Monday, 4 June 2018

کیا امت مسلمہ شرک کر سکتی ہے؟

ایک محترم بھائی نے کسی خارجی کی پوسٹ بنام "کیا امت مسلمہ شرک نہیں کر سکتی؟" بھیجی اور اسے پڑھ کر جواب لکھنے کا حکم فرمایا.

پوسٹ کا جواب لکھنے سے پہلے کیونکہ اس پوسٹ میں خیانت، دھوکہ دہی اور کذب بیانی سے کام لیا گیا ہے اس لیے اس ضمن میں دو احادیث مبارکہ بیان کر دوں جن میں دھوکہ دہی کی مذمت اور اس پر وعید بیان کی گئی ہے.

سنن ابو داؤد شریف میں حدیث پاک ہے: عن عبد اللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایاکم والکذب فان الکذب یھدی الی الفجور۔ ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جھوٹ سے پرہیز کرو، کیونکہ جھوٹ فسق و فجو ر کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجو ر دوزخ کی طرف لے جاتا ہے اور بے شک آدمی جھوٹ بات کہتا ہے اور جھوٹ کاموقع تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ (سنن ابو داؤد شریف، کتاب الادب، باب فی التشدید فی الکذب، حدیث نمبر4991﴾ نیز دھوکہ دہی کی مذمت کے متعلق امام ابو عبداللہ حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے مستدرک علی الصحیحین میں روایت کی ہے: عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال المکر و الخدیعۃ والخیانۃ فی النار۔ ترجمہ: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مکر، دھوکہ دہی اور خیانت دوزخ میں لیجانے والے اعمال میں ہے- (مستدرک علی الصحیحین، کتاب الاھوال، حدیث نمبر8948﴾

اب آئیے اس پوسٹ میں جو پہلی حدیث پاک بیان کی گئی جس میں امت مسلمہ کے شرک میں مبتلا نہ ہونے کی بشارت ہے اور اس پر کیے گئے وہابیانہ  تبصرہ کی طرف.

حديث رقم 39 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : علامات النَّبُوَّةِ فِي الإِسلام، 3 / 1317، الرقم : 3401، وفي کتاب : الرقاق، باب : مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيها، 5 / 2361، الرقم : 6061، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : إثبات حوض نبينا صلي الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 / 1795، الرقم : 2296 وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 153.]
’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ بیشک خدا کی قسم! میں اپنے حوض (کوثر) کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا : زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد"تم"(صحابہ رضی الله عنہ کی جماعت)شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔"

اس حدیث پاک نے کیونکہ وہابی مذہب کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اس لیے اسے جعل سازی سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اسی حدیث میں اس کے علاوہ بھی کچھ باتیں ایسی ارشاد فرمائیں گئی ہیں جنہیں وہابی شرک سے تعبیر کرتے ہیں.

(1) ارشاد فرمایا کہ میں تمھارا پیشرو اور تم پر گواہ ہوں. ہر عقل مند جانتا ہے کہ گواہ وہ ہوتا ہے جو احوال کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام امت پر گواہ ہیں یعنی ہمارے اعمال انکے مشاہدہ میں ہیں.
(2) نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئیں ہیں. مگر وہابیوں کے نزدیک آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے کسی قسم کا اختیار ماننا شرک ہے. اور ان کے یہاں انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات اور اولیاء کرام رضی اللہ عنہم کی کرامات میں انکا اپنا کوئی اختیار و عمل دخل نہیں ہوتا. یاد رہے کہ سلیمان علیہ السلام کو کچھ اختیارات عطا فرمائے گئے تھے انکا بیان قرآن مجید کی "سورہ ص" سے سن لیجیے اور عقائد وہابیہ کا باطل ہونا جانئیے.

 لَـهُ الرِّيْحَ تَجْرِىْ بِاَمْرِهٖ رُخَـآءً حَيْثُ اَصَابَ (36)

ترجمہ: پھر ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا کہ وہ اس کے حکم سے بڑی نرمی سے چلتی تھی جہاں اسے پہنچنا ہوتا

وَالشَّيَاطِيْنَ كُلَّ بَنَّـآءٍ وَّغَوَّاصٍ (37

اور شیطانوں کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے۔

وَاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِى الْاَصْفَادِ(38)

اور دوسروں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

هٰذَا عَطَـآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ (39)

یہ ہماری بخشش ہے پس احسان کر یا اپنے پاس رکھ کوئی حساب نہیں۔

(3) نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنی حیات مبارکہ میں ہی قیامت تک کے احوال کا مشاہدہ فرمانا اور قیامت کے دن عطا کیے جانے والے خوض کو دیکھنا. تو خوارج سے سوال ہے کہ اور غیب دانی کس چیز کا نام ہے؟ وہ کہیں گے کہ اللہ پاک دکھاتا ہے. تو جناب کون بدبخت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم غیب اللہ پاک کے بتائے اور دکھائے بغیر جانتے اور دیکھتے ہیں؟ الحمدللہ اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ ایک ذرہ کا علم بھی اللہ پاک کے بغیر بتائے اور دکھائے کسی کے لیے ثابت کرنا شرک ہے تو جھگڑا کیسا اور شرک کی الزام تراشی کے کیا معنی؟ بقول شاعر

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

اب آئیے جناب کے اس مؤقف کی طرف کے شرک سے برات صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے تھی تو حدیث پاک کا دوسرا حصہ بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر منطبق ہو گا گا معاذاللہ مگر نبی علیہ السلام نے جو دنیا کی رغبت امت کے احوال کا مشاہدہ کر کے بیان فرمائی تھی اسے بھی ذاتی تشریح سے نمٹا کر امت پر شرک کے الزام لگانے کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی. اس حدیث پاک کی اصل شرح بخاری شریف کے مقبول ترین شارحین کی زبانی سنئیے.

1/ شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:

{قولہ (ما اخاف علیکم ان تشرکو) ای علی مجموعہ لانّ ذالک قد مقع من البعض اعاذنا اللہ تعالی}
" نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے اس فرمان (مجھے تمہارے متعلق شرک کا ڈر نہیں) کا مطلب یہ ہے کہ تم مجموعی طور پر شرک نہیں کرو گے اس لیے کہ امت مسلمہ میں سے بعض افراد کی جانب سے شرک کا وقوع ہوا ہے، اللہ تعالی اپنی پناہ میں رکھے-"
( فتح الباری:3/211)​

2/ علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:

{ معناہ علی مجموعکم لانّ ذالک قد وقع من البعض والعیاذ باللہ تعالی}
( عمدۃ القاری، شرح صحیح بخاری: 8/157)​

3/ علامہ ابو العباس احمد بن محمد القسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

{ ای ما اخاف علی جمیعکم الاشراک بل علی مجموعکم لانّذالک قد وقع من البعض}
( ارشاد الساری لشرح صحیح بخاری:2/440)

" ان ہر دو عبارات کا مفہوم بھی وہی ہے جو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی عبارت کا ہے-"

ائمہ محدثین رحمہم اللہ کی تشریج سے معلوم ہوا کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر مشرک نہیں ہوگی بلکہ بعض افراد امت مسلمہ سے ایسے ہونگے جو شرک کے مرتکب ہوں گے. بالکل یہی بات اس پوسٹ میں بیان کی گئی اگلی دو احادیث میں بھی فرمائی گئی ہے. ان دونوں کا مضمون ایک ہی ہے پہلی روایت کو دوبارہ پڑھ کر دیکھئیے.

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر ,859 فتنوں کا بیان : حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 14 سلیمان بن حرب، محمد بن عیسی، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابہ، ابواسماء، حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو آزاد کردہ غلام ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا یا یوں فرمایا کہ میرے پرودگار نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا پس مجھے زمین کے مشارق ومغا رب دکھائے گئے اور بیشک میری امت کی سلطنت عنقریب وہاں تک پہنچی گی جہاں تک میرے لیے زمین کو سمیٹا گیا اور مجھے دو خزانے سرخ وسفید دیے گئے اور بیشک میں نے اپنی پروردگار سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہ کیجیے اور نہ ان کے اوپر ان کے علاوہ کوئی غیر دشمن مسلط کردے کہ وہ ان کو جڑ سے ختم کردے۔ اور بیشک میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا کہ اے محمد۔ بیشک میں جب فیصلہ کرتا ہوں تو پھر وہ رد نہیں ہوتا اور میں انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہیں کروں اور نہ ہی ان پر کوئی غیر دشمن مسلط کروں اگرچہ سارا کرہ ارض سے ان پر دشمن جمع ہو کر حملہ آور ہوجائیں یہاں تک کہ مسلمانوں میں سے آپس میں ہی بعض بعض کو ہلاک کردیں گے اور بعض بعض کو قید کردیں گے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے اماموں (مذہبی رہنماؤں) کا ڈر ہے اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی اور قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل بتوں کی عبادت کریں اور بیشک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت میں سے ایک طائفہ ہمیشہ حق پر رہے گی ابن عیسیٰ کہتے ہیں کہ حق پر غالب رہے گی اور ان کے مخالفین انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے۔

اس روایت میں واضح طور پر فرمایا گیا کہ بعض قبائل مشرکوں سے جا ملیں گے اور بتوں کی پوجا کریں گے. اب انصاف کی نظر سے دیکھئیے کہ بعض افراد کا شرک کرنا یا قرب قیامت میں بعض قبائل کے مشرکین سے جا ملنے کی روایت کو لے کر امت مسلمہ کی اکثریت کو مشرک ٹھہرنے والے کیا دجل و فریب سے کام نہیں لے رہے؟
وہابیوں کا امام اسماعیل دھلوی اپنی بدنام زمانہ کتاب تقویۃ الایمان میں لکھتا ہے کہ "شرک لوگوں میں بہت پھیل رہا ہے اور اصل توحید نایاب ہے لیکن اکثر لوگ شرک اور توحید کے معنی نہیں سمجھتے اور ایمان کا دعوٰی رکھتے ہیں."
اسی تقویۃ الایمان میں مندرجہ ذیل حدیث پاک نقل کر کے کیا تبصرہ کرتا ہے ملاحظہ فرمائیں.

اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شب وروز کا سلسلہ اس وقت ختم نہیں ہوگا ( یعنی یہ دنیا اس وقت تک فنا کے گھاٹ نہیں اترے گی اور قیامت نہیں آئے گی جب تک لات وعزی کی پوجا نہ کی جانے لگے گی ( حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ جب ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی سنا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَه بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَه عَلَي الدِّيْنِ كُلِّه وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ) 61۔ الصف : 9) تو چونکہ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام مذاہب باطل میں مذہب اسلام سچا اور غالب ہے اور کم سے کم عرب میں بت پرستی کا رواج ہمیشہ کے لئے مٹ جائے گا، اس لئے یقین کی حد تک ) میرا خیال تھا کہ بت پرستی کا خاتمہ ہونے والا ہے ( اور یہ کہ آئندہ کبھی بت پرستی نہیں ہوگی، لیکن اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر دے رہے ہیں ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درحقیقت ایسا ہی ہوگا ( یعنی اسلام کی روشنی غالب رہے گی اور کفر وشرک کا چراغ گل رہے گا مگر اس وقت تک کے لئے ) جب تک کہ اللہ تعالیٰ چاہے گا ( چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس بات کو یوں واضح فرمایا ہے کہ ) پھر اللہ تعالیٰ ایک خوشبودار ہوا بھیجے گا جس کے ذریعہ ہر وہ شخص مر جائے گا جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا اور ( دنیا میں ) صرف وہی شخص باقی بچے گا جس میں کوئی نیکی نہیں ہوگی ( یعنی اس وقت روئے زمین پر ایسا کوئی شخص باقی نہیں بچے گا جس میں ایمان واسلام ہو جو قرآن پڑھنے والا ، نماز ، روزہ ، حج اور دوسرے ارکان اسلام ادا کرنے والا ہو اور علم دین کا حامل ہو ) پس تمام لوگ اپنے آباء واجداد کے دین یعنی کفر وشرک کی طرف لوٹ جائیں گے ۔ " ( مسلم) مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ قیامت صرف برے لوگوں پر قائم ہوگی ۔ حدیث 90
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد تبصرہ کیا ہے کہ
" اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آخر زمانہ میں قدیم شرک بھی رائج ہو گا، سو پیغمبر خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمانے کے موافق ہوا، یعنی مسلمان لوگ اپنے نبی ولی امام و شہیدوں کے ساتھ معاملہ شرک کا کرتے ہیں، اسی طرح قدیم شرک بھی پھیل رہا ہے اور کافروں کے بتوں کو بھی مانتے ہیں."

آپ حدیث پاک میں پڑھ آئے کہ یہ اس وقت ہو گا جبکہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی مر چکا ہو گا مگر وہابیوں کا بابا کہہ رہا ہے کہ" سو پیغمبر خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کہنے کے موافق ہوا" یعنی اسماعیل دہلوی کے وقت کوئی ایک صاحب ایمان زندہ نہیں تھا. شاید وہابیوں کے بابے اور اسکے متبعین کا معاملہ ایسا ہی ہو مگر الحمدللہ آج بھی دنیا صاحبان ایمان سے بھری پڑی ہے اور جناب عیسی علیہ السلام اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کی آمد کے بعد ساری دنیا پر اسلام کا غلبہ ہونا بھی ابھی باقی ہے.
مگر صرف مسلمانوں کو مشرک ثابت کرنے کے لیے کیسی فریب دہی سے کام لیا گیا اور یہی وہابی مذہب کی بنیاد ہے.

اپنی اسی کتاب کے پہلے ہی باب ےاپنے خارجی مذہب کے مطابق مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہونے والی آیت کو قرآن کی تحریف کرنے والا ترجمہ کر کے امت مسلمہ کی اکثریت کو  مشرک قرار دیتا ہے. اسکے الفاظ ملاحظہ فرمائیں.
" اللہ صاحب نے سورہ یوسف میں
وما یومن اکثرھم بااللہ الا و ھم مشرکون
اور نہیں مسلمان ہیں اکثر لوگ مگر شرک کرتے ہیں.
یعنی اکثر لوگ جو دعوی ایمان کا رکھتے ہیں سو شرک میں مبتلا ہیں "
اصل ترجمہ : اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے.

یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے مگر ساتھ ساتھ میں شرک بھی کرتے تھے. اگر اس خارجی کے مطابق یہ آیت مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جیسے کہ اس نے غلط ترجمہ اور تشریح کی تو معاذاللہ اس سے سب پہلے مراد تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوں گے. معاذاللہ ثم معاذاللہ

اب سنیے کہ وہ کون سا گروہ ہے جس کے ساتھ امت کو وابستہ رہنے کا حکم ملا ہےجو ہمیشہ حق پر قائم رہا اور قیامت تک رہے گا.

انس رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں کہ"میری امت کسی گمراہی پر جمع (متفق) نہیں ہوگی بس جب تم (لوگوں میں) اختلاف دیکھو تو سواد اعظم (بڑی-جماعت) کو لازم پکڑلو(یعنی اس کی اتباع کرو)" سنن ابن_ماجہ: کتاب الفتن، باب السواد الاعظم

دوسری روایت میں عبد اللہ ابن عمر سے حدیث میں ہے = کہ۔۔۔ بس تم سواد اعظم کا اتباع (پیروی) کرو، کیونکہ جو شخص الگ راستہ اختیار کریگا جہنم میں جا رہیگا.  مستدرک حاکم: کتاب العلم، 1/115
حدیث پاک میں امت کی اکثریت جو اہل سنت پر مشتمل ہے کے ساتھ رہنے کا حکم ہے مگر وہابیوں کو مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک امت مسلمہ کی اکثریت کفر و شرک و بدعات میں ملوث نظر آتی ہے معاذاللہ

پوسٹ کے آخر میں جو حدیث پاک آدھی کاٹ کر اپنے خارجی مذہب کے مطابق بنانے کی کوشش کی گئی اسے پھر پڑھیں اور پھر پوری روایت جو کہ امت سے شرک کی نفی بیان کرتی ہے پڑھ کر دھوکہ بازی میں لاجواب وہابیت کا اصل چہرہ دیکھیں..
پوسٹ میں کاٹ کر بیان کی گئی روایت
[مجھ کو اپنی امت پر جس کا ڈر ہے وہ شرک کا ہے:-سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1085 حدیث مرفوع ۔

اب یہ روایت پوری پڑھئیے

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَی أُمَّتِي الْإِشْرَاکُ بِاللَّهِ أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَقُولُ يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا وَثَنًا وَلَکِنْ أَعْمَالًا لِغَيْرِ اللَّهِ وَشَهْوَةً خَفِيَّةً

حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ مجھ کو اپنی امت پر جس کا ڈر ہے وہ شرک کا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج یا چاند یا بت کو پوجیں گے لیکن عمل کریں گے غیر کے لئے(دکھاوا، ریاکاری کے لیے) اور دوسری چیز کا ڈر ہے وہ شہوت خفیہ ہے۔
سنن ابن ماجہ ۔ جلد سوم ۔ زہد کا بیان ۔ حدیث 1085

یاد رہے کہ جس حدیث پاک میں بعض قبائل کے مشرکین سے مل جانے اور بتوں کی پوجا کرنے کا شروع کرنے کا بیان ہے اسکی عملی صورت ہم آج خود وہابیوں کے یہاں سرزمین عرب پر مندروں اور چرچوں کی تعمیر کی صورت میں دیکھ رہے ہیں. یعنی خود وہابی کے داتا و پالن ہار مشرکین سے جا ملے ہیں.

باقی مشرکین والی آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کر کہ انہیں مشرک قرار دینا خوارج کا پرانا طریقہ ہے اور اس فتنہ سے نبی پاک صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امت کو پہلے ہی خبردار فرما دیا تھا.

اس حوالے سے دو روایات ملاحظہ فرمائیں.

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما انہیں (خوارج کو) بدترین مخلوق سمجھتے تھے اور فرماتے تھے : یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق اہلِ ایمان پر کرتے ہیں۔ (1-بخاري، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين و المعاندين و قتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين، 6 : 2539)

 ،(2. ابن عبد البر، التمهيد، 23 : 335)، (3. ابن حجر عسقلاني، تغليق التعليق، باب قتل الخوارج والملحدين، 5 : 259)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خوارج کو اس لئے اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے کہ وہ ان آیات کو جو کفار و مشرکین کے حق میں نازل ہوئی تھیں، اہلِ ایمان پر منطبق و چسپاں کرکے انہیں کافر و مشرک ٹھہراتے تھے۔ اس لئے آیات اور الفاظِ قرآنی کا اصل مورد و محل جانے بغیر انہیں اس طرح بے باکی کے ساتھ ہر جگہ استعمال کرنا بذاتِ خود ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔ قرآن کے ہر طالب علم کا اس گمراہی سے بچنا ضروری ہے.

"حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے قرآن پڑھا یہاں تک کہ جب اس پر اس قرآن کا جمال دیکھا گیا اور وہ اس وقت تک جب تک اﷲ نے چاہا اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا تھا۔ پس وہ اس قرآن سے دور ہو گیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا اور اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا اور اس پر شرک کا الزام لگایا" راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا،اے اﷲ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم !  ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب تھا؟ جس نے الزام لگایا یا جس پر شرک کا الزام لگایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرک کا الزام لگانے والا۔ (الحديث رقم 25 : أخرجه ابن حبان في الصحيح، 1 / 282، الرقم : 81، والبزار في المسند، 7 / 220.)

اللہ پاک دھوکہ باز خارجیوں کے وسوسوں سے امت مسلمہ کے ایمانوں کی حفاظت فرمائے. آمین ثم آمین

Tuesday, 15 May 2018

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ثقہ اور جنتی ہیں

محدثین کی اصطلاح میں ایسے راوی حدیث کو عدل کہتے ہیں جو مسلمان ہو، بالغ ہو اور اسباب فسق اور مروءت کے منافی امور سے پاک ہو۔ یعنی ان تمام امور سے احتراز کرتا ہو جو عرف عام میں مذموم سمجھی جاتی ہوں۔ ابن مبارک سے پوچھا گیا کہ عدل کس کو کہیں گے تو انہوں نے فرمایا جس میں پانچ خصال پائی جائیں وہ عدل ہے۔
۱۔ وہ جماعت میں حاضر رہتا ہو۔
۲۔ شراب نہ پیتا ہو۔
۳۔ دینی اعتبار سے اس میں کوئی خرابی نہ ہو۔
۴۔ جھوٹ نہ بولتا ہو۔
۵۔ عقل میں کوئی فتور نہ ہو۔
اوپر جو معانی ذکر کیے گئے ہیں وہ تمام معانی صحابۂ کرام میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔ اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے نزدیک یہ حضرات محترم اور پسندیدہ تھے۔ شراب پیتے تھے نہ جھوٹ بولتے تھے۔ ان کے دین میں کوئی خرابی نہ تھی جو انہیں ساقط الاعتبار قرار دیتی۔


اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قسمتوں کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے:

’’لاَّ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَى [النساء : 95]‘‘

ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے، جو کسی تکلیف میں نہیں اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں‌ فضیلت دی ہے اور ہر ایک سے اللہ نے اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے۔

سورۃ النساء کی اس آیت میں غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کےلیے کسی معذوری کے بغیر شریک نہ ہونے والوں سے درجہ کی بلندی اور برتری کا ذکر فرمایا ہے، اس فرق مراتب کے باوجود فرمایا: ’’وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَى ‘‘ اللہ کا وعدہ دونوں کےلیے جنت کا ہے۔ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے بارے میں درجات کی بلندی، مغفرت ورحمت کی بشارتیں ہیں، اہل بدر ہی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے بارے میں فرمایا ہے:‌ تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہارے لیے جنت واجب کردی ہے۔ (صحیح البخاری: 3983)

مگر بدر میں‌شریک نہ ہونے والے بھی سعادت سے محروم نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں‌ کےلیے جنت کا وعدہ کیا ہے۔

بالکل یہی بشارت اسی اسلوب میں فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرنے والوں اور فتح مکہ کے بعد جان ومال سے جہاد کرنے والوں کے بارے میں پے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ [الحديد : 10]‘‘

تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (اور یہ عمل بعد میں کرنے والے) برابر نہیں، یہ لوگ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور قتال کیا اور ان سب سے اللہ نے اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو خوب باخبر ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی درجہ بندی کی ہے۔ ایک وہ جو فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جان ومال خرچ کرنے سے دریغ نہیں کیا، دوسرے وہ جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے بھی اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا۔ فرق مراتب کے باوجود دونوں ہی کے بارے میں فرمایا: ’’وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى ‘‘ اللہ نے حسنیٰ یعنی اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے۔ ”الحسنیٰ“ کا لفظ جنت ہی کے معنیٰ میں قرآن مجید میں‌ متعدد مقامات پر آیا ہے۔

اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں ان کی مدح وثناء فرمائی ہے، آپ کا ارشاد ہے:
"لا تسبوا أحدا من أصحابي . فإن أحدكم لو أنفق مثل أحد ذهبا ، ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه" (متفق علیہ)
"میرے صحابہ میں سے کسی کو بھی برا نہ کہو، اگر تم میں کا کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا آدھا مد کے خرچ کی فضیلت کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔"
نیز آپ نے فرمایا:
"صحابي أمان لأمتي" (صحیح مسلم)
"میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں۔"
جب یہ نہیں رہیں گے تو دین میں فتنہ وفساد برپا ہوگا نیز حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے جملہ حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
"أﻻ ﻓﻠﯿﺒﻠﻎ اﻟﺸﺎھﺪ اﻟﻐﺎﺋﺐ"
"سن لو جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ غیرموجود لوگوں تک ہماری باتیں پہنچا دیں ۔"
اگر یہ لوگ قابل اعتماد، ثقہ اور صادق نہ ہوتے تو ان کو تبلیغ کی یہ ذمہ داری ہرگز نہ دی جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں یہ ذمہ داری دینا آپ کی طرف سے ان کی ثقاہت وصداقت پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے۔
اللہ اور اس کے رسول کی تعدیل کے بعد ان کے لیے کسی اور تعدیل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اسی لیے محدثین نے 'الصحابۃ عدول' کا کلی ضابطہ اور اصول وضع کیا جس کے معنی 'صحابہ عادل ہیں' یعنی ان سے روایت حدیث میں کوئی ایسی غلطی واقع نہیں ہو سکتی جس پر عمداً جھوٹ بولنے کا اطلاق ہو اور انہیں ساقط الاعتبار قرار دے دیا جائے۔ اگر بتقاضائے بشری ان سے کوئی غلطی واقع ہوئی بھی تو وہ ایسی غلطی نہ ہوگی جو ان کی روایت کو قبول کرنے میں مانع ہو۔ علامہ ابن انباری 'الصحابۃ عدول' کے معنی کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"المراد قبول روايتهم من غير تكلف ببحث عن أسباب العدالة وطلب التزكية، إلا إن ثبت ارتكاب قادح، ولم يثبت ذلك ولله الحمد"
"'عدالت صحابہ' سے مراد یہ ہے کہ ان کی روایت مطلقاً قابل قبول ہے۔ ان میں اسباب عدالت کی تلاش وجستجو اور طلب تزکیہ کے تکلفات کی بالکل ضرورت نہیں، الا یہ کہ ان سے کوئی ایسی غلطی ثابت ہو جائے جو قبول روایت کے لیے قادح ہو، لیکن کوئی چیز ثابت نہیں۔"
شاہ ولی اللہ محمد دہلوی ؒفرماتے ہیں:
"وبالتتبع وجدنا أن جمیع الصحابۃ یعتقدون أن الکذب علی رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم أشدالذنوب ویحترزون عنہ غایۃالإحتراز"
"تتبع سے ہم نے یہ پایا ہے کہ صحابۂ کرام یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑنا سخت گناہ ہے اور وہ سب حد درجہ اس سے احتراز کرتے تھے۔"
علامہ آلوسی ؒ "(الأجوبة العراقية على الأسئلة الإيرانية) " میں فرماتے ہیں:
"إنہ ما مات من ابتلی منھم بمفسق إلا تائبا عدلا ببرکۃ نورالصحبۃ"
"ان میں سے جس سے بھی کوئی غلطی ہوئی وہ نور صحبت کی برکت سے اس وقت تک اس دنیا سے رخصت نہیں ہوا جب تک کہ وہ توبہ کرکے پاک وصاف نہ ہوگیا ہو۔"
وہ فرماتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک عدالت صحابہ سے یہی معنی مراد ہے۔
ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مزیدفرماتے ہیں:
"لایقال إذا کانت العدالۃالتی ادعیتموھا للصحابۃ رضی اللہ عنھم بذلک المعنی یلزم من التوقف فی قبول روایۃمن وقع منہ فسق إلی أن یعلم أنھابعدالتوبۃلأن نقول بعدالإلتزام بأنہ لابدمن أن یتوب ببرکۃالصحبۃ التی ھی الإکسیرالأعظم لاإحتمال لکون روایتہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کذبا وإفتراء علیہ الصلاۃ والسلام لأن صحۃ توبتہ یقتضی تلافی
ذلک بالأخبارعن أمرہ"
"یہ نہ کہا جائے کہ اگر عدالت سے یہی معنی مراد ہے جس کا تم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں دعوی کر رہے ہو تو اس سے ان لوگو ں کی روایت کے قبول کرنے میں جن سے کوئی معصیت واقع ہوئی ہو اس وقت تک کے لیے توقف لازم آتا ہے جب تک یہ نہ معلوم ہو جائے کہ ان کی یہ روایت توبہ کے بعد کی ہے، کیونکہ صحبت جو کہ ان کے لیے اکسیر اعظم کی حیثیت رکھتی ہے کی برکت سے ان کے لیے توبہ کے ضروری ہو جانے کے بعد یہ احتمال نہیں رہ جاتا کہ ان حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں عمداً دروغ بیانی سے کام لیا ہو۔ اس لیے کہ ان کے توبہ کی صحت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان سے جو غلطی واقع ہوئی ہے اس کی تلافی ہو چکی ہے۔"
آگے وہ مزید فرماتے ہیں:
"وبذلک یتضح بأن المراد بالعدالۃ الثابتۃ لجمیع الصحابۃ عند المحدثین ھی تجنب تعمد الکذب فی الروایۃ والإنحراف فیھا بإرتکاب مایوجب عدم قبولھافإن الذنب علی فرض وقوعہ لای منع من قبولھا"
"اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عدالت جو صحابہ کے لیے مسلم امر ہے اس سے مراد روایت حدیث میں ان کے عمداً جھوٹ بولنے سے احتراز کرنا اور ان تمام کجرویوں سے بچنا ہے جن سے روایت کا عدم قبول لازم آتا ہو۔ اگر بالفرض ان سے کسی غلطی کے واقع ہونے کو مان بھی لیا جائے تو یہ ایسی غلطی نہ ہوگی جو ان کی روایت کو قبول کرنے سے مانع ہو۔"
واضح رہے کہ یہ شرف و امتیاز اس امت میں صرف صحابۂ کرام کو حاصل ہے ان کے علاوہ امت کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جس کی عدالت کو بحث وتمحیص اور طلب تزکیہ سے بالا تر مانا جاتا ہو۔ امام الحرمین ان کے اس شرف کی تعلیل وتوجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"والسبب فی عدم الفحص عن عدالتھم أنھم حملۃالشریعۃ فلو ثبت توقف فی روایت ھم لا ان حصرت الشریعۃ علی عصرہ صلی اللہ علیہ وسلم ولما استرس لتسائرالأعصار"
"ان کی عدالت کو بلاکسی بحث تمحیص کے مان لینے کی و جہ یہ ہے کہ یہ حضرات حاملین شریعت تھے۔ اگر ان کی روایت میں توقف ثابت ہو جائے تو شریعت عصر نبوی کے لیے خاص ہو جائےگی اور باقی ادوار کے لیے نہ ہوگی۔"
اسی لیے ان کے عادل اور خیر امت ہونے کی گواہی خود باری تعالیٰ نے دی، ارشاد ہے:
(وَكَذَلِك َجَعَلْ نَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاءعَلَى النَّاسِ) (البقرۃ:143)
"اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں کے لیے گواہ ہو جاؤ۔"
اس آیت میں 'وَسَطًا' کے معنی 'عدولاً' کے ہیں۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
(كُنتُمْ خَيْرَأُمَّةٍأُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (اٰل عمران:110)
"تم خیر امت ہو جو لوگوں کے لیے برپا کی گئی ہے۔"
ان دونوں آیتوں میں خطاب ان حضرات کو ہے جو ان آیتوں کے نزول کے وقت موجو د تھے اور یہ صحابۂ کرام ہی کا مقدس گروہ ہے ۔ 'الصحابۃ عدول' کا یہ حکم عام ہے اس میں سبھی صحابہ داخل ہیں۔ حافظ ابن عبد البر متوفی ۴۶۳ھ فرماتے ہیں:
"أجمع أھل الحق من المسلمین علی أن الصحابة كلهم عدول "
"مسلمانوں میں سے تمام اہل حق کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں۔ خطیب بغدادی متوفی ۴۶۳ھ فرماتے ہیں: کتاب وسنت کے واضح دلائل کی روشنی میں صحابۂ کرام کی عدالت وپاکیزگی کا قطعی پتہ چل جاتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدیل کے بعد کسی کے تعدیل کی قطعاً کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ آگے وہ فرماتے ہیں:
"ھذا مذھب کافۃ العلماء ومن یعتدبہ من الفقھاء""یہی سارے علماء اور ان فقہاء کا مذہب ہے جن کے قول کا اعتبار کیا جاتا ہے۔"
مام نووی ؒ متوفی ۶۷۶ھ فرماتے ہیں:
"الصحابۃ کلھم عدول من لبس الفتن وغیرھم بإجماع من یعتد بہ"
"صحابہ سب کے سب عادل ہیں خواہ وہ فتنے میں شریک رہے ہوں یا نہ رہے ہوں، اس پر ان تمام لوگوں کا اجماع ہے جن کا اعتبار کیا جاتا ہے۔"
رہے معتزلہ وغیرہ جنہوں نے بعض صحابہ کو اس حکم سے خارج مانا ہے تو ان کے قول کی کوئی حیثیت نہیں۔ علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں:
"القول بالتعمیم ھو الذی صرح بہ الجمھور وھو المعتبر"
"تعمیم ہی کے قول کی جمہور نے تصریح کی ہے اور یہی معتبر قول ہے۔"
 امام ابو رازی فرماتے ہیں:
"إذا رأیت الرجل ینتقص أحدا من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأعلم أنہ زندیق، وذلک أن الرسول حقٌ، والقرآن حقٌ، وما جاء بہ حقٌ، وإنما أدی ذلک کلہ إلینا الصحابۃ،وھولاءالزنادقۃیریدون أن یجرحواشھودنا لیبطلوا الکتاب والسنۃ،فالجرحبھم أولی"
"جب تم کسی آدمی کو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کی تنقیص کرتے ہوئے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق (گمراہ) ہے اور یہ اس وجہ سے کہ رسول حق ہے، قرآن حق ہے، جسے رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے اور ان تمام چیزوں کو ہم تک صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے پہنچایا ہے۔ یہ زنادقہ ہمارے گواہوں کو مجروح کر دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ کتاب وسنت کو باطل قرار دے دیں۔ لہذا صحابہ کے بجائے خود یہی لوگ جرح کے زیادہ مستحق ہیں۔"
عاشق رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے شفا شریف میں تحریر فرمایا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عنہم کی تنقیص کرنے والا ملعون ہے . قارئین شفا شریف کا کیا عظیم مقام ہے آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں .
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : جو شخص صحابہ میں سے کسی ایک کو بھی گمراہی پر مانے اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے گالی دی اسے سخت سزا دیجائے گی .
 علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اپنے رسالہ القام الحجر میں اس بات پر اجماع نقل کیا کہ کسی بھی صحابی کو گالی دینے والا فاسق ہے اگر اسے وہ حلال نہ جانے اور اگر وہ حلال جانے تو کافر ہے اس لیے کہ اس توہین کا ادنی درجہ فسق ہے اور فسق کو حلال جاننا کفر ہے .
علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہل حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام امور میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ حق پر تھے اور فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین عادل ہیں اور ساری جنگیں اور اختلافات تاویل پر مبنی ہیں ان کے سبب کوئی بھی عدالت سے خارج نہیں اس لیے کہ وہ مجتہد ہیں.
 حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک سے پوچھا گیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز افضل ہیں یا حضرت امیر معاویہ آپ نے فرمایا. رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جہاد کے موقع پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ناک میں جو غبار داخل ہوا وہ غبار حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ سے افضل ہے. الناہیہ ص16 علامہ قاضی عیاض علامہ معافی بن عمران علیہما الرحمہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ علامہ معافی نے فرمایا کہ صحابی پر کسی کسی کو بھی قیاس نہیں کیا جائے گا 

ہمیں سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے

ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے

ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ ہمارا سب ان سب کو جنتی فرماتا ہے.
’’لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‘‘
تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (اور یہ عمل بعد میں کرنے والے) برابر نہیں، یہ لوگ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور قتال کیا اور ان سب سے اللہ نے اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو خوب باخبر ہے۔
[الحديد : 10]​
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ قرآنِ مجید صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اڑنے والے گرد و غبار کی قسمیں کھاتا ہے:

وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًاo فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًاo فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاo فَاَثَرْنَ بِهِ نَقْعًاo

’’(میدانِ جہاد میں) تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی قَسم جو ہانپتے ہیں۔ پھر جو پتھروں پر سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر جو صبح ہوتے ہی (دشمن پر) اچانک حملہ کر ڈالتے ہیں۔ پھر وہ اس (حملے والی) جگہ سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔‘‘
العاديت، 100: 4

جن شہسواروں سے گھوڑوں کو، گھوڑوں سے گرد وغبار کو یہ مقام ملا، ان شہسواروں کی شان کیا ہو گی۔

ہمیں صحابہ کرام سے پیار ہے چونکہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کی بدزبانی سے منع کیا ہے، ارشاد نبوی ہے: {اذا ذکر اصحابی فامسکوا}۔ (الطبرانی) جب بھی میرے صحابہ کے بارے میں بات ہو رہی ہو تو ان کی طعن وتشنیع مت کرو۔

ہمیں صحابہ کرام سے ہمیں محبت ہےچونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امت مسلمہ کے امن وقرار کا سبب قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: {لنجوم أمنة للسماء، فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد، وأنا أمنة لأصحابي فإذا ذهبتُ أتى أصحابي ما يوعدون، وأصحابي أمنة لأمتي، فإذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون}؛ (مسلم)۔
ترجمہ: ستارے آسمان کے لئے امان ہیں جب ستاروں کا نکلنا بند ہو جائے گا تو پھر آسمان پر وہی آجائے گا جس کا وعدہ کیا گیا میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں اور میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں پھر جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں تو جب صحابہ کرام چلے جائیں گے تو ان پر وہ فتنے آن پڑیں گے کہ جن سے ڈرایا جاتا ہے۔

 آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس امت کے بہترین افراد قرار دیا ہے اسی لیے ہمیں ان سے محبت ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: {خير أمتي القرن الذي بعثت فيه، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم} (مسلم)۔
ترجمہ: میری امت کے بہترین اشخاص وہ ہیں جن کے درمیان میری بعثت ہوئی (صحابہ کرام)، پھر (وہ نسل) جو ان کے بعد آئے (تابعین)، پھر (سب سے بہترین افراد وہ ہیں) جو ان کے بعد آئیں (تبع تابعین)۔

 ہم صحابہ سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ہمارے پیارے نبی علیہ السلام نے ہمیں صحابہ کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا ہے، فرمان نبوی ہے: {لا تسبوا أصحابي ، فوالذي نفسي بيده لو أنَّ أحدكم أنفق مثل أحد ذهباً ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نصيفه}۔ (مسلم)؛ ترجمہ: میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو، اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرڈالے تو ان کے ایک مد( مٹھی) غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر.

 صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت کرتے ہیں چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ہر اس شخص پر جو صحابہ رضي الله تعالى عنهم أجمعين کو گالی دیتا ہے، فرماتے ہیں: {لعن اللہ من سبّ اصحابی}۔ (الطبرانی)؛ اللہ تعالی کی لعنت ہو اس شخص پر جو میرے صحابہ کو بُرا بھلا کہے۔

 ہمیں صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ان کے ذریعے دین پھیلے گا اور اسلام کی نصرت ہوگی۔ امر واقع بھی یہی ہے۔ ارشاد نبوی ہے: {يأتي على الناس زمان، يغزو فئام من الناس، فيقال: فيكم من صاحب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان، فيغزو فئام من الناس، فيقال لهم: فيكم من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان، فيغزو فئام من الناس، فيقال لهم: هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم}۔ (بخاری ومسلم)؛ ترجمہ: ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگ جہاد کریں گے، ان سے پوچھا جائے گا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ہمرکاب رہا ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، اس طرح (مقابلے کے بعد) وہ لوگ فتح یاب ہوں گے۔ پھر کسی اور زمانے میں مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرنے جائے گا، ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا بندہ ہے جو صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کے ساتھ رہاہو؟ جواب آئے گا کہ جی ہاں، پھر مجاہدین کا وہ گروہ فتح یاب ہوگا۔ ایک ایسا دور بھی آئے گا کہ بعض لوگ جہاد کے لیے نکلیں گے تو ان سے سوال ہوگا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو صحابہ کرام کے ساتھیوں کے ہمرکاب رہاہو؟ وہ کہیں گے: جی، تو کامیاب ہوں گے۔

 ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ہے چونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر اور مدد گار ساتھی تھے، اس بارے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: {ن الله تبارك وتعالى اختارني، واختار لي أصحاباً، فجعل لي منهم وزراء وأنصاراً وأصهاراً، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل}۔ (رواہ حاکم وصحّحہ)۔ ترجمہ: حضور اکرم نے فرمایا: اللہ نے مجھے منتخب فرمایا ہے اور میرے لئے میرے صحابہ کو منتخب کیا ان کو میرا وزیر‘ مددگار اور رشتہ دار بنایا جو ان کو برا کہے اس پر اللہ تعالیٰ کی‘ فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض اور کوئی کفارہ قبول نہ کرے گا.

ہم صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ان سے محبت کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے محبت کرنا ہے اور صحابہ سے نفرت آپ صلى الله عليه وسلم سے نفرت کی دلیل وعلامت ہے، اسی بارے میں فرمان نبوی ہے: {الله الله في أصحابي، لا تتخذوهم غرضاً بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله أوشك أن يأخذه} (رواہ احمد وترمذی وجعلہ حسناً)؛ ترجمہ: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا )نشانہ نہ بنانا (یاد رکھو) جس نے اِن سے محبت کی ،پس میری محبت کی وجہ سے اِس نے اُن سے محبت کی ۔ جس نے اُن سے بغض رکھا پس میرے بغض کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا اور جس نے اُن کو اذیت دی پس اس نے مجھے اَذیت دی جس نے مجھے اَذیت دی ، اس نے اللہ کواذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی، پس قریب ہے کہ وہ اس کو گرفت کر لے.

ہمیں صحابہ کرام سے پیار ہے چونکہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے احترام وعزت کو اپنے ہی احترام کے مترادف قرار دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: {احفظوني في أصحابي، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم}۔ (ابن ماجہ)
ترجمہ: میری منزلت وعزت کی حفاظت کے لیے میرے صحابہ اور ان کے بعد آنے والے دو صدیوں کے لوگوں کی منزلت وعزت کا خیال رکھو۔

ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَو رأى من رَآنِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا  (ترمذی)

ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ ہمارے اکابر نے انکی عزت و احترام اور ان سے پیار کا درس دیا ہے
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے مقدمہ فتح الباری "ھدی الساری" (ص:479) میں ذکر کیا ہے کہ :
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ کی تعداد 1080 (ألف وثمانين) ہے۔ ان تمام کے اسماء کا ذکر یقیناً طویل ہوگا۔ اس لیے اس ذکر کو نظرانداز کرتے ہوئے عرض ہے کہ ۔۔۔ یہ سب شیوخ کرام اس بات پر متفق تھے کہ صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کے بارے میں ہمیشہ بخشش کی دعا ہی کرنا چاہئے اور انہیں برا کہنے یا ان کی عزت و عصمت کو داغدار کرنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئے !

ملا علی قاری رحمۃ اللہ شرح فقہ الاکبر میں لکھتے ہیں :
ہم سب صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے محبت کرتے ہیں اور کسی بھی صحابی کا ذکر بھلائی کے علاوہ نہیں کرتے۔
گو کہ بعض صحابہ سے صورۃ شر صادر ہوا ہے مگر وہ کسی فساد یا عناد کے نتیجہ میں نہ تھا بلکہ اجتہاد کی بنا پر ایسا ہوا اور ان کا شر سے رجوع بہتر انجام کی طرف تھا ، ان سے حسن ظن کا یہی تقاضا ہے۔
بحوالہ : شرح الفقہ الاکبر ، ص:71

الفقہ الاکبر کے ایک اور شارح علامہ ابوالمنتہی احمد بن محمد المغنی ساوی لکھتے ہیں :
اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کی تعظیم و تکریم کی جائے اور ان کی اسی طرح تعریف کی جائے جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔
بحوالہ : شرح الفقہ الاکبر ، مطبوعہ مجموعۃ الرسائل السبعۃ حیدرآباد دکن - 1948ء

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدہ و عمل کے ترجمان امام ابوجعفر احمد بن محمد طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب "العقیدہ الطحاویۃ" میں لکھا ہے :
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں، ان میں سے نہ کسی ایک کی محبت میں افراط کا شکار ہیں اور نہ ہی کسی سے براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جو ان سے بغض رکھتا ہے اور خیر کے علاوہ ان کا ذکر کرتا ہے ہم اس سے بغض رکھتے ہیں اور ہم ان کا ذکر صرف بھلائی سے کرتے ہیں۔ ان سے محبت دین و ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض کفر و نفاق اور سرکشی ہے۔
بحوالہ : شرح العقیدہ الطحاویۃ ، ص:467
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں
واضح اور آشکار مسائل میں سے ایک صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کی تمام خوبیوں کو بیان کرنا، ان کی غلطیوں اور آپس کے اختلافات کو بیان کرنے سے گزیر کرنا ہے۔ اس لیے جو شخص کسی بھی صحابی کی شاں میں گستاخی کرے، برا بھلا کہے اور طعنہ زنی کرے یا کسی صحابی کی عیب جوئی کرے تو وہ شخص بدعتی، ناپاک، رافضی او اہل سنت کا مخالف ہے۔
اللہ تعالی (قیامت کے دن) نہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا نہ کوئی فدیہ وکفارہ اس کی جان چھڑا سکے گا۔
اس کے برعکس صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت سنت اور ضروری ہے، ان کے لیے نیک دعاء کرنا قرب الہی کا باعث ہے۔ ان کی پیروی باعث نجات ہے اور ان کی راہ پرچلنا فضیلت شمار ہوتاہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سب سے اچھے لوگ تھے، کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ انہیں گالیاں دے یا عیب جوئی کرکے ان کی شان میں گستاخی کرے اور انہیں گندی زبان سے یاد کرے۔

 مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں ایک کتاب لکھی ہے.
"امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک نظر میں"

آپ فرماتے ہیں جس دن نے یہ کتاب لکھی اسی رات نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی. نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے میرے صحابی رضی اللہ عنہ کی عزت بچانے کی کوشش کی اللہ پاک تمھاری عزت بچائے گا.
حیات سالک


مام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں واضح ہو کہ اس تالیف پر میرے لئے باعث وسبب اگرچہ میرا ہاتھ یہاں کے حقائق سے کوتاہ ہے وہ حدیث ہوئی جو خطیب بغدادی نے جامع میں اور ان کے سوا اور محدثین نے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہو ں اور میرے صحابہ کو براکہا جائے تو واجب ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے جو ایسا نہ کرے گا ا س پر اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ تعالٰی نہ اس کا فرض قبول فرمائے نہ نفل۔

  آج پندرہویں صدی میں وصال فرمانے والوں کے ایام تو تنقید کرنے والے خود شان و شوکت سے مناتے ہیں مگر  حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو صحابی بھی مانتے ہوئے  جس دن رافضی اس صحابی رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بغض و عناد میں خوشیاں مناتے ہیں اور انہیں گالیاں دیتےان کا دفاع کرنا  نام نہاد اہلسنت کو بہت برا لگ گیا. یہ پوشیدہ رفض نہیں تو اور کیا ہے ؟

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

Tuesday, 8 May 2018

کیا غیر اللہ سے مدد مانگنا مطلقاً ناجائز و شرک ہے؟

  • کیا اللہ کے سوا کسی کو الہ (معبود) جانے بغیر پکارنا بھی شرک ہے؟


قرآن کریم ارشاد ہے
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ۔ المائدة،( 5 : 55
’’بیشک تمہارا ولی (دوست، مددگار) تو اﷲ اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہی ہے اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں۔‘‘                         

ایک مقام پر ارشاد ہے
سورہ التحريم،( 66:4)فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ
’’بیشک اللہ اُن کا دوست و مددگار ہے، اور جبریل اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد
وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ
"ان کو اللہ اور رسول نے غنی یعنی مالدار کر دیا. "( 9 : 74)

نبی پاک علیہ السلام نے اپنے ِصحابی ربیعہ بن کعب رضی اللّٰہ عنہ سے خوش ہو کر فرمایا " مانگو کیا مانگتے ہو؟ انہوں نے عرض کی (اسئلک)  آپ سے مانگتا ہوں جنت میں آپ کی رفاقت. فرمایا کچھ اور مانگنا ہے؟ عرض کی بس یہی.  فرمایا کثرت نوافل سے میری مدد کر. (مسلم شریف کتاب الصلاۃ)

مشکوۃ شریف کے دونوں شارحین ملا علی قاری اور شیخ عبدالحق محدث دھلوی اد حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی علیہ السلام  جس کو جو چاہیں اللہ کے حکم سے عطا فرما دیں. (آج تک کسی نے دونوں بزرگوں کو شرک کہا ہو تو ہمارے علم میں بھی لایا جائے جبکہ سنی اور وہابیوں کے دونوں گروہ یعنی دیوبندی اور اہلحدیث ان کی کتب سے استفادہ کرتے ہیں

  سیدتنا میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنھا زوج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کہتی ہیں : ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میرے پاس رات گزاری تو آپصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اٹھے اور نماز کے لیے وضو کرنے لگے ، میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی وضو والی جگہ میں « لَبَّيْكَ ، لَبَّيَْك » تین دفعہ اور « نُصِرْتَ نُصِرْتَ » تین دفعہ فرمایا ، یعنی ”میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ، تیری مدد کی گئی ، تیری مدد کی گئی“ تین دفعہ فرمایا ۔ جب نکلے تو میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! میں نے آپ سے سنا ، آپ اپنی وضو کی جگہ میں کہہ رہے تھے : ”میں حاضر ، میں حاضر“ تین دفعہ ”تو مدد کیا گیا ، تو مدد کیا گیا“ تین دفعہ گویا کہ آپ کسی آدمی سے باتیں کر رہے ہیں ؟ اس وقت آپ کے ساتھ کوئی آدمی موجود تھا ؟ فرمایا : ”یہ بنوکعب کا رجزیہ شعر کہنے والا مجھے پکار رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ قریش نے ان کے خلاف بنو بکر کی مدد کی ہے ۔ “ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نکلے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کو حکم دیا کہ ان کی تیاری کریں اور کسی کو نہ بتائیں ۔ وہ کہتی ہیں : اسی وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : بیٹی یہ کیا تیاری ہو رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں ، سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! یہ رومیوں سے جنگ کا زمانہ بھی نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کہاں کا ارادہ کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : واللہ مجھے معلوم نہیں ، کہتی ہیں کہ پھر ہم تین دن ٹھہرے ، آپ نے صبح کی نماز لوگوں کو پڑھائی اور ہم نے ایک شعر کہنے والے کو سنا ، وہ کہہ رہا تھا : اے میرے رب ! میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قسم دے رہا ہوں جو ہمارے اور اپنے باپ کا پرانا حلیف تھا ہم نے تجھے جنا اور تو بچہ تھا پھر ہم مسلمان ہو گئے اور ہم نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نکالا نہیں ، قریش نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے وعدہ خلافی کی ہے اور اپنا پکا وعدہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے توڑ دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : تم کسی کو نہیں بلا سکتے ۔ پس ہماری مدد مضبوط کیجئے ، اللہ آپ کو ہدایت دے ، اور اللہ کے بندوں کو بلائیں اور ہماری مدد کریں جن میں اللہ کے نبی اور رسول بھی ہوں جو تلوار ننگی کر چکے ہوں ، اگر وہ ذلیل ہوں گے تو ان کا چہرہ بدل جائے گا ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : ”تیری مدد کی جائے گی ، تیرے مدد کی جائے گی“ ، تین دفعہ ، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نکلے ، جب روحاء میں پہنچے تو ایک اٹھتے ہوئے بادل کو دیکھا تو کہنے لگے : ”یہ بادل بنوکعب کی مدد کے لیے اٹھا ہے" ۔ 
معجم صغیر للطبرانی جہاد کا بیان نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا قریش کے خلاف بنو کعب کی مدد کا بیان
حدیث نمبر 593
یہ روایت بانیء فرقہ وہابیہ محمد بن عبدالوھاب نجدی کے
 بیٹے عبداللہ بن محمد بن عبدالوھاب نجدی نے اپنی کتاب "مختصر سیرت الرسول " میں بھی لکھی ہے جو مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور میں صفحہ 333 پر اور جامعہ العلوم الاثریہ جہلم  سے چھپنے والی کتاب کے صفحہ 528 پر بھی موجود ہے۔ یاد رہے کہ تین دن کی مسافت سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو فریاد کی گئی اور آپ علیہ السلام نے سماعت فرمائی

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں قحط پڑھ گیا.  حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللّٰہ عنہ حضور علیہ السلام کی قبر انور پر حاضر ہوئے اور عرض کی.  یا رسول اللہ اپنی امت کے لیے بارش کی دعا مانگیے کیونکہ ہم لوگ ھلاک ہوئے جا رہے ہیں. خواب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا.  عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ لوگوں کے لیے بارش کی دعا مانگے.  انہیں بارش دی جائے گی اور انہیں کہو کے اِحتیاط کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہیں.  وہ صحابی رضی اللّٰہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ماجرا سنایا.  حضرت عمر رو دئیے.  اور کہا یا اللہ : میں اپنی بساط بھر کوتاہی نہیں کرتا. (الاستیعاب علامہ قرطبی)                   

فارق اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں 18 ھجری میں دوبارہ قحط واقع ہوا. حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللّٰہ عنہ سے انکی قوم بنو مزینہ نے کہا,  ہم  مرے جا رہے ہیں. کوئ بکری ذبح کیجیے.  فرمایا بکریوں میں کچھ نہیں رکھا.  اصرار پر ایک بکری ذبح کی,  جب کھال کھینچی تو نیچے سرخ ہڈی تھی.  یہ دیکھ کر حضرت بلال مزنی رضی اللّٰہ عنہ نے پکارا.       یا محمداہ!  رات ہوئ تو خواب میں دیکھا رسول اللہ علیہ السلام فرما رہے ہیں تمھیں زندگی مبارک ہو.(البدایہ والنہایہ ابن کثیر جلد 7 ص 91)

حضرت اوس بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ شریف میں قحط آیا. لوگوں نے امی عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے شکایت کی.  آپ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا. " نبی اکرم علیہ السلام کے مزار مبارک کو دیکھو اور آسمان کی طرف اس کا روشن دان کھول دو تاکہ اس کے اور آسمان کے درمیان چھت حائل نہ رہے.  انہوں نے ایسا ہی کیا.  اتنی بارش ہوئی کہ سبزہ اگا,  اونٹ موٹے ہو گئے حتی کہ چربی سے انکے بدن پھٹنے لگے یعنی بہت فربہ ہو گئے.  چنانچہ اس سال کا نام عام الفتق رکھ دیا گیا. ".(سنن دارامی جلد اول، باب ما اکرم اللہ تعالیٰ نبیہ بعد موتہ، رقم الحدیث 92)


امام طبرانی ایک طویل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ" حضرت عثمان بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے کسی کام سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور نہ اس کے کام کی طرف دھیان دیتے تھے ایک دن اس شخص کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی اس نے ان سے اس بات کی شکایت کی حضرت عثمان بن حنیف نے اس سے کہا کہ تم وضو خانہ جاکر وضو کرو اور پھر مسجد میں جاو اوردو رکعت نماز اد اکرو پھر یہ کہو کہ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ہمارے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب عزوجل کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ وہ میری حاجت روائی کرے اور اپنی حاجت کا ذکر کرنا پھر میرے پاس آنا حتی کہ میں تمہارے ساتھ جاوں وہ شخص گیا اور اس نے اس پر عمل کیا پھر وہ حضرت عثمان بن عفان کے پاس گیا دربان نے ان کےلئے دروازہ کھولا اور انہیں حضرت عثمان بن عفان کے پاس لے گیا حضرت عثمان نے انہیں اپنے ساتھ مسند پر بٹھالیا اور پوچھا کہ تمہارا کیا کام ہے اس نے اپناکام ذکر کردیا حضرت عثمان نے اس کا کام کردیا اور فرمایا کہ تم نے اس سے پہلے اپنے کام کا ذکر نہیں کیا تھا اور فرمایا کہ جب بھی تمہیں کوئی کام ہو تو تم ہمارے پاس آجانا پھر وہ حضرت عثمان کے پاس سے چلاگیا اور جب اس کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خير عطا فرمائے حضرت عمارن میری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور میرے معاملہ میں غور نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی حضرت عثمان بن حنیف نے کہا بخدا میں نے ان سے کوئی سفارش نہیں کی لیکن ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نےاپنی نابینائی کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس پر صبر کرو گے اس نےکہا یا رسول اللہ مجھے راستہ دیکھا نے والا کوئی نہیں ہے اور مجھے بڑی مشکل ہوتی ہے تو رسول اللہ نے فرمایا کہ تم وضو خانے جاؤ اوروضو کرو پھر دورکعت نماز پڑھو پھر ان کلمات سے دعا کرو حضرت عثمان بن حنیف فرماتے ہیں کہ ہم الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ ابھی زیادہ باتیں ہوئی تھیں کہ وہ نابینا شخص اس حال میں آیا کہ اس میں بالکل نابینائی نہیں تھی۔
(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث نمبر 8311
شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام     الباب الثامن فی التوسل صفحہ 371، دار الکتب العلمیۃ
احمد بن حسين البيهقي نے دلائل النبوۃ للبہیقی  میں اور
امام جلال الدین سیوطی نے  الخصائص الکبری میں اس حدیث کو نقل فرمایا ہے 
حافظ زکی الدین عبد العظیم نے الترغیب والترہیب میں او رحافظ الہیثیمی نے مجمع الزوائد میں
اس حدیث کو بیان کرکے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے 
بلکہ ابن تیمیہ نےکہ جو غیر مقلدین کے امام ہیں اس حدیث کی سند کوفتاوی ابن تیمیہ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳مطبوعہ با مر فہد بن عبد العزیز آل السعود میں صحيح کہا ہے) 

جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ فوج کی تعداد ساٹھ ہزار تھی.  جبکہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی.  مقابلہ بہت سخت تھا.  ایک وقت نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسلمان مجاہدین کے پاؤں اکھڑنے لگے.  حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ  سپہ سالار تھے.  انہوں نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے مسلمانوں کی علامت کے ساتھ ندا کی. یا محمداہ اور جنگ کا پانسہ پلٹ گیا. (البدایہ والنہایہ جلد 6 صفحہ 324).

حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے  حضرت کعب بن ضمرہ رضی اللّٰہ عنہما کو ایک ہزار کا لشکر دے کر حلب کی طرف روانہ کیا.  جب وہ حلب پہنچے تو یوقنا پانچ ہزار افراد کے ساتھ حملہ آور ہوا.  مسلمان جم کر لڑے اتنے میں پانچ ہزار اورں نےحملہ کر دیا.  اس خطرناک صورتحال میں حضرت کعب بن جمرہ نے جھنڈا تھامے ہوئے بلند آواز سے نعرہ لگایا یا محمد!  یا محمد یا نصراللہ انزل.  یا محمد یا محمد اے اللہ کی مدد نزول فرما. مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے اور کمال ثابت قدمی سے لڑے اور فتح پائی. (فتوح الشام,  جلد 1 ص 96).

ایسے ہی فتح بہسنا میں ایک دن رات بھر لڑائ ہوتی رہی اور مسلمانوں کا شعار تھا یا محمد یا محمد جا نصر اللہ انزل پکارنا تھا.(فتوح الشام جلد 2)

علامہ ابن کثیر حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کے کے زمانہ خلافت کے احوال لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ "اس زمانہ کا شعار یا محمداہ پکارنا تھا".)البدایہ والنہایہ جلد 6 ص 324 مطبوعہ دارلفکر بیروت).

امام عبدالرحمن بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا.  آپ رضی اللّٰہ عنہ کا پاؤں سن ہو گیا.  میں نے عرض کی اسے پکاریئے جو آپ کو سب سے محبوب ہے.  انہوں نے کہا یا محمد.  وہ اسی وقت بھلے چنگے ہو گئے گویا قید سے آزاد کر دیے گئے ہوں.(کتاب الاذکار باب مایقول اذا اخدرت,  امام نووی صفحہ 271 ).

حضرت زینب بنت مولا علی رضی اللّٰہ عنہما نے کربلا کی اسیری میں پڑھا. "یا محمداہ یا محمداہ صل علیک و ملک السماہ ھذا حسین بالعراہ........... ان کی پرسوز آواز نے ہر اپنے بیگانے کا رلا دیا. (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 193).

امام زین العابدین  اپن مشہور نعتیہ قصدہ میں فرماتے ہیں.

یارحمۃ للعالمین ادرک الذین العابدین.
محبوس  ایدی الظالمین فی موکب المذدہم
ترجمہ : اے رحمۃ للعالمین زین العابدین کی مدد کو پہنچو.  وہ اژدھام میں ظالموں کی قید میں ہے.

امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالاربنا کر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمادیا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدنبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل (یعنی اے ساریہ!پہاڑکی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں اورمدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔آج امیر المؤمنین نے انہیں کیونکر اورکیسے پکارا ؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کریہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز ہے، یہ کہا اورفوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اوردم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روندڈالا اورعساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔ (مشکوٰۃ باب الکرامات ، بیہقی،  طبرانی ،ابو نعیم وتاریخ الخلفاء)

حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرزمین روم میں مجاہدین اسلام کا ایک لشکر بھیجا ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد بالکل ہی اچانک مدینہ منورہ میں نہایت ہی بلندآواز سے آپ نے دو مرتبہ یہ فرمایا : یَالَبَّیْکَاہُ!یَالَبَّیْکَاہُ!  (یعنی اے شخص! میں تیری پکار پر حاضر ہوں)اہل مدینہ حیران رہ گئے اوران کی سمجھ میں کچھ بھی  آیا کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس فریاد کرنے والے کی پکار کا جواب دے رہے ہیں؟ لیکن جب کچھ دنوں کے بعد وہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اوراس لشکر کا سپہ سالاراپنی فتوحات اور اپنے جنگی کارناموں کاذکر کر نے لگا تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان باتوں کو چھوڑدو! پہلے یہ بتاؤ کہ جس مجاہد کو تم نے زبردستی دریا میں اتاراتھا اوراس نے یَاعُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ!  (اے میرے عمر!میری خبرلیجئے ) پکارا تھا اس کا کیا واقعہ تھا. سپہ سالارنے فاروقی جلال سے سہم کر کانپتے ہوئے عرض کیا کہ امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اپنی  دریا کے پار اتارنا تھا اس لئے میں نے پانی کی گہرائی کا اندازہ کرنے کے لیے اس کو دریا میں اترنے کا حکم دیا ،چونکہ موسم بہت ہی سرد تھا اور زور دار ہوائیں چل رہی تھیں اس لئے اس کو سردی لگ گئی اوراس نے دو مرتبہ زور زور سے  یَا عُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ! کہہ کر آپ کو پکارا،پھر یکایک اس کی روح پرواز کر گئی ۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے ہرگز ہرگز اس کو ہلاک کرنے کے ارادہ سے دریا میں اترنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ جب اہل مدینہ نے سپہ سالارکی زبانی یہ قصہ سناتو ان لوگوں کی سمجھ میں آگیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن جو دو مرتبہ یَالَبَّیْکَاہُ! یَالَبَّیْکَاہُ! فرمایا تھا درحقیقت یہ اسی مظلوم مجاہد کی فریاد وپکارکا جواب تھا ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سپہ سالارکا بیان سن کر غیظ وغضب میں بھر گئے اورفرمایاکہ سر دموسم اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں میں اس مجاہد کودریا کی گہرائی میں اتارنا یہ قتل خطا کے حکم میں ہے ،لہٰذا تم اپنے مال میں سے اس کے وارثوں کو اس کا خون بہا ادا کرواورخبردار! خبردار!آئندہ کسی سپاہی سے ہرگز ہرگز کبھی کوئی ایسا کام نہ لینا جس میں اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوکیونکہ میرے نزدیک ایک مسلمان کا ہلاک ہوجانا بڑی سے بڑی ہلاکتوں سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر ہلاکت ہے۔( ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء للشاہ ولی اللہ)۔

حصن حصین جو کہ امام جزری رحمہ اللہ کی مرتب کردہ ہے جس میں انہوں نے مسنوں دعائیں اور ازکار جمع کیے ہیں. ان کے فرمان کے مطابق اس کتاب میں سب کچھ صحیح یعنی مستند ہے. حصن حصین تمام مکاتب فکر کے نزدیک معتبرترین مسنون وظائف کی کتاب ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے امام جزری سے اس کی اجازت لی تھی۔ اسی حصن حصین میں امام جزری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں. "جب مدد لینا چاہے تو کہے اے اللہ کے بندو میری مدد کرو,  اے اللہ کے بندو میری مدد کرو,  اے اللہ کے بندو میری مدد کرو ". (حصن حصین ص 22).
حصن حصین کی شرح میں ملا  علی قاری اس روایت کے تحت فرماتے ہیں کہ "اللہ کے بندوں سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا مسلمان,  یا جن یا رجال الغیب یعنی ابدال" مزید فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور مسافروں کو اس کی بڑی حاجت ہے.  اگر جنگل میں جانور بھاگ جائے تو آواز دو کہ اے اللہ کے بندو اسے روکو".(الحرزالثمین شرح حصن حصین. صفحہ 202 مطبوعہ مکۃ المکرمہ سعودیہ)
یہ کتاب عموما حاجیوں کو تحفہ میں دی جانے والی کتابوں میں بھی شامل ہوتی ہے.

 اولیاءاللہ کی دور و نزدیک سے تصرف کرنے کی قوت

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا  ہے :جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اُس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جو مجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہو اور میرا بندہ نفلی عبادات کے ذریعے برابر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں (اللہ تعالی) اس (بندے) کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں. اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں ضرور اسے پناہ دیتا ہوں.
(البخاري في الصحيح، کتاب : الرقاق، باب : التواضع، 5 / 2384، الرقم : 6137، وابن حبان في الصحيح، 2 / 58، الرقم : 347، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 219، باب (60)، وفي کتاب الزهد الکبير، 2 / 269، الرقم : 696
امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ سورہ کہف کی آیت نمبر 9 کے تحت فرماتے ہیں کہ
"جب بندہ نیکیوں کی پابندی کرتا ہے تو اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ کہ میں اس بندے کی سمع و بصر ہو جاتا ہوں پس جب نورِ جلالت اس کا سمع ہو جاتا ہے تو وہ دور و نزدیک سے سنتا ہے اور جب یہ نور اس کی بصر ہو جاتا ہے تو وہ دور و نزدیک سے دیکھتا ہے اور جب یہ نور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے تو وہ بندہ مشکل و آسان،  دور و نزدیک امور  میں بھی تصرف کرنے پر قادر ہوتا ہے۔" تفسیر کبیر.
انور شاہ کشمیری دیوبندی نے بھی اپنی شرح بخاری میں اس حدیث کی یہی شرح کی ہے۔  تاوقت کسی نے امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ اور کشمیری صاحب پر شرک کا الزام نہیں لگایا.
اس بات کو علامہ اقبال نے یوں بیان کی ہے.

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مؤمن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں کارکشا کار ساز

جو لوگ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور اولیاءاللہ رحمہم اللہ کی کرامات میں انکا اپنا کچھ عمل دخل نہیں ہوتا اور انہیں کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ "سورہ ص" کی ان آیات مبارکہ کو بغور پڑھ کر اپنے عقیدہ کی اصلاح کر لیں۔
فَسَخَّرْنَا لَـهُ الرِّيْحَ تَجْرِىْ بِاَمْرِهٖ رُخَـآءً حَيْثُ اَصَابَ (36)
ترجمہ: پھر ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا کہ وہ اس کے حکم سے بڑی نرمی سے چلتی تھی جہاں اسے پہنچنا ہوتا
وَالشَّيَاطِيْنَ كُلَّ بَنَّـآءٍ وَّغَوَّاصٍ (37
اور شیطانوں کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے۔
وَاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِى الْاَصْفَادِ(38)
اور دوسروں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔
هٰذَا عَطَـآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ (39)
یہ ہماری بخشش ہے پس احسان کر یا اپنے پاس رکھ کوئی حساب نہیں۔

بعض اوقات جب انبیاء کرام علیہم السلام و اولیاء کرام رحمہم اللہ کے عطائی تصرفات کا قرآن و حدیث سے واضح ثبوت پیش کر دیا جائے تو منکرین حضرات کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو اللہ کے دینے سے ہیں۔ تو جناب آپ کو کس نے کہا کہ مسلمان ان تصرفات کو انبیاء کرام علیہم السلام و اولیاءاللہ رحمہم اللہ کے لیے ذاتی مانتے ہیں بلکہ اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ یہ سب اللہ کی عطا،  اذن اور ارادہ سے ہے اور ہر آن اللہ کے قبضہ و قدرت میں ہے۔ تو پھر مسلمانوں پر ان تصرفات کے ذاتی ماننے کا الزام کیوں دھرا جاتا ہے؟  بقول شاعر

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

کیا دور سے دیکھ لینے یا سن لینے کا عقیدہ رکھنا شرک ہے؟

احادیث مبارکہ کے مطابق جنت ساتویں آسمان پر ہے لیکن جنتی حور وہاں سے اپنے مستقبل میں ہونے والے دنیوی شوہر کے احوال کا مشاہدہ کرتی ہے جیسا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حورِ عین کہتی ہے خدا تجھے قتل کرے اسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا". (ابن ماجہ،  کتاب النکاح،  باب فی المراۃ توذی زوجھا۔ الحدیث: 2014)
اسی طرح جنت ساتویں آسمان پر اور جہنم ساتوں زمینوں کے نیچے ہے لیکن قرآن کریم کے مطابق جنتی اور جہنمی ایک دوسرے کے ساتھ مقاملہ بھی کریں گے اور احوال کا مشاہدہ بھی۔

اس طرح کی بیسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں لھذا یہ بھی وہابیہ کا من گھڑت عقیدہ ہے.

غیر اللہ کے لئے کون سی پکار شرک ہے

عقیدہ توحید کیوں کہ اسلام کی بنیاد ہے اور اسی پر باقی تمام عقائد و امور کی بنیاد کھڑی ہے لھذا اللہ کریم نے ہر گز توحید و شرک کو ناقابل فہم اور موشگافیوں سے پرُ کر کے بیان نہیں کیا کہ عام آدمی سمجھ ہی نہ سکے۔ قرآن کریم میں واضح ارشاد ہے اللہ کے ساتھ کسی کو بطور الہ یعنی معبود نہ پکارو۔ وَ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۟ کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجۡہَہٗ ؕ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ۔   سورہ القصص 28آیت 88)

اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارنا بجز اللہ تعالٰی کے کوئی اور معبود نہیں ، ہرچیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے، اسی کے لئے فرمانروائی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

یاد رہے کہ وہابیہ کا مسلمانوں پر شرک کا اطلاق کرنے کے لیے پکار کو دور و نزدیک،  زندہ و مردہ اور ماتحت الاسباب و مافوق الاسباب سے مقید کرنا ان کا من گھڑت اور بدعتی عقیدہ ہے جسکا قرآن و حدیث میں کہیں ذکر نہیں۔ جس عقیدہ سے دور والے اور فوت شدہ کو پکارنا شرک ہے اسی عقیدہ سے سامنے والے اور زندہ کو پکارنا بھی شرک ہے۔ اگر اسکو اللہ کا بندہ تصور نہ کیا جائے اور اسکی مدد کو اللہ کے حکم سے اور اللہ کی مدد کا مظہر نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ ہر مدد خواہ ماں باپ،  بہن بھائی،  دوست و حاکم کریں یا انبیاء علیہم السلام و اولیاءاللہ رحمہم اللہ وہ اللہ کے حکم و ارادہ سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ یعنی حقیقی طور پر مددگار صرف اللہ ہے جس میں اسکا کوئی شریک نہیں نہ زندہ نہ مردہ،  نہ دور والا نہ پاس والا نہ ماتحت الاسباب نہ ما فوق الاسباب۔ مخلوق کی مدد باذن اللہ اور مجازی ہے جب اللہ کی مدد حقیقی و ذاتی ہے۔         

یہ بھی یاد رہے کہ اہلسنت انبیاء علیہم السلام اور اولیاءاللہ رحمہم اللہ سے استمداد کے فقط جواز یعنی جائز ہونے کے قائل ہیں نہ کہ اسے کوئی فرض و واجب یا اسلام کے بنیادی عقائد میں شمار کرتے ہیں لیکن وہابیت کا  یہ بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے مسلمانوں پر شرک کا الزام لگانا ہے مگر بغیر قرآن وحدیث سے دلیل پیش کیے فقط خوارج کے طریقہ پر۔

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما انہیں (خوارج کو) بدترین مخلوق سمجھتے تھے اور فرماتے تھے : یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق اہلِ ایمان پر کرتے ہیں۔ (1-بخاري، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين و المعاندين و قتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين، 6 : 2539)
 ،(2. ابن عبد البر، التمهيد، 23 : 335)، (3. ابن حجر عسقلاني، تغليق التعليق، باب قتل الخوارج والملحدين، 5 : 259)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خوارج کو اس لئے اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے کہ وہ ان آیات کو جو کفار و مشرکین کے حق میں نازل ہوئی تھیں، اہلِ ایمان پر منطبق و چسپاں کرکے انہیں کافر و مشرک ٹھہراتے تھے۔ اس لئے آیات اور الفاظِ قرآنی کا اصل مورد و محل جانے بغیر انہیں اس طرح بے باکی کے ساتھ ہر جگہ استعمال کرنا بذاتِ خود ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔ قرآن کے ہر طالب علم کا اس گمراہی سے بچنا ضروری ہے.

"حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے قرآن پڑھا یہاں تک کہ جب اس پر اس قرآن کا جمال دیکھا گیا اور وہ اس وقت تک جب تک اﷲ نے چاہا اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا تھا۔ پس وہ اس قرآن سے دور ہو گیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا اور اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا اور اس پر شرک کا الزام لگایا" راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا،اے اﷲ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم !  ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب تھا؟ جس نے الزام لگایا یا جس پر شرک کا الزام لگایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرک کا الزام لگانے والا۔ (الحديث رقم 25 : أخرجه ابن حبان في الصحيح، 1 / 282، الرقم : 81، والبزار في المسند، 7 / 220.)

اللہ پاک دورِ فتن میں ہمارے ایمان و عقیدہ کی حفاظت فرمائے. آمین