ كَافِرٌ لِأَنَّهُ أَمْرٌ مَعْلُومٌ مِنَ الشَّرْعِ بِالضَّرُورَةِ

تو بےشک ہر نبی ولی سے افضل ہے اور یہ قطعی عقیدہ ہے عقلا اور منقولا ثابت ہے اور جو اس کے خلاف کہے،اسکے خلاف عقیدہ رکھے وہ کافر ہے کیونکہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے 

[فتح الباري لابن حجر ,1/221]

[شرح القسطلاني = إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري ,1/214]

[كوثر المعاني الدراري في كشف خبايا صحيح البخاري ,4/100

.


كَذَلِكَ نَقْطَعُ بِتَكْفِيرِ غُلَاةِ الرَّافِضَةِ فِي قَوْلِهِمْ: إِنَّ الْأَئِمَّةَ أَفْضَلُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ

اور اسی طرح ہم یقینی کافر جانتے ہیں اُن غالی رافضیوں کو جو ائمہ کو انبیاء سے افضل بتاتے ہیں

(شفاء شریف 2/616)

(شرح شفاءلملا علی قاری 5/442)

(نسیم الریاض4/156)

(فتاوی رضویہ14/262)

.

سوال:

یہ کیا کفر منافقت لگا رکھا ہے...فرقہ واریت غیبتیں مت پھیلاؤ، تم کون ہوتے ہو کفر گمراہ کہنے والے.....؟؟

.

الحدیث:

من كتم غالا فإنه مثله

ترجمہ:

جو(زندہ یا مردہ)غل کرنے والے(خیانت کرپشن کرنے والے، چھپکے سے کمی بیشی کرنے والے،کھوٹ و دھوکےبازی کرنے والے) کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اسی کی طرح(مجرم و گناہ گار) ہے

(ابو داؤد حدیث2716)

.

الحدیث:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أترعون عن ذكر الفاجر؟، اذكروه بما فيه يعرفه الناس

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کیا تم(زندہ یا مردہ) فاجر(فاسق معلن منافق ,بدعقیدہ ، کافر مرتد، خائن، دھوکے باز گمراہ بدمذہب) کو واضح کرنے سے ہچکچاتے ہو...؟

(جیسا وہ ہے ویسا کہنے سے گھبراتے ہو...؟؟)

اسے ان چیزوں(ان کفر گمراہیوں گستاخیوں کرتوتوں، عیبوں اعلانیہ گناہوں ، خیانتوں، منافقتوں دھوکے بازیوں) کے ساتھ واضح کرو جو اس میں ہوں تاکہ لوگ اسے پہچان لیں(اور اسکی گمراہی خیانت منافقت بدعملی دھوکے بازی مکاری سے بچ سکیں)

(طبرانی کبیر حدیث1010)

یہ حدیث پاک  کتبِ حدیث و تفاسیر اور فقہ و تصوف کی کئی کتب میں موجود ہے... مثلا جامع صغیر، شعب الایمان، احیاء العلوم، جامع الاحادیث، کنزالعمال، کشف الخفاء ردالمحتار ، عنایہ شرح ہدایہ، فتاوی رضویہ، تفسیر ثعالبی، تفسیر درمنثور وغیرہ کتب میں موجود ہے

.


القرآن..ترجمہ:

حق سے باطل کو نا ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ

(سورہ بقرہ آیت42)

.

حدیث پاک کے مطابق:

عدل.و.حق کی بات کہنا افضل جھاد ہے..

(ابوداؤد حدیث نمبر4344)

.

الحدیث..ترجمہ:

تکبر تو یہ ہے کہ حق کی پرواہ نا کی جاے, حق ٹھکرایا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جاے..

(صحیح مسلم حدیث نمبر147)

.

الحدیث..ترجمہ:

خبردار...!!جب کسی کو حق معلوم ہو تو لوگوں کی ھیبت

(رعب مفاد دبدبہ خوف لالچ) اسے حق بیانی سے ہرگز نا روکے

(ترمذی حدیث2191)

.

الحدیث.. ترجمہ:

حق کہو اگرچے کسی کو کڑوا لگے

(مشکاۃ حدیث5259)

.


لیھذا ایسوں کے عیوب مکاریاں منافقتیں خیانتیں دھوکے بازیاں کفر گمراہیاں گستاخیاں بیان کرنا برحق ہے لازم ہے اسلام کا حکم ہے، یہ ذمہ داری ہے جو اسلام نے دی ہے باشعور وسیع القلب اہل استنباط علماء کو...یہ عیب جوئی نہین..... غیبت نہیں، ایسوں کی پردہ پوشی کرنا جرم ہے... یہ فرقہ واریت نہین، یہ حسد نہین.... بغض نہیں بلکہ حق کی پرواہ ہے اسلام کے حکم کی پیروی ہے...

 ہاں حدیث پاک مین یہ بھی واضح ہے کہ وہ عیوب، وہ خیانتیں، وہ دھوکے بازیاں وہ کرتوت وہ کفر و گمراہیاں وہ گستاخیاں بیان کیے جائیں جو اس مین ہوں...جھوٹ و الزام تراشیاں ٹھیک نہیں......!!

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر القادری

انبیاء و اَولیاء سے اِستعانت و استغاثہ بعد اَز وصال حیاتِ اَنبیاء و اَولیاء (متفقہ اکابرین و مفسرین کی آراء)

 انبیاء و اَولیاء سے اِستعانت و استغاثہ

بعد اَز وصال حیاتِ اَنبیاء و اَولیاء

(متفقہ اکابرین و مفسرین کی آراء) 


معتزلہ کے علاوہ تمام اُمت کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ حیاتِ برزخیہ برحق ہے۔ معتزلہ نے درحقیقت مُردوں کی حیات کی نفی کر کے عذابِ قبر کا انکار کیا تھا۔ علامہ سعد الدین تفتازانیؒ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:


وأنکر عذاب القبر بعض المعتزلۃ والروافض لأن المیت جمادُ لا حیاۃ لہُ ولا إدراک فتعذیبہ محال.


تفتازاني، شرح عقائد نسفی: 72


’’بعض معتزلہ اور روافض نے عذابِ قبر کا انکار اس بنا پر کیا کہ ان کے نزدیک میت پتھروں کی طرح ہے جس میں نہ کوئی زندگی ہے نہ شعور اس لئے اسے عذاب دینا محال ہے۔‘‘


ہمارا موضوع بحث اِس وقت حیاتِ انبیاء و اولیاء نہیں ہے اِس موضوع پر ہماری مستقل کتاب ’’حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ موجود ہے۔ سرِ دست اس قدر بیان پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ عام اموات اور بالخصوص انبیاء علیہم السلام، شہداء اور اولیاء کی حیاتِ برزخی پر پوری اُمت کا اجماع ہے۔


اسی وجہ سے علامہ ابنِ قیم نے لکھا ہے:


والسلف مجمعون علی ہذا، وقد تواترت الآثار عنهم بأن المیت یعرف زیارۃ الحیی له ویستبشر به.


ابن قیم، الروح، 1: 5


’’سلف صالحین کا اس پر اجماع ہے اور ان سے تواترِ آثار سے مروی ہے کہ بے شک عام میت (قبر میں) اپنے پاس آنے والے زندہ کی زیارت کو پہچانتی ہے اور اس سے خوش ہوتی ہے۔‘‘


لہٰذا استعانت کے باب میں حیات و ممات کا امتیاز درست نہیںکیونکہ استعانت جسم سے نہیں روح سے ہوتی ہے اور روح نہ وقتِ وفات مرتی ہے نہ قبر میں مُردہ ہوتی ہے۔ وصال کے بعد اِستعانت کے بارے میں قرآن و حدیث میں متعدد دلائل موجود ہیں۔جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:


1۔ امام فخر الدین رازیؒ نے آیت {اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْنَاھُمُ الْکِتَابَ. (الانعام، 6: 89)} کے تحت ’’التفسیر الکبیر (13: 67، 68)‘‘ میں لکھا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو باذنِ الٰہی مخلوق کے ظاہر و باطن پر قدرت و تصرف کا اختیار حاصل ہے۔ {فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا} کے تحت امام فخر الدین رازیؒ لکھتے ہیں کہ قرآن حکیم میں وارِد ان پانچ کلمات - النازعات، الناشطات، السابحات، السابقات اور المدبرات - کی تیسری تفسیر یہ ہے کہ ان سے مراد اَرواحِ انسانیہ ہیں:


ثم إِنَّ ہذہ الأرواح الشریفۃ العالیۃ لا یبعد أن یکون فیها ما یکون لقوتها وشرفها یظهر منها الآثار فی أحوال هذا العالم فهی المدبرات امراً ألیس أن الإنسان قد یری أستاذه فی المنام ویسأله عن مشکلۃ فیرشده إلیھا؟ ألیس أن الابن قد یری أباه فی المنام فیھدیه إلی کنز مدفون؟ ألیس أنّ جالینوس قال: کنت مریضاً فعجزت عن علاج نفسی فرَأیت فی المنام واحدًا أرشدنی إلی کیفیۃ العلاج.


رازی، تفسیر الکبیر، 31: 29


’’پھر یه بلند مرتبت ارواحِ طیبہ، بعید نہیں کہ ان میں ایسی اَرواح بھی ہوں جو اپنے شرف اور قوت کے لحاظ سے اس جہان کے احوال میں اثر انداز اور مدبرات امر کے مرتبہ پر فائز ہوں۔ جیسے کبھی شاگرد یا مرید کو کوئی مشکل پیش ہو تو اُستاد اور شیخ خواب میں اس کی رہنمائی کردیتا ہے اور کبھی باپ فوت ہوجانے کے بعد بیٹے کو مدفون خزائن کی خبر دے دیتا ہے۔ جالینوس نے کہا: جب میں اپنے مرض کے علاج میں ناکام ہوا تو میں نے خواب میں کسی کو دیکھا کہ اس نے مجھے طریقۂ علاج بتلایا (جس پر عمل پیرا ہو کر میں صحت یاب ہو گیا)۔‘‘


2۔ ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں:


أن التضییق والانحصار لا یتصور فی الروح. وإنما یکون فی الجسد والروح إذا کانت لطیفۃ یتبعها الجسد فی اللطافۃ فتصیر بجسدھا حیث شاء ت و تتمتع بما شاء ت وتأوی الی ما شاء اللہ لها کما وقع لنبینا علیه الصلوۃ والسلام فی المعراج۔ ولأتباعه من الأولیاء حیث طویت لهم الأرض وحصل لهم الأبدان المکتسبۃ المتعددۃ، وجدوھا فی أماکن مختلفۃ فی آن واحدٍ واللہ علی کل شیئٍ قدیر۔ وهذا فی العالم المبنی علی الأمر العادی غالباً فکیف وأمر الروح والآخرۃ کُلها مبنیۃ علی خوارق العادات.


ملا علی قاری، مرقاۃ المفاتیح، 4: 31


’’محل اور مقام میںتنگی و پابندی اور قید و حبس روح کے لحاظ سے تصور نہیں کی جاسکتی بلکہ صرف جسد عنصری میں ہوتی ہے۔ روح جب لطیف اور پاکیزہ تر ہوجائے تو جسم بھی نورانیت اور لطافت میں اس کے تابع ہوجاتا ہے اور بدن کو جہاں چاہتا ہے لے جاتا ہے اور جہاں فائدہ اٹھاتا ہے اور جہاں تک اللہ تعالیٰ اسے پہنچانا چاہے پہنچاتا ہے جیسے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شبِ معراج یہ بلند ترین مقام نصیب ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متبع اولیاء اللہ کے لئے بھی جب کہ ان کے لئے زمین سمیٹ دی جاتی ہے اور انہیں بہت سے مثالی بدن حاصل ہوجاتے ہیں جنہیں وہ آنِ واحد میں مختلف مکانوں میں موجود پاتے ہیں اور اللہ جل شانہ ہر چیز پر کامل قدرت والا ہے۔ روح کے لئے یہ لطافت اور نورانیت اور قدرت و طاقت اس عالم میں ہے جو کہ غالباً اُمورِ عادیہ پر مبنی ہے اور جب یہاں ان اُمور میں استبعاد نہیں تو دارِ بقاء و آخرت میں کون سا اِستبعاد ہو سکتا ہے کیونکہ روح کے اور آخرت کے تمام معاملات خرقِ عادت پر مبنی ہیں۔‘‘


3۔ امام عبدالوہاب شعرانی (م 973ھ) مشہور ولی اللہ شیخ موسیٰ ابو عمران کے حالاتِ زندگی میں تحریر کرتے ہیں:


وکان إذا ناداہُ مریدہُ أجابہُ من مسیرۃ سنۃ أو أکثر.


شعراني، لواقع الأنوار في طبقات الأخیار، 2: 21


’’ابو عمران کا مرید جب اِن کو ایک سال یا اِس سے بھی زائد عرصہ سفر کی مسافت سے پکارتا تو وہ اِس کی پکار کا جواب دیتے تھے۔‘‘


4۔ شیخ عبدالحق محدّث دہلویؒ نے بعد از وصال اَولیاء اللہ کی ارواحِ مقدّسہ کے تصرف کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:


’’قرآن و احادیث سے قطعاً ثابت ہے کہ روح باقی رہتی ہے فنا نہیں ہوتی۔ اِس کو زائرین اور اِن کے احوال کا علم و شعور بھی حاصل ہوتا ہے۔ کاملین کی ارواح کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ عظیم میں قرب اُسی طرح ہوتا ہے جیسے حیاتِ دنیوی میں تھا بلکہ اِس سے بھی زیادہ۔ اولیاء اللہ کو کرامات اور دنیا میں تصرف حاصل ہے اور اِ س کا ثبوت صرف اُن کی ارواح کے لئے ہے اور ارواح باقی رہتی ہیں اور متصرف حقیقی بالذات و مستقل سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں اور تمام قدرت اُسی کی ہے اور وہ اولیاء اللہ اپنی حیاتِ ظاہری میں اور موت میں اللہ تعالیٰ کی ذات میں فنا ہو چکے ہیں پس اگر کسی شخص کو اِن کے واسطہ سے کچھ عطا کیا جائے اُس مرتبہ کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اِن کے لئے ثابت ہے تو یہ امر بعید نہیں ہے جیسا کہ زندگی میں اِن کو تصرف حاصل تھا۔ فعل اور تصرف ہرحال میں اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور کوئی چیز نہیں جو زندگی اور موت میں فرق کرے اور نہ ہی اس فرق پر کوئی دلیل پائی گئی ہے۔‘‘


عبدالحق، اشعۃ اللمعات، 1: 716


مزید بعد از وصال مدد و اِستعانت کے موضوع پر شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ’’أشعۃ اللمعات (3: 401، 402)‘‘ پر سیر حاصل بحث کرکے ثابت کیا ہے کہ اہلِ قبور سے بعد از وصال استعانت و استمداد جائز ہے اور یہ کہ اولیاء اللہ ارادۂ الٰہی میں فنا ہوجانے کے باعث غیر نہیں رہتے۔ ان سے استعانت بھی حقیقت میں استعانت باللہ ہوتی ہے۔ وہ محض درمیان میں وسیلہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ انبیاء و اولیاء مظہرِ عونِ الٰہی ہیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ’’لمعات التنقیح (1: 140، 141)‘‘ میں لکھا ہے کہ مرید کے استمداد و استعانت پر شیخ اس کی مدد کرتا ہے خواہ شیخ قریب ہو یا بعید، زندہ ہو یا وصال کر گیا ہو۔شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ علومِ ظاہری و باطنی کے مجمع البحرین علامہ سید عبدالاوّل جونپوریؒ کے بارے میں محققانہ کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:


چہ نفس ولی و نبی قوتی می باید کہ در خارج بدن تصرف می کند ہمچنان کہ در بدن و چون روحِ مقدّس حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جان ہمہ عالم است باید کہ در ہمہ عالم است باید کہ در ہمہ اجزایئ عالم متصرف باشد و ازینجاست کہ باشارت قمر را دو شق کرد گوئیا فضلۂ ناخن از ناخن جدا فرمود.


عبدالحق، اخبار الاخیار: 255


’’انبیاء و اولیاء کے نفوس و ارواح ایسی قدرت و قوت حاصل کر لیتے ہیں کہ جسم سے باہر یعنی دوسری اشیاء میں اس طرح تدبیر و تصرّف کرتے ہیں جیسے کہ اپنے اجسام میں اور جب کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نفسِ مبارک اور روح مقدّسہ تمام جہان کی جان ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ وہ تمام جہان میں متصرف ہو اور یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ سے چاند کو دو ٹکڑے کر دیا گویا ناخن کے زائد حصہ کو ناخن سے جدا فرما دیا۔‘‘


5۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلویؒ نے اپنی بلند پایہ تصنیف ’’ہمعات‘‘ میں حضرت سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا مزار میں تصرف کرنے کے بارے میں لکھا ہے:


ودر اولیائے امت و اصحابِ طرق اقوی کسیکہ بعد تمام راہِ جذب باکد وجوہ باصل این نسبت میل کردہ است و در آنجا بوجہ اتم قدم زدہ است حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی اند۔ و لہذا گفتہ اند کہ ایشاں در قبر خود مثل احیاء تصرف می کنند.


شاہ ولي اللہ، ہمعات: 61


’’اولیائے امت اور اصحابِ طریقت میں سے قوی ترین حال کی حامل ہستی حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی ہے جنہوں نے راہِ جذب کو پختہ ذرائع سے طریقت کی اصل سے جوڑا اور اس مقام پر کامل ترین قدم رکھا۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی قبر میں زندوں کی طرح تصرف کر رہے ہیں۔‘‘


انہوں نے اسی کتاب کے صفحات نمبر 14، 60، 62، 83، 84 اور 121 پر اولیاء اللہ سے استعانت و استمداد اور ان کے روحانی تصرفات اور توجہات کے بارے میں لکھا ہے۔ یاد رہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ’’ہمعات‘‘ کوئی سطحی نظریات و تصورات کی حامل کتاب نہیں بلکہ یہ حکمتِ ولی اللّٰہی کے فہم کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی ’’ہمعات‘‘ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:


’’حکمت ولی اللّٰہی میں یہ رسالے ابتدائی قاعدوں (primers) کے طور پر پڑھائے جاتے ہیں، اِس کے بعد امام ولی اللہ کی حکمت کی تعلیم شروع کی جاتی ہے۔‘‘


6۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اَولیاء اللہ کی امداد بعد از وصال کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:


از اولیاء مدفونین و دیگر صلحا مؤمنین اِنتفاع و استفادہ جاری است و آنہا را افادہ و اعانت نیز متصور بخلاف مردہ پائے سوختہ کہ این چیزہا اصلاً نسبت بآنہا در اہل مذہب آنہا نیز واقع نیست.


شاہ عبدالعزیز، تفسیر عزیزی، 30: 50


’’وفات یافتہ اَولیاء اللہ اور دیگر صالحین مؤمنین سے اِستفادہ اور استمداد و اِستعانت جاری و ساری ہے اور اِن اولیاء اللہ سے افادہ اور امداد بھی متصور ہے۔ برخلاف اُن لوگوں کے جن کو جلا دیا جاتاہے۔ اِس لئے کہ اِن سے یہ اُمور اِن کے مذہب میں بھی جائز نہیں ہیں۔‘‘


شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے ’’تفسیرِ عزیزی (1: 7 اور 30: 113)‘‘ میں بھی اولیاء اللہ سے استعانت و استمداد کے جواز کو ثابت کیا ہے۔


حکمتِ اِستعانت و توسُّل

جمہور اُمت کے نزدیک اِستعانت و توسل کی حکمت یہ ہے کہ اِس سے دعا أقرب اِلی الإجابت ہو جاتی ہے یا کم از کم امکانِ قبولیت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ بعض اولیاء و مقربین کی دعا سے قضاء مبرم بدل جاتی ہے۔


قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ نے ’’تفسیر المظہری‘‘ میں سورۃ الرعد کی آیت نمبر 39 - یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ج وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِO - کے تحت حضرت عمر اور حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی شقاوت کو سعادت سے اور بعض اوقات سعادت کو شقاوت سے بدل دیتا ہے:


عن ابن مسعود في بعض الأثار أن الرجل قد یکون قد بقی لہ من عمرہ ثلاثون سنۃ فیقطع رحمہ فیرد إلی ثلاثۃ أیام والرجل قد یکون قد بقی لہ من عمرہ ثلاثۃ أیام فیصل رحمۃ فیمد إلی ثلاثین سنۃ۔ ثم روی البغوي بسندہ إلی أبي الدرداء رضی اللہ عنہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ینزل اللہ في أخر ثلاث ساعات یبقین من اللیل۔ فینظر في الساعۃ الأولی منھن في الکتاب الذي لا ینظر فیہ أحد غیرہ۔ فیمحو ما یشاء و یثبت.


قاضي ثناء اللہ، تفسیر المظہری، 5: 246


’’حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی بعض آثار میں آیا ہے: کسی شخص کی عمر تیس سال باقی ہوتی ہے کہ وہ اپنے رشتے داروں سے قطع تعلقی کرتا ہے تو اس بناء پر اس کی عمر تین دن کر دی جاتی ہے اور ایک آدمی کی بسا اوقات تین دن عمر باقی رہ گئی ہوتی ہے سو وہ صلہ رحمی کرتا ہے پس اس کی عمر تیس برس کر دی جاتی ہے۔ امام بغویؒ اپنی سند سے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ کی ذات رات کی تین گھڑیوں میں جلوہ افروز ہوتی ہے تو وہ پہلی گھڑی میں کتاب (تقدیر) کو دیکھتا ہے جو اس کے علاوہ کوئی اور نہیں دیکھ سکتا پس وہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے۔‘‘


اس سے یہ امر مترشح ہوا کہ اولیاء اللہ اور مقربین کی دعاؤں سے تقدیر مبرم ٹل جاتی ہے۔ اسی مقام پر قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒنے تفصیلاً لکھا ہے کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے صاحبزادگان حضرت محمد سعید اور حضرت محمد معصوم کے معلم حضرت ملا طاہر لاہوری کی پیشانی سے لفظِ شقی حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ کی دعا کی بدولت لفظِ سعید سے بدل گیا۔


رُوح کے لیے قرب و بعد کا معنی و مفہوم

یہ ایک بدیہی اَمر ہے کہ روح کیلئے قرب و بعد یکساں حقیقت کے حامل ہیں اوریہ کہ ارواحِ کاملین کو بعد از وفات بھی تدبیر و تصرف حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح دنیوی زندگی میں انسانوں کے مختلف مدارج ہیں۔ ان کی ذہنی، نفسیاتی، بدنی اور روحانی قوتیں ایک جیسی نہیں، بعینہٖ عالم برزخ میں اہلِ ایمان کے مختلف مدارج اور طبقات ہوتے ہیں۔ یہ طبقات اور مدارج یقینا ان کی دنیوی زندگی کے احوال پر منطبق ہونے والے انجام اور ثمرات کی بناء پر متشکل ہوں گے۔


1۔ برزخی احوال سے متعلق جن علماء اسلام نے اپنے اپنے حسبِ حال تفصیلات بیان کی ہیں ان میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا نام بطورِ خاص قابل ذکر ہے۔ شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی ؒنے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں برزخ کے چار مدارج تفصیل سے بیان فرمائے ہیں۔ مزید آپ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ (1: 41، 42 )‘‘ اور ’’ہمعات (ص: 57)‘‘ پر مقبولانِ بارگاہ الٰہی اور راندۂ درگاہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ مقبولانِ بارگاہ ملاء اعلیٰ کی مخلوق ہیں اور راندۂ درگاہ ملاء سافل۔ ملاء اعلیٰ معزز اور مقرب فرشتوں پر مشتمل مجلسِ بالا ہے جس میں نیک اور مقرب انسانوں کی ارواح بھی شامل ہوتی ہیں۔ پھر انہوں نے ان کی تین اقسام پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور نتیجے کے طور پر ’’حجۃ اللہ البالغہ (1: 111)‘‘ پر لکھا ہے:


وإذا تمکنت العدالۃ من الإنسان وقع اشتراک بینہُ بین حملۃ العرش ومغربی الحضرۃ من الملائکۃ الذین ہم وسائط نزول الجود والبرکات وکان ذالک باباً مفتوحاً بینہ وبینہم وممد النزول ألوانہم وصبغہم بمنزلۃ تکمیل النفس من ألہام الملائکۃ والانبعاث حسبھا.


شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغۃ، 1: 111


’’پس جب انسان میں صفتِ عدالت متمکن ہو جاتی ہے تو اس میں اور حاملینِ عرش اور مقربین فرشتوں میں جو جودِ الٰہی اور برکاتِ الٰہی کے لئے ذریعہ و واسطہ ہیں، اِشتراک پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس میں اور ان فرشتوں میں فیضان کا دروازہ کھل جاتا ہے اور یہ صفت اس پر ان کے رنگ اور اثر نازل کرنے میں مددگار بن جاتی ہے۔ اس طور پر کہ نفس میں ملائکہ کے الہام سے مستفیض ہونے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ ان کے علوم کے لئے آمادہ رہتا ہے۔‘‘


2۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:


ارواحِ نیکاں بعد از قبض درآں جامی رسند و مقرّبان یعنی انبیاء و اولیاء درآں مستقر میمانند۔ وعوام صلحا بعد از نویسانیندن و رسانیندن نا مہائے بر حسبِ مراتب در آسمانِ دنیا یا درمیان آسمان و زمین یا در چاہ زمزم قرار می دہند و تعلق بقبر نیز ایں ارواح را میباشد کہ بحضور زیارت کنندگان واقارب و دیگر دوستان بر قبر مطلع و مستانس میگردند زیرا کہ روح را قرب وبُعد مکانی مانع ایں دریافت نمی شود.


شاہ عبدالعزیز، تفسیر عزیزی ، 1: 100


’’نیک لوگوں کی اَرواحِ قبض کیے جانے کے بعد علیین کے قیام میں پہنچ جاتی ہیں۔ انبیاء و اولیاء اسی مقام پر قرار پکڑتے ہیں۔ عام صلحاء و اتقیاء کی ارواح کے نام اعلیٰ علیین میں لکھوانے اور وہاں پہنچانے کے بعد ان کے مرتبہ و درجات کے مطابق آسمانِ دنیا میں یا آسمان و زمین کے درمیان زمزم کے چشمہ میں ٹھکانا دیتے ہیں اور ان ارواح کو قبر کے ساتھ بھی تعلق ہوتا ہے، حتی کہ زیارت کرنے والوں کی حاضری اور اقارب اور دوست احباب کی قبر پر آمد سے مطلع ہو جاتے ہیں اور اُنس و راحت و محبت حاصل کرتے ہیں کیونکہ روح کیلئے مکان کے لحاظ سے قریب یا بعید ہونا اس علم و اداراک میں رکاوٹ نہیں ہو سکتا۔‘‘


3۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 54 - وَ لَا تَقُوْلُوا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہ اَمْوٰتٌ - کی تفسیر میں لکھتے ہیں:


إن اللہ تعالی یعطی لأرواحھم قوۃ الجساد فیذھبون من الأرض والسماء والجنۃ حیث یشاؤون وینصرون أولیاء ھم ویدمرون أعداء ھم إن شاء اللہ تعالی ومن أجل ذٰلک الحیٰوۃ لا تأکل الأرض أجسادھم ولا أکفانھم. قال البغوی: قیل أن أرواحھم ترکع و تسجد کل لیلۃ تحت العرش إلی یوم القیامۃ.


قاضي ثناء اللہ، تفسیر المظہري، 1: 152


’’اللہ تعالیٰ ان کی ارواح کو جسموں جیسی قوت عطا کرتا ہے سو وہ زمین، آسمان اور جنت میں جہاں چاہتے ہیں جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنے اولیاء (دوستوں، ساتھیوں) کی مدد کرتے ہیںاور اپنے دشمنوں کو تباہ و برباد کرتے ہیں اور اسی زندگی کے سبب زمین ان کے جسموں اور کفنوں کو نہیں کھاتی۔ امام بغویؒ نے فرمایا: یہ بھی قول ہے کہ ان کی ارواح قیامت تک ہر رات اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے رکوع و سجود کرتی رہیں گی۔‘‘


قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ مزید لکھتے ہیں:


ولذلک قالت الصوفیۃ العلیۃ: أرواحنا أجسادنا وأجسادنا أرواحنا وقد تواتر عن کثیر من الأولیاء أنھم ینصرون أولیاء ھم ویدمرون أعداء ھم ویہدون إلی اللہ تعالٰی من یشاء اللہ تعالٰی.


قاضي ثناء اللہ، تفسیر المظہري، 1: 152


’’اسی لئے بلند پایہ صوفیاء کا قول ہے: ہماری ارواح ہمارے جسم اور ہمارے جسم ہماری ارواح ہیں اور بہت سے اولیاء سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرتے ہیں اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کرتے ہیں اور جسے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔‘‘


4۔ علامہ ابنِ قیم اس حوالے سے لکھتے ہیں:


فللروح المطلقۃ من أسر البدن وعلائقہ وعوائقہ من التصرف والقوۃ والنفاذ والھمۃ وسرعۃ الصعود إلی اللہ والتعلق باللہ، ما لیس للروح المھینۃ المحبوسۃ فی علائق البدن و عوائقہ۔ فإذا کان ھذا وھی محبوسۃ فی بدنھا فکیف إذا تجردت و فارقتہ واجتمعت فیھا قواھا وکانت فی أصل شانھا روحاً علیۃ زکیۃ کبیرۃ ذات ھمۃ عالیۃ فھذہ لھا بعد مفارقۃ البدن شان آخر و فعل آخر.


ابن قیم، کتاب الروح: 103


’’جسم کی قید سے آزاد اور اس کے تعلقات اور عوارضات و موانعات سے مبرا روح کیلئے ایسا تصرّف، قوت، نفوذ، ہمت اور اللہ رب العزت کی طرف فوری طور پر بلند ہونے اور اس سے تعلق قائم کرنے کی قوت و صلاحیت حاصل ہوتی ہے، جو جسم کی قید میں مقید و محبوس اور بدنی تعلقات اور عوارضات و موانعات میں جکڑی ہوئی روح کو حاصل نہیں ہوتی۔ روح کا جب جسم سے محبوس و مقید ہوتے ہوئے یہ حال ہے تو اس وقت اس کی حالت کیا ہو گی جب جسم سے مجرد اور جدا ہو جائے او راس میں اس کی تمام تر قوتیں جمع ہو جائیں اور اپنی حالت کے اعتبار سے بھی پاکیزہ فطرت، بلند ہمت اور عالی قدر ہو تو جسم سے مفارقت و جدائی کے بعد اس کی شان نرالی ہو گی اور فعل و تاثیر بھی انوکھی و عمدہ ہو گی۔‘‘


کعبۃ اللہ مسجود لہٗ نہیں مسجود اِلیہ ہے

حقیقت اور مجاز کے ضمن میں ایک تمثیل ملاحظہ کیجئے۔ جو لوگ اولیاء اللہ کے مزارات پر بوقتِ حاضری اِستمداد کرتے ہیں وہ اُنہیں مستعانِ حقیقی سمجھ کر استعانت و اِستغاثہ نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے یہ کامل اُمید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے مقبول اور محبوب بندوں کے مقامات اور اطاعت و اعمالِ صالحہ کے طفیل ہماری خطاؤں کو معاف فرما دے گا۔ یہ اس طرح ہے جیسے لوگ کعبۃ اللہ میں جا کر یا دور سے اسی رخ پر سجدہ کرتے ہیں ۔ بیت اللہ شریف بھی پتھروں سے تعمیر کیا ہوا ایک مکان ہے اور وہ بھی یقینا اللہ تعالیٰ کا غیر ہے عین نہیں۔ پھر جمادات یعنی پتھروں کے ساتھ اس قدر تعظیم کا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ اللہ رب العزت نے تو صرف اپنی ذات کو سجدہ جائز قرار دیا ہے اور اپنی ہی عبادت کو جائز کیا ہے۔ پتھروں کی طرف رُخِ سجدہ کرنے کا آخر کیا مطلب ہے صاف ظاہر ہے وہ کعبۃ اللہ کی عبادت نہیں مگر اس میں اس کی تعظیم تو یقینا مضمر ہے۔ یہی معاملہ طواف اور دیگر بہت سے اُمور کا ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کعبہ معظمہ کی سمت سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ بیت اللہ شریف میں حاضری کے وقت بظاہر دیوارِ کعبہ سے لپٹ کر ہم رو رہے ہوتے ہیں۔ التجائیں کر رہے ہوتے ہیں، مگر کبھی کسی کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ بیت اللہ شریف کی دیواروں میں چنے ہوئے پتھروں کو ہم اپنا معبود گردانتے ہیں یا اُن سے مرادیں اور حاجات مانگتے ہیں تو پھر اُن لوگوں کے حق میں یہ بدگمانی کیوں کی جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں اور وہاں اللہ تعالیٰ سے دُعا و التجا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے توسل اور برکت سے ہماری حاجات پوری فرما دے گا۔ مسجود اِلیہ تو پتھروں ہی کا بنا ہوا گھر تھا مگر وہ مسجود لہ نہیں تھا۔ اِس سے ثابت ہوا کہ ہم دن میں کئی مرتبہ غیر اللہ کی سمت سجدہ کرتے ہیں اور یہ سجدے کر کے بھی مسلمان ہی رہتے ہیں۔


اِسی طرح ہم مقامِ ابراہیم کی سمت - جو کہ حضرت ابراہیم ں کے قدموں کے نشان والا پتھرہے - رُخ کرکے نماز پڑھنے کے بعد بھی مسلمان ہی رہے۔ کیوں؟ صرف اِسی لئے کہ ہمارے نزدیک مسجود وہ پتھر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ سو اِسی دلیل کی بنیاد پر یہ عمل بھی استوار ہے کہ جب ہم روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں تو وہاں بھی مرادیں اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتے ہیں اور ان کو وسیلہ بناتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت کا مظہر کعبۃ اللہ کو قرار دیا ہے اِسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء و اولیاء بھی اپنے اپنے مقام اور مرتبہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے مظہر ہیں۔ بقول غالب:


پرے ہے حدِ اِدراک سے اپنا مسجود

قبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں


اس ساری بحث سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوگئی ہے کہ مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کی ارواح بعد از وصال مُدَبِّرَاتِ اَمر میں سے بن جاتی ہیں او رملائِ اعلیٰ کے ساتھ شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کے اذن اور مشیت کے مطابق تدبیر و تصرّف کرتی ہیں اور اہلِ محبت کی بالخصوص مدد کرتی ہیں، لہٰذا ان سے ان کی شان کے لائق استمداد و استعانت کرنا اسی طرح جائز، مباح اور صحیح ہے جیسے کہ حیاتِ ظاہری میں مباح اور مستحسن ہے۔


حیاتِ ظاہری اور حیاتِ برزخی میں فرق روا رکھنا باطل ہے کیونکہ بعض ائمہ کے نزدیک بعد از وصال امداد و اعانت قوی طریقہ پر متحقق ہو جاتی ہے لہٰذا معترضین اور منکرین کا انبیاء و اولیاء کو بعد از وصال اس دنیا میں رہنے والے اعانت کے طلب گاروں سے بے خبر غافل اور لاتعلق بتلانا اور بتوں والی آیات ان پرمنطبق کرتے ہوئے ان کی امداد و اعانت سے عاجز و قاصر اور مجبور و معذور اور بے بس قرار دینا باطل ہے۔

Saturday, 22 May 2021

نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کا روضہ اقدس سارے جہان سے افضل ہے


نبی اکرم، نور مجسم صلی اللہ علیہ والہ و سلم افضل الخلق ہیں، کوئی مخلوق بھی آپ سے افضل نہیں. ایک حدیث میں ہے کہ آدمی جس مٹی سے پیدا ہوتا ہے، اسی میں دفن کیا جاتا ہے، لہذا جس پاک مٹی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے جسد اطہر کی تدفین ہوئی اسی سے آپ کی تخلیق ہوئی، اور جب آپ افضل الخلق ہوئے،، تو وہ پاک مٹی بھی تمام مخلوق سے افضل ہوئی

علاوہ ازیں زمین کے جن اجزاء کو افضل الرسل، افضل البشر، افضل الخلق صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے جسد اطہر سے مس ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ باقی تمام مخلوقات سے اس لیے بھی افضل ہیں کہ یہ شرف عظیم ان کے سوا کسی مخلوق کو حاصل نہیں. 

زیر بحث مسئلے میں خدانخواستہ اللہ تعالی کے درمیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے درمیان تقابل نہیں کیا جا رہا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے درمیان اور دوسری مخلوقات کے درمیان تقابل ہے، کعبہ ہو، عرش ہو، کرسی ہو، یہ سب مخلوق ہے، اور آنحضرت تمام مخلوق سے افضل ہیں، اور قبر مبارک کی جسد اطہر سے لگی ہوئی مٹی اس اعتبار سے اشرف و افضل ہے کہ جس اطہر سے ہم آغوش ہونے کی جو سعادت اسے حاصل ہے، وہ نہ کعبہ کو حاصل ہے، نہ عرش و کرسی کو۔ آئیے اس مسئلہ کو احادیث اور اکابرین امت کی آراء کی روشنی میں دیکھتے ہیں 


*عظمت مدینہ بذریعہ عظمت نبوی*


عبد الرزاق عن بن جريج قال أخبرني عمر بن عطاء بن وراز عن عكرمة مولى بن عباس أنه قال يدفن كل إنسان في . التربة التي خلق منها. [مصنف عبد الرزاق : باب يدفن في التربة التي منها خلق ، 6531 ، 3/515]؛

ترجمہ : عبدالرزاق ابن جریج سے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی عمر بن عطاء بن وراز نے، ان سے عکرمہ ابن عباس کے غلام نے کہ انہوں (حضرت ابن عباس) نے فرمایا:  دفن کیا جاتا ہے ہر انسان اسی مٹی میں جس سے وہ پیدا کیا گیا؛


یہ بات (مضمون و معنی) حدیث رسول سے بھی ظاہر ہے؛


أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ ، قَالا : ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى الأَسْلَمِيِّينَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ : " قَبْرُ مَنْ هَذَا ؟ " , فَقَالُوا : فُلانٌ الْحَبَشِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ سِيقَ مِنْ أَرْضِهِ وَسَمَائِهِ إِلَى تُرْبَتِهِ الَّتِي مِنْهَا خُلِقَ " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ. [المستدرك على الصحيحين، للحاکم :رقم الحديث: 1289 - 1/521 ، رقم 1356،.شعب الایمان بیہقی ؒ ،طبع مکتبہ رشد الریاض (جلد 12 ص297 ،رقم 9425)]؛

سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں ایک جنازے پر ایک قبر کے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے پوچھا یہ کس کی قبر ہے ؟ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ فلاں حبشی کی ہے (جو ہمارے شہر مدینہ میں فوت ہوگیا ہے ) آپ نے " لا إله إلا الله " پڑھا اور فرمایا : یہ آدمی اپنی زمین و آسمان یعنی اپنے علاقے سے(اللہ کے حکم سے ) یہاں اس مٹی میں لایا گیا جس مٹی سے اسے پیدا کیا گیا تھا ۔


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " . رواه البخاري


ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے


’’حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي ضَمْرَةَ، نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ وَيَقُولُ "‏مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلاَّ خَيْرًا"‘‘۔ ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: " (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے"‘‘۔ (سنن ابن ماجه: کتاب الفتن، باب حُرْمَةِ دَمِ الْمُؤْمِنِ وَمَالِهِ، ج5، رقم الحدیث 3931)


امام زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعضاء مقدسہ کے ساتھ جو جگہ ملی ہوئی ہے وہ " مجاورت " کیوجہ سے افضل ہے اسی وجہ سے محدث کا قرآن پاک کی جلد کو چھونا جائز نہیں ہے.


پھر فرماتے ہیں : جو رحمتیں اور برکتیں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر نازل ہوتی ہیں ان کا فیض امت پر بھی عام ہے اور غیر متناہی ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ہمیشہ عروج ہی آتا رہتا ہے اور امت کو بھی جو کچھ توسل سے ملتا ہے وہ بھی سب سے افضل ہے اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انبیاء کرام علی نبینا و علیہم الصلاۃ والسلام میں سب سے افضل ہیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ساری امتوں سے افضل ہے  تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور جو ہر فضیلت اور خیر کا سر چشمہ ہے ساری زمین سے کیوں افضل نہ ہو.


 پھر فرماتے پیں: علامہ جوزی رحمہ اللہ نے " الوفاء " میں أمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا سے حدیث مبارکہ روایت کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں : جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تولوگوں میں اختلاف رائے ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تدفین کہاں کی جائے حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجھہ نے فرمایا : اللہ تعالی کے نزدیک سب سے مکرم جگہ وہی ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا ہے.


امام یحیی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب  رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن کی جگہ پر لوگوں میں اختلاف رائے ہوا تو حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجھہ نے فرمایا : اللہ تعالی کے نزدیک سب سے مکرم جگہ وہی ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا ہے تو اس بات پر سب راضی ہو گئے. میں کہتا ہوں یہی قول قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تفضیل کی دلیل ہے کیونکہ سب صحابی اس پر خاموش رہے اوروہیں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کرنے میں مشغول ہو گئے.


سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا اے یار غار رسول بتائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں دفن کیا جائےتو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جہاں آپ نے وصال فرمایا بے شک اللہ تعالی نے سب پاکیزہ جگہ پر ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی روح مبارکہ قبض کی ہے.


" مسند ابو یعلی " میں حدیث کے یہ الفاظ ہیں : " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے " اللہ تعالی ہر نبی کی روح وہیں قبض کرتا ہے جو جگہ اسےسب سے زیادہ محبوب ہو "


تو میں یہ کہتا ہوں کہ رسول کو بھی وہی جگہ زیادہ پسند ہو گی جو اللہ تعالی کو زیادہ پسند ہو گی کیونکہ حب رسول حب الٰہی کے تابع ہوتی ہے اور جو جگہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند ہو وہ سب سے افضل کیوں نہیں ہو گی ؟" 

( الشفاء بتعریف حقوق مصطفی صلی اللہ علیہ والہ و سلم 2/91 دار الكتب العلميۃ) 


*اکابرین اہل السنت کا مذہب :*


روضۂ اقدس میں جہاں آپ رونق افروز ہیں اور جو مٹی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس کے نیچے ہے اس کی قدر اہل السنت کے مذہب میں عرش بریں سے بھی زیادہ ہے اس لئے کہ عرش خدا تعالیٰ کا مكان نہیں ہے کیونکہ وہ مكان سے وراء الوراء ہے اور جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے ہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ ہے وہی ریاض الجنۃ کہلاتا ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں ہیں ،ورنہ اور مقامات کو بھی ایسا شرف حاصل ہونا چاہیئے 


الإجماع على أن مكان جسد النبي صلى الله عليه وسلم أفضل من الکونين


اکابرین کے نزدیک اس بات میں تو اختلاف ہے کہ مکہ زیادہ افضل ہے یا مدینہ کیونکہ دونوں کی فضیلت اپنی جگہ احادیث میں آئی ہے لیکن یہ اختلاف روضۃ الرسول کے ٹکڑے کو مستثنی کرکے ہے کیونکہ اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ ٹکڑا دنیا کی ہر چیز سے افضل ہے حتی کہ عرش، کرسی، قلم، عرش تھامنے والے فرشتے اور کعبہ سے بھی اور اس پر کسی نے اختلاف نہیں کیا سوائے چند متاخرین کے۔ اور یہ مسئلہ جمہور میں متفق علیہ ہے۔ اسی طرح کی عبارات اکابرین اہلسنت سے منقول ہیں جو آپ عنقریب ملاحظہ کریں گے۔


  ابن عقیل حنبلی رحمہ للہ کے نزدیک:

ابن القیم نے اپنی کتاب بدائع الفوائد میں لکھا


قال ابن عقيل: سألني سائل أيما أفضل حجرة النبي أم الكعبة؟ 


فقلت: إن أردت مجرد الحجرة فالكعبة أفضل ، 


وإن أردت وهو فيها فلا والله ولا العرش وحملته ولا جنه عدن ولا الأفلاك الدائرة 


لأن بالحجرة جسدا لو وزن بالكونين لرجح

ترجمہ:"ابن عقیل حنبلی رحمہ للہ  نے کہا کہ سائل نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ افضل ہے یا کعبہ؟ جواب دیا اگر تمہارا ارادہ خالی حجرہ ہے تو تو پھر کعبہ افضل ہے اور اگر تمہاری مراد وہ ہے جو اس میں ہے [یعنی روضۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم جہاں پر مدفون ہیں] تو پھر اللہ کی قسم نہ عرش افضل ہے نہ اس کے تھامنے والے فرشتے نہ جنت عدن اور نہ ہی پوری دنیا۔ اگر حجرے کا وزن جسد کے ساتھ کیا جائے تو وہ تمام کائنات اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بھی افضل ہوگا۔[بدائع الفوائد ج3 ص655]


ابن القیم نے اس کو عنوان ھل حجرۃ النبی افضل ام کعبه کے عنوان کے تحت لکھا ہے جس سے معلوم ہوا کہ ابن القیم بھی اس کے قائل ہیں اور یہ لکھ کر رد نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کے منکر نہیں۔


قاضی عیاض ، علامہ خفاجی اور امام سبکی رحمہم اللہ کے نزدیک:

قاضی عیاض نے کتاب الشفا میں لکھا

ولا خلاف أن موضع قبره صلى الله عليه وسلم أفضل بقاع الأرض

فعلَّق عليه الشيخ الخفَّاجي

بل أفضل من السموات والعرش والكعبة كما نقله السبكي رحمة الله

ترجمہ: اور اس کے خلاف کوئی نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تمام زمین سے افضل ہے اس پرعلامہ خفاجی رحمہ اللہ نے تعلیق لکھی کہ بلکہ [آپ کی قبر مبارک کی جگہ یا مٹی] آسمان، عرش، کعبہ سے بھی افضل ہے اور اس کے مثل امام سبکی رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا۔[كتاب الشفا ج 2 ص 76 اور نسیم الریاض ج3 صفحہ 531]



علامہ حصفکی حنفی رحمہ اللہ کے نزدیک:

علامہ حصفکی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ


لا حرم للمدينة عندنا ومكة أفضل منها على الراجح


إلا ما ضم أعضاءه عليه الصلاة والسلام فإنه أفضل مطلقا حتى منالكعبة والعرش والكرسي .وزيارة قبره مندوبة , بل قيل واجبة لمن له سعة


ترجمہ: ہمارے نزدیک مدینہ سے بڑھ کر کوئی مقدس جگہ نہیں البتہ مکہ مدینے سے افضل ہے الا یہ کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء[ اس مٹی سے] مس ہوں تو مدینہ [کی مٹی ] بلکل افضل ہے حتی کہ کعبہ، عرش اور کرسی سے بھی اور ہمارے نزدیک روضۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم مندوب ہے۔ بلکہ واجب ہے جس کی استطاعت ہو ۔[الدر المختار ج2 ص 689]


علامہ سخاوی رحمہ اللہ کے نزدیک:

علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے فرمایا:

مع الإجماع على أفضلية البقعة التي ضمته صلى الله عليه وسلم، حتى على الكعبة المفضلة على أصل المدينة، بل على العرش، فيما صرح به ابن عقيل من الحنابلة. ولا شك أن مواضع الأنبياء وأرواحهم أشرف مما سواها من الأرض والسماء، والقبر الشريف أفضلها،

وہ ٹکڑا جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کے ساتھ ضم ہے اس کی افضلیت پر اجماع ہے حتی کہ اس کعبہ سے بھی افضل ہے جو اصل شہر مدینہ [سوائے اس حصے کے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ و سلم مدفون ہیں اس ] سے فضیلت میں زیادہ ہے۔ بلکہ عرش سے بھی زیادہ۔ اس کی تصریح علمائے حنابلہ میں سے ابن عقیل نے کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کی مقیم گاہیں اور روح اشرف ہیں زمین و آسمان کی تمام چیزوں سے۔اور ان کی قبریں بھی افضل ہیں ۔ [التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة السخاوي الصفحة : 12]


ملاعلی قاری رحمہ اللہ کے نزدیک

ملا علی قاری رحمہ اللہ نے کہا

أجمعوا على أنّ أفضل البلاد مكّة والمدينة زادهما الله شرفًا وتعظيمًا ، ثم اختلفوا بينهما أي في الفضل بينهما ، فقيل : مكة أفضل من المدينة ، وهو مذهب الأئمة الثلاثة وهو المرويُّ عن بعض الصحابة ، وقيل : المدينة أفضل من مكة ، وهو قول بعض المالكية ومن تبعهم من الشافعية ، وقيل بالتسوية بينهما۔۔۔

إلى أن قال والخلاف أي الاختلاف المذكور محصورٌ فيما عدا موضع القبر المقدس ، قال الجمهور : فما ضمّ أعضاءه الشريفة فهو أفضل بقاع الأرض بالإجماع حتى من الكعبة ومن العرش

اس بات پر تو اتفاق اور اجماع ہے کہ اللہ نے مکہ اور مدینہ کوافضل بنایا اور شرف و تعظیم سے مالا مال کیا ہے۔ لیکن پھر اس میں اختلاف ہے کہ ان دونوں میں زیادہ افضل کون ہے۔ بعض نے کہا مکہ مدینے سے افضل ہے اور یہ آئمہ ثلاثہ کا مذہب ہے اور بعض صحابہ سے مروی ہے۔ اور بعض نے کہا مدینہ مکے سے افضل ہے اور یہ قول ہے بعض مالکی اور شافعی علماء کا اور بعض نے کہا دونوں کے درمیان توازن ہے۔۔۔۔۔ پھر فرمایا لیکن یہ اختلاف قبر مبارک کو خارج بحث کرکے ہے کیونکہ جمہور نے فرمایا جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء شریفہ ضم زمین ہیں وہ ٹکڑا اجماع کے مطابق تمام زمین سے افضل ہے حتی کہ کعبہ اور عرش سے بھی۔[المسلك المتقسط في المنسك المتوسط ص351 - ص352]


علامہ ابن عابدین حنفی، قاضی عیاض، ابن عقیل، علامہ تاج الدین فاکھی اور علامہ زکریا بن شرف نووی رحمہم اللہ کے نزدیک:

ابن عابدین حنفی رحمہ اللہ نے اس باب میں فرمایا کہ

والخلاف فيما عدا موضع القبر المقدس , فما ضم أعضاءه الشريفة فهو أفضل بقاع الأرض بالإجماع . قال شارحه : وكذا أي الخلاف في غير البيت : فإن الكعبة أفضل من المدينة ما عدا الضريح الأقدس وكذا الضريح أفضل من المسجد الحرام . وقد نقل القاضي عياضوغيره الإجماع على تفضيله حتى على الكعبة , وأن الخلاف فيما عداه . ونقل عن ابن عقيل الحنبلي أن تلك البقعة أفضل من العرش , وقد وافقه السادة البكريون على ذلك.وقد صرح التاج الفاكهي بتفضيل الأرض على السموات لحلوله صلى الله عليه وسلم بها , وحكاه بعضهم على الأكثرين لخلق الأنبياء منها ودفنهم فيها وقال النووي : الجمهور على تفضيل السماء على الأرض , فينبغي أن يستثنى منها مواضع ضم أعضاء الأنبياء للجمع بين أقوال العلماء


مکے اور مدینے میں افضلیت کی بحث قبر اقدس کو خارج از بحث رکھ کر ہے کیونکہ یہ اجماع سے ثابت ہے کہ جہاں آنحضرت کا جسد اطہر مس ہے وہ تمام زمین سے افضل ہے۔

شارح نے فرمایا کہ یہ اختلاف نبی کے آخری ٹھکانے کو چھوڑ کر ہے ۔ اسی لئے کعبہ مدینہ سے افضل ہے سوائے روضۃ الرسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو چھوڑ کر اور اسی طرح روضۃ الرسول مسجد حرام سے زیادہ افضل ہے۔ تحقیق کہ قاضی عیاض مالکی نے اس کی افضلیت پر اجماع نقل کیا ہےحتی کہ کعبہ پر بھی اور جو اختلاف ہے وہ اس [ٹکڑائے زمین ] کو چھوڑ کر ہے ۔ اور انہوں نے ابن عقیل جنبلی رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ وہ ٹکڑا [جہاں نبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم مدفون ہیں ] عرش سے بھی افضل ہے اور جمہور اس پر متفق ہیں۔ اور علامہ تاج فاکھی نے تصریح کی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمین میں مدفون ہونے سے زمین آسمان سے افضل ہے۔ اور بعض نے کثیر تعداد سے روایت کیا کہ تمام انبیاءاسی سے ہیں [یعنی مٹی سے بنے ہیں] اور اسی میں مدفون ہیں [لہذا زمین افضل ہے آسمان سے] لیکن علامہ نووی رحمہ اللہ نے جمہور سے روایت کیا ہے کہ آسمان زمین سے افضل ہے البتہ اس میں نبی صلی للہ علیہ سلم کے مدفن کی استثناء ضرور ہے جیسا کہ جاننے والوں کے اقوال اس پر متفق ہیں۔[رد المختار ج 2 ص 688]



علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ کے نزدیک:

علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے لکھا

وهي كبقية الحرم أفضل الأرض عندنا وعند جمهور العلماء للأخبار الصحيحةالمصرحة بذلك وما عارضها بعضه ضعيف وبعضه موضوع كما بينته في الحاشية ومنه خبر { إنها أي المدينة أحب البلاد إلى الله تعالى } فهو موضوع اتفاقا ، وإنما صح ذلك منغير نزاع فيه في مكة إلا التربة التي ضمت أعضاءه الكريمة صلى الله عليه وسلم فهيأفضل إجماعا حتى من العرش

اور یہ کہ حرم کعبہ میرے اور اخبار صحیحہ صریحہ سے جمہور کے نزدیک تمام زمین سے افضل ہے اور جو چند دلیلیں اس کے معارض ہیں ان میں سے بعض ضعیف ہیں اور بعض موضوع مثلا حاشیہ میں جو دلیل ہے کہ إنها أي المدينة أحب البلاد إلى الله تعالى یہ بالاتفاق موضوع ہے ۔ لیکن اس طرح کی خبریں مکہ [کی فضیلت] کے بارے میں بلااختلاف درست ہیں سوائے اس مٹی کی فضیلت کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے اعضائے مقدسہ کے ساتھ مس ہے حتی کہ عرش سے بھی ۔ یہ فضیلت اجماع سے ثابت ہے[تحفة المحتاج ج 5 ص 167]


امام الوہابیہ  قاضی شوکانی کے نزدیک:

قاضی شوکانی نے نیل الاوطار میں نقل کیا ہے

قال القاضى عياض ، إن موضع قبره صلى الله عليه وسلم أفضل بقاع الأرض

قاضی عیاض نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر والا ٹکڑا تمام زمین سے افضل ہے۔[نيل الأوطار - الشوكاني ج 5 ص 99] اور اس پر رد بھی نہیں فرمایا جوکہ اس بات کی دلیل ہے کہ قاضی شوکانی  بھی اسی کے قائل ہیں۔


تُربت اطہر یعنی وہ زمین کہ جسم انور سے متصل ہے کعبہ معظمہ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے [1]صرح بہ عقیل الحنبلی وتلقاہ العلماء بالقبول (اس پر ابو عقیل حنبلی نے تصریح کی اور تمام علماء نے اسے قبول کیا)


باقی مزار شریف کا بالائی حصہ اس میں داخل نہیں کعبہ معظمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ مدینہ طیبہ سوائے موضع تربتِ اطہر اور مکہ معظمہ سوائے کعبہ مکرمہ ان دونوں میں کون افضل ہے، اکثر جانب ثانی ہیں اور اپنا مسلك اول اور یہی مذہب فاروق اعظم رضی الله تعالیٰ عنہ ہے، طبرانی کی حدیث میں تصریح ہے کہ المدینۃ افضل من مکۃ [2](مدینہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) مکہ سے افضل ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔

(فتاوی رضویہ) 


ان حوالوں سے یہ بات ثابت

 ہوگئی کہ وہ ٹکڑا جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں وہ تمام اشیاء سے افضل ہے حتی کہ عرش اور کعبہ سے بھی اور جمہور کا اس پر اجماع ہے۔ اور جمہور کے اجماء کے مقابلے میں کسی کا تفرد کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ممکن ہے کہ کوئی بزرگ ایسا ہو جس کا عقیدہ اس کے برخلاف ہو لیکن اس مسئلے میں ہم اس بزرگ کو نہیں مانیں گے کیونکہ جمہور کا اجماع ایک طرف ہے اور ان بزرگ کی شان میں گستاخی کئے بغیر یہ مانا جائے گا کہ ان سے اس مسئلے میں کوئی ذھول ہوگیا ہے اللہ ان کی خطا کو معاف فرمائے اور ان کو اچھی نیت کا ثواب عطا کرے۔

Thursday, 1 April 2021

قرآن و حدیث میں کشف و کرامات و تصرفات اولیاء اللہ کا بیان


 اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی سورہ نمل  میں ارشاد فرماتا ہے. 

قَالَ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِىْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ (38) 

کہا اے دربار والو! تم میں کوئی ہے کہ میرے پاس اس کا تخت لے آئے اس سے پہلے کہ وہ میرے پاس فرمانبردار ہو کر آئیں۔

قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ ۖ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ اَمِيْنٌ (39) 

جنوں میں سے ایک دیو نے کہا میں تمہیں وہ لا دیتا ہوں اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے، اور میں اس کے لیے طاقتور امانت دار ہوں۔

قَالَ الَّـذِىْ عِنْدَهٝ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٝ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْۖ لِيَبْلُوَنِـىٓ ءَاَشْكُـرُ اَمْ اَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَـرَ فَاِنَّمَا يَشْكُـرُ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّىْ غَنِىٌّ كَرِيْـمٌ (40) 

اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے تیری آنکھ جھپکنے سے پہلے لا دیتا ہوں، پھر جب اسے اپنے روبرو رکھا دیکھا تو کہنے لگا یہ میرے رب کا ایک فضل ہے، تاکہ میری آزمائش کرے کیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شخص شکر کرتا ہے اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بھی بے پروا عزت والا ہے۔

قرآن کریم کے ایک ولی اللہ کے تصرف کو اس طرح واضح بیان کرنے کے بعد بھی کوئی تصرف ولی کو شرک کہے تو پھر یا عقل سے فارغ ہے یا ایمان سے یا شاید دونوں سے. 

حضرت مریم رضی اللہ عنھا کی کرامت

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا موقع آیاتوآپ کی والدۂ ماجدہ حضرت مریم رضی اللہ عنھا ایک درخت کے تنے کے پاس آئیں، جوسوکھاتھا، اُس پر کھجورنہ تھے ، اللہ تعالی نے فرمایا:

وَهُزِّیْ إِلَيْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْکِ رُطَبًا جَنِيًّا-

ترجمہ:اور کھجور کے درخت کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، یہ تم پر تازہ اور پکے کھجور گرادے گا۔(سورۃمریم ۔25)

     آیتِ مذکورہ میں بتایا گیا کہ حضرت مریم رضی اللہ عنھا نے کھجور کے درخت کو ہاتھ لگایا تو وہ اسی وقت تروتازہ کھجور آپ کی گود میں ڈالنے لگا ، ظاہر ہے سوکھا ہوا درخت تروتازہ ہوتاہے تواُس کے لئے وقت درکار ہے ، مختصر لمحات یا چند گھنٹوں میں بے پھل درخت پھلدار نہیں ہوتا‘ خشک درخت سرسبز نہیں ہوتا‘ سوکھے ہوئے درخت پر پھل نظر نہیں آتے ، سوکھے درخت کا لمحہ بھرمیں تروتازہ اور پھلدار ہوجانا اور وہ بھی مریم کے فرمان پر یقیناخداکی اس محبوب ولیہ کی کرامت ہے ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ رضی اللہ عنھا کی کرامت

قرآن کریم میں بیان کی جا نیوالی غیر انبیاء کی کرامتو ں میں سے ایک حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ رضی اللہ عنھا کو غیبی خبر کا الہام کیا جانا ہے :

وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِيْهِۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَ لْقِيْهِ فِى الْيَمِّ وَلَا تَخَافِىْ وَلَا تَحْزَنِىْۚ اِنَّا رَاۤدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجٰعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ

سورہ القصص آيت 7

یعنی اللہ کی جانب سے موسیٰ علیہ السلام کی ماں کے پاس وحی (الہام) ہوئی کہ تم اس بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا ئے نیل میں ڈال دو اور یہ خوش خبری بھی دیدی گئی کہ ہم اس کو پھر تمہارے پاس پہنچادیں گے اور اس کو (اپنا رسول )بنائیں گے۔

 یہ سب مستقبل اور غیب کی خبریں ہیں جو ام موسی علیہ السلام کو دی گئیں مگر کچھ بیوقوف انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ کسی کو کشف یا الہام کے ذریعے غیبی خبریں ملنے کو شرک تصور کرتے ہیں. 

*بخاری و مسلم میں کشف و کرامت اور تصرف ولی کا بیان*

 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی لڑکا جھولے میں (یعنی شیرخوارگی میں) نہیں بولا: مگر تین لڑکے۔ ایک تو عیسی علیہ السلام، دوسرے جریج کا ساتھی۔ اور جریج کا قصہ یہ ہے کہ وہ ایک عابد شخص تھا سو اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اسی میں رہتا تھا۔ اس کی ماں آئی وہ نماز پڑھ رہا تھا، ماں نے پکارا: اے جریج! وہ بولا: اے رب! میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں، آخر وہ نماز ہی میں رہا اس کی ماں پھر گئی۔ پھر جب دوسرا دن ہو ا، پھر آئی اور پکارا: اے جریج! وہ بولا: یا اللہ! میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں، آخر وہ نماز ہی میں رہا۔ اس کی ماں بولی: یا اللہ! اس کو مت مارنا جب تک بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھے۔ پھر بنی اسرائیل نے جریج کا اور اس کی عبادت کا چرچا شروع کیا۔ اور بنی اسرائیل میں ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی سے مثال دیتے تھے۔ وہ بولی: اگر تم کہو تو میں جریج کو بلا میں ڈال دوں، پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی، لیکن جریج نے اس طرف خیال بھی نہ کیا۔ آخر وہ ایک چروا ہے کے پاس آئی جو جریج کے عبادت خانہ کے پاس ٹھہرا کرتا تھا اور اجازت دی اس کو اپنے سے صبحت کرنے کی، اس نے صبحت کی وہ پیٹ سے ہوئی اور جب بچہ جنا تو بولی: کہ یہ بچہ جریج کا ہے لوگ یہ سن کر جریج کے پاس آئے اور اس سے کہا: اتر اور اس کا عبادت خانہ گرا دیا اور اس کو مارنے لگے وہ بولا: کیا ہو ا تم کو؟ انہوں نے کہا: تو نے زنا کیا اس بدکار عورت سے، وہ ایک بچہ بھی جنی ہے تجھ سے۔ جریجنے کہا: وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس کو لائے،جریج نے کہا: ذرا مجھ کو چھوڑو میں نماز پڑھ لوں، پھر نماز پڑھی اور آیا اس بچہ کے پاس اور اس کے پیٹ کو ایک ٹھونسا دیا اور بولا: اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا: فلانا چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ دوڑے جریج کی طرف اور اس کو چومنے چاٹنے لگے اور کہنے لگے تیرا عبادت خانہ ہم سونے سے بنا دیتے ہیں۔ وہ بولا: نہیں مٹی سے پھر بنا دو جیسا تھا۔ لوگوں نے بنا دیا۔ تیسرا ایک بچہ تھا جو اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا اتنے میں ایک سوار نکلا عمدہ جانور پر ستھری پوشاک والا۔ اس کی ماں نے کہا:: یا اللہ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا۔ بچے نے یہ سن کر چھاتی چھوڑ دی اور اس سوار کی طرف دیکھا اور کہا: یا اللہ! مجھ کو ایسا نہ کرنا، پھر چھاتی میں جھکا اور دودھ پینے لگا۔“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہو ں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے دودھ پینے کی نقل کرتے تھے اس طرح پر کہ کلمہ کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر چوستے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر لوگ ایک لونڈی کو لے کر نکلےجس کو مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے: تو نے زنا کرایا اور چوری کی۔ وہ کہتی تھی: اللہ مجھے کفایت کرتا ہے اور وہی میرا وکیل ہے۔ بچے کی ماں بولی: یا اللہ! میرے بچہ کو اس لونڈی کی طرح نہ کرنا۔ یہ سن کر بچے نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس لونڈی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا: یا اللہ! مجھ کو اس لونڈی کی طرح کرنا۔ اس وقت ماں اور بیٹے میں گفتگو ہوئی۔ ماں نے کہا: او سر منڈے! جب ایک شخص اچھی صورت والا نکلا اور میں نے کہا: یا اللہ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا تو تو نے کہا: یا اللہ! مجھ کو ایسا نہ کرنا اور یہ لونڈی کو لوگ مارتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں تو نے زنا کیا، چوری کی، تو میں نے کہا: یا اللہ! میرے بچے کو اس کی طرح نہ کرنا۔ تو کہتا ہے: یا اللہ! مجھ کو اس کی طرح کرنا (یہ کیا بات ہے؟)۔ بچہ بولا: وہ سوار ایک ظالم شخص تھا، میں نے دعا کی یا اللہ! مجھ کو اس کی طرح نہ کرنا اور لونڈی پر لوگ تہمت کرتے ہیں، کہتے ہیں تو نے زنا کیا، چوری کی، حالانکہ نہ اس نے زنا کیا ہے اور نہ چوری کی ہے، تو میں نے کہا: یا اللہ! مجھ کو اس کے مثل بنا۔“

(صحيح مسلم

كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ، باب تَقْدِيمِ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى التَّطَوُّعِ بِالصَّلاَةِ وَغَيْرِهَا:

حدیث نمبر: 6509)

جریج کا یہ واقعہ بخاری شریف میں حدیث نمبر: 1206 میں بھی موجود ہے

 بخاری و مسلم کی اس روایت میں جریج نہ تو کوئی نبی تھا نہ فرشتہ.. نیک آدمی (اللہ کا ولی) تھا لیکن بچہ اسکے کہنے پر بولنے لگ گیا..

اور ایک دودھ پیتا بچہ اللہ کے حکم سے غیب کی باتیں جان  سکتا ہے تو اب اس طرح کی کرامات کا انکار کر کے اسے کفر و شرک کہنے والے کون سے دین یا بخاری مسلم کا درس دیتے ہیں ؟

بخاری کتاب التفسیر میں حضرت خضر علیہ السلام کا تصرف بیان کیا گیا ہے کہ 

"آپ نے گرتی دیوار کو فقط ہاتھ سے مس کر کے دوبارہ صحیح حالت میں لوٹا دیا" 

صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ: لاَ أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ البَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا)  حدیث نمبر 4725

فقط مس کر کے قابل تعمیر دیوار کو صحیح سالم کر دینا واضح  تصرف ہے

 *کرامات ِ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ*

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور  تابعین رحمہم اللہ اور دیگر صالحین کی کرامات تو بہت زیادہ ملتی ہیں مگر اختصار سے چند ایک کا بیان کیا جاتا ہے تا کہ کرامات کو جھوٹی کہانیاں کہنے والوں کا جھوٹ و فریب آشکار ہو سکے. 

نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیارے صحابی حضرت عبدُاللہ رضی اللہ عنہ کا کشف یعنی علمِ غیب دیکھئے کہ اپنی مَوت، نَوعِیَتِ مَوت، حُسنِ خاتِمَہ وغیرہ سب کی خبر پہلے سے دے دی۔ چنانچہ حضرت سیّدُنا جابِر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب غَزْوَۂ اُحُد ہوا میرے والد نے مجھے رات میں بُلا کر فرمایا: میں اپنے متعلق خیال کرتا ہوں کہ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابہ میں پہلا شہید میں ہوں گا۔میرے نزدیک رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد تم سب سے زیادہ پیارے ہو۔ مجھ پر قرض ہے تم ادا کردینا اور اپنی بہنوں کے لئے بھلائی کی وَصِیَّت قبول کرو۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ہم نے دیکھا صبح سب سے پہلے شہید وہی تھے۔(بخاری،ج1،ص454،حدیث:1351مختصراً)

اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سورۂ کہف پڑھ رہے تھے تو آسمان سے ایسی چیز اتری تھی جو بادل کا سیاہ سائبان معلوم ہوتا تھا اور جس میں گویا چراغ روشن تھے۔ یہ فرشتے تھے جو کہ ان کی قرأت سننے کے لیے آئے تھے۔

(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، رقم: 3614، مسلم کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب نزول السکینۃ رقم: 1859، ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی سورۃ الکہف، رقم: 2885، مسند احمد4؍281۔)

سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو فرشتے سلام کیا کرتے تھے۔

(مسلم کتاب الحج، باب التمتع، رقم: 2974۔)

سیدناسلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہما جس طشتری میں کھانا کھا رہے تھے کہ وہ طشتری یا وہ چیزیں جو کہ اس میں تھیں، تسبیح پڑھنے لگیں۔ سیدناعباد بن بشر رضی اللہ عنہ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس سے اندھیری رات میں نکلے تھے اور تازیانہ کے کنارے کی شکل کا ایک نور ان کے لیے روشنی کرتا تھا۔ جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو وہ روشنی بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک حصہ ایک کے ساتھ اور ایک حصہ دوسرے کے ساتھ ہوگیا۔

(بخاری، 3805، کتاب مناقب الانصار، باب منقبہ، اُسید بن حضیر و عباد بن بشر، مسند احمد3؍131)

بخاری و مسلم میں سیدناصدیق رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ جب وہ تین مہمانوں کے ہمراہ اپنے گھر کی طرف گئے۔ جو لقمہ کھاتے تھے، اس کے نیچے کھانا بڑھ کر اس سے زیادہ ہو جاتا تھا چنانچہ سب نے پیٹ بھر کر کھا بھی لیا اور کھانا بھی پہلے کی نسبت زیادہ ہوگیا۔ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی رضی اللہ عنہا نے جب دیکھا کہ کھانا پہلے سے زیادہ ہے تو سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ اس کھانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس لے گئے۔ وہاں بہت سے لوگ آئے سب نے کھانا کھایا اور سب سیر ہوگئے۔

(بخاری ، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب السمر مع الضیف والاھل رقم: 602، مسلم کتاب الاشربہ، باب اکرام الضیف، رقم: 5365)

سیدناخبیب بن عدی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مشرکین کے پاس قیدی تھے اور ان کے پاس انگور لائے جاتے تھے جنہیں آپ کھایا کرتے تھے، حالانکہ مکہ میں انگور نہیں ہوتے۔

(بخاری ، کتاب الجہاد باب ھل یستاثر الرجل ومن لم یستاثر، 3045)

سیدناعامربن فہیرہ رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے۔ لوگوں نے ان کی نعش کو ڈھونڈا لیکن نہ ملی۔ بات یوں ہوئی کہ نعش قتل ہوتے ہی اٹھا لی گئی تھی، عامر بن طفیل نے نعش کو ہوا میں اٹھتے ہوئے دیکھا۔ عروہ کہتے ہیں لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں فرشتوں نے اٹھا لیا تھا۔

سیدہ اُم ایمنrہجرت کر کے نکلیں تو ان کے پاس راستے کا خرچ تھا اور نہ پانی، قریب تھا کہ پیاس سے ہلاک ہو جاتیں۔ روزہ دار بھی تھیں، جب افطار کا وقت قریب آیا تو ان کو اپنے سر پر کوئی آہٹ سنائی دی۔ سر اٹھایا تو کیا دیکھتی ہیں کہ ایک ڈول لٹک رہا ہے۔ چنانچہ آپ نے اس ڈول سے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور زندگی بھر ان کو کبھی پیاس نہیں لگی۔

(ابن سعد 8/224۔ الاصابہ۔ باسناد رجالہ ثقات ولکنہ منقطع)

حضرت سیّدُنا سفینہ رضی اللہ عنہ کی کرامت بھی بہت مشہور ہے کہ یہ رُوم کی سَرزمین میں دورانِ سفر اسلامی لشکر سے بِچَھڑ گئے۔ لشکر کی تلاش میں جارہے تھے کہ اچانک جنگل سے ایک شیر نکل کر ان کے سامنے آگیا۔حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے شیر کو مخاطب کر کے کہا: اے شیر! اَنَامَولٰی رَسُولِ اللہِ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم یعنی میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا غلام ہوں، میرا معاملہ اِس اِس طرح ہے۔ یہ سُن کر شیر دُم ہِلاتا ہُوا ان کے پہلو میں آکر کھڑا ہوگیا۔ جب کوئی آواز سنتا تو اُدھر چلا جاتا، پھر آپ کے بَرابَر چلنے لگتا حتّٰی کہ آپ لشکر تک پہنچ گئے پھر شیر واپس چلا گیا

(مستدرک حاکم3؍606، مجمع الزوائد9؍366، والبیہقی فی الدلائل6؍46)

براء بن مالک رضی اللہ عنہ جب اللہ کو قسم دیتے تھے تو ان کی قسم سچی کر دی جاتی تھی۔

(ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب براء بن مالک، رقم: 3854)

جب جہاد میں جنگ کا زور مسلمانوں پر آپڑتا تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے، اے براء رضی اللہ عنہ اپنے پروردگار کو قسم دو۔ آپ کہا کرتے تھے ''اے میرے پروردگار میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ان لوگوں کے کندھے ہمیں بخش دے۔ (یعنی ان کی مشکیں باندھ کر ہمارے حوالے کر دے) تو پھر دشمن کو شکست ہوجاتی تھی چنانچہ جب یوم قادسیہ میں آپ نے کہا کہ اے میرے پروردگار! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ان لوگوں کے کندھے ہمیں بخش دے اور مجھے پہلا شہید بنا تو کفار کو شکست ہوگئی اور سیدنابراء رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے۔

سیدناخالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب ایک مستحکم قلعہ کا محاصرہ کر لیا، تو کفار سے کہاکہ اسلام قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک اسلام نہیں لائیں گے جب تک تو زہر نہ پی لے۔ سیدناخالد رضی اللہ عنہ نے زہر پی لیا لیکن انہیں کچھ نقصان نہ ہوا۔

(مجمع الزوائد، 9؍350، طبرانی)

سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس درجہ مستجاب الدعوات تھے کہ جو دعا بھی کرتے تھے، منظور ہوجاتی تھی۔ آپ ہی نے کسریٰ کی فوجوں کو ہزیمت دی اور عراق فتح کیا۔

(ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب سعد بن ابی وقاص، رقم: 3751)

امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالاربنا کر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمادیا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدنبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل (یعنی اے ساریہ!پہاڑکی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں اورمدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔آج امیر المؤمنین نے انہیں کیونکر اورکیسے پکارا ؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کریہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز ہے، یہ کہا اورفوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اوردم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روندڈالا اورعساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔ (مشکوٰۃ باب الکرامات ، بیہقی دلائل النبوۃ6؍370  طبرانی ،ابو نعیم وتاریخ الخلاء,  الاصابہ لابن حجر قال الالبانی وقد خرجۃ فی الصحیحہ 1110۔)

حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرزمین روم میں مجاہدین اسلام کا ایک لشکر بھیجا ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد بالکل ہی اچانک مدینہ منورہ میں نہایت ہی بلندآواز سے آپ نے دو مرتبہ یہ فرمایا : یَالَبَّیْکَاہُ!یَالَبَّیْکَاہُ!  (یعنی اے شخص! میں تیری پکار پر حاضر ہوں)اہل مدینہ حیران رہ گئے اوران کی سمجھ میں کچھ بھی  آیا کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس فریاد کرنے والے کی پکار کا جواب دے رہے ہیں؟ لیکن جب کچھ دنوں کے بعد وہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اوراس لشکر کا سپہ سالاراپنی فتوحات اور اپنے جنگی کارناموں کاذکر کر نے لگا تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان باتوں کو چھوڑدو! پہلے یہ بتاؤ کہ جس مجاہد کو تم نے زبردستی دریا میں اتاراتھا اوراس نے یَاعُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ!  (اے میرے عمر!میری خبرلیجئے ) پکارا تھا اس کا کیا واقعہ تھا. سپہ سالارنے فاروقی جلال سے سہم کر کانپتے ہوئے عرض کیا کہ امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اپنی  دریا کے پار اتارنا تھا اس لئے میں نے پانی کی گہرائی کا اندازہ کرنے کے لیے اس کو دریا میں اترنے کا حکم دیا ،چونکہ موسم بہت ہی سرد تھا اور زور دار ہوائیں چل رہی تھیں اس لئے اس کو سردی لگ گئی اوراس نے دو مرتبہ زور زور سے  یَا عُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ! کہہ کر آپ کو پکارا،پھر یکایک اس کی روح پرواز کر گئی ۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے ہرگز ہرگز اس کو ہلاک کرنے کے ارادہ سے دریا میں اترنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ جب اہل مدینہ نے سپہ سالارکی زبانی یہ قصہ سناتو ان لوگوں کی سمجھ میں آگیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن جو دو مرتبہ یَالَبَّیْکَاہُ! یَالَبَّیْکَاہُ! فرمایا تھا درحقیقت یہ اسی مظلوم مجاہد کی فریاد وپکارکا جواب تھا ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سپہ سالارکا بیان سن کر غیظ وغضب میں بھر گئے اورفرمایاکہ سر دموسم اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں میں اس مجاہد کودریا کی گہرائی میں اتارنا یہ قتل خطا کے حکم میں ہے ،لہٰذا تم اپنے مال میں سے اس کے وارثوں کو اس کا خون بہا ادا کرواورخبردار! خبردار!آئندہ کسی سپاہی سے ہرگز ہرگز کبھی کوئی ایسا کام نہ لینا جس میں اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوکیونکہ میرے نزدیک ایک مسلمان کا ہلاک ہوجانا بڑی سے بڑی ہلاکتوں سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر ہلاکت ہے۔( ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء للشاہ ولی اللہ)۔

زنیرہ رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے کی وجہ سے عذاب دیا گیا لیکن اس نے اسلام نہ چھوڑا اور اس کی بینائی جاتی رہی۔ مشرکوں نے کہا، اس کی بینائی لات و عزیٰ لے گئے۔ زنیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ''واللہ ہرگز نہیں'' اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی۔

(الاصابہ: 6/312۔)

سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ارویٰ بنت حکم کے خلاف بددعا کی اور وہ اندھی ہوگئی۔ واقعہ یوں ہے جب کہ ارویٰ نے سعید پر کوئی جھوٹا الزام لگایا تو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! اگر وہ جھوٹی ہے تو اسے آنکھ سے اندھی کر دے یا اسے اسی زمین میں ہلاک کر دے، چنانچہ وہ اندھی ہوگئی۔ اور اپنی زمین کے ایک گڑھے میں گر کر مر گئی۔

(مسلم کتاب المساقاۃ، باب تحریم الظلم، وغصب الارض وغیرھا، رقم: 1610)

علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی طرف سے بحرین کے حاکم تھے اور اپنی دعا میں کہا کرتے تھے۔ یاعلیم، یا حلیم، یا علی، یاعظیم، تو ان کی دعا قبول ہوجایا کرتی تھی۔ایک مرتبہ ان کے کچھ آدمیوں کو پینے اور وضو کرنے کے لیے پانی نہ ملا تو آپ نے دعا کی اور قبول ہوگئی۔ ایک دفعہ سمندر ان کے سامنے آگیا اور وہ گھوڑوں کے ذریعہ اسے عبور کرنے پر قادر نہ تھے۔ آپ نے دعا کی تو ساری جماعت پانی پر سے گزر گئی اور ان کے گھوڑوں کی زینیں بھی تر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے دعا کی کہ میں مرجائوں تو یہ لوگ میری نعش نہ دیکھنے پائیں۔ چنانچہ ان کی نعش لحد میں نہ پائی گئی۔

(الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطان- امام ابن تیمیہ)

 حضرتِ سیِّدُنا امام مالک بن اَنس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے مشہورِ زمانہ مجموعہ احادیث'' مُوَئطّاامام مالِک'' میں فرماتے ہیں،حضرتِ سیِّدُنا عُر وہ بن زُبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ا ُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا،خلیفۃُ الرَّسول حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہنے اپنے مرضِ وفات میں انہیں وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، میری پیاری بیٹی ! آج تک میرے پاس جو میرا مال تھا ، وہ آج مِیراث کا مال ہے تمہارے دو بھائی( عبدالرحمٰن ا ور محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) اور تمہاری دو بہنیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) ہیں لہٰذا تم لوگ میرے مال کو قراٰنِ مجید کے حکم کے مطابِق تقسیم کر لینا ۔ یہ سُن کر حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی، ابّا جان! میری توایک ہی بہن'' بی بی اَسمائ'' ہیں، یہ میری دوسری بہن کون ہے؟آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہنے ارشاد فرمایا ، وہ (تمہاری سَوتیلی والِدہ)'' حبیبہ بنتِ خَارِجَہ'' (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کے پیٹ میں ہے، میرے خیال میں وہ لڑکی ہے ۔

( المُؤطّالِلامامِ مالک ج 2 ص 270 حدیث 1503 )

اِس حدیث کے تَحت حضرتِ سیِّدُنا علّامہ محمد بن عبدُالْباقی زُرْقانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانی تحریر فرماتے ہیں ، چُنانچِہ ایسا ہی ہوا کہ لڑکی پیدا ہوئی جن کا نام'' اُمِّ کُلثُوم'' رکھا گیا۔( شرحُ الزُّرقانی علی المُؤَطّا ج4ص61)

محترم قارئین!ا ِس حدیث مبارَک کے بارے میں حضرتِ علّامہ تاجُ ا لدّین سُبکی علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ القوی حجۃ اللہ علی العالمین میں بیان فرماتے ہیں کہ اس حدیث سےخلیفۃُ الرَّسول حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو کرامتیں ثابِت ہوتی ہیں:

(1) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قبل از وفات ہی یہ علم ہو گیا تھا کہ میں اِس مرض میں دنیا سے رِحلَت( یعنی کُوچ) کرجاؤں گا ، اسی لیے توبوقتِ وصیّت فرمایا، میرے پاس جو میرا مال تھا ، وہ آج میراث کا مال ہے'' (2) جو بچّہ پیدا ہوگا وہ لڑکی ہے۔

( حُجَّۃُاللّٰہِ علَی العالَمِین ص612)

جو لوگ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور اولیاءاللہ رحمہم اللہ کی کرامات میں انکا اپنا کچھ عمل دخل نہیں ہوتا اور انہیں کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ "سورہ ص" کی ان آیات مبارکہ کو بغور پڑھ کر اپنے عقیدہ کی اصلاح کر لیں۔

فَسَخَّرْنَا لَـهُ الرِّيْحَ تَجْرِىْ بِاَمْرِهٖ رُخَـآءً حَيْثُ اَصَابَ (36)

ترجمہ: پھر ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا کہ وہ اس کے حکم سے بڑی نرمی سے چلتی تھی جہاں اسے پہنچنا ہوتا

وَالشَّيَاطِيْنَ كُلَّ بَنَّـآءٍ وَّغَوَّاصٍ (37

اور شیطانوں کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے۔

وَاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِى الْاَصْفَادِ(38)

اور دوسروں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

هٰذَا عَطَـآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ (39)

یہ ہماری بخشش ہے پس احسان کر یا اپنے پاس رکھ کوئی حساب نہیں۔

*غیر مقلدین کے امام ابن تیمیہ کا کرامات و تصرفات کا اقرار*

علامہ ابن تیمیہ  فرماتے لکھتے ہیں کہ : بہت سے لوگ ولی اسے سمجھتے ہیں جس کے ہاتھ میں خوارقِ عادت چیزوں کا ظہور ہو، اور اس سے کشف کا ظہور ہو، اس سے بعض خارقِ عادت تصرفات کا ظہور ہو، مَثَلاً : وہ کسی کی طرف اشارہ کرے تو وہ مرجاۓ یا وہ ہوا میں اڑ کر مکہ یا دوسرے شہر پہنچ جاۓ یا وہ پانی پر چلے یا وہ ہوا سے لوٹا بھردے یا اس کے پاس کچھ نہیں مگر وہ غیب سے خرچ کرتا ہے، یا وہ نگاہوں سے غائب ہوجاتا ہے، یا جب کوئی اس سے مدد چاہتا ہے اور وہ اس کے پاس نہیں ہے، یا وہ اپنی قبر میں ہے تو وہ اس کے پاس آتا ہے اور وہ اس کی مدد کرتا ہے، یا چوری شدہ مال کی خبر دیتا ہے یا غائب آدمی کا حال بتلادیتا ہے، یا مریض کے احوال سے آگاہ کردیتا ہے ان خوارق عادت باتوں کا صدور اگرچہ کبھی الله کے ولی سے ہوتا ہے مگر کبھی اس طرح کی باتیں الله کے دشمنوں سے بھی ظاہر ہوتی ہیں  بلکہ ولی الله ہونے کا اعتبار ان کی صفات، افعال اور احوال سے ہوگا کہ وہ کتاب الله اور سنّت کے مطابق ہیں؟  (مجموع الفتاوى : 11 / 214)

Sunday, 14 March 2021

نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کا علم غیب آیات قرآن اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں

 

قرآن کریم ارشاد ہے

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(179) ترجَمہ:اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔(پ 4،اٰل عمرٰن:179)


  وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(113) ( ترجَمہ: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ  کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113

اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں  امام ابوجعفر محمد بن جریر طَبَری علیہ رحمۃ اللہ القَوی  لکھتے ہیں: مِنْ خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِيْنَ، وَمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَكُلُّ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِِ اللّٰه عَلَيْك یعنی اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اوّلین و آخِرین کی خبریں دیں اور جو کچھ ہو چکا اور جو ہو گا اس سب کا علم عطا فرمادیا اور یہ سب کچھ آپ پر آپ کے ربّ کا فضل ہے۔(تفسیر طبری،4/275)

(تفسیر طبری اولین تفسیر ہے جس سے ابن کثیر وغیرہ نے نقل کیا ہے)


عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(26) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(27) ترجَمہ: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرّر کر دیتا ہے۔ (پ 29، الجن:26-27)

امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ جو اولین مفسرین میں سے ہیں اس آیت سے خاص قیامت کا علم مراد لیتے ہیں جو خاص غیوب میں سے ہے


وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(24) ترجَمہ:اوریہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30، التکویر:24)

اب سوال یہ ہے کہ جو غیب جانتا ہی نہیں اسکے بارے میں کہنا ہے کہ وہ غیب بتانے میں بخل یعنی کنجوسی نہیں کرتا کا کیا مطلب ہوا؟


اس طرح کی دیگر آیات مبارکہ بھی ہیں جن میں انبیاء کرام علیہم السلام کے علم غیب کا بیان ہے.

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جو علم اللہ نے دیا وہ غیب نہیں ہے لیکن قرآن تو اسے غیب ہی فرما رہا ہے آیات میں.


*نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے علم غیب کے بارے میں احادیث*


امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے درمیان کھڑے تھے تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے ہمیں مخلوق کی پیدائش سے بتانا شروع کیا حتّٰی کہ جنّتی اپنی مَنازِل پر جنّت میں داخل ہوگئے اورجہنمی جہنم میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے۔ جس نے اس بیان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا جو بھول گیا سو بھول گیا۔ (بخاری،ج2،ص375،حدیث:3192)


حضرت سیّدنا عَمرو بن اَخْطَب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:ایک دن نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نمازِ فجر سے غروبِِ آفتاب تک خطبہ ارشاد فرمایا، درمیان میں ظہر و عصر کی نمازوں کے علاوہ کوئی کام نہ کیا۔ حضرت عَمرو بن اَخْطَب فرماتے ہیں: فَاَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ یعنی جو کچھ ہو چکا تھا اور قیامت تک جو کچھ ہونا تھا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہ سب کچھ بیان فرمادیا۔ ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے جسے زیادہ یاد رہا۔(مسلم،ص1184،حدیث:7267)


مدینہ کے منافقوں نے  جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے علمِ پاک پر اعتراض کیا اور کہا کہ”ہم ان کے زمانے میں اِن کے ساتھ رہ کے انہیں دھوکہ دیتے ہیں اور یہ ہمیں نہیں پہچان پاتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قیامت تک کہ سارے لوگوں کی اصلیت کو جانتے ہیں”جب حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم تک یہ بات پہونچی تو کیا ہوا ،حدیث کی زبانی سنئے اور خود فیصلہ لیجئے کہ کیا اس حدیث کے بعد بھی مصطفیٰ جانِ رحمت کے علمِ غیب سے انکار کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے؟؟؟ پوری حدیث حاضر خدمت ہے۔


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور ظہر کی نمازپڑ ھائی۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم منبر پر کھڑ ے ہو گئے اور قیامت کا ذکر فر مایا اوربتا یا کہ  اس سے پہلے بڑے بڑے معاملات ہوں گے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ:جس کو کسی چیزکے بارے میں پوچھنا ہو وہ پوچھ لے۔قسم بخدا،تم مجھ سے جس چیزکے بارے میں پوچھو گے میں اِسی جگہ رہتے ہوئے تمہیں اُس کے بارے میں بتا دوں گا،{صحیح مسلم کے حدیث نمبر :2360/میں یہ لفظ ہے کہ :حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم  نے فر مایا”سلونی عمّ شئتم “مجھ سے جو چا ہو پو چھو}تو لوگ رونے لگے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم بار بار فر ماتے رہےکہ”مجھ سے پوچھو”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پو چھا کہ:یا رسول اللہ!میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ:تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔پھر حضرت عبد اللہ بن حذافہ کھڑے ہوئے اور پوچھے کہ:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم!میرے باپ کون ہیں؟(انکے باپ کے بارے شک اور طعن کیا جاتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ:تمہارے باپ حذافہ ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فر ماتے ہیں کہ :پھر حضور بار بار فر مانے لگے کہ:مجھ سے پو چھو،مجھ سے پو چھو۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے اور عر ض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم!ہم اللہ کے رب،اسلام کے دین اور محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے رسول ہونے سے راضی اور خوش ہیں۔تب حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم خاموش ہوئے۔

(صحیح بخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب ما یکرہ من کثرۃ السوال،حدیث:7294۔صحیح مسلم،حدیث:2359)


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ:رسول اللہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے مجھے قیامت تک ہونے والی تمام باتیں بتادی۔اور کوئی ایسی بات نہ رہی جس کے بارے میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے نہ پوچھا ہو،البتہ میں نے یہ نہ پوچھا کہ مدینہ میں رہنے والوں کو ،کون سی چیزمدینہ سے نکال دے گی۔

(صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب اخبار النبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم فیما یکون الی قیام الساعۃ،حدیث:2891) 


یہ سب کوئی شرعی مسائل تو نہیں جو نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام سے پوچھے جا رہے ہیں بلکہ غیب کی خبریں ہیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے علم غیب کے بارے میں کیا تھا؟ کیا وہ موجودہ خوارج کی طرح اسے شرک سممجتے تھے؟


عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے ہم میں آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون جا کر ملے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو گا۔ اب ہم نے لکڑی سے ناپنا شروع کر دیا تو سودہ رضی اللہ عنہا سب سے لمبے ہاتھ والی نکلیں۔ ہم نے بعد میں سمجھا کہ لمبے ہاتھ والی ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صدقہ زیادہ کرنے والی سے تھی۔ اور سودہ رضی اللہ عنہا ہم سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملیں ‘ صدقہ کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھا۔

بخاری شریف، حدیث نمبر 1420


اگر ازواج مطہرات کا یہ عقیدہ نہ ہوتا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کو اللہ نے غیب کا علم علطا فرمایا ہے تو ایسا سوال کرنا جو کہ خاص پانچ غیب کی چیزوں میں سے ہے کیا معنی رکھے گا؟


حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی : لقد ترکنارسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وما یحّرک طائر جناحیہ فی السمّاء الّا ذکر لنا منہ علما۔

نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس حال پر چھوڑا کہ ہوا میں کوئی پرندہ پَر مارنے والا ایسا نہیں جس کا علم حضور نے ہمارے سامنے بیان نہ فرمادیا ہو۔

( مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر غفار ی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت 5/153)

(مجمع الزوائد عن ابی الدرداء کتاب علامات النبوۃ باب فیما اوقی من العلم، الخ دارالکتاب 8 /246)


رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

رایت ربی عزوجل فی أحسن صوره قال فیم یختصم الملاء الاعلی قلت أنت أعلم قال فوضع کفه بین کتفی فوجدت بردها بین ثدیی فعلمت ما فی السموات والارض وتلا وکذلک نری ابراهیم ملکوت السموات والارض ولیکون من الموقنین.

 ترمذی، السنن، کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورۃ ص، 5 / 342، الرقم : 3233

’’میں نے اپنے عزت و جلال والے رب کو بہترین صورت میں دیکھا۔ اﷲتعالیٰ نے فرمایا عالم بالا کے فرشتے کسی بات میں جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی تو بہتر جانتا ہے پھر اس نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا پر میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ پھر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی، ’’ہم یونہی دکھاتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت کہ وہ یقین والوں میں سے رہیں۔ ‘‘

دوسری روایت میں ہے

فتجلّی لی کلَ شیئیٍ وعرفتُ

ترمذی، کتاب التفسیر القرآن، باب سورۃ، ص، الرقم : 3235

’’سو میرے لئے ہر شے روشن ہو گئی اور میں نے ہر چیز پہچان لی۔ ‘‘


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فر مایا کہ:کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں صرف اپنے سامنے دیکھتا ہوں؟قسم بخدا،مجھ پر تمہارے رکوع وسجود کی ظاہری حالت مجھ پر پو شیدہ رہتی ہے اور نہ ہی باطنی خشوع وخضوع،بے شک میں اپنے پیچھے سے تمہیں ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے سامنے سے۔

(بخاری،کتاب الاذان،باب الخشوع فی الصلاۃ،حدیث:741۔742۔مسلم،کتاب الصلاۃ،باب الامر بتحسین الصلاۃ واتمامھا والخشوع فیھا،حدیث:423۔424۔425)


طبرانی معجم کبیر اور نصیم بن حماد کتاب الفتن اور ابونعیم حلیہ میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

ان اﷲ قدرفع لی الدنیا فانا انظر الیہا والٰی ما ھوکائن فیہا الٰی یوم القیامۃ کانمّا انظر الٰی کفی ھذہ جلیان من اﷲ جلاّہ لنبیّہ کما جلّاہ لنبیّن من قبلہ. 

بے شک میرے سامنے اﷲ عزوجل نے دنیا اٹھالی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ، اس روشنی کے سبب جو اﷲ تعالٰی نے اپنے نبی کے لیے روشن فرمائی جیسے محمد سے پہلے انبیاء کے لیے روشن کی تھی۔صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔

( حلیۃ الاولیاء ترجمہ 338 حدید بن کریب دارلکتاب العربی بیروت 4 /101)

(کنزالعمال حدیث 31810 و 31971 موسستہ الرسالہ بیروت 11 /378 و 620)


اس طرح کی احادیث کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن یہ چند ایک روایات ہیں جو نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام سے محبت رکھنے والے کے لیے کافی ہیں لیکن حجت باز یا ضدی لوگ تو کبھی نہیں مانتے اور وہ آیات اور احادیث جن میں نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے لیے ذاتی طور پر غیب جاننے کی نفی ہے بیان کر کر کے مسلمانوں کو زبردستی شرک کا الزام دیتے  ہیں. جیسے مسلم شریف میں ایک روایت ہے کہ امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ جو یہ کہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کل کی بات جانتے ہیں اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا... اس روایت میں ذاتی طور پر جاننے کی نفی ہے نہ بالکل نہ جاننے کی ورنہ اوپر بیان کی گئی سب آیات اور احادیث کا انکار لازم آئے گا بلکہ خود امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام سے غیب کی باتیں روایت کرنا کہ کون کب مرے گا اور مستقبل میں کیا ہو گا کہ بہت سی روایات کا کیا بنے گا جبکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام جانتے ہی نہ تھے.


ایک اور بات یاد رکھیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کو کچھ چیزیں کچھ وقت کے لیے بھلا بھی دی جاتی تھیں انکے علم میں ہونے کے باوجود. اس میں مصلحت یہ تھی کہ اس بھول سے بہت سے نئے شرعی مسائل امت کی آسانی کے لیے اللہ پاک کی طرف سے بتا دئیے جاتے تھے جیسے سجدہ سہو، تیمم وغیرہ کے مسائل اور بعض اوقات کسی طرف توجہ نہ ہونا بھی ثابت ہے کہ ظاہر ہے نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام انسان تھے گو کہ سب انسانوں کے سردار لیکن خدا تو نہیں تھے جسے نیند یا اونگھ نہیں آتی یا بھول نہیں سکتا..

لیکن قرآن مجید اور صحیح احادیث میں آپ علیہ الصلوۃ و السلام کے علم کی جو وسعت ہے وہ واضح ہے جس کا انکار بدبخت ہی کرے گا.