*دعا صرف اللہ ہی سے کا اصل معنی اور استمداد کے دلائل*
ماہرینِ لغت کہتے ہیں کہ دعا کے معنی عبادت، ندا ، تسمیہ (نام رکھنا) ، سوال ، کلام ، ترغیب اور مدد طلبی کےآتے ہیں
کبھی دعا کا معنی عبادت ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ عز وجل کا یہ فرمان ذی شان ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ (الأعراف194)۔
’’ یعنی جن لوگوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی تو ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا کلام : لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰھًا(الکہف14)
سیدنا سعید بن مسیب ؓسے اس کی یہ تفسیر منقول ہے: ناممکن ہے کہ ہم اس (اللہ) کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کریں۔
سو کسی بھی معبود کے طور پر پکارنا عبادت ہے
اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ (الأعراف194)۔
’’ یعنی جن لوگوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی تو ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا کلام : لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰھًا(الکہف14)
سیدنا سعید بن مسیب ؓسے اس کی یہ تفسیر منقول ہے: ناممکن ہے کہ ہم اس (اللہ) کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کریں۔
سو کسی بھی معبود کے طور پر پکارنا عبادت ہے
دعا بمعنی پکارنا (آواز دینا) :دعاکاایک معنی ’’ندا‘‘ یعنی آواز دینا بھی ہے۔اور اسی سے کہتے ہیں ’’دَعاَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ دَعْوًی وَدُعَائً ‘‘یعنی آدمی نے آدمی کو آواز دی۔ (خواہ بلانا کے لیے، متوجہ کرنے کے لیے، سوال کرنے یا مدد طلب کرنے کے لیے.
جیسا کہ ارشاد ہے
’’ لَا تَجْعَلُوْا *دُعَآءَ* الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا‘‘(نور:63)
(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔
جیسا کہ ارشاد ہے
’’ لَا تَجْعَلُوْا *دُعَآءَ* الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا‘‘(نور:63)
(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔
اسی لیے (دُعَاۃٌ) ایسے لوگوں کو کہا جاتاہے جو ہدایت یا گمراہی کی طرف لوگوں کو بلائیں۔ اس کا واحد (دَاعٍ)آتاہے۔اور (رَجُلٌ داعِیَۃٌ) ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو دین کی طرف یا بدعت کی طرف لوگوں کو بلائے۔اس میں (ۃ)مبالغہ کے لیے لگائی گئی ہے۔
نام رکھنا:امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں : کبھی دُعا کا لفظ تسمیہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔مثلا عرب کہتے ہیں:’’ دَعَوْتُ ابْنِي زَیْدًا‘‘ یعنی میں نے اپنے بیٹے کانام زید رکھا۔قرآن مجید میں اس کی مثال درج ذیل آیت میں موجود ہے۔
اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہ(الأحزاب5)۔
’’لے پالکوں کو ان کے باپوں کی طرف نسبت کرکے پکارو ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے۔‘‘
اب دعا کے ان سب معنوں کو ذہن میں رکھیں اور کچھ لوگ جو اپنا من گھڑت بدعتی عقیدہ ثابت کرنے کے لیے قرآن و حدیث اور لغت (ڈکشنری) سے ہٹ کر دعا کا ایک الگ معنی بیان کرتے ہیں اور دعا غائب میں پکارنے کو کہتے ہیں یا بغیر اسباب (فوق الاسباب) پکارنے کو کہتے ہیں کی دھوکہ دہی ملاحظہ فرمائیں.
کسی کو بھی معبود سمجھ کر پکارنا خواہ وہ زندہ ہو، مردہ ہو، سامنے ہو یا غائب ہو یہ عبادت ہے. مثلاً زندہ اور سامنے بیٹھے فرعون، شداد، نمرود وغیرہ بادشاہوں جو کہ خدائی کے دعویدار تھے یا آنے والا دجال جو زندہ سلامت سامنے ہو کر خدائی (معبود ہونے) کا دعوی کرے گا (کسی روایت میں نہیں کہ ان بادشاہوں کو غائبانہ پکارا گیا یا دجال کو غائبانہ پکارا جائے گا) ان سب زندہ موجود لوگوں کو پکارنا بالکل ویسا ہی شرک ہے جیسے کسی بت یا دور و نزدیک یا فوت شدہ کو معبود سمجھ کر پکارا جائے...
پھر سے یاد رہے کہ دعا کا معنی غائب میں پکارنا نہ قرآن و حدیث میں ہے نہ ہی لغت کے اعتبار سے صحیح ہے یعنی یہ معنی کرنا عقیدہ کے لحاظ سے بدعت اور شرک کے قریب ہے کہ زندہ موجود باطل معبود کو پکارنا شرک نہ ٹھہرا معاذاللہ ثم معاذاللہ اور لغوی اعتبار سے یہ جہالت اور دھوکہ دہی ہے
نام رکھنا:امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں : کبھی دُعا کا لفظ تسمیہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔مثلا عرب کہتے ہیں:’’ دَعَوْتُ ابْنِي زَیْدًا‘‘ یعنی میں نے اپنے بیٹے کانام زید رکھا۔قرآن مجید میں اس کی مثال درج ذیل آیت میں موجود ہے۔
اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہ(الأحزاب5)۔
’’لے پالکوں کو ان کے باپوں کی طرف نسبت کرکے پکارو ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے۔‘‘
اب دعا کے ان سب معنوں کو ذہن میں رکھیں اور کچھ لوگ جو اپنا من گھڑت بدعتی عقیدہ ثابت کرنے کے لیے قرآن و حدیث اور لغت (ڈکشنری) سے ہٹ کر دعا کا ایک الگ معنی بیان کرتے ہیں اور دعا غائب میں پکارنے کو کہتے ہیں یا بغیر اسباب (فوق الاسباب) پکارنے کو کہتے ہیں کی دھوکہ دہی ملاحظہ فرمائیں.
کسی کو بھی معبود سمجھ کر پکارنا خواہ وہ زندہ ہو، مردہ ہو، سامنے ہو یا غائب ہو یہ عبادت ہے. مثلاً زندہ اور سامنے بیٹھے فرعون، شداد، نمرود وغیرہ بادشاہوں جو کہ خدائی کے دعویدار تھے یا آنے والا دجال جو زندہ سلامت سامنے ہو کر خدائی (معبود ہونے) کا دعوی کرے گا (کسی روایت میں نہیں کہ ان بادشاہوں کو غائبانہ پکارا گیا یا دجال کو غائبانہ پکارا جائے گا) ان سب زندہ موجود لوگوں کو پکارنا بالکل ویسا ہی شرک ہے جیسے کسی بت یا دور و نزدیک یا فوت شدہ کو معبود سمجھ کر پکارا جائے...
پھر سے یاد رہے کہ دعا کا معنی غائب میں پکارنا نہ قرآن و حدیث میں ہے نہ ہی لغت کے اعتبار سے صحیح ہے یعنی یہ معنی کرنا عقیدہ کے لحاظ سے بدعت اور شرک کے قریب ہے کہ زندہ موجود باطل معبود کو پکارنا شرک نہ ٹھہرا معاذاللہ ثم معاذاللہ اور لغوی اعتبار سے یہ جہالت اور دھوکہ دہی ہے
*کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غیر اللہ کو پکارنے یا مدد مانگنے کے لیے زندہ مردہ حاضر غائب اسباب بغیر اسباب کا فرق کرتے تھے؟*
عرفہ کے دن ایک شخص لوگوں سے مانگ رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سنا تو اسے کہنے لگے ” آج کے دن اور اس جگہ تو اللہ کے سوا دوسروں سے مانگتا ہے؟” پھر اسے درے سے پیٹا۔ (احمد بحوالہ مشکوٰۃ باب من لایحل لہ المسئلہ فصل ثالث)
عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ ہم سات آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپ نے فرمایا کہ ” اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ پانچ نمازیں ادا کرو اور اللہ کی فرمانبرداری کرو اور ایک بات چپکے سے کہی کہ ” لوگوں سے کچھ نہ مانگنا۔” پھر میں نے ان میں بعض افراد کو دیکھا کہ اگر اونٹ سے ان کا کوڑا گر پڑتا تو کسی سے سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں پکڑا دے (ابو داؤد، نسائی،کتاب الزکوٰۃ باب النہی عن المسئلہ)
*کس کا عقیدہ قرآن مجید کے مطابق ہے ملاحظہ فرمائیں*
*عقیدہ توحید قرآن کی روشنی میں*
عقیدہ توحید کیوں کہ اسلام کی بنیاد ہے اور اسی پر باقی تمام عقائد و امور کی بنیاد کھڑی ہے لھذا اللہ کریم نے ہر گز توحید و شرک کو ناقابل فہم اور موشگافیوں سے پرُ کر کے بیان نہیں کیا کہ عام آدمی سمجھ ہی نہ سکے۔ قرآن کریم میں واضح ارشاد ہے اللہ کے ساتھ کسی کو بطور الہ یعنی معبود نہ پکارو۔ وَ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۟ کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجۡہَہٗ ؕ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ۔ سورہ القصص 28آیت 88)
عقیدہ توحید کیوں کہ اسلام کی بنیاد ہے اور اسی پر باقی تمام عقائد و امور کی بنیاد کھڑی ہے لھذا اللہ کریم نے ہر گز توحید و شرک کو ناقابل فہم اور موشگافیوں سے پرُ کر کے بیان نہیں کیا کہ عام آدمی سمجھ ہی نہ سکے۔ قرآن کریم میں واضح ارشاد ہے اللہ کے ساتھ کسی کو بطور الہ یعنی معبود نہ پکارو۔ وَ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۟ کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجۡہَہٗ ؕ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ۔ سورہ القصص 28آیت 88)
اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارنا بجز اللہ تعالٰی کے کوئی اور معبود نہیں ، ہرچیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے، اسی کے لئے فرمانروائی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔
ہمارا عقیدہ قرآن والا ہے الحمدللہ رب العالمین کہ کسی کو بطور معبود پکارنا خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ دور ہو یا نزدیک.. فوق الاسباب ہو یا ما فوق.... مدد کے لیے ہو یا عبادت کے لیے شرک ہے....
ہمارا عقیدہ قرآن والا ہے الحمدللہ رب العالمین کہ کسی کو بطور معبود پکارنا خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ دور ہو یا نزدیک.. فوق الاسباب ہو یا ما فوق.... مدد کے لیے ہو یا عبادت کے لیے شرک ہے....
قرآن مجید کی روشنی ےہمارا دوسرا عقیدہ
وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (آل عمران:126)
ترجمہ: اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمتوں والا ہے....
ہر مدد اللہ پاک ہی کی مدد ہے اور ہر مدد اللہ کے حکم سے ہی وقوع پذیر ہوتی ہے... جو کسی بھی طرح کی مدد کو خاص اللہ کی مدد نہ سمجھے خواہ اسباب سے ملے یا بے سبب.. خواہ کوئی پانی پلائے، روٹی کھلائے دریا میں ڈوبنے سے بجائے یا مافوق الاسباب کرامت کے طور پر کوئی مدد کرے.. اسے اللہ کی مدد نہ سمجھنا شرک ہے
اگر کسی کا عقیدہ ہے کہ پانی دینے والا اللہ کے حکم کے بغیر پانی دے سکتا ہے یا پھر اسکا یہ پانی دینا "باذن اللہ" نہیں ہے تو یہ پانی مانگنا خالص شرک ہے..
کیونکہ مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے ہی ہے..
اللہ کے بندوں کی مدد "باذن اللہ" ہوتی ہے..
اس عقیدہ میں شرک کا شائبہ بھی نہیں ہے الحمدللہ ثم الحمدللہ
قرآن مجید نے خود بندوںوں کی مدد کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو شرک کا الزام دینے والوں کی کمپنی بند کر دی ہوئی ہے... یہ بیچارے جعلی کمپنی چلا رہے...
ترجمہ: اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمتوں والا ہے....
ہر مدد اللہ پاک ہی کی مدد ہے اور ہر مدد اللہ کے حکم سے ہی وقوع پذیر ہوتی ہے... جو کسی بھی طرح کی مدد کو خاص اللہ کی مدد نہ سمجھے خواہ اسباب سے ملے یا بے سبب.. خواہ کوئی پانی پلائے، روٹی کھلائے دریا میں ڈوبنے سے بجائے یا مافوق الاسباب کرامت کے طور پر کوئی مدد کرے.. اسے اللہ کی مدد نہ سمجھنا شرک ہے
اگر کسی کا عقیدہ ہے کہ پانی دینے والا اللہ کے حکم کے بغیر پانی دے سکتا ہے یا پھر اسکا یہ پانی دینا "باذن اللہ" نہیں ہے تو یہ پانی مانگنا خالص شرک ہے..
کیونکہ مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے ہی ہے..
اللہ کے بندوں کی مدد "باذن اللہ" ہوتی ہے..
اس عقیدہ میں شرک کا شائبہ بھی نہیں ہے الحمدللہ ثم الحمدللہ
قرآن مجید نے خود بندوںوں کی مدد کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو شرک کا الزام دینے والوں کی کمپنی بند کر دی ہوئی ہے... یہ بیچارے جعلی کمپنی چلا رہے...
فان اللہ ھو مولہ مولاہ وجبریل و صالح المؤمنین والملئکۃ بعد ذلک ظھیر (پارہ 28 سورہ 66 آیت4)
“یعنی رسول کے مددگار اللہ اور جبرئیل اور متقی مسلمان ہیں بعد میں فرشتے ان کے مددگار ہیں۔“
ایک اور جگہ ارشاد ہے۔
انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوٰۃ ویؤتون الزکوٰۃ وھم راکعون (پارہ 6 سورہ 5 آیت55)
“یعنی اے مسلمانوں تمہارا مددگار اللہ اور رسول اور وہ مسلمان ہیں جو زکوٰۃ دیتے ہیں نماز پڑھتے ہیں۔“
ایک جگہ فرشتوں کا قول ارشاد ہوا
نحن اولیاءکم فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ
"ہم تمھارے مددگار ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی"
“یعنی رسول کے مددگار اللہ اور جبرئیل اور متقی مسلمان ہیں بعد میں فرشتے ان کے مددگار ہیں۔“
ایک اور جگہ ارشاد ہے۔
انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوٰۃ ویؤتون الزکوٰۃ وھم راکعون (پارہ 6 سورہ 5 آیت55)
“یعنی اے مسلمانوں تمہارا مددگار اللہ اور رسول اور وہ مسلمان ہیں جو زکوٰۃ دیتے ہیں نماز پڑھتے ہیں۔“
ایک جگہ فرشتوں کا قول ارشاد ہوا
نحن اولیاءکم فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ
"ہم تمھارے مددگار ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی"
*کچھ احادیث نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے اختیارات، عطا اور تصرفات کے بارے میں*
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں رہا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاجت اور وضو کے لئے پانی لاتا ایک مرتبہ (میری خدمت سے خوش ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا : ’’مانگ کیا مانگتا ہے‘‘ میں نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) میں آپ سے جنت میں بھی آپ کی رفاقت مانگتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کے علاوہ ’’اور کچھ‘‘ میں نے عرض کیا : مجھے یہی کافی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (جاؤ جنت تو عطا کر دی اب) تم بھی کثرتِ سجود سے اپنے معاملہ میں میری مدد کرو۔‘
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : فضل السجود والحث عليه، 1 / 353، الرقم : 489
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : فضل السجود والحث عليه، 1 / 353، الرقم : 489
حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرا نام رکھو اور میری کنیت (ابو القاسم) نہ رکھو، میں ہی تقسیم کرنے والا ہوں اور میں ہی تم میں تقسیم کرتا ہوں۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں فرمایا : ’’میں قاسم بنا کر ہی بھیجا گیا ہوں اور میں ہی تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔‘‘
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : فرض الخمس، باب : قول اﷲ تعالی : فأن ﷲ خمسه وللرسول، 3 / 1133، الرقم : 2946، ومسلم في الصحيح، کتاب : الآداب، باب : النهي عن التکني بأبی القاسم، 3 / 1682، الرقم : 2133
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : فرض الخمس، باب : قول اﷲ تعالی : فأن ﷲ خمسه وللرسول، 3 / 1133، الرقم : 2946، ومسلم في الصحيح، کتاب : الآداب، باب : النهي عن التکني بأبی القاسم، 3 / 1682، الرقم : 2133
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میں آپ سے بہت کچھ سنتا ہوں مگر بھول جاتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی چادر پھیلاؤ؟ میں نے اپنی چادر پھیلا دی. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (فضا میں) چُلّو بھر بھر کر اس میں ڈال دیئے اور فرمایا : اسے سینے سے لگالو۔ میں نے ایسا ہی کیا : پس اس کے بعد میں کبھی کچھ نہیں بھولا
أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب : العلم، باب : حفظ العلم، 1 / 56، الرقم : 119، ومسلم فی الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : من فضائل أبی هريرة الدوسی رضی الله عنه، 4 / 1939
أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب : العلم، باب : حفظ العلم، 1 / 56، الرقم : 119، ومسلم فی الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : من فضائل أبی هريرة الدوسی رضی الله عنه، 4 / 1939
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن (تیر لگنے سے) ان کی آنکھ ضائع ہو گئی اور ڈھیلا نکل کر چہرے پر بہہ گیا۔ دیگر صحابہ نے اسے کاٹ دینا چاہا۔ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرما دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اور آنکھ کو دوبارہ اس کے مقام پر رکھ دیا۔ سو حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی آنکھ اس طرح ٹھیک ہو گئی کہ معلوم بھی نہ ہوتا تھا کہ کون سی آنکھ خراب ہے۔‘‘
أخرجه أبو يعلی فی المسند،3 / 120، الرقم : 1549، وأبوعوانة فی المسند، 4 / 348، الرقم : 6929
أخرجه أبو يعلی فی المسند،3 / 120، الرقم : 1549، وأبوعوانة فی المسند، 4 / 348، الرقم : 6929
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو رافع یہودی کی (سرکوبی کے لئے اس) طرف چند انصاری مردوں کو بھیجا اور حضرت عبداﷲ بن عتیک رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا۔ ابو رافع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف پہنچاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (دین کے) خلاف (کفار کی) مدد کرتا تھا اور سر زمین حجاز میں اپنے قلعہ میں رہتا تھا۔۔۔ (حضرت عبداﷲ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے ابو رافع یہودی کے قتل کی کارروائی بیان کرتے ہوئے فرمایا :) مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ پھر میں نے ایک ایک کر کے تمام دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ زمین پر آرہا۔ چاندنی رات تھی میں گر گیا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی تو میں نے اسے عمامہ سے باندھ دیا ۔۔۔ پھر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ عرض کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پاؤں آگے کرو۔ میں نے پاؤں پھیلا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر دستِ کرم پھیرا تو (ٹوٹی ہوئی پنڈلی جڑ گئی اور) پھر کبھی درد تک نہ ہوا۔‘‘
أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب : المغازی، باب : قتل أبی رافع عبداﷲ بن أبی الحُقَيْقِ، 4 / 1482، الرقم : 3813
أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب : المغازی، باب : قتل أبی رافع عبداﷲ بن أبی الحُقَيْقِ، 4 / 1482، الرقم : 3813
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز شہدائے اُحد (کے مزارات پر) نماز پڑھنے کے لئے تشریف لے گئے جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا : بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ بیشک خدا کی قسم! میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا : روئے زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور خدا کی قسم مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔‘‘
أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : الصلاة علی الشهيد، 1 / 451، الرقم : 1279، وفي کتاب : المغازي، باب : أحد يحبنا ونحبه، 4 / 1498، الرقم : 3857
أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : الصلاة علی الشهيد، 1 / 451، الرقم : 1279، وفي کتاب : المغازي، باب : أحد يحبنا ونحبه، 4 / 1498، الرقم : 3857
*زمین اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ہے*
اسلموا تسلموا واعلموا ان الارض لله ورسوله، وإني اريد ان اجليكم من هذه الارض فمن يجد منكم بماله شيئا فليبعه، وإلا فاعلموا ان الارض لله ورسوله".
نبی کریم صلی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (یہود) سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے اور سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اور اس کے رسول کی ہے۔ اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس ملک سے نکال دوں، پھر تم میں سے اگر کسی کی جائیداد کی قیمت آئے تو اسے بیچ ڈالے۔ اگر تم اس پر تیار نہیں ہو، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ہی کی ہے۔
بخاری، حدیث نمبر: 3167,
باب: یہودیوں کو عرب کے ملک سے نکال باہر کرنا۔
بخاری، حدیث نمبر: 3167,
باب: یہودیوں کو عرب کے ملک سے نکال باہر کرنا۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا عَائِشَةُ لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِي جِبَالُ الذَّهَبِ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عائشہ اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں
مشکوۃ المصابيح ،حدیث نمبر 5835
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عائشہ اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں
مشکوۃ المصابيح ،حدیث نمبر 5835
*اپنے چچا ابو طالب کو نفع پہنچانا*
حدثنا ابن ابي عمر ، حدثنا سفيان ، عن عبد الملك بن عمير ، عن عبد الله بن الحارث ، قال: سمعت العباس ، يقول: قلت: " يا رسول الله، إن ابا طالب كان يحوطك وينصرك، فهل نفعه ذلك؟ قال: نعم، وجدته في غمرات من النار فاخرجته إلى ضحضاح ".
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے سنا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ابو طالب، آپ کا بچاؤ کرتے تھے، اور آپ کی مدد کرتے تھے، آپ کے لئے لوگوں پر غصہ کرتے تھے، تو ان کو کچھ فائدہ ہوا ان باتوں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میں نے ان کو سخت انگار میں پایا تو میں نکال لایا ان کو ہلکی آگ میں۔“
( صحيح مسلم - كتاب الإيمان - باب شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ - حدیث نمبر: 511)
( صحيح مسلم - كتاب الإيمان - باب شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ - حدیث نمبر: 511)
*نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کو تین دن کی دوری سے مدد پکارا گیا اور آپ نے جواب ارشاد فرمایا*
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو خانے میں تین مرتبہ لبیک کہا اور تین مرتبہ نصرت (تیری اور تین مدد کی گئی ) کہا۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا ہے، گویا آپ کسی انسان سے گفتگو کر رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپ نے فرمایا : یہ بنو کعب کا رجز خواں مجھے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنو بکر کی مدد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ نے صحابہ کرام کو صبح کی نماز پڑھائی تو میں نے سنا کہ رجز خواں یہ اشعار پیش کر رہا تھا“ (المعجم الكبير للطبراني: 433/23، 434، ح:1052،، المعجم الصغير للطبراني: 167/2، ح:968، المخلصيات:1331، دلائل النبوة لابي القاسم الؤصبھاني:59)
یہ روایت بانی فرقہ محمد بن عبدالوہاب نجدی کے بیٹے عبداللہ نجدی نے اپنی کتاب *مختصر سیرت الرسول" میں بھی لکھی ہے اگر دور سے مدد کے لیے پکارنا شرک ہے تو وہابیوں کے امام نے شرکیہ روایت کیوں لکھی اور وہابی مکتبہ فکر نے یہ کتاب چھاپ کر مفت کیوں تقسیم کی؟
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو خانے میں تین مرتبہ لبیک کہا اور تین مرتبہ نصرت (تیری اور تین مدد کی گئی ) کہا۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا ہے، گویا آپ کسی انسان سے گفتگو کر رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپ نے فرمایا : یہ بنو کعب کا رجز خواں مجھے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنو بکر کی مدد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ نے صحابہ کرام کو صبح کی نماز پڑھائی تو میں نے سنا کہ رجز خواں یہ اشعار پیش کر رہا تھا“ (المعجم الكبير للطبراني: 433/23، 434، ح:1052،، المعجم الصغير للطبراني: 167/2، ح:968، المخلصيات:1331، دلائل النبوة لابي القاسم الؤصبھاني:59)
یہ روایت بانی فرقہ محمد بن عبدالوہاب نجدی کے بیٹے عبداللہ نجدی نے اپنی کتاب *مختصر سیرت الرسول" میں بھی لکھی ہے اگر دور سے مدد کے لیے پکارنا شرک ہے تو وہابیوں کے امام نے شرکیہ روایت کیوں لکھی اور وہابی مکتبہ فکر نے یہ کتاب چھاپ کر مفت کیوں تقسیم کی؟
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا انفلتت دابة أحدكم بأرض فلاة فليناد : يا عباد الله ! احبسوا علي، يا عباد الله ! احبسوا علي، فإن لله في الأرض حاضرا، سيحبسه عليكم.
’’جب تم میں سے کسی کی سواری جنگل بیابان میں چھوٹ جائے تو اس شخص کو یوں پکارنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! میری سواری کو پکڑا دو، اے اللہ کے بندو ! میری سواری کو پکڑا دو، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے بہت سے بندے اس زمین میں ہوتے ہیں، وہ تمہیں (تمہاری سواری) پکڑا دیں گے۔ “ (المعجم الكبير للطبراني : 217/10، ح10518، واللفظ له، مسند أبي يعلي : 177/9، ح5269، عمل اليوم والليلة لابن السني : 509)
إذا انفلتت دابة أحدكم بأرض فلاة فليناد : يا عباد الله ! احبسوا علي، يا عباد الله ! احبسوا علي، فإن لله في الأرض حاضرا، سيحبسه عليكم.
’’جب تم میں سے کسی کی سواری جنگل بیابان میں چھوٹ جائے تو اس شخص کو یوں پکارنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! میری سواری کو پکڑا دو، اے اللہ کے بندو ! میری سواری کو پکڑا دو، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے بہت سے بندے اس زمین میں ہوتے ہیں، وہ تمہیں (تمہاری سواری) پکڑا دیں گے۔ “ (المعجم الكبير للطبراني : 217/10، ح10518، واللفظ له، مسند أبي يعلي : 177/9، ح5269، عمل اليوم والليلة لابن السني : 509)
حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی حِصنِ حَصِین کی شَرْح، ’’ اَلْحِرْزُالثَّمِین ‘‘ صفحہ 254 پر فرماتے ہیں : ’’ (یہاں ) بندوں سے یا تو فِرِشتے یا مسلمان جِنّ یا رِجالُ الغیب یعنی اَبدال مُراد ہیں۔ ‘‘
علم حدیث کے بڑے امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اس کتاب حصن حصین کے پڑھنے کی اجازت امام جزری رحمہ اللہ سے لی تھی، کیا وہ غیر اللہ وہ مدد کے لیے پکارنے کے شرک ہونے سے واقف نہ تھے؟
شارِحِ مسلم حضرتِ سیِّدُناامام نَوَوِی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میرے ایک استاذِ محترم جو کہ بَہُت بڑے عالِم تھے ، ایک مرتبہ ریگستان میں ا ن کی سُواری بھاگ گئی، اُن کو اِس حدیثِ پاک کا عِلْم تھا، اُنہوں نے یہ کلمات کہے (یعنی دو بار کہا:یَاعِبَادَ اللہِ اِحْبِسُوْایعنی اے اللہ کے بندو! اسے روک دو ) تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے اُس سُواری کو اُسی وَقْت روک دیا۔ (الاذکار صفحہ 181)
ابان بن صالح بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا نفرت دابة أحدكم أو بعيره بفلاة من الأرض، لا يري بھا أحد، فليقل : أعينوني عبادالله ! فإنه يستعان.
’’جب تم میں سے کسی کا جانور یا اونٹ صحرا میں بھاگ جائے اور وہ دکھائی نہ دے پا رہا ہو تو اس شخص کو کہنا چاہیے : اے اللہ بندو ! میری مدد کرو۔ یوں اس کی مدد کی جائے گی۔ “ (مصنف ابن أبي شيبه : 132/7)
إذا نفرت دابة أحدكم أو بعيره بفلاة من الأرض، لا يري بھا أحد، فليقل : أعينوني عبادالله ! فإنه يستعان.
’’جب تم میں سے کسی کا جانور یا اونٹ صحرا میں بھاگ جائے اور وہ دکھائی نہ دے پا رہا ہو تو اس شخص کو کہنا چاہیے : اے اللہ بندو ! میری مدد کرو۔ یوں اس کی مدد کی جائے گی۔ “ (مصنف ابن أبي شيبه : 132/7)
عتبہ بن غزوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا أضل أحدكم شيئا أو أراد أحدكم عونا، وھو بأرض ليس بھا أنيس، فليقل : يا عباد الله أغيثوني، يا عبادالله أغيثوني، فإن لله عبادا لا نراھم، وقد جرب ذلك . ’’جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے یا تم میں سے کسی کو مدد چاہیے ہو اور وہ ایسی جگہ میں ہو جہاں اس کا کوئی مددگار نہ ہو، تو اسے یہ کہنا چاہیے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو، اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔ يقيناً اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں جنہیں ہم دیکھ نہیں سکتے اور یہ تجربہ شدہ بات ہے۔“ (المعجم الكبير للطبراني 118/17، 117)
إذا أضل أحدكم شيئا أو أراد أحدكم عونا، وھو بأرض ليس بھا أنيس، فليقل : يا عباد الله أغيثوني، يا عبادالله أغيثوني، فإن لله عبادا لا نراھم، وقد جرب ذلك . ’’جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے یا تم میں سے کسی کو مدد چاہیے ہو اور وہ ایسی جگہ میں ہو جہاں اس کا کوئی مددگار نہ ہو، تو اسے یہ کہنا چاہیے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو، اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔ يقيناً اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں جنہیں ہم دیکھ نہیں سکتے اور یہ تجربہ شدہ بات ہے۔“ (المعجم الكبير للطبراني 118/17، 117)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن لله ملائكة في الأرض سوی الحفظة، يكتبون ا سقط من ورق الشجر، فإذا أصاب أحدكم عرجة بأرض فلاة، فليناد : أعينوا عبادالله.
’’زمین میں حفاظت والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہوتے ہیں جو درختوں کے گرنے والے پتوں کو لکھتے ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو ویرانے میں چلتے ہوئے پاؤں میں موچ آ جائے تو وہ کہے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔“ (كشف الأستار عن زوائد البزار:3128/1، وسنده حسن)
إن لله ملائكة في الأرض سوی الحفظة، يكتبون ا سقط من ورق الشجر، فإذا أصاب أحدكم عرجة بأرض فلاة، فليناد : أعينوا عبادالله.
’’زمین میں حفاظت والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہوتے ہیں جو درختوں کے گرنے والے پتوں کو لکھتے ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو ویرانے میں چلتے ہوئے پاؤں میں موچ آ جائے تو وہ کہے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔“ (كشف الأستار عن زوائد البزار:3128/1، وسنده حسن)
الله کےنبی محمد صلی الله تعالی عليه وآله وسلم نے فرمایا جب کسی مشکل میں مدد کی حاجت ہو تین بار کہے:
یا عِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْ
اے الله کے بندو! میری مدد کرو، غیب سے مدد ہوگی
(مجمع الزوائد باب مایقول اذا انفلتت دابته الخ 10 /132)
(کنزالعمال بحوالہ طب عن عتبہ بن غزوان حدیث (17498 6 /709)
صاف صاف نبی صلی الله تعالی عليه وآله وسلم نے الله کے بندوں سے مدد مانگنےنے کا حکم دیا
کیا اب نبی پر بھی شرک کا فتوی لگائیں گے
یا عِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْ
اے الله کے بندو! میری مدد کرو، غیب سے مدد ہوگی
(مجمع الزوائد باب مایقول اذا انفلتت دابته الخ 10 /132)
(کنزالعمال بحوالہ طب عن عتبہ بن غزوان حدیث (17498 6 /709)
صاف صاف نبی صلی الله تعالی عليه وآله وسلم نے الله کے بندوں سے مدد مانگنےنے کا حکم دیا
کیا اب نبی پر بھی شرک کا فتوی لگائیں گے
جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ فوج کی تعداد ساٹھ ہزار تھی، جبکہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ مقابلہ بہت شدید تھا۔ ایک وقت نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مسلمان مجاہدین کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سپہ سالار تھے۔ انہوں نے یہ حالت دیکھی تو : ونادي بشعارھم يومئذ، وكان شعارھم يومئذ: يا محمداه! ”انہوں نے مسلمانوں کا نعرہ بلند کیا۔ اس دن مسلمانوں کا نعرہ یا محمداہ تھا۔“ (تاریخ طبری:181/2، البدایہ والنھایہ لا بن كثير:324/6)
سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب بن ضمرہ رضی اللہ عنہ کو ایک ہزار افراد کے ہمراہ حلب کا جائزہ لینے کے لیے روانہ کیا۔ جب وہ حلب کے قریب پہنچے تو یوقنا پانچ ہزار افراد کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ مسلمان جم کر لڑنے لگے۔ اتنے میں پیچھے چھپے ہوئے پانچ ہزار افراد کے لشکر نے حملہ کر دیا۔ اس خطرناک صورت حال نے مسلمانوں کو بےحد پریشان کر دیا۔ سیدنا کعب بن ضمرہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھامے ہوئے بلند آواز سے پکارا : يا محمد، يا محمد، يا نصر الله، انزل! ’’اےمحمد ! اےمحمد ! اے اللہ کی مدد، اتر آ۔“ ( فتوح الشام لمحمد بن عمر الواقدي:196/1،طبع مصر:1394)
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنھا نے کہا : اے بہت ہی تعریف کیے ہوئے (یامحمداہ ! امداد، امداد. اللہ تعالیٰ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے اور آسمانی فرشتے دور بھیجیں۔ حسین رضی اللہ عنہ میدان میں ہیں، خون میں نہائے ہوئے، اعضاء کٹے ہوئے۔ یامحمد ! امداد. آپ کی بیٹیاں حراست میں ہیں۔ آپ کی اولاد شہید کر دی گئی ہے۔ باد صبا ان پر مٹی اڑا رہی ہے۔ ( البدایہ والنھایہ لا بن كثير:193/8)
کیا اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارنے کے لیے غائب حاضر زندہ مردہ کی شرط قرآن و حدیث میں موجود ہے؟
وہابیوں کے امام شوکانی کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں
وہابیوں کے امام شوکانی کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن
يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ.
يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ.
’’بیشک جن (بتوں) کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس (کام) کیلئے جمع ہوجائیں۔‘‘
سورۃ الحج، 22 : 73
(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) والمراد بما يدعونه من دون اﷲ : الاصنام التی کانت حول الکعبة و غيرها.
سورۃ الحج، 22 : 73
(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) والمراد بما يدعونه من دون اﷲ : الاصنام التی کانت حول الکعبة و غيرها.
و قيل المراد بهم السعادة الذين صرفوهم عن طاعة اﷲ لکونهم أهل الحل والعقد فيهم.
و قيل الشياطين الذين حملوهم علي معصية اﷲ، والأول أوفق بالمقام و أظهر في التمثيل.
شوکاني، فتح القدير، 3 : 429
’’اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ سے مراد ایک تو وہ بت ہیں جو کعبۃ اﷲ کے ارد گرد تھے یا اس کے علاوہ دیگر بت جن کی مشرکین اﷲ کے سوا عبادت کرتے تھے۔
دوسرا یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے وہ سردار اور وڈیرے مراد ہیں جنہوں نے لوگوں کو اﷲ کی اطاعت سے روکا کیونکہ وہی ان کے ارباب بست و کشاد تھے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے مراد وہ شیاطین ہیں جنہوں نے ان کو اﷲ کی معصیت پر ابھارا۔ مذکورہ معانی میں سے پہلا معنی مقام و محل اور تمثیل کے اعتبار سے زیادہ موافق ہے۔‘‘
شوکانی نے واضح کر دیا کہ پکارنے کی یہ آیت موقع و محل کے لحاظ سے بتوں پر ہی منطبق ہوتی ہے مگر اس سے مراد زندہ سردار یا شیاطین بھی ہو سکتے ہیں.
ان سب اور اس جیسے بہت سارے دلائل کے ساتھ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں سے (بندے سمجھتے ہوئے) مدد مانگنا جائز ہے کوئی فرض واجب یا اسلام کا بنیادی عقیدہ نہیں لیکن فریق مخالف اسے اسلام کا بنیادی عقیدہ بتاتا ہے یعنی اسے توحید و شرک کے طور پر لیتا ہے لیکن ان کے پاس قرآن و حدیث بلکہ لغت (ڈکشنری) سے بھی کوئی ایک دلیل ثابت نہیں کہ غائب یا دور والے یا وصال شدہ کو پکارنا حرام یا شرک ہو بلکہ کمال بے باکی سے کفار و مشرکین والی آیات مسلمانوں پر چسپاں کر کے اپنی خارجیت کا اظہار کرتے ہیں
شوکانی نے واضح کر دیا کہ پکارنے کی یہ آیت موقع و محل کے لحاظ سے بتوں پر ہی منطبق ہوتی ہے مگر اس سے مراد زندہ سردار یا شیاطین بھی ہو سکتے ہیں.
ان سب اور اس جیسے بہت سارے دلائل کے ساتھ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں سے (بندے سمجھتے ہوئے) مدد مانگنا جائز ہے کوئی فرض واجب یا اسلام کا بنیادی عقیدہ نہیں لیکن فریق مخالف اسے اسلام کا بنیادی عقیدہ بتاتا ہے یعنی اسے توحید و شرک کے طور پر لیتا ہے لیکن ان کے پاس قرآن و حدیث بلکہ لغت (ڈکشنری) سے بھی کوئی ایک دلیل ثابت نہیں کہ غائب یا دور والے یا وصال شدہ کو پکارنا حرام یا شرک ہو بلکہ کمال بے باکی سے کفار و مشرکین والی آیات مسلمانوں پر چسپاں کر کے اپنی خارجیت کا اظہار کرتے ہیں
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما انہیں (خوارج کو) بدترین مخلوق سمجھتے تھے اور فرماتے تھے : یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق اہلِ ایمان پر کرتے ہیں۔ (1-بخاري، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين و المعاندين و قتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين، 6 : 2539)
،(2. ابن عبد البر، التمهيد، 23 : 335)، (3. ابن حجر عسقلاني، تغليق التعليق، باب قتل الخوارج والملحدين، 5 : 259)
،(2. ابن عبد البر، التمهيد، 23 : 335)، (3. ابن حجر عسقلاني، تغليق التعليق، باب قتل الخوارج والملحدين، 5 : 259)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خوارج کو اس لئے اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے کہ وہ ان آیات کو جو کفار و مشرکین کے حق میں نازل ہوئی تھیں، اہلِ ایمان پر منطبق و چسپاں کرکے انہیں کافر و مشرک ٹھہراتے تھے۔ اس لئے آیات اور الفاظِ قرآنی کا اصل مورد و محل جانے بغیر انہیں اس طرح بے باکی کے ساتھ ہر جگہ استعمال کرنا بذاتِ خود ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔ قرآن کے ہر طالب علم کا اس گمراہی سے بچنا ضروری ہے.
"حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے قرآن پڑھا یہاں تک کہ جب اس پر اس قرآن کا جمال دیکھا گیا اور وہ اس وقت تک جب تک اﷲ نے چاہا اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا تھا۔ پس وہ اس قرآن سے دور ہو گیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا اور اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا اور اس پر شرک کا الزام لگایا" راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا،اے اﷲ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ! ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب تھا؟ جس نے الزام لگایا یا جس پر شرک کا الزام لگایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرک کا الزام لگانے والا۔ (الحديث رقم 25 : أخرجه ابن حبان في الصحيح، 1 / 282، الرقم : 81، والبزار في المسند، 7 / 220.)
اللہ پاک اس دور فتن میں ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور قرآن و سنت کے اصل راستہ پر ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے. آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ و سلم