Sunday, 14 March 2021

نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کا علم غیب آیات قرآن اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں

 

قرآن کریم ارشاد ہے

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(179) ترجَمہ:اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔(پ 4،اٰل عمرٰن:179)


  وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(113) ( ترجَمہ: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ  کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113

اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں  امام ابوجعفر محمد بن جریر طَبَری علیہ رحمۃ اللہ القَوی  لکھتے ہیں: مِنْ خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِيْنَ، وَمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَكُلُّ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِِ اللّٰه عَلَيْك یعنی اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اوّلین و آخِرین کی خبریں دیں اور جو کچھ ہو چکا اور جو ہو گا اس سب کا علم عطا فرمادیا اور یہ سب کچھ آپ پر آپ کے ربّ کا فضل ہے۔(تفسیر طبری،4/275)

(تفسیر طبری اولین تفسیر ہے جس سے ابن کثیر وغیرہ نے نقل کیا ہے)


عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(26) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(27) ترجَمہ: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرّر کر دیتا ہے۔ (پ 29، الجن:26-27)

امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ جو اولین مفسرین میں سے ہیں اس آیت سے خاص قیامت کا علم مراد لیتے ہیں جو خاص غیوب میں سے ہے


وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(24) ترجَمہ:اوریہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30، التکویر:24)

اب سوال یہ ہے کہ جو غیب جانتا ہی نہیں اسکے بارے میں کہنا ہے کہ وہ غیب بتانے میں بخل یعنی کنجوسی نہیں کرتا کا کیا مطلب ہوا؟


اس طرح کی دیگر آیات مبارکہ بھی ہیں جن میں انبیاء کرام علیہم السلام کے علم غیب کا بیان ہے.

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جو علم اللہ نے دیا وہ غیب نہیں ہے لیکن قرآن تو اسے غیب ہی فرما رہا ہے آیات میں.


*نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے علم غیب کے بارے میں احادیث*


امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے درمیان کھڑے تھے تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے ہمیں مخلوق کی پیدائش سے بتانا شروع کیا حتّٰی کہ جنّتی اپنی مَنازِل پر جنّت میں داخل ہوگئے اورجہنمی جہنم میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے۔ جس نے اس بیان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا جو بھول گیا سو بھول گیا۔ (بخاری،ج2،ص375،حدیث:3192)


حضرت سیّدنا عَمرو بن اَخْطَب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:ایک دن نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نمازِ فجر سے غروبِِ آفتاب تک خطبہ ارشاد فرمایا، درمیان میں ظہر و عصر کی نمازوں کے علاوہ کوئی کام نہ کیا۔ حضرت عَمرو بن اَخْطَب فرماتے ہیں: فَاَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ یعنی جو کچھ ہو چکا تھا اور قیامت تک جو کچھ ہونا تھا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہ سب کچھ بیان فرمادیا۔ ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے جسے زیادہ یاد رہا۔(مسلم،ص1184،حدیث:7267)


مدینہ کے منافقوں نے  جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے علمِ پاک پر اعتراض کیا اور کہا کہ”ہم ان کے زمانے میں اِن کے ساتھ رہ کے انہیں دھوکہ دیتے ہیں اور یہ ہمیں نہیں پہچان پاتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قیامت تک کہ سارے لوگوں کی اصلیت کو جانتے ہیں”جب حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم تک یہ بات پہونچی تو کیا ہوا ،حدیث کی زبانی سنئے اور خود فیصلہ لیجئے کہ کیا اس حدیث کے بعد بھی مصطفیٰ جانِ رحمت کے علمِ غیب سے انکار کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے؟؟؟ پوری حدیث حاضر خدمت ہے۔


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور ظہر کی نمازپڑ ھائی۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم منبر پر کھڑ ے ہو گئے اور قیامت کا ذکر فر مایا اوربتا یا کہ  اس سے پہلے بڑے بڑے معاملات ہوں گے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ:جس کو کسی چیزکے بارے میں پوچھنا ہو وہ پوچھ لے۔قسم بخدا،تم مجھ سے جس چیزکے بارے میں پوچھو گے میں اِسی جگہ رہتے ہوئے تمہیں اُس کے بارے میں بتا دوں گا،{صحیح مسلم کے حدیث نمبر :2360/میں یہ لفظ ہے کہ :حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم  نے فر مایا”سلونی عمّ شئتم “مجھ سے جو چا ہو پو چھو}تو لوگ رونے لگے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم بار بار فر ماتے رہےکہ”مجھ سے پوچھو”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پو چھا کہ:یا رسول اللہ!میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ:تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔پھر حضرت عبد اللہ بن حذافہ کھڑے ہوئے اور پوچھے کہ:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم!میرے باپ کون ہیں؟(انکے باپ کے بارے شک اور طعن کیا جاتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ:تمہارے باپ حذافہ ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فر ماتے ہیں کہ :پھر حضور بار بار فر مانے لگے کہ:مجھ سے پو چھو،مجھ سے پو چھو۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے اور عر ض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم!ہم اللہ کے رب،اسلام کے دین اور محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے رسول ہونے سے راضی اور خوش ہیں۔تب حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم خاموش ہوئے۔

(صحیح بخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب ما یکرہ من کثرۃ السوال،حدیث:7294۔صحیح مسلم،حدیث:2359)


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ:رسول اللہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے مجھے قیامت تک ہونے والی تمام باتیں بتادی۔اور کوئی ایسی بات نہ رہی جس کے بارے میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے نہ پوچھا ہو،البتہ میں نے یہ نہ پوچھا کہ مدینہ میں رہنے والوں کو ،کون سی چیزمدینہ سے نکال دے گی۔

(صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب اخبار النبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم فیما یکون الی قیام الساعۃ،حدیث:2891) 


یہ سب کوئی شرعی مسائل تو نہیں جو نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام سے پوچھے جا رہے ہیں بلکہ غیب کی خبریں ہیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے علم غیب کے بارے میں کیا تھا؟ کیا وہ موجودہ خوارج کی طرح اسے شرک سممجتے تھے؟


عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے ہم میں آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون جا کر ملے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو گا۔ اب ہم نے لکڑی سے ناپنا شروع کر دیا تو سودہ رضی اللہ عنہا سب سے لمبے ہاتھ والی نکلیں۔ ہم نے بعد میں سمجھا کہ لمبے ہاتھ والی ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صدقہ زیادہ کرنے والی سے تھی۔ اور سودہ رضی اللہ عنہا ہم سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملیں ‘ صدقہ کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھا۔

بخاری شریف، حدیث نمبر 1420


اگر ازواج مطہرات کا یہ عقیدہ نہ ہوتا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کو اللہ نے غیب کا علم علطا فرمایا ہے تو ایسا سوال کرنا جو کہ خاص پانچ غیب کی چیزوں میں سے ہے کیا معنی رکھے گا؟


حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی : لقد ترکنارسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وما یحّرک طائر جناحیہ فی السمّاء الّا ذکر لنا منہ علما۔

نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس حال پر چھوڑا کہ ہوا میں کوئی پرندہ پَر مارنے والا ایسا نہیں جس کا علم حضور نے ہمارے سامنے بیان نہ فرمادیا ہو۔

( مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر غفار ی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت 5/153)

(مجمع الزوائد عن ابی الدرداء کتاب علامات النبوۃ باب فیما اوقی من العلم، الخ دارالکتاب 8 /246)


رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

رایت ربی عزوجل فی أحسن صوره قال فیم یختصم الملاء الاعلی قلت أنت أعلم قال فوضع کفه بین کتفی فوجدت بردها بین ثدیی فعلمت ما فی السموات والارض وتلا وکذلک نری ابراهیم ملکوت السموات والارض ولیکون من الموقنین.

 ترمذی، السنن، کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورۃ ص، 5 / 342، الرقم : 3233

’’میں نے اپنے عزت و جلال والے رب کو بہترین صورت میں دیکھا۔ اﷲتعالیٰ نے فرمایا عالم بالا کے فرشتے کسی بات میں جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی تو بہتر جانتا ہے پھر اس نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا پر میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ پھر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی، ’’ہم یونہی دکھاتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت کہ وہ یقین والوں میں سے رہیں۔ ‘‘

دوسری روایت میں ہے

فتجلّی لی کلَ شیئیٍ وعرفتُ

ترمذی، کتاب التفسیر القرآن، باب سورۃ، ص، الرقم : 3235

’’سو میرے لئے ہر شے روشن ہو گئی اور میں نے ہر چیز پہچان لی۔ ‘‘


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فر مایا کہ:کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں صرف اپنے سامنے دیکھتا ہوں؟قسم بخدا،مجھ پر تمہارے رکوع وسجود کی ظاہری حالت مجھ پر پو شیدہ رہتی ہے اور نہ ہی باطنی خشوع وخضوع،بے شک میں اپنے پیچھے سے تمہیں ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے سامنے سے۔

(بخاری،کتاب الاذان،باب الخشوع فی الصلاۃ،حدیث:741۔742۔مسلم،کتاب الصلاۃ،باب الامر بتحسین الصلاۃ واتمامھا والخشوع فیھا،حدیث:423۔424۔425)


طبرانی معجم کبیر اور نصیم بن حماد کتاب الفتن اور ابونعیم حلیہ میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

ان اﷲ قدرفع لی الدنیا فانا انظر الیہا والٰی ما ھوکائن فیہا الٰی یوم القیامۃ کانمّا انظر الٰی کفی ھذہ جلیان من اﷲ جلاّہ لنبیّہ کما جلّاہ لنبیّن من قبلہ. 

بے شک میرے سامنے اﷲ عزوجل نے دنیا اٹھالی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ، اس روشنی کے سبب جو اﷲ تعالٰی نے اپنے نبی کے لیے روشن فرمائی جیسے محمد سے پہلے انبیاء کے لیے روشن کی تھی۔صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔

( حلیۃ الاولیاء ترجمہ 338 حدید بن کریب دارلکتاب العربی بیروت 4 /101)

(کنزالعمال حدیث 31810 و 31971 موسستہ الرسالہ بیروت 11 /378 و 620)


اس طرح کی احادیث کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن یہ چند ایک روایات ہیں جو نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام سے محبت رکھنے والے کے لیے کافی ہیں لیکن حجت باز یا ضدی لوگ تو کبھی نہیں مانتے اور وہ آیات اور احادیث جن میں نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے لیے ذاتی طور پر غیب جاننے کی نفی ہے بیان کر کر کے مسلمانوں کو زبردستی شرک کا الزام دیتے  ہیں. جیسے مسلم شریف میں ایک روایت ہے کہ امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ جو یہ کہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کل کی بات جانتے ہیں اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا... اس روایت میں ذاتی طور پر جاننے کی نفی ہے نہ بالکل نہ جاننے کی ورنہ اوپر بیان کی گئی سب آیات اور احادیث کا انکار لازم آئے گا بلکہ خود امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام سے غیب کی باتیں روایت کرنا کہ کون کب مرے گا اور مستقبل میں کیا ہو گا کہ بہت سی روایات کا کیا بنے گا جبکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام جانتے ہی نہ تھے.


ایک اور بات یاد رکھیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کو کچھ چیزیں کچھ وقت کے لیے بھلا بھی دی جاتی تھیں انکے علم میں ہونے کے باوجود. اس میں مصلحت یہ تھی کہ اس بھول سے بہت سے نئے شرعی مسائل امت کی آسانی کے لیے اللہ پاک کی طرف سے بتا دئیے جاتے تھے جیسے سجدہ سہو، تیمم وغیرہ کے مسائل اور بعض اوقات کسی طرف توجہ نہ ہونا بھی ثابت ہے کہ ظاہر ہے نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام انسان تھے گو کہ سب انسانوں کے سردار لیکن خدا تو نہیں تھے جسے نیند یا اونگھ نہیں آتی یا بھول نہیں سکتا..

لیکن قرآن مجید اور صحیح احادیث میں آپ علیہ الصلوۃ و السلام کے علم کی جو وسعت ہے وہ واضح ہے جس کا انکار بدبخت ہی کرے گا.

Tuesday, 9 March 2021

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل اور عقیدہ اہلسنت

 


امام بخاری رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں قول لائے ہیں جس میں ایک شخص سیدنا ابن عباس سے آکر کہتا ہے کہ معاویہ ایک وتر پڑھتے ھیں آپ انکے بارے میں کہا کہتے ھیں تو ابن عباس فرماتے ھیں کہ انکو چھوڑدو وہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے صحابی ہیں اور اسی کے بعد دوسری روایت میں کہا کہ انکو چھوڑدو وہ فقیہ ہے۔

۔ (صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی​ حدیث نمبر 3764، 3765)

یعنی انکے بارے میں اس طرح کے سوالات نہ کرو انکو نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی صحبت کاشرف بھی حاصل ہے اور وہ خود بھی فقیہ ہے لہذا ان پر اعتراضات کرنا چھوڑدو وہ سنت کی مخالفت نہیں کرینگے۔

اس روایت کو لاکر امام بخاری نے قیامت تک آنے والے رافضیوں کے منہ بند کر دیے اور اھل بیت رضی اللہ عنہم کا عقیدہ بیان کردیا 

بخاری شریف کے سب سے مستند شارح ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ  فرماتے ھیں کہ:

تَنْبِيهٌ عَبَّرَ الْبُخَارِيُّ فِي هَذِهِ التَّرْجَمَةِ بِقَوْلِهِ ذِكْرُ وَلَمْ يَقُلْ فَضِيلَة وَلَا منقبة لكَون الْفَضِيلَة لاتؤخذ من حَدِيث الْبَاب لَان ظَاهر شَهَادَة بن عَبَّاسٍ لَهُ بِالْفِقْهِ وَالصُّحْبَةِ دَالَّةٌ عَلَى الْفَضْلِ الْكثير (فتح الباری 7-104 )

تنبیہ امام بخاری نے یہاں باب مٰن لفظ منقبۃ اور فضل کی جگہ ذکر کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ فضیلت حدیث باب سے نہیں لی جاتی اور کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنی کی سیدنا معاویہ کے بارے میں فقیہ اور صحابی ہونے کی گواہی بہت بڑی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔

نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَكِنْ بدقيق نظره استنبط مَا يدْفع بِهِ رُؤُوس الرَّوَافِضِ (فتح الباری 7-104)

لیکن امام بخاری نے اپنی دقت نظری سے ایسا استنباط کیا ہے جس روافض کے سر دور ہوجاتے ہے۔

پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : أول جيش من أمتي يغزون البحر، قد أوجبوا ۔

ترجمہ : میری امت میں سے پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا انہوں نے (مغفرت و جنت کو) واجب کر لیا ۔ (صحيح البخاري : 410/1، ح : 2924 )

شارحِ صحیح بخاری حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ (852-773ھ) فرماتے ہیں : وقوله : قد أوجبوا، أى فعلوا فعلا، وجبت لهم به الجنة ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے فرمان کہ انہوں نے واجب کر لیا ، کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے وہ کارِ خیر سرانجام دیا ، جس کی بنا پر ان کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ (فتح الباري : 103/6)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنة ملحان، فاتكأ عندها، ثم ضحك، فقالت : لم تضحك يا رسول الله؟ فقال : ناس من أمتي يركبون البحر الـأخضر فى سبيل الله، مثلهم مثل الملوك على الـأسرة ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ایک دن (سیدہ ام حرام ) بنت ِ ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہاں ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ، (اسی حالت میں سو گئے) پھر آپ (بیدار ہوئے اور) مسکرائے ۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کیوں مسکرائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : میری امت میں کچھ لوگ جہاد کے لیے سبز سمندر میں سفر کریں گے ۔ وہ تختوں پر براجمان بادشاہوں کی طرح ہوں گے ۔ )صحيح البخاري : 403/1، ح : 2877، 2878)(صحيح مسلم : 142-141/2، ح : 1912)

صحیح مسلم میں ہے کہ اس سمندری جہاد کی سعادت و قیادت اور فضیلت بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی ۔ اس بات پر امت کا اجماع و اتفاق ہے کہ پہلا لشکر جس نے بحری جہاد کیا ، اس کے کمانڈر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس حدیث سے آپ رضی اللہ عنہ کی منقبت و فضیلت کو چار چاند لگ گئے ہیں ۔ ثابت ہوا کہ یقیناً آپ رضی اللہ عنہ کو جنت کی سند حاصل ہے ۔

امامِ اندلس علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ (463-368 ھ) فرماتے ہیں : وفيه فضل لمعاوية رحمه الله، إذ جعل من غزا تحت رايته من الـأولين ، ورؤيا الـأنبياء ، صلوات الله عليهم، وحي ۔

ترجمہ : اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے (بوحی الہٰی) ان کی کمان میں جہاد کرنے والوں کو اولین قرار دیا ہے اور انبیائے کرام علیہم السّلام کے خواب وحی ہی ہوتے ہیں ۔ (التمهيد لما فى المؤطإ من المعاني والأسانيد : 235/1 )

 امام بخاری رحمہ اللہ نے جب اپنی شہرہ آفاق کتاب التاریخ الکبیر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ فرمایا تو سب سے پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا وہ قول پیش کیا جس میں وہ فرمارہے ہیں کہ میں نے معاویہ سے زیادہ کسی کو حکومت کے لئے مناسب نہیں دیکھا۔

پھر وہ حدیث ذکر کی جس میں ہے کہ نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا اللهمَّ عَلِّم مُعاوِيَةَ الحِسابَ، وقِهِ العَذابَ

اے اللہ معاویہ کو حساب سکھا اور عذاب سے بچا۔

پھر نبی علیہ الصلوۃ و السلام کی وہ حدیث ذکر کی جس میں ہے کہ نبی علیہ السلام نے سیدنا معاویہ کے بارے میں فرمایا اللهمَّ اجعَلهُ هادِيًا مَهدِيًّا، واهدِهِ، واهدِ بِهِ کہ اے اللہ اسکو رہنما بنا اور ھدایت یافتہ بنا اور اسکو ھدایت دے اور اسکے ذریعہ لوگوں کو ھدایت دے۔

پھر یہ حدیث ذکر فرمائی لاَ تَزالُ طائِفَةٌ مِن أُمَّتِي قائِمَةً عَلى أَمرِ اللهِ، أَو عَلى الحَقِّ، لاَ يَضُرُّهُم مَن خالَفَهُم، ولاَ يَنقُصُهُم مَن خَذَلَهُم، حَتَّى يَأتِيَ أَمرُ اللهِ، أَو حَتَّى تَقُومَ السّاعَةُ جسکو سیدنا معاویہ نبی کریم علیہ السلام سے روایت کرہے ہیں۔

پھر سیدنا عمیر بن سعید رضی اللہ عنہ کا قول ذکر فرمایا کہ لاَ تَذكُرُوا مُعاوِيَةَ إِلاَّ بِخَيرٍ، فَإِنِّي سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم يقولُ: اللهمَّ اهدِهِ کہ معاویہ کا ذکر صرف بھلائے کے ساتھ ہی کیا کرو کیونکہ میں نبی کریم علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے اللہ معاویہ کو ھدایت دے۔

پھر یہ حدیث ذکر فرمائی لاَ تَركَبُوا الخَزَّ، ولاَ النِّمارَ اسکو بھی سیدنا معاویہ نبی علیہ السلام سے روایت کرہے ھیں۔

اور امام ابن سیرین کا قول نقل فرمایا کہ كَانَ مُعاوِيَةُ لاَ يُتَّهَمُ فِى الحَدِيثِ عَن رَسُولِ اللهِ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم معاویہ نبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے حدیث بیان کرنے میں متھم نہیں ہیں (التاریخ الکبیر ت: 1405)

حضرت امام  قاضی علی بن محمد بن ابی العز الدمشقی فرماتے ہیں 

وأول ملوك المسلمين معاوية وهو خير ملوك المسلمين

حضرت امیر معاویہ پہلے مسلمان بادشاہ تھے اور مسلمان بادشاہوں میں سب سے بہترین بادشاہ تھے۔ شرح العقیدہ الطحاویہ صفحہ 722

یہ اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے جو حضرت امام طحاوی نے لکھا ہے پھر یہ بھی کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ کو خلافت سپرد کی اور بیعت بھی کی اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ ظالم بادشاہ ہوتے تو امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ بیعت نہ کرتے اور نہ ہی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تحفے قبول کرتے اگر رافضی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ظالم بادشاہ کہے گا تو وہ حسنین کریمین کے تعلق سے کیا کہے گا کہ انہوں نے بیعت کی تحفہ قبول کیے اور انکی سرپرستی میں جہاد میں شریک ہوئے اور دونوں خاندانوں میں رشتہ داریاں بھی ہوئیں

حضرت علامہ بدرالدین عینی اور حضرت  علامہ علی قاری حنفی رحمہ اللہ کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں موقف۔

علامہ بدرالدین حنفی رحمہ اللہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ۔

والجواب الصحيح في هذا أنهم كانوا مجتهدين ظانين أنهم يدعونه إلى الجنة، وإن كان في نفس الأمر خلاف ذلك، فلا لوم عليهم في اتباع ظنونهم، فإن قلت: المجتهد إذا أصاب فله أجران، وإذا أخطأ فله أجر، فكيف الأمر ههنا. قلت: الذي قلنا جواب إقناعي فلا يليق أن يذكر في حق الصحابة خلاف ذلك، لأن اللہ تعالى أثنى عليهم وشهد لهم بالفضل، بقوله: {كنتم خير أمة أخرجت للناس} (آل عمران: 011) ، قال المفسرون: هم أصحاب محمد.

عمدۃ القاری۔۔جلد 4 ص۔۔308 تحت حدیث عمار

درست جواب یہ ہے کہ وہ سب صحابہ مجتھد تھے اوریہ گمان کرتے تھے کہ وہ سب جنت کی طرف بلانے والے ہیں. اگرچہ نفس الامرمیں اس سے خلاف ہو۔ ان کے اپنے گمان پر فیصلے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ہے(کیونکہ وہ تو متجھد تھے ۔۔انہوں نے اپنے علم اور سوچ پر عمل کیا)اگر توں یہ اعتراض کرے ۔۔مجتھد جب درست فتوی دے تو دو ثواب جب غلطی کرے تو ایک۔ یہاں کیسے یہ ہو سکتا ہے؟؟؟قلتُ۔میں  کہتا ہوں یہ جواب کافی ہے۔اس پر گزارا کروں صحابہ کے حق میں اس کے خلاف بات ذکر کرنا اچھی بات نہیں۔کیونکہ ان کی تعریفیں تو رب تعالیٰ نے کی ہے اور ان کی فضیلتوں کی گواہی دی ہے۔۔فرمایا:۔۔تم لوگوں میں نکلنے والی بہترین امت ہو۔مفسرین فرماتے کنتم سے مراد آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے صحابہ ہیں۔

(اتهموا رأيكم) ، قال ذلك يوم صفين، وكان مع علي، رضي الله تعالى عنه، يعني: اتهموا رأيكم في هذا القتال، يعظ الفريقين، لأن كل فريق منهما يقاتل على رأي يراه واجتهاد يجتهده

عمدۃ القاری۔۔جلد 15 ص 130۔

سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جب صفین میں نہ گئے لوگوں نے اعتراض کیا تو فرمایا:۔اس جنگ کے معاملے میں  اپنی رائے اپنے پاس رکھو۔ یہ صفین کے دن فرمایا اور آپ مولا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔اور واپس آگئے۔(عینی فرماتے ہیں) آپ نے دونوں فریقین کو نصیحت کی اس لیے کہ دونوں فریق اپنی اپنی رائے کے مطابق اور اپنے اجتھاد کے مطابق عمل کر رہے تھے

 حضرت ملاعلی قاری حنفی مکی رحمہ اللہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

ولعل المراد بهذه الفتنة الحرب التي وقعت بين أمير المؤمنين علي - رضي الله عنه - وبين معاوية - رضي الله عنه

  ولا شك أن من ذكر أحدا من هذين الصدرين وأصحابهما يكون مبتدعا ; لأن أكثرهم كانوا أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - اهـ.

وقد قال - صلى الله عليه وسلم: " «إذا ذكر أصحابي فأمسكوا» " أي: عن الطعن فيهم، فإن رضا الله تعالى في مواضع من القرآن تعلق بهم، ا بد أن يكون مآلهم إلى التقوى ورضا المولى وجنة المأوى، وأيضا لهم حقوق ثابتة في ذمة الأمة، فلا ينبغي لهم أن يذكروهم إلا

بالثناء الجميل والدعاء الجزيل، الخ

شاید اس فتنے سے مراد وہ جنگ تھی امیر المومنین مولا علی اورا میر معاویہ رضی اللہ عنھما کے درمیان واقع ہوئی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ جو ان دونوں گروہوں کے سرداروں اور ساتھیوں کے بارے منفی بات کرے گا وہ بدعتی (بدمذہب ) ہے کیونکہ ان دونوں گروہوں کے اکثر لوگ آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے صحابہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا فرمان ہے:جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ  (منہ بند رکھو)۔۔یعنی ان پرر طعم کرنے سے رک جاؤ کیونکہ قرآن کریم میں ان اصحاب کے لیے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہے تو ضروری طور پر ان کا انجام تقوی،رب تعالیٰ کی رضااور جنت ماؤی ہے۔۔اور اس کے ساتھ امت پر بھی ان کے حقوق ثابت ہیں۔۔تو جائز نہیں کسی کے لیے کہ ان کا ذکر کرے مگر فضائل ،تعریفات اور دعاؤں کے ساتھ۔

اس ساتھ تقریبا دو صفحات اور پچاس سے زائد سطروں میں اپنا عقیدہ بیان کیا۔طوالت کی وجہ سے خلاصہ درج کیا ہے . 

دونون گروہ مجتھد تھے، حق مولا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اورامیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجتھادی خطا ہوئی۔

کوئی عالم ،ولی حتی کہ عمر بن عبدالعزیز بھی سیدنا امیر معاویہ کے برابر نہیں ہوسکتے ۔

جو ان پر شتم کے ذریعے یا غیبت کے ساتھ زبان چلائے یا جو  ان کو مارنے کا قصد کرنے ۔اس کے اور ان کافرون کے کاموں میں کوئی فرق نہیں جنھوں نے صحابہ سے جنگ کی۔

ان پر طعن سے زبان کو روکا جائے گا ۔۔کیونکہ دونوں مجتھد تھے۔مسلمانوں کے لیے نفع مند یہی ہے کہ وہ ان کے معاملے میں نہ پڑے۔

عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں۔اللہ نے ان کے خون سے ہمارے ہاتھ بچائے ہیں تو۔ہم اپنی زبانوں کو ان معاملات کے ذکر سے پاک رکھے گے

قال نووی:بعض حق پر تھے۔بعض خطا پر۔۔اور وہ خطا میں معذور تھے۔کیونکہ سب اجتھاد کی وجہ سے تھا۔۔مجتھد ہی خطا پر اسے گناہ نہیں ملتا۔۔الخ۔

مرقاۃ  جلد 10 ص 31۔۔۔۔حدیث5401

عَن زفر  أن الإمام سُئل عَن عَلي وَمَعاوية وَقتلى صفين، فقال: ((إذاقدمت عَلى الله يَسألني عَما كلفني وَلاَ يَسألني عَن أمورهم)).

وروي أنه قالَ: ((تلكَ دماء طهّرَ اللهُ مِنْها سناتنا (1) أفلاَ نطهر مِنها لسَاننا؟!)) (2) وَفي روَاية قرأ تلك الآية (3).

 شَمُّ العَوارِضِ في ذمِّ الرُّوَافِضِ ص66

امام زفر سے مروی ہےکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے مولا علی،امیر معاویہ اور شہدا صفین کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا: جب میں اللہ کی بارگاہ میں جاؤ گا تو اللہ مجھ سے ان امور کے متعلق پوچھے گا۔جن کا میں مکلف ہوں. وہ مجھ سے صحابہ کے معاملات کے بارے میں سوال نہ کرے گا

اور فرمایا کہ ان کے خون سے اللہ نے ہمارے نیزے محفوظ رکھے تو کیوں نہ ہم ان کے خون سے اپنی زبانوں کو پاک رکھے

فلایدل علی عدم صحۃ خلافتہ ولا علی تضلیل مخالفیہ فی ولایتہ اذ لم یکن ذلک عن نزاع فی حقیۃ امارتہ بل کان عن خطا فی اجتھادھم حیث انکروا علیہ ترک القود من قتلۃ عثمان رضی اللہ عنہ ۔والمخطی فی الاجتھاد لا یضل ولا یفسق علی ماعلیہ الاعتماد

شرح فقہ الاکبر ص114 مکتبہ المدینہ

پس یہ (فتنہ قتل عثمان )مولا علی کی خلافت کے درست نہ ہونے پر بھی دلالت نہیں کرتا ۔۔اور۔۔نہ ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کے مخالف گمراہی پر تھے۔۔۔کیونکہ یہ معاملہ حکومت کی طلب کے لیے نہیں تھا۔۔یہ ان کی اجتھادی خطا تھی جو انہوں نے قتل عثمان کا قصاص نہ لینے پر حضرت علی کی خلافت کا انکار کیا۔۔۔۔۔اوراجتھاد میں خطا کرنے والے پر معتمد قول کے مطابق گمراہیت اور فسق کا حکم نہیں لگتا. 

حضرت امام نسائی  فرماتے ہیں

سئل أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ النَّسَائي عَنْ معاوية بْن أَبي سفيان صاحب رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ: إنما الإسلام كدار لها باب، فباب الإسلام الصحابة، فمن آذى الصحابة إنما أراد الإسلام، كمن نقر الباب إنما يريد دخول الدار، قال: فمن أراد معاوية فإنما أراد الصحابة

‘ اسلام کی مثال گھر کی ہے جس کا دروازہ ہے ,صحابہ کرام اسلام کا دروازہ ہیں جو کوئی صحابہ کو ایذا پہنچاتا ہے اس کا ارادہ اسلام کو ہدف بنانے کا ہے جیسے کوئی گھر کا دراوازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ گھر میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اسی طرح جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرتا ہے وہ صحابہ کرام پر اعتراض کا ارادہ رکھتا ہے

تہذیب الکمال فی اسماء الرجال جلد 1 صفحہ339،340

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی عبارت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے فرماتے ہیں

‘حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق فقیر کی جانب سے کوئی سست باتیں نہیں ہوئیں ہیں ،اگر تحفہ اثنا عشریہ میں ملتی ہیں تو وہ کسی نے مکر وفریب سے فتنہ انگیزی کے لئے یہ کام کیا ہوگا کیونکہ زامنہ قدیم سے رافضیوں کا یہ ہی طریقہ کار ہے جیسا کے بندہ نے بھی سنا ہے کہ الحاق شروع ہوچکا ہے اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور یہ اعتراضیہ جملے معتبر نسخوں میں نہیں پائے جاتے"

حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ بھائی بھائی۔یہ بات امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے بتائی

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے رافضی امیج بناتے ہیں کہ معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا دشمن کہتے تھے جبکہ انہیں رافضیوں کے معتبر ترین اماموں میں عبد اللہ بن جعفر حمیری نے  اپنی کتاب قرب الاسناد میں لکھا ہے

‘ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے مد مقابل {حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ} اور ان کے ساتھیوں میں سے کسی کو مشرک یا منافق نہیں کہتے تھے لیکن یو فرمایا کرتے تھے کہ وہ ہمارے بھائی تھے ان سے زیادتی ہوگئی

قرب الاسناد صفحہ 94

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’جاننا چاہئے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنهم ایک شخص تھے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے اور زمرہ صحابہ رضوان اللہ علیہم میں بڑے صاحب فضیلت تھے تم کبھی اُن کے حق میں بد گمانی نہ کرنا اور ان کی بد گوئی میں مبتلا نہ ہونا ورنہ تم حرام کے مرتکب ہوگے’ ۔۔

 ازالۃ الخفاء جلد اول صفحہ 349

حضرت شاہ ولی اﷲ رحمتہ اﷲ علیہ نے لکھا ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو ہدایت یافتہ اور ذریعہ ہدایت فرمایا اس لئے کہ انہوں نے مسلمانوں کا خلیفہ بننا تھا اور نبی امت پر شفیق ہے ۔ (ازالۃ الخلفاء ‘ ج 1ص 573)

 اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بالجملہ ہم اہلِ حق كے نزدیک حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے جو نسبت ہے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنه کو امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا و مولانا علی المرتضی كرم الله تعالى وجهه الاسنی سے ہے کہ  :

فرق مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار مگر معاویہ بھی ہمارے سردار طعن ان پر بھی کار فجار

جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں عیاذ باﷲ حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کے سبقت و اوّلیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی اور جو حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کی محبت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت و نسبت بارگاہ حضرت رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی ہے یہی روش آداب بحمد ﷲ تعالٰی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے ـ (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 201 قدیم ایڈیشن)،(فتاویٰ رضویہ، جلد10، صفحہ199، مطبوعہ رضا فاؤبڈیشن لاھور)

Monday, 8 March 2021

تقلید آئمہ اربعہ کی شرعی حیثیت

 

شریعت میں کلامِ اللہ کے حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول و فعل کی اتباع کو معیار قرار دیا گیا ہے۔ حلال و حرام، جائز و ناجائز اور اوامر و نواہی کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت لازمی ہے۔

قرآن و سنت میں دوطرح کے احکام ہیں: بعض احکام محکم اور وضح ہیں جن میں اِجمال، اشتباہ، اِبہام یا تعارض نہیں، انھیں پڑھنے والا ہر شخص بغیر کسی اُلجھن کے اُن کا مطلب آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ کی فرضیت، زنا، شراب نوشی، چوری، فساد فی الارض اور قتل وغیرہ کی حرمت ہے۔

اس کے برعکس قرآن و سنت کے بہت سے احکام ایسے بھی ہیں جن میں بادی النظر میں اِبہام پایا جاتا ہے۔ جیسے عبادات اور معاملات وغیرہ کے فروعی مسائل۔ قرآن و سنت سے ان احکام کے مستنبط اور اخذ کرنے کی دو صورتیں ہیں:

ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنی فہم و بصیرت پر اعتماد کر کے اس قسم کے معاملات میں خود کوئی فیصلہ کر لیں اور اس پر عمل کریں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں از خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے قرونِ اولیٰ کے جلیل القدر اسلاف کی فہم و بصیرت پر اعتماد کریں اور انہوں نے جو کچھ سمجھا ہے اس کے مطابق عمل کریں۔

چونکہ عام مسلمان قرآن و حدیث سے احکامِ شرع کے قواعد و ضوابط کو سمجھ کر مسائل اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے جمہور اہلِ سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ شرعی احکام و مسائل کے حل کے لیے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ یا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ یا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ یا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے۔ کیونکہ مذکورہ آئمہ اپنے تقویٰ، زہد و ورع، ثقاہت و دیانت، علم و فکر اور کردار کے حوالوں سے اعلیٰ ترین مقام و مرتبہ کی حامل قرون اولیٰ کی ہستیاں ہیں۔ انہوں نے امت کی سہولت کی خاطر نہایت جانفشانی اور دیانت و لیاقت سے مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کیا۔ شریعت اسلامی کے ایسے اصول و قواعد و ضع کئے جس سے عام مسلمانوں کو دین فہمی اور شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے میں سہولت ہوئی۔ صدیوں سے علماء کرام ان کے اقوال پر فتوی دیتے آئے ہیں۔

تقلید قرآن و حدیث کے احکام اور اجماع امت سے ثابت ہے چنانچہ اللہ مجدہ کا ارشاد گرامی ہے کہ:

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ"۔ (النساء:59)

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ اور رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) کی اطاعت کرو اور تم میں جوصاحب امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے بعد "أُولِي الْأَمْرِ" کی اتباع کا حکم فرمایا گیا ہے "أُولِي الْأَمْرِ" سے کون لوگ مراد ہیں؛ اگرچہ اس میں علما کی رائیں مختلف ہیں؛ لیکن اکثرمفسرین اس سے فقہا اور علما مراد لیتے ہیں، حاکم نے حضرت عبد اللہ ابن جابر کا قول نقل کیا ہے:

"أُولِي الْأَمْرِ، قال الفقہ والخیر"۔ (مستدرک:1/123)

ترجمہ: "أُولِي الْأَمْرِ" سے مراد اصحابِ فقہ وخیر ہیں۔

 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بھی یہی تفسیر نقل کی گئی ہے:

"أُولِي الْأَمْرِ، یعنی اهل الفقه والدین"۔ (مستدرک:1/123)

ترجمہ: "أُولِي الْأَمْرِ" سے اصحاب فقہ اور اہلِ دین مراد ہیں۔

فَإِن تَنٰزَعتُم فى شَيءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا {4:59}

پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو لوٹاؤ طرف اللہ کے اور رسول کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام۔

مفسر امام ابو بکر جصاص رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ:

"اولو الامر" کی اطاعت دینے کے فورا بعد الله تعالٰیٰ کا یہ فرمانا کہ "پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو لوٹاؤ اللہ اور رسول کی طرف" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اولو الامر سے مراد "علما و فقہا" ہیں، کیونکہ الله تعالٰیٰ نے لوگوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا (یعنی جس بات پر ان کا اتفاق و اجماع جو وہ بھی قرآن و سنّت کی بعد قطعی دلیل و حکم ہے)، "پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں" فرماکر اولو الامر (علما) کو حکم دیا جس معاملہ میں ان کے درمیاں اختلاف ہو اسے الله کی کتاب اور نبی کی سنّت کی طرف لوتادو، یہ حکم "علما و فقہا" ہی کو ہو سکتا ہے، کتونکہ عوام الناس اور غیر عالم کا یہ مقام نہیں ہے، اس لیے کہ وہ اس بات س واقف نہیں ہوتے کہ کتاب الله و سنّت کی طرف کسی معاملہ کو لوٹانے کا کیا طریقہ ہے اور نہ انھیں نت نئے مسائل (کا حل قرآن و سنّت سے اجتہاد کرتے) مستنبط کرنے کے دلائل کے طریقوں کا علم ہوتا ہے، لہذا ثابت ہو گیا کہ یہ خطاب علما و فقہا کو ہے۔ [ احکام القرآن : 2/257]

کسی ناواقف عامی (غیر عالم شخص) کا کسی متعین شخص کے علم و کمال پر بھروسا کر کے اسی کے بتائے ہوئے طریقہ کار پر عمل کرنے کو تقلید شخصی کہتے ہیں۔

مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) نے حضرت معاذ ابنِ جبل کو یمن کا حاکم بناکر بھیجا؛ تاکہ وہ لوگوں کو دین کے مسائل بتائیں اور فیصلہ کریں:

"عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ كَيْفَ تَقْضِي فَقَالَ أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو، فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، وَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ "

[سنن ابوداؤد:جلد سوم: فیصلوں کا بیان :قضاء میں اپنی رائے سے اجتہاد کرنے کا بیان; (جامع ترمذی، كِتَاب الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْقَاضِي كَيْفَ يَقْضِي،حدیث نمبر:1249، شاملہ، موقع الإسلام]

ترجمہ: جب حضور اکرم نے حضرت معاذ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا فرمایا تم کس طرح فیصلہ کرو گے جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو جائے انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا آپ نے فرمایا اگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سنت رسول میں بھی نہ پاؤ تو اور کتاب اللہ میں بھی نہ پاؤ تو انہوں نے کہا کہ اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینہ کو تھپتھپایا اور فرمایا کہ اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے اللہ کے رسول کے رسول (معاذ) کو اس چیز کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں۔

پس گویا اہلِ یمن کو حضرتِ معاذ رضی اللہ عنہ کی شخصی تقلید کا حکم دیا گیا۔

عن هُزَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ، قَالَ : " سُئِلَ أَبُو مُوسَى، عَنْ بِنْتٍ، وَابْنَةِ ابْنٍ، وَأُخْتٍ، فَقَالَ : لِلْبِنْتِ النِّصْفُ، وَلِلْأُخْتِ النَّصْفُ "، وَأَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعْنِي، فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ " أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلْابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ ابْنٍ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ " . فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى، فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ : لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ .

[صحيح البخاري » كِتَاب الْفَرَائِضِ » بَاب مِيرَاثِ ابْنَةِ الِابْنِ مَعَ بِنْتٍ، رقم الحديث: 6269]

ترجمہ: حضرت هذيل بن شرحبيل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا پھر وہی مسئلہ حضرت ابن_مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا گیا اور حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ کے فتویٰ کی بھی ان کو خبر دی گئی تو انہوں نے اور طور سے فتویٰ دیا، پھر ان کے فتویٰ کی خبر حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ کو دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک یہ عالم متبحر تم لوگوں میں موجود ہیں تم مجھ سے مت پوچھا کرو۔- روایت کیا اس کو بخاری، ابو داود اور ترمذی نے

فائدہ: حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ کے اس فرمانے سے کہ ان کے ہوتے ہوئے مجھ سے مت پوچھو، ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ہر مسئلہ میں ان سے پوچھنے کے لیے فرمایا ہے اور یہی تقلید_شخصی ہے کہ ہر مسئلہ میں کسی مرجح کی وجہ سے کسی ایک عالم سے رجوع کر کے عمل کرے

اسی طرح تقلید شخصی کو لازم کرنے کی ایک واضح نظیر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن کا واقعہ ہے، جب انہوں نے قرآنِ حکیم کا ایک رسم الخط متعین کر دیا تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے پہلے قرآنِ حکیم کو کسی بھی رسم الخط کے مطابق لکھا جا سکتا تھا کیونکہ مختلف نسخوں میں سورتوں کی ترتیب بھی مختلف تھی اور اس ترتیب کے مطابق قرآنِ حکیم لکھنا جائز تھا۔ لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے امت کی اجتماعی مصلحت کے پیشِ نظر اس اجازت کو ختم فرما کر قرآن کریم کے ایک رسم الخط اور ایک ترتِیب کو متعین کر کے امت کو اس پر متفق و متحد کر دیا اور امت میں اسی کی اتباع پر اجماع ہوگیا۔

بخاری، الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن، 4: 1908، رقم: 4702

کسی امام یا مجتہد کی تقلید کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اُسے بذاتِ خود واجب الاطاعت سمجھ کر اتباع کی جا رہی ہے یا اُسے شارع (شریعت بنانے والا، قانون ساز) کا درجہ دے کر اس کی ہر بات کو واجب الاتباع سمجھا جا رہا ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پیروی تو قرآن و سنت کی مقصود ہے لیکن قرآن و سنت کی مراد کو سمجھنے کے لیے بحیثیت ’شارحِ قانون‘ اُن کی بیان کی ہوئی تشریح و تعبیر پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔  اس لیے موجودہ دور کے نام نہاد غیر مقلدین کا یہ کہنا کہ مقلدین اللہ و رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو چھوڑ کر آئمہ اربعہ رحمہم اللہ کی پیروی کرتے ہیں اور پھر دیدہ دلیری سے تقلید کو کفر و شرک تک کہہ دیتے ہیں محض جہالت اور دھوکہ دہی ہے

*کون سی تقلید جائز اور کون سی ناجائز ہے*

علامہ خطیب بغدادی شافعی رحمہ اللہ (392-462ھ) فرماتے ہیں:

احکام کی دو قسمیں ہیں: عقلی اور شرعی۔

عقلی احکام میں تقلید جائز نہیں، جیسے صانع عالم (جہاں کا بنانے-والا) اور اس کی صفات (خوبیوں) کی معرفت (پہچان)، اس طرح رسول الله صلے الله علیہ وسلم اور آپ کے سچے ہونے کی معرفت وغیرہ۔ عبید الله بن حسن عنبری سے منقول ہے کہ وہ اصول_دین میں بھی تقلید کو جائز کہتے ہیں، لیکن یہ غلط ہے اس لیے کہ الله تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ "تمہارے رب کی طرف سے جو وحی آئی اسی پر عمل کرو، اس کے علاوہ دوسرے اولیاء کی اتباع نہ کرو، کس قدر کم تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہو"(7:3).

اسی طرح الله تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ "جب ان سے کہا جاتا ہے کہ الله کی اتاری ہوئی کتاب کی اتباع کرو تو وہ لوگ کہتے ہیں یا نہیں، ہم اس چیز کی اتباع کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادہ کو پایا، چاہے ان کے باپ دادا بے عقل اور بے ہدایت ہوں"(2:170)

اسی طرح الله تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ"ٹھہرالیا اپنے عالموں اور درویشوں کو خدا (یعنی الله کے واضح احکام_حلال و حرام کے خلاف ان کو حاکم - حکم دینے والا), اللہ کو چھوڑ کر۔.."(9:31)

دوسری قسم: احکام_شرعیہ اور ان کی دو قسمیں ہیں:

1) دین کے وہ احکام جو وضاحت و صراحت سے معلوم ہوں، جیسے نماز، روزہ، حج، زكوة اسی طرح زنا و شراب کا حرام ہونا وغیرہ تو ان میں تقلید جائز نہیں ہے کیونکہ ان کے جاننے میں سارے لوگ برابر ہیں، اس لیے ان میں تقلید کا کوئی معنی نہیں۔

2) دین کے وہ احکام جن کو نظر و استدلال کے بغیر نہیں جانا جاسکتا، جیسے: عبادات، معاملات، نکاح وغیرہ کے "فروعی" مسائل، تو ان میں تقلید کرنی ہے۔

اللّہ تعالٰیٰ کے قول "پس تم سوال کرو اہل_علم (علما) سے، اگر تم نہیں علم رکھتے"(16:443، 21:7) کی دلیل سے .

اور وہ لوگ جن کو تقلید کرنی ہے (یہ) وہ حضرات ہیں جن کو احکام_شرعیہ کے استنباط (4:83) کے طریقے معلوم نہیں ہیں، تو اس کے لیے "کسی" عالم کی تقلید اور اس کے قول پر عمل کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ الله تعالٰیٰ کا ارشاد ہے: "پس تم سوال کرو اہل_علم (علما) سے، اگر تم نہیں علم رکھتے"(16:443، 21:7)

حضرت ابن_عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول الله صلے الله علیہ وسلم کے دور میں زخمی ہو گئے، پھر انھیں غسل کی حاجت ہو گئی، "لوگوں" نے انھیں غسل کا حکم دے دیا جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی۔ اس کی اطلاع نبی صلے الله علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: الله ان کو قتل (برباد) کرے کہ ان لوگوں نے اس کو قتل کر دیا۔، ناواقفیت کا علاج (اہل_علم سے ) دریافت کرنا نہ تھا؟...الخ (سنن أبي داود » كِتَاب الطَّهَارَةِ » بَاب فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ، رقم الحديث: 284(336)

دوسری اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ اہل_اجتہاد میں سے نہیں ہے تو اس پر تقلید ہی فرض ہے۔ جیسے نابینا، جس کے پاس ذریعہ_علم نہیں ہے تو قبلے کے سلسلے میں اس کو کسی دیکھنے والے(بینا) کی بات ماننی ہوگی۔

مومن (اسلام کے ماننے والے) باپ دادا کی اتباع: اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی۔ ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے۔..(52:21) الفقيه والمتفقه: 2 /128-133،علامہ خطیب بغدادی شافعی رحمہ اللہ (392-462ھ)، مطبوعہ دار ابن الجوزیہ

*تقلید شخصی پر اجماع امت ہے*

تقلید شخصی کی شرعی حیثیت میں حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

أنَّ الاُمَّةَ قَدْ اجْتَمَعَتْ عَلَی اَنْ يَعْتَمِدُوْا عَلَی السَلَفِ فِيْ مَعْرَفَةِ الشَرِيْعَةِ، فَالتَّابِعُوْنَ اعْتَمَدُوْا فِيْ ذَلِکَ عَلَی الصَحَابَةِ، وَ تَبْعُ التَابِعِيْنَ اعْتَمَدُوْا عَلَی التَّابِعِيْنَ، وَ هَکَذَا فِيْ کُلِّ طَبَقَةٍ إعْتَمَدَ العُلَمَاءُ عَلَی مِنْ قَبْلِهِمْ

’’امت نے اجماع کر لیا ہے کہ شریعت کی معرفت میں سلف صالحین پر اعتماد کیا جائے۔ تابعین نے اس معاملہ میں صحابہ کرام پر اعتماد کیا اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا۔ اسی طرح ہر طبقہ میں علماء نے اپنے پہلے آنے والوں پر اعتماد کیا۔‘‘

شاه ولی اﷲ، عقد الجيد، 1: 31

حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے ائمہ اربعہ رحمہم اللہ(چار فقہ کے اماموں : امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کی اتباع کو سوادِ اعظم کی اتباع قرار دیا ہے: "ولما اندرست المذاهب الحقة إلاهذه الأربعة كان اتباعها اتباعا للسواد الأعظم والخروج عنها خروجا عن السواد الأعظم"(عقدالجید:38)

ترجمہ: جب صرف چار مذاہب (مسالک) کے علاوہ دوسرے تمام مذاہب مٹ گئے تو ان مذاہب اربعہ کی اتباع کرنا سوادِ اعظم کی اتباع ہے اور ان مذاہب سے نکل جانا سوادِ اعظم سے نکل جانا ہے۔

علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ: "انعقد الاجماع علی عدم العمل بالمذاهب"۔(عقد الجید:38)

ترجمہ : ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے علاوہ دوسرے تمام مخالف مذاہب (مسالک) پرعمل نہ کرنے پر اجماع منعقد ہوچکا ہے۔

حافظ الحدیث علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے: "امافی زماننا فقال ائمتنا لایجوز تقلید غیرالائمة الاربع الشافعی ومالک وابی حنیفۃ واحمد بن حنبل"۔

ترجمہ: رہی ہمارے زمانے کی بات تو ہمارے ائمہ رحمہم اللہ حضرات نے فرمایا کہ ائمہ اربعہ کے علاوہ کسی دوسرے کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے، (جو) امام شافعی، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل  رحمہم اللہ ہیں)۔

شارح مسلم شریف علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أما الاجتہاد المطلق فقالوا اختتم بالأئمة الأربعة الخ یعنی اجتہاد مطلق کے متعلق علما فرماتے ہیں کہ ائمہ اربعہ پر ختم ہو گیا حتی کہ ان تمام مقتدر محققین علما نے ان چار اماموں میں سے ایک ہی امام کی تقلید کو امت پر واجب فرمایا ہے اور امام الحرمین نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ (نور الہدایہ: 1/10)

علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وما خالف الأئمة الأربعة فھومخالف للإجماع

یعنی ائمہ اربعہ کے خلاف فیصلہ اجماع کے خلاف فیصلہ ہے۔ (الأشباہ: 131)

امام ابراہیم سرخسی مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

و أما في ما بعد ذلک فلا یجوز تقلید غیر الأئمة الأربع

یعنی دورِ اول کے بعد ائمہ اربعہ کے سوا کسی کی تقلید جائز نہیں۔ (الفتوحات الوہبیہ: 199)

مشہو رمحدث ومفسر قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فإن أھل السنة والجماعة قد افترق بعد القرن الثلثة أو الأربعة علی أربعة المذاھب، ولم یبق في فروع المسائل سوی ھذہ المذھب الأربعة فقد انعقد الإجماع المرکب علی بطلان قول من یخالف کلھم․ یعنی تیسری یا چوتھی صدی کے فروعی مسائل میں اہل سنت والجماعت کے مذاہب رہ گئے، کوئی پانچواں مذہب باقی نہیں رہا، پس گویا اس امر پر اجماع ہو گیا کہ جو قول ان چاروں کے خلاف ہے وہ باطل ہے (تفسیر مظہری:2/64)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی مشہور زمانہ کتاب حجۃ اللہ البالغہ جو کہ غیر مقلد وہابیہ میں بھی بہت مقبول ہے میں فرماتے ہیں 

إلذہ المذاھب الأربعة المدونة المحررة قد اجتمعت الأمة أو من یعتد بھا منھا علی جواز تقلیدھا إلی یومنا ھذا یعنی یہ مذاہب اربعہ جو مدون ومرتب ہو گئے ہیں، پوری امت نے یا امت کے معتمد حضرات نے ان مذاہب اربعہ مشہورہ کی تقلید کے جواز پر اجماع کر لیا ہے۔ (اور یہ اجماع) آج تک باقی ہے۔ (حجة اللہ البالغہ: 1/361)

موجودہ زمانے کے نام نہاد غیر مقلدین تقلید پر اجماع امت کے رد میں بہت الٹی سیدھی چھلانگیں مارتے ہیں لیکن بیچاروں کے عقائد و اعمال کی بنیاد جن دو شخصیات پر کھڑی ہے یعنی علامہ ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب نجدی وہ دونوں بھی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مقلد تھے اور انکی پالن ہار سعودی حکومت بھی مقلد اور حنبلی ہے. یعنی انکے تقلید کے حوالے سے حرام، کفر، شرک، بدعت کے فتوے خود انکا اپنا گھر جلا رہے ہیں اور دوسروں پر خوامخواہ کی بمباری کیے جاتے ہیں.

غیر مقلّدین کو وہابی کیوں کہا جاتا ہے پھر وہابی سے اہلحدیث کیسے بنے ؟

 

محترم قارئینِ کرام : بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہابی تو اللہ تعالیٰ کا نام ہے حالانکہ یا د رہے اللہ تعالیٰ کا نام وہابی نہیں ہے بلکہ وہاب ہے ۔ غیر مقلّدین اہل حدیث کو محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیر وی ہی کے سبب وہابی کہا جا تا ہے لیکن اس نام کو پسند کرتے ہوئے مشہور غیر مقلّدین مولوی محمد حسین بٹالوی نے انگریز گورنمنٹ سے بڑی کوششو ں کے بعد نام جگہ اہل حدیث منظور کرایا ۔

وہابیوں نے انگریز کی منت کر کے فرقہ اہلحدیث نام اگریز سے منظور کرایا

محمد حسین بٹالوی وہابی کی درخواست پر انگریز سرکار نے وہابی سے اہلحدیث نام منظور کیا اور وہابیوں کےلیئے اہلحدیث نام کا اجراء ہوا ۔ (تاریخ اہلحدیث  جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 124)

مشہور غیر مقلد وہابی عبد المجید سوہدروی  لکھتا ہے : وہابی نام سے اہلحدیث نام محمد حسین بٹالوی وہابی  کی  اپیل پر انگریز سرکار نے منظور کیا دفاتر سے وہابی نام منسوخ ہو اور جماعتِ وہابیہ کو اہلحدیث سے موسوم کیا گیا ۔ (سیرۃ ثنائی صفحہ نمبر 452 عبد المجید سوہدروی غیرمقلد)

محقق العصر اہلحدیث وہابی حجرات عبد القادر حصاروی لکھتا ہے : انگریز گورنمنٹ نے وہابی سے اہلحدیث نام منظور کیا ۔ (فتاویٰ حصاریّہ جلد اول صفحہ نمبر 567 محقق العصر اہلحدیث عبد القادر حصاروی)

نواب صدیق حسن خان غیر مقلد وہابی لکھتا ہے : انگریز سرکار نے مہربانی فرمائی وہابی سے اہلحدیث نام جماعت کا منظور کیا ۔ (مآثر صدیقی حصّہ اول صفحہ نمبر 162 نواب صدیق حسن خان غیر مقلد)

مشہور غیر مقلد شیخ الحدیث وہابیہ اسماعیل سلفی لکھتا ہے : جماعت نے اپنا مقصد اسی دن کھو دیا تھا جِس دن سرکار انگلشیہ (انگریز) سے نیا نام اہلحدیث لیا اور تصدیق کرادی تھی ۔ (نگارشات جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 382)

وہابی نام  سے اہلحدیث نام محمد حسین بٹالوی کی کوششوں سے انگریز سرکار نے منظور کیا اور یوں دفاتر میں وہابی کی جگہ اہلحدیث لکھا جانے لگا ۔ (سیرۃ ثنائی صفحہ 452 ثناء اللہ امرتسری غیر مقلد وہابی)

ثناء اللہ امرتسری وہابی لکھتا ہے : وہابیوں نے وہابی نام انگریز کو درخواست دے کر لکھا چھٹی گورنر ہند  انگریز سرکار  تین (3) دسمبر  1879 چھٹی نمبر  1758 )۔(رسائل ثنائیہ صفحہ نمبر 102  مکتبہ محمدیہ اردو بازار لاہور)

وہابی فرقہ محمد بن عبد الوہاب نجدی کی طرف منسوب ہے اور آل سعود نے ابن وہاب نجدی اور عیسائیوں کے ساتھ مل کر حرمین پر قبضہ کیا ، اور آل سعود نے ابن وہاب نجدی کی وہابی تعلیمات کو پھیلایا 1760 میں پہلے مسیحی مین (یعنی عیسائی) حاکم ہوا اس کے بعد عبد العزیز بن سعود حاکم ہوا ۔ (ترجمان وہابیہ صفحہ 57 ، 58 نواب صدیق حسن خان غیر مقلد وہابی) پہچانیئے انہیں ؟؟

شیخ الاسلام دیوبند حسین احمد ٹانڈوی دیوبندی صدر مدرس دارلعلوم دیوبند اپنی کتاب الشہاب الثاقب اور نقش حیات میں لکھتا ہے : صاحبو! محمد بن عبدالوہاب نجدی ابتداء تیرھویں صدی بحد عرب سے ظاہر ہوا۔ اور چونکہ خیالات باطلہ اور عقائد فاسدہ رکھتا تھا ، اس لئے اس نے اہلسنت والجماعت میں قتل و قتال کیا، اُن کے قتل کرنے کو ثواب و رحمت شمار کرتا رہا۔سلف صالحین اور اتباع کی شان میں نہایت ہی گستاخی کے الفاظ استعال کئے۔ محمد بن عبدالوہاب کا عقیدہ یہ تھا کہ تمام جملہ اہل عالم و تمام مسلمنان مشرک و کافر ہیں اور ان سے قتل و قتال کرنا جائز بلکہ واجب ہے۔ ابن عبدالوہاب نجدی اور اس کا گروہ زیارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و حضوری آستانہ شریفہ و ملاحظہ روضہ مطہرہ کو بدعت حرام لکھتا ہے۔ بعض ان میں کے سفر و زیارت کو معاذ اللہ زنا کے درجے میں پہنچاتے ہیں۔شان نبوت اور حضرت رسالت میں وہابیہ نہایت گستاخی کے کلمات استعمال کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مماثل ذات سرور کائنات خیال کرتے ہیں ۔

وہابیہ ، تمام مسلمانوں کو ادنی شبہ خیالی سے کافر و مشرک کہتے ہیں اور ان کے اموال و دماء‌کو حلال جانتے ہیں ۔

تبرکات کا ادب وہابیہ کے نزدیک شرک و کفر اور حرام ہے۔ اکابر امت کی شان میں گستاخانہ کلمات استعمال کرنا وہابیہ کا معمول ہے۔ وہابی، مسلمانوں کو ذراذرا سی بات میں مشرک و کافر قرار دیتے ہیں اور ان کے مال و خون کو مباح جانتے ہیں اور جانتے تھے۔ وہابیہ بارگاہ نبوت میں گستاخانہ کلمات استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ (الشہاب الثاقب، صفحہ نمبر ، 42 تا 47، ص 52 ، 54، 63، نقش حیات، ص 120، 122، 123، 126، 432)

علمائے دیوبند کی متفقہ کتاب المھند میں لکھا ہے ۔ ان (وہابیوں) کا عقیدہ ہے کہ بس وہی مسلمان ہے جو ان کے عقیدے پر ہو جو ان کے عقیدے کے خلاف ہے وہ مشرک ہے ۔ اور ان کے عقیدہ کے خلاف اہلسنت تھے اسلئے ان کا قتل مباح قرار دیا ۔

وہابی کی حقیقت

حسین احمد مدنی ٹانڈوی الشہاب الثاقب ص 62،63 پر مزید لکھتا ہے : وہابیہ کسی خاص امام کی تقلید کو شرک فی الرسالۃ جانتے ہیں‌اور ائمہ اربعہ اور ان کے مقلدین کی شان میں الفاظ وہیہ خبیثہ استعمال کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے مسائل میں وہ گروہ اہل سنت والجماعت کے مخالف ہوگئے ہیں، چنانچہ غیر مقلدین ہند اسی طائفہ شنیعہ کے پیرو ہیں۔ وہابیہ نجد عرب اگرچہ بوقت اظہار دعویٰ حنبلی ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ لیکن عمل درآمد ان کا ہرگز جملہ مسائل میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر نہیں ہے ۔

نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کا سایہ نہیں تھا

 

(حدیث1)حضرت سیدنا عبداللہ ابن مبارک اور حافظ جوزی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کرتے ہیں :

لم یکن لرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل ولم لقم مع شمس الا غلب ضوءہ ضوءھا ولا مع السراج الا غلب ضوءہ ضوءہ۔

سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم پاک کا سایہ نہیں تھا نہ سورج کی دھوپ میں نہ چراغ کی روشنی میں، سرکار کا نور سورج اور چراغ کے نور پر غالب رہتا تھا۔ (الخصائص الکبرٰی ج1، صفحہ68 از نفی الظل، علامہ کاظمی زرقانی علی المواہب ج4 صفحہ 220، جمع الوسائل للقاری ج1 صفحہ 176)

(حدیث2) امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنی کتاب نوادر الاصول میں حضرت ذکوان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں : عن ذکوان ان رسول اللہ علیہ وسلم لم یکن یری لہ ظل فی شمس ولا قمر

سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ مبارک نہ سورج کی دھوپ میں نظر آتا تھا نہ چاندنی میں۔ (المواہب اللدنیہ علی الشمائل المحمدیہ صفحہ30 مطبع مصر)

(حدیث3) امام نسفی تفسیر مدارک شریف میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ حدیث نقل فرماتے ہیں:

قال عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ ان اللہ ما اوقطع ظلک علی الارض لئلا یضع انسان قدمہ علی ذالک الظل۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ خدا عزوجل نے آپ کا سایہ زمین پر پڑنے نہیں دیا تاکہ اس پر کسی انسان کا قدم نہ پڑ جائے۔ (مدارک شریف ج2 صفحہ 103)

(حدیث4) حضرت امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خصائص کبرٰی شریف میں ابن سبع سے یہ روایت نقل فرمائی:

قال ابن سبع من خصائصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان ظلہ کان لا یقع علی الارض لانہ کان نورا اذا مشی فی الشمس اولقمر لا ینظرلہ ظل قال بعضھم ویشھدلہ حدیث قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ودعائہ فاجعلنی نورا

ابن سبع نے کہا کہ یہ بھی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے کہ سرکار کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا کیونکہ وہ نور تھے، آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں جب چلتے تھے تو سایہ نظر نہیں آتا تھا۔ بعض ائمہ نے کہا ہے کہ اس واقعہ پر حضور کی وہ حدیث شاہد ہے جس میں حضور کی یہ دعاء منقول ہے کہ پروردگار مجھے نور بنا دے۔ ( خصائص کبرٰی ج1 صفحہ68 )

اس مسئلہ کا ثبوت اسلاف کے اقوال سے

(1) امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: “لم یقع ظلہ علی الارض ولا یری لہ ظل فی شمس ولا قمر قال ابن سبع لانہ کان نورا قال زرین فغلبہ انوارہ۔“حضور کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا اور نہ آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں سایہ نظر آتا تھا، ابن سبع اس کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نور تھے، زریں نے کہا کہ حضور کا نور سب پر غالب تھا۔ (النموذج اللبیب)

(2) وقت کے جلیل القدر امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: “وما ذکر من انہ لاظل لشخصہ فی شمس ولا فی قمر لانہ کان نورا وان الذباب کان لا یقع علی جسدہ ولا ثیابہ۔“ یہ جو ذکر کیا گیا ہے کہ آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے جسم مبارک کا سایہ نہیں پڑتا تھا تو اس کی وجہ یہ ہے حضور نور تھے۔ (شفا شریف لقاضی عیاض ج1، صفحہ 342۔ 343)

(3) امام علامہ احمد قسطلانی ارشاد فرماتے ہیں: “قال لم یکن لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل فی شمس ولا قمر رواہ الترمذی عن ابن ذکوان وقال ابن سبع کان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نورا فکان اذا مشی فی الشمس او القمر لہ ظل۔“ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر کا سایہ نہ آفتاب کی روشنی میں پڑتا تھا نہ ماہتاب کی چاندی میں، ابن سبع اس کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نور تھے، اسی لئے چاندنی اور دھوپ میں چلتے تھے تو جسم پاک کا سایہ نہیں پڑتا تھا۔ (موالب اللدنیہ ج1 صفحہ180 زرقانی ج4 صفحہ220)

(4) امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں : “ومما یوید انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم صار نورا انہ اذا مشی فی الشمس اوالقمر لا یظھر لہ ظل لانہ لا یظھر الا لکشیف وھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قد خلصہ اللہ تعالٰی من سائر الکشافات الجسمانیہ وصیرہ نورا صرفا لا یظھر لہ ظل اصلا۔“ اس بات کی تائید میں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سراپا نور تھے اسی واقعہ کا اظہار کافی ہے کہ حضور پاک کے جسم مبارک کا سایہ نہ دھوپ میں پڑتا تھا، نہ چاندنی میں، اس لئے کہ سایہ کثیف چیز کا ہوتا ہے، اور خدائے پاک نے حضور کو تمام جسمانی کثافتوں سے پاک کرکے انھیں “نور محض“ بنا دیا تھا اس لئے ان کا سایہ نہیں پڑتا تھا۔ (افضل القرٰی صفحہ72)

(5) محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: نبود مرآں حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم را سایہ نہ در آفتاب و نہ در قمر۔ حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ آفتاب کی روشنی میں پڑتا تھا نہ ماہتاب کی چاندنی میں۔ (مدراج النبوۃ ج1، صفحہ21)

(6) امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: “حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سایہ نبود در عالم شہادت سایہ ہر شخص از شخص لطیف تراست چوں لطیف ترازدے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم در عالم نباشد اور اسایہ چہ صورت دارد۔“ حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہیں تھا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم شہادت میں ہر چیز سے اس کا سایہ لطیف ہوتا ہے، اور سرکار کی شان یہ ہے کہ کائنات میں ان سے زیادہ کوئی لطیف چیز ہے ہی نہیں، پھر حضور کا سایہ کیونکر پڑتا۔ (مکتوبات امام ربانی ج3 صفحہ147 مطبوعہ نو لکشور لکھنئو۔)

(7) امام راغب اصفہانی (م450) ارشاد فرماتے ہیں: “روی ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کان اذا مشی لم یکن لہ ظل۔“ مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم چلتے تو آپ کا سایہ نہ ہوتا تھا۔ (المعروف الراغب)

( 8 ) امام العارفین مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں:

چوں فناش از فقر پیرایہ شود

او محمد وار بے سایہ شود

جب فقر کی منزل میں درویش فنا کا لباس پہن لیتا ہے، تو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرح اس کا بھی سایہ زائل ہو جاتا ہے۔ (مثنوی معنوی دفتر پنجم)

(9) امام المحدثین حضرت شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: “از خصوصیاتے کہ آن حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم رادر بدن مبارکش دادہ بودن کہ سایئہ ایشاں برز میں نہ می افتاد۔“ جو خصوصیتیں نبی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بدن مبارک میں عطا کی گئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔

اولیاء اللہ، علماء، شہداء و صالحین رحمہم اللہ کی شفاعت حق ہے اور اسکا منکر گمراہ ہے

 نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی شفاعت کی احادیث اپنی امت کے لیے تو اتنی زیادہ اور مشہور ہیں کہ بچے بچے کو پتا ہیں لیکن کیا... انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ بھی کوئی شفاعت کرے گا؟ احادیث ملاحظہ فرمائیں

’’عبداللہ بن شقیق کا بیان ہے کہ ایلياء کے مقام پر میں ایک گروہ کے ساتھ تھا تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : میری امت کے ایک شخص (عثمان یا اویس قرنی) کی شفاعت کے سبب بنو تمیم کے افراد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی اور ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں میرے علاوہ. راوی کہتے ہیں : پس جب وہ چلے گئے تو میں نے پوچھا : یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا : یہ ابنِ ابی الجدعا ہے۔‘‘

اسے امام ترمذی، ابنِ ماجہ، احمد، دارمی اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

(أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفة القيامة والرقائق، باب : ما جاء في الشفاعة، 4 / 626، الرقم : 2438، وابن ماجة في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1443، الرقم : 4316، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 469. 470، الرقم : 15857، إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح، والدارمي في السنن، 2 / 423، الرقم : 2808، وأبو يعلی في المسند، 12 / 280، الرقم : 6866، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 140، الرقم : 122، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 645، الرقم : 2598.)

......... 

’’حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے پاس شہید کے لئے چھ انعام ہیں : خون بہتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ وہ جنت میں اپنا مقام دیکھ لیتا ہے۔ عذابِ قبر اور قیامت کی گھبراہٹ و خوف سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے سر پر یاقوت سے بنا ہوا عزت وعظمت والا تاج رکھا جاتا ہے جس کے بعض موتی دنیا و ما فيھا سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ 72 حور عِین (جو سیاہ چشم اور موٹی آنکھوں والی ہیں) کو اس کی زوجیت میں دیا جاتا ہے۔ اس کے 70 رشتہ داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔‘‘

اسے امام ابنِ ماجہ، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

(أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : فضائل الجهاد، باب : في فضائل الشهيد، 4 / 187، الرقم : 1663، وابن ماجة في السنن، کتاب : الجهاد، باب : فضل الشهادة في سبيل اﷲ، 2 / 935، الرقم : 2799، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 131، الرقم : 17182، رجاله ثقات، والبيهقي في شعب الإيمان، 4 / 25، الرقم : 4254، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 210، الرقم : 2134، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4 / 175)

...........

’’حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مرسلاً مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عثمان بن عفان دو قبیلوں ربیعہ اور مضر کے برابر لوگوں کی شفاعت کریں گے۔‘‘

اسے امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

( أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفة القيامة والرقائق، باب : ما جاء في الشفاعة، 4 / 627، الرقم : 2439، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 523، الرقم : 866، والآجري في الشريعة : 351)

..........

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرا ایک امتی لوگوں کے ایک گروہ کی شفاعت کرے گا، ان میں سے کوئی کسی قبیلہ کی شفاعت کرے گا، ان میں سے کوئی کسی جماعت کی شفاعت کرے گا اور ان میں سے کوئی ایک شخص کی شفاعت کرے گا یہاں تک کہ وہ سب جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘

(أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : صفة القيامة والرقائق، باب : ما جاء في الشفاعة، 4 / 627، الرقم : 2440، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 20، الرقم : 11148، وفي روايته : قال النبی صلی الله عليه وآله وسلم : قَدْ أُعْطِيَ کُلُّ نَبِيٍّ عَطِيَةً فَکُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَهَا، وَإِنِّي أَخَّرْتُ عَطِيَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي... إلي آخر الحديث، وأبويعلی في المسند، 2 / 293، الرقم : 1014، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 310، الرقم : 31683، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 283، الرقم : 903، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 371، وابن کثير في نهاية البداية والنهاية، 10 / 468.) 

...........

’’حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن تین قسم کے لوگ شفاعت کریں گے : انبیاء پھر علماء پھر شہداء۔‘‘

اسے امام ابنِ ماجہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

 (أخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب : الزهد، باب : ذکر الشفاعة، 2 / 1443، الرقم : 4313، والبيهقی في شعب الإيمان، 2 / 265، الرقم : 1707، والکنانی في مصباح الزجاجة، 4 / 260، الرقم : 1550، والآجری في الشريعة : 350، والخطيب البغدادی في تاريخ بغداد، 11 / 177، الرقم : 5888، والعجلونی في کشف الخفاء، 2 / 539، الرقم : 3259.) 

.........

’’عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں : میں ایک رات ابو بردہ کے پاس تھا کہ ہمارے پاس حضرت حارث بن اقیشث آئے۔ حارث نے اسی رات ہمیں بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے ایک امتی کی شفاعت کے سبب قبیلہ مضر سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور بے شک ایک ایسا امتی بھی ہوگا (جو اپنے گناہوں کے سبب) دوزخ کے لئے اتنا بڑا ہو جائے گا کہ اس کا ایک کونہ محسو س ہو گا۔‘‘

اسے امام ابنِ ماجہ، احمد، ابنِ ابی شیبہ، ابو یعلی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے کہا ہے : یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح الاسناد ہے۔

(أخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب : الزهد، باب : صفة النار، 2 / 1446، الرقم : 4323، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 312، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 313، الرقم : 31702، وأبويعلی في المسند، 3 / 154، الرقم : 1581، والحاکم في المستدرک، 1 / 242، الرقم : 238، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني، 2 / 294، الرقم : 1056.)

.........

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن لوگ صفیں بنائیں گے (ابنِ نمیر نے کہا یعنی کہ اہلِ جنت) تو دوزخیوں میں سے ایک شخص جنتیوں میں سے ایک شخص کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا : اے فلاں! تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے پانی مانگا تھا اور میں نے تجھے پانی پلایا تھا؟ (راوی فرماتے ہیں : ) پس وہ جنتی اس دوزخی کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی دوسرے آدمی کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا : تجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دن تجھے وضو کرایا تھا؟ چنانچہ وہ اس کے لئے شفاعت کرے گا۔ ایک اور آدمی کہے گا : اے فلاں : تجھے یاد ہے کہ ایک دن تو نے مجھے اس اس کام کے لئے بھیجا تھا چنانچہ میں تیری خاطر چلاگیا تھا؟ پس وہ اس کے لئے شفاعت کرے گا۔‘‘

اسے امام ابنِ ماجہ، ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے

(أخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب : الأدب، باب : فضل صدقة الماء، 2 / 1215، الرقم : 3685، وأبو يعلی في المسند، 7 / 78، الرقم : 4006، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 317، الرقم : 6511، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 39، الرقم : 1415، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 382، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 3 / 275.)

........

  فرشتوں، نبیوں، اور شہداء کو اجازت دی جائے گی کہ وہ شفاعت کریں. پس وہ شفاعت کریں گے اور (دوزخیوں) کو نکالیں گے، پھر وہ شفاعت کریں گے اور (دوزخیوں) کو نکالیں گے، پھر وہ شفاعت کریں گے اور (دوزخیوں) کو نکالیں گے۔ عفان نے اس میں اضافہ کیا ہے : وہ شفاعت کریں گے اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا اس کو بھی (دوزخ سے) نکال لیں گے۔‘‘

اسے امام احمد، بزار، طبرانی اور ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : اس حدیث کے اشخاص صحیح حدیث کے اشخاص ہیں۔

(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 43، الرقم : 20440، والبزار في المسند، 9 / 123، الرقم : 3671، والطبراني في المعجم الصغير، 2 / 142، الرقم : 929، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 403، الرقم : 837، وقال الألباني : إسناده حسن أو متحمل للتحسين رجاله کلهم ثقات، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 359، وابن کثير في نهاية البداية والنهاية، 10 / 470.)

.....

’’حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں کی ایک قوم جنہیں دوزخ میں عذاب دیا گیا ہوگا اللہ کی رحمت اور شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے ضرور جنت میں داخل ہو گی۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

(أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 214، الرقم : 10509، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 379.)

..........

’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ایک شخص جو کہ نبی نہیں ہوگا، کی شفاعت کے سبب دو قبیلوں ربیعہ اور مضر یا ان دونوں میں سے ایک کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص نے عرض کیا : یارسول اللہ! کیا ربیعہ مضر کی طرح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں وہی کہتا ہوں جس کا مجھے حکم دیا جاتا ہے۔‘‘

اسے امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : امام احمد کے رجال اور طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح حدیث کے (بلند درجہ) رجال ہیں سوائے عبد الرحمان بن میسرہ کے، وہ ثقہ ہے۔

(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 257، الرقم : 22215، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 143، الرقم : 7638، وأيضاً في مسند الشاميين، 2 / 147، الرقم : 1079، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 381، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4 / 248.)

............

’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے ایک امتی کی شفاعت کے سبب سے قبیلہ مضر کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، ایک شخص اپنے گھر والوں کی شفاعت کرے گا اور کوئی اپنے عمل کے حسبِ حال شفاعت کرے گا۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے کہا ہے : اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں سوائے ابو غالب کے اسے کئی محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے لیکن اس میں تھوڑا سا ضعف ہے۔

(أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 8 / 275، الرقم : 8059، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 382.)

..........

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرا ایک امتی ایک گروہ کی شفاعت کرے گا تو وہ اس کی شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے، ایک شخص کسی قبیلہ کی شفاعت کرے گا تو وہ اس کی شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے، ایک شخص کسی دوسرے شخص اور اس کے گھر والوں کی شفاعت کرے گا تو وہ اس کی شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 63، الرقم : 11605.)

.........

’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے یہ لوگ شفاعت کریں گے : انبیاء کرام، شہداء اور مؤذن۔‘‘

اسے امام بزار نے روایت کیا ہے۔

(أخرجه البزار في المسند، 2 / 27، الرقم : 372، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 381، وابن کثير في نهاية البداية والنهاية، 10 / 465.)

.........

’’عطیہ عوفی سے روایت ہے کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا دامن پکڑ کر کہا : آپ قیامت کے دن شفاعت کے لئے اس کو اپنے پاس محفوظ رکھیں؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے لئے شفاعت ہوگی؟ انہوں نے فرمایا : ہاں! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت میں سے جس کسی نے بھی اسلام قبول کیا ہے اس کے لئے شفاعت ہو گی۔‘‘

اسے امام احمد اور ابو نعیم اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

(أخرجه أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 2 / 944، الرقم : 1824، والأصبهاني في حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 6 / 42.)

.........

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مؤمنین سے اچھی طرح جان پہچان رکھو کیونکہ ہر مؤمن قیامت کے دن اللہ کے ہاں شفاعت کرے گا۔‘‘

اسے امام دیلمی نے روایت کیا ہے۔

(أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 / 81، الرقم : 251، والعجلوني في کشف الخفاء، 1 / 138، الرقم : 352.)

........

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) کی شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار وہ لوگ جنت میں جائیں گے جن پر دوزخ لازم ہو چکی ہوگی۔‘‘

اسے امام ابنِ عساکر اور مناوی نے روایت کیا ہے۔

’’ابنِ عساکر کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ قیامت کے روز) لازماً میری امت کے ان ستر ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا جن پر دوزخ لازم ہو چکی ہوگی تو اﷲ تعالیٰ انہیں (اس کی شفاعت کے سبب) جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘

اسے امام ابنِ عساکر اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔

(أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 39 / 122، 123، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 4 / 360، الرقم : 7034، والمناوي في فيض القدير، 5 / 352.)

...........

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن پانچ شفاعت کریں گے : قرآن، رشتہ، امانت، تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہلِ بیت۔‘‘

اِسے امام علاؤ الدین ہندی نے روایت کیا ہے۔

(أخرجه الهندي في کنز العمال، 14 / 390، الرقم : 39041.)

............

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے جو مومن نجات پا کر جنت میں چلے جائیں گے وہ اپنے ان مسلمان بھائیوں کو جو جہنم میں پڑے ہوں گے جہنم سے چھڑانے کے لیے (بطور ناز ) اللہ تعالیٰ سے ایسا جھگڑا کریں گے جیسا جھگڑا کوئی شخص (دنیا میں) اپنا حق مانگنے کے لیے بھی نہیں کرتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے : اے ہمارے رب! یہ لوگ (ہماری سنگت اختیار کیے ہوئے تھے کہ) ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، نمازیں پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا : جن لوگوں کو تم پہچانتے ہو ان کو دوزخ سے نکال لو، ان لوگوں کی صورتیں آگ پر حرام کر دی جائے گی۔ پھر جنتی مسلمان کثیر تعداد میں ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لائیں گے جن میں سے بعض کو نصف پنڈلیوں تک اور بعض کو گھٹنوں تک دوزخ کی آگ نے جلا ڈالا ہوگا۔ وہ پھر عرض کریں گے : یا اللہ! اب ان لوگوں میں سے کوئی باقی نہیں بچا جن کو جہنم سے نکال لانے کا تو نے حکم دیا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : پھر جاؤ اور جس کے دل میں دینار کے برابر بھی نیکی ہے اس کو جہنم سے نکال لاؤ، پھر وہ کثیرتعداد میں لوگوں کو دوزخ سے نکال لائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے : یا اللہ! جن لوگوں کو تو نے جہنم سے نکالنے کا حکم دیا تھا ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا : جاؤ جس کے دل میں نصف دینار کے برابر بھی نیکی ہو اس کو جہنم سے نکال لاؤ، وہ پھر جائیں گے اور کثیر تعداد میں لوگوں کو جہنم سے نکال لائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے : اے ہمارے رب! جن لوگوں کو تو نے دوزخ سے نکالنے کا حکم دیا تھا ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا : جس شخص کے دل میں تم کو ذرہ برابر بھی نیکی ملے اس کو بھی جہنم سے نکال لاؤ، وہ جائیں گے اور جہنم سے بہت بڑی تعداد میں خلقِ خدا کو نکال لائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے : اے اللہ! اب دوزخ میں نیکی کا ایک ذرہ بھی نہیں۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر تم میری اس بیان کردہ حدیث کی تصدیق نہیں کرتے تو قرآن کریم کی اس آیت کو پڑھو : (بے شک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اپنے پاس سے بڑا درجہ عطا فرماتا ہےo) [النساء، 4 : 40].

اسے امام مسلم، طیالسی اور حاکم نے روایت کیا ہے

( أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : معرفة طريق الرؤية، 1 / 169، الرقم : 183، والطيالسي في المسند، 1 / 289، الرقم : 2179، والحاکم في المستدرک، 4 / 626، الرقم : 8736، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 223، الرقم : 5466.)

جلوس عید میلاد اور جھنڈوں پر ہی اعتراض کیوں ؟


محترم قارٸینِ کرام : عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن درود و سلام سے مہکی ہوئی فضا میں جلوس نکالنا بھی تقریباتِ میلاد کا ضروری حصہ بن چکا ہے۔ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کا یہ عمل بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سنت ہے۔ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی جلوس نکالے جاتے جن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم شریک ہوتے۔

درج ذیل احادیث سے جلوس کا ثبوت فراہم ہوتا ہے : کتب سیر و اَحادیث میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہجرت کے بعد مدینہ منورہ آمد کا حال اس طرح بیان کیا گیا ہے : ’’اُن دنوں جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کسی روز بھی متوقع تھی مدینہ منورہ کے مرد و زن، بچے اور بوڑھے ہر روز جلوس کی شکل میں دیدہ و دل فرشِ راہ کیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِستقبال کے لیے مدینہ سے چند میل کے فاصلے پر قباء کے مقام پر جمع ہو جاتے۔ جب ایک روز سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی مسافتیں طے کرتے ہوئے نزولِ اِجلال فرمایا تو اس دن اہلِ مدینہ کی خوشی دیدنی تھی۔

اس دن ہر فرد فرطِ مسرت میں گھر سے باہر نکل آیا اور شہرِ مدینہ کے گلی کوچوں میں ایک جلوس کا سا سماں نظر آنے لگا۔‘‘ حدیثِ مبارکہ کے الفاظ ہیں : فصعد الرجال والنساء فوق البيوت، وتفرق الغلمان والخدم في الطرق، ينادون : يا محمد! يا رسول ﷲ! يا محمد! يا رسول ﷲ! ’’مرد و زن گھروں پر چڑھ گئے اور بچے اور خدام راستوں میں پھیل گئے، سب بہ آواز بلند کہہ رہے تھے : یا محمد! یا رسول اللہ! یا محمد! یا رسول اللہ!‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب الزهد والرقائق، باب في حديث الهجرة، 4 : 2311، رقم : 2009 2. ابن حبان، الصحيح، 15 : 289، رقم : 68970 3. أبويعلي، المسند، 1 : 107، رقم : 116 4. مروزي، مسند أبي بکر : 129، رقم : 65)

اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری دیکھ کر جاں نثاروں پر کیف و مستی کا ایک عجیب سماں طاری ہوگیا۔ اِمام رویانی کے مطابق اہالیانِ مدینہ جلوس کی شکل میں یہ نعرہ لگا رہے تھے : جاء محمد رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم. ’’ﷲ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ۔‘‘ (روياني، مسند الصحابة، 1 : 138، رقم : 329)

معصوم بچیاں اور اَوس و خزرج کی عفت شعار دوشیزائیں دف بجا کر دل و جان سے محبوب ترین اور عزیز ترین مہمان کو اِن اَشعار سے خوش آمدید کہہ رہی تھیں : طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِياتِ الْودَاعِ وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَاِﷲِ دَاعٍ أيُّهَا الْمَبْعُوْثُ فِيْنَا جِئْتَ بِالْأمْرِ الْمَطَاعِ۔

ترجمہ : ہم پر وداع کی چوٹیوں سے چودھویں رات کا چاند طلوع ہوا، جب تک لوگ اللہ کو پکارتے رہیں گے ہم پر اس کا شکر واجب ہے۔ اے ہم میں مبعوث ہونے والے نبی! آپ ایسے اَمر کے ساتھ تشریف لائے ہیں جس کی اِطاعت کی جائے گی۔ (1. ابن ابي حاتم رازي، الثقات، 1 : 131 2. ابن عبد البر، التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد، 14 : 82 3. أبو عبيد اندلسي، معجم ما استعجم من أسماء البلاد والمواضع، 4 : 1373 4. محب طبري، الرياض النضرة في مناقب العشرة، 1 : 480 5. بيهقي، دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة، 2 : 507 6. ابن کثير، البداية والنهاية، 2 : 583 7. ابن کثير، البداية والنهاية، 3 : 620 8. ابن حجر عسقلاني، فتح الباري، 7 : 261 9. ابن حجر عسقلاني، فتح الباري، 8 : 129 10. قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 634 11. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 4 : 100، 101 12. أحمد بن زيني دحلان، السيرة النبوية، 1 : 323)

واضح ہوگیا ہے کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے یہی طریقے جائز اور مسلمہ ہیں۔ دنیا بھر میں اِسلامی معاشرے اِنہی طریقوں سے میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سے ایک عمل بھی ایسا نہیں جس کی اَصل عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دورِ صحابہ میں موجود نہ ہو یا قرآن و سنت سے متصادم ہو۔ جس طرح یہ اَجزاء الگ الگ طور پر جائز بلکہ مسلمہ ہیں اُسی طرح مجموعی طور بھی محفلِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں اِن کو شرعی جواز حاصل ہے۔ میلاد کی تقریبات کے سلسلے میں انتظام و انصرام اور ہر وہ کام انجام دینا جو خوشی و مسرت کے اظہار کے لیے ہو شرعی طور پر مطلقاً جائز ہے۔ اس طرح محفلِ میلاد روحانی طور پر ایک قابلِ تحسین، قابلِ قبول اور پسندیدہ عمل ہے۔ ایسی مستحسن اور مبارک محافل کے بارے میں جواز! عدمِ جواز کا سوال اٹھانا یقیناً حقائق سے لا علمی، ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔ 

پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت دو شنبہ کے روز ہوئی۔ دو شنبہ ہی کو آپ کی بعثت و ہجرت ہوئی اور وصال مبارک بھی دو شنبہ ہی کو ہوا۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں۔ دو شنبہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں ایک شخص نےرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا! اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی ۔ (صحیح مسلم)

بارہ ربیع الاول کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس خاکدان عالم میں جلوہ گر ہوئے۔ سیرت نبوی کے سب سے قدیم و مستند تاریخ نگاہ محمد بن اسحٰق یسار (ولادت 85ھ۔ وصال 150ھ) نے یہی دن اور یہی تاریخ لکھی ہے۔ طبری و ابن خلدون جیسے مؤرخین نے بھی یہی لکھا ہے۔ سیرت کی مقبول کتاب الموھب اللدنیہ کے مؤلف علامہ احمد بن محمد قسطلانی (ولادت 851ھ۔ وصال 923ھ) یہی دن اور تاریخ لکھنے کے بعد مسلمانوں کے درمیان رائج ایک مستحسن طریقہ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔

(ترجمہ) رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت طیبہ کے مہینہ میں اہل اسلام محافل و تقریبات منعقد کرتے رہتے ہیں۔ دعوتوں کا اہتمام اور شب ولادت میں صدقات و خیرات ان کا معمول ہے۔ اظہار فرح و سرور کرتے ہیں۔ خوب نیکیاں کرتے ہیں۔ ولادت طیبہ کے احوال و واقعات پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ جس سے ان پر بڑی برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ (المواہب)

حجاز مقدس، یمن، عراق، شام، مصر، لیبیا، ترکی، افغانستان، سمر قند و بخار اور دیگر بلاد اسلامیہ میں قدیم روایات کے طرز پر آج بھی محافل ذکر ولادت کا انعقاد ہوتا ہے۔ جن میں ولادت رسول، فضائل رسول، سیرت رسول، دعوت رسول، کا بیان ہوتا ہے۔ اور مسلمان ذوق و شوق کے ساتھ انھیں سنتے سناتے ہیں۔ اظہار مسرت اور اداء شکر نعمت کے لئے صدقات و خیرات کرتے ہیں۔ اور یہ ساری چیزیں کتاب و سنت کی روشنی میں نہ صرف جائز بلہ محمود و مستحسن ہیں۔ دین میں ان کی اصل اور حکم ہے۔ اور ہر دور کے لحاظ سے اہل اسلام یہ امور خیر انجام دیتے رہتے ہیں۔ جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے شکل وہئیت کی تبدیلی سے اصل حکم پر کوئی اثر اور فرق واقع نہیں ہوتا۔

جس حادث و جدید چیز کا سنت و شریعت کے کسی حکم اور کسی اصل سے تصادم ہو اسے اصطلاح شریعت میں بدعت کہا جاتا ہے۔ یہ بدعت کبھی اعتقادی ہوتی ہے اور کبھی عملی ہوتی ہے۔ جیسے خاتمیت نبوت محمدی کے مسلمہ عقیدہ میں تاویل، افضلیت و خلافت ابو بکر و عمر کا انکار، خلق قرآن، اور قدم عالم کا نظریہ، تجسیم و تشبیہ و امکان کذب باری تعالٰی کا اعتقاد، علوم و صفات رسول علیہ السلام کی تنقیص، طریقت کے نام پر احکام شریعت کا استخفاف، غیراللہ کے لئے سجدہ تعظیمی کا جواز، تقریبات میں اسراف و تبذیر، فرائض و واجبات سے غفلت اور مباحات و مندوبات میں انہماک وغیرہ وغیرہ۔

مبادی و معتقدات اسلام نہایت جامع و کامل و مکمل ہیں۔ ان میں کسی ترمیم و تغیر اور حذف و اضافہ کی گنجائش نہیں۔ کتاب و سنت و کتب دینیہ میں اعتقادی و عملی احکام اسلام اجمالاً و تفصیلاً مسطور و مذکور ہیں۔ فقہ اسلامی کے اصول و ضوابط اور مسائل و جزئیات صدیوں پہلے مدون و مرتب ہو چکے ہیں۔ اور سارا عالم اسلام ان سے واقف اور ان پر عامل ہے۔ سنت و شریعت سے انحراف اور ان میں کسی قسم کی آمیزش بدعت ضلالت ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس میں اہل حق کا ذرا بھی اختتلاف اور ان کے درمیان کہیں بھی دو رائے نہیں۔ سنت رسول و سنت خلفاء راشدین کی اتباع کا یہی مطلب ہے اور سنت و شریعت کا یہی مطلوب و مقصود ہے۔ جسے ہر لمحہ پیش نظر رکھنا ہر مسلمان کے اوپر لازم ہے۔

عہدرسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو بھی نئی چیز عالم ظہور میں آئے اس کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار یہ ہے کہ سنت و شریعت کی اصل اور ان کے دائرہ میں ہو اور کسی اصل و حکم کے معارض و متصادم نہ ہو تو جائز ہے ورنہ ناجائز ہے۔ بدعات و محدثات امور کے قبول و انکار کا یہی ضابطہ اور معیار علماء اسلام و محدثین کرام سے بتصریح ثابت ہے۔ اسی کے مطابق مسلمانان عالم کا عمل بھی ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں۔ جس چیز کو مسلمان بہتر سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بہتر ہے۔

بدعت یعنی نئی چیز ناجائز وہی ہے جو سنت و شریعت کے حکم اور کسی اصل کے خلاف ہے۔ قدیم و مستند محدثین و فقہاء و علماء اسلام مثلاً علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ بدرالدین عینی، علامہ قسطلانی، امام نووی شافعی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، علامہ زرقانی، علامہ ابن عابدین شامی وغیرہ ہم نے یہی تحریر فرمایا ہے۔

علامہ جلال الدین سیوطی شافعی حدیث کل بدعۃ ضلالۃ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

ترجمہ : اس سے ایسی نئی باتیں مراد ہیں جن کی صحت کی شہادت شریعت سے نہ مل سکے۔ (ص234۔ جلد2، حاشیہ سیوطی سنن نسائی)

خود مؤلف نیل الاوطار محمد بن علی شوکانی حضرت امام شافعی کا یہ قول نقل کرتے ہیں۔ ترجمہ : نئی چیزیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو کتاب یا سنت یا اثر یا اجماع کے خلاف ہو۔ اور یہی بدعت ضلالت ہے۔ اور دوسری وہ جس کی ایجاد میں کوئی خیر ہو۔ اس کے بارے میں امت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور یہ بدعت مذمومہ نہیں ہے۔ (ص33۔ القول المفید)

بہت نئی چیزیں ایجاد مستحسن کے حکم میں ہیں۔ عہد رسالت و عہد رسالت و عہد صدیقی میں باجماعت نماز تراویح کا معمول نہیں تھا۔ عمر فاروق کے دور میں ہوا جسے دیکھ کر آپ نے فرمایا نعمت البدعۃ ھذہ یہ کتنی اچھی بدعت (نئی چیز) ہے۔ حضرت علی مرتضٰی کے حکم سے ابوالاسود دئلی نے عربی گرامر یعنی نحو کے قواعد وضع کئے۔ جس کا جاننا آج عربی و عجمی ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ حجاج بن یوسف ثقفی کے حکم سے قرآن حکیم پر اعراب (زیر، زبر، پیش) لگایا گیا۔ آج اس اعراب کے بغیر قرآن حکیم چھپنے چھپانے کا تصور بھی نہیں ہے۔

ایمان مجمل، ایمان مفصل، چھ کلمے اور ان کی ترتیب، قرآن میں رکوع کی نشاندہی، تیس پاروں میں اس کی طباعت، رحل پر رکھ کر اسے پڑھنا ان چیزوں کا عہدرسالت و عہد صحابہ میں کوئی ذکر بھی نہ تھا۔


احادیث نبوی کی سند، ان پر جرح و تعدیل، صحیح و حسن و ضعیف وغیرہ کی تقسیم، سب نئی چیزیں ہیں۔ اصول حدیث کے قواعد و ضوابط نئے ہیں۔ فقہ اسلامی کے اصول، اس کی تدوین سب نئی چیزیں ہیں۔ اسی طرح قرآن فہمی کے لئے وضع کردہ تفسیر بھی نیا فن ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جس کا مذہب اور علوم اسلامیہ سے تعلق ہے۔ ان نئے علوم و فنون اور امور دنیاوی کا شمار مشکل ہے جن کے جائز ہونے پر ساری دنیا متفق ہے۔

ایک نئی چئز محفل ولادت نبوی کا انعقاد بھی ہے۔ جس کی اصل ذکررسول ہے۔ اور یہ اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ قدیم و جدید علماء عرب کے علاوہ علماء ہند میں دہلی کے شاہ عبدالحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، شاہ ابو سعید مجددی دہلوی، شاہ ابوالخیر مجددی دہلوی وغیرہم اور سہار نپور کے حاجی امداد اللہ مہاجرمکی، مولانا فیض الحسن سہارنپوری، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا عبدالسمیع بیدل سہارنپوری، حاجی عابد حسین قادری بانی مدرسہ اسلامی عربی دیوبند، (موجودہ دارلعلوم دیوبند) وغیرہم جس کے جواز و اتحسان کے قائل ہی نہیں بلکہ اس کے عامل بھی رہے ہیں۔ ان حضرات کی تحریرات و تصدیقات اس پر شاہد عدل ہیں۔ لیکن آج محافل میلاد کو بدعت کہا جا رہا ہے۔ اور سہارنپور کے جلوس محمدی کو بزورطاقت روکا جا رہا ہے۔

عہد رسالت و عہد صحابہ میں عصر حاضر جیسی عظیم الشان ومزین مساجد نہیں تھیں، عمارت اور نصاب تعلیم کے ساتھ دارالعلوم نہیں تھے۔ آج جیسے جلسہ و جلوس کا کوئی رواج نہیں تھا۔ سمینار اور کانفرنسیں نہیں ہوتی تھیں۔ مدارس سے تکمیل علوم کے بعد سند نہیں دی جاتی اور دستار بندی بھی نہیں ہوتی تھی۔ مگر ان میں سے کوئی چیز مسلمانوں کی نظر میں معیوب و مذموم نہیں، بدعت کہہ کر انھیں کوئی چھوڑنے کو تیار نہیں۔

1950ء کی دہائی میں جماعت اسلامی پاکستان نے تزک و احتشام کے ساتھ غلاف کعبہ تیار کراکے جلوس کی شکل میں شہر شہر گھمایا اور مکہ مکرمہ بھیجا۔ اخبارات میں خوب چرچا ہوا۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ تو بدعت ہے۔ مولانا ابوالاعلٰی مودودی نے اس کا تحریری جواب دیا کہ بدعت نہیں ہے اس میں کوئی چیز مزاج شریعت کے خلاف نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جماعت اہل حدیث کے علماء اپنی مذہبی شناخت کے لئے سلفی اور اثری لکھتے ہیں۔ موجودہ ائمہ حرمین شریفین کے دورہء ہند و پاک کے وقت سلفی علماء پروپیگنڈہ کرکے دور دور سے نمازیوں کو شدر حال کراکے ان کے پیچھے نمازیں پڑھواتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ دہلی سے سہارنپور کے مشہور مدارس ختم بخاری کے جلسے کراتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ تبلیغی جماعت کے سہ روزہ و چالیس روزہ چلے اور گشت ہوتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ نماز عصر کے بعد بالالتزام تبلیغی نصاب و فضائل اعمال کا درس ہوتا ہے۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ دیوبند کا صد سالہ جشن منایا جاتا ہے۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ ندوہ کا پچاسی سالہ جشن منایا جاتا ہے۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔

علماء دیوبند سیرۃ النبی کے جلسے اور کانفرنسیں کرتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ اپنے علماء پر سمینار کراتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ جمعیۃ العلماء ہند کے جلسے اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ بھوپال (انڈیا) رائے ونڈ (پاکستان) ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں سالانہ تبلیغی اجماعات ہوتے ہیں۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ جمعیۃ العلماء کی قیادت میں کانپور میں ہر سال جلوس میلادالنبی نکلتا ہے۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ علماء دیوبند جلوس مدح صحابہ رضی اللہ عنہم  عر سال نکالتے ہیں ۔ یہ بھی بدعت نہیں ہے۔ اہلحدیث کانفرنسیں اور اسامہ کی یاد میں جلوس نکلتے ہیں یہ بھی بدعت نہیں /

اگر بدعت ہے تو بارہ ربیع الاول کا جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیونکہ اس سے ایک جماعت کی بالادستی اور انا مجروح ہوتی ہے اور میلاد النبی کی محفلیں بھی بدعت ہیں تو صرف اس لئے کہ اس کے مفادات کو ضرب پہنچتی ہے۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ؟ ۔

نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کا سایہ نہیں تھا


(حدیث1)حضرت سیدنا عبداللہ ابن مبارک اور حافظ جوزی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کرتے ہیں :

لم یکن لرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل ولم لقم مع شمس الا غلب ضوءہ ضوءھا ولا مع السراج الا غلب ضوءہ ضوءہ۔


سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم پاک کا سایہ نہیں تھا نہ سورج کی دھوپ میں نہ چراغ کی روشنی میں، سرکار کا نور سورج اور چراغ کے نور پر غالب رہتا تھا۔ (الخصائص الکبرٰی ج1، صفحہ68 از نفی الظل، علامہ کاظمی زرقانی علی المواہب ج4 صفحہ 220، جمع الوسائل للقاری ج1 صفحہ 176)


(حدیث2) امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنی کتاب نوادر الاصول میں حضرت ذکوان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں : عن ذکوان ان رسول اللہ علیہ وسلم لم یکن یری لہ ظل فی شمس ولا قمر

سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ مبارک نہ سورج کی دھوپ میں نظر آتا تھا نہ چاندنی میں۔ (المواہب اللدنیہ علی الشمائل المحمدیہ صفحہ30 مطبع مصر)


(حدیث3) امام نسفی تفسیر مدارک شریف میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ حدیث نقل فرماتے ہیں:


قال عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ ان اللہ ما اوقطع ظلک علی الارض لئلا یضع انسان قدمہ علی ذالک الظل۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ خدا عزوجل نے آپ کا سایہ زمین پر پڑنے نہیں دیا تاکہ اس پر کسی انسان کا قدم نہ پڑ جائے۔ (مدارک شریف ج2 صفحہ 103)

(حدیث4) حضرت امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خصائص کبرٰی شریف میں ابن سبع سے یہ روایت نقل فرمائی:


قال ابن سبع من خصائصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان ظلہ کان لا یقع علی الارض لانہ کان نورا اذا مشی فی الشمس اولقمر لا ینظرلہ ظل قال بعضھم ویشھدلہ حدیث قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ودعائہ فاجعلنی نورا

ابن سبع نے کہا کہ یہ بھی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے کہ سرکار کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا کیونکہ وہ نور تھے، آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں جب چلتے تھے تو سایہ نظر نہیں آتا تھا۔ بعض ائمہ نے کہا ہے کہ اس واقعہ پر حضور کی وہ حدیث شاہد ہے جس میں حضور کی یہ دعاء منقول ہے کہ پروردگار مجھے نور بنا دے۔ ( خصائص کبرٰی ج1 صفحہ68 )


اس مسئلہ کا ثبوت اسلاف کے اقوال سے

(1) امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: “لم یقع ظلہ علی الارض ولا یری لہ ظل فی شمس ولا قمر قال ابن سبع لانہ کان نورا قال زرین فغلبہ انوارہ۔“حضور کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا اور نہ آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں سایہ نظر آتا تھا، ابن سبع اس کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نور تھے، زریں نے کہا کہ حضور کا نور سب پر غالب تھا۔ (النموذج اللبیب)


(2) وقت کے جلیل القدر امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: “وما ذکر من انہ لاظل لشخصہ فی شمس ولا فی قمر لانہ کان نورا وان الذباب کان لا یقع علی جسدہ ولا ثیابہ۔“ یہ جو ذکر کیا گیا ہے کہ آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے جسم مبارک کا سایہ نہیں پڑتا تھا تو اس کی وجہ یہ ہے حضور نور تھے۔ (شفا شریف لقاضی عیاض ج1، صفحہ 342۔ 343)


(3) امام علامہ احمد قسطلانی ارشاد فرماتے ہیں: “قال لم یکن لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظل فی شمس ولا قمر رواہ الترمذی عن ابن ذکوان وقال ابن سبع کان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نورا فکان اذا مشی فی الشمس او القمر لہ ظل۔“ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر کا سایہ نہ آفتاب کی روشنی میں پڑتا تھا نہ ماہتاب کی چاندی میں، ابن سبع اس کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نور تھے، اسی لئے چاندنی اور دھوپ میں چلتے تھے تو جسم پاک کا سایہ نہیں پڑتا تھا۔ (موالب اللدنیہ ج1 صفحہ180 زرقانی ج4 صفحہ220)


(4) امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں : “ومما یوید انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم صار نورا انہ اذا مشی فی الشمس اوالقمر لا یظھر لہ ظل لانہ لا یظھر الا لکشیف وھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قد خلصہ اللہ تعالٰی من سائر الکشافات الجسمانیہ وصیرہ نورا صرفا لا یظھر لہ ظل اصلا۔“ اس بات کی تائید میں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سراپا نور تھے اسی واقعہ کا اظہار کافی ہے کہ حضور پاک کے جسم مبارک کا سایہ نہ دھوپ میں پڑتا تھا، نہ چاندنی میں، اس لئے کہ سایہ کثیف چیز کا ہوتا ہے، اور خدائے پاک نے حضور کو تمام جسمانی کثافتوں سے پاک کرکے انھیں “نور محض“ بنا دیا تھا اس لئے ان کا سایہ نہیں پڑتا تھا۔ (افضل القرٰی صفحہ72)


(5) محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: نبود مرآں حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم را سایہ نہ در آفتاب و نہ در قمر۔ حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ آفتاب کی روشنی میں پڑتا تھا نہ ماہتاب کی چاندنی میں۔ (مدراج النبوۃ ج1، صفحہ21)


(6) امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: “حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سایہ نبود در عالم شہادت سایہ ہر شخص از شخص لطیف تراست چوں لطیف ترازدے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم در عالم نباشد اور اسایہ چہ صورت دارد۔“ حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہیں تھا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم شہادت میں ہر چیز سے اس کا سایہ لطیف ہوتا ہے، اور سرکار کی شان یہ ہے کہ کائنات میں ان سے زیادہ کوئی لطیف چیز ہے ہی نہیں، پھر حضور کا سایہ کیونکر پڑتا۔ (مکتوبات امام ربانی ج3 صفحہ147 مطبوعہ نو لکشور لکھنئو۔)


(7) امام راغب اصفہانی (م450) ارشاد فرماتے ہیں: “روی ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کان اذا مشی لم یکن لہ ظل۔“ مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم چلتے تو آپ کا سایہ نہ ہوتا تھا۔ (المعروف الراغب)


( 8 ) امام العارفین مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں:

چوں فناش از فقر پیرایہ شود

او محمد وار بے سایہ شود


جب فقر کی منزل میں درویش فنا کا لباس پہن لیتا ہے، تو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرح اس کا بھی سایہ زائل ہو جاتا ہے۔ (مثنوی معنوی دفتر پنجم)


(9) امام المحدثین حضرت شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: “از خصوصیاتے کہ آن حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم رادر بدن مبارکش دادہ بودن کہ سایئہ ایشاں برز میں نہ می افتاد۔“ جو خصوصیتیں نبی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بدن مبارک میں عطا کی گئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔

عظمت و شان صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین از حضرت سلطان باھو رحمة الله عليہ ( متوفٰی ۱۱۰۲ھ )

 

( ۱ )_سلطان العارفین رحمة الله عليہ آپ ﷺ کی آل ، آپ ﷺ کے اصحاب اور آپ ﷺ کے اہل بیت سے بےحد عقیدت و محبت رکھتے جس کا اظہار آپ اپنی کتاب *" نور الھدی "* میں اس طرح فرماتے ہیں :

" لا محدود درود ہو اشرف المخلوقات ابو القاسم حضرت محمد رسول الله صلی الله علیه واله و اصحابه و اھل بیتہ اجمعین ۔

حوالہ درج ذیل ہے :

( نور الھدی ، تحت خطبة الكتاب ، ص 8 ، مطبوعه شبیر برادرز لاھور ، طبع ١٤٢٨ه‍/٢٠٠٧ء )

( ۲ )_سلطان العارفین رحمة الله عليہ اپنی کتاب *" شمس العارفین "* کے ابتدائیہ میں صحابہ کرام رضی الله عنہم کے متعلق اپنے عقیدے کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں : " و الصلوة و السلٰم على رسوله محمد النبى آخر الزمان و على اله و أصحٰبه كلهم صاحب المغفرة و الرضوان . 

ترجمه : صلوٰۃ و سلام ہو الله کے آخری نبی حضرت محمد رسول الله ﷺ پر ، آپ ﷺ کی آل پر اور آپ ﷺ کے اصحاب رضی الله عنہم پر جو تمام اہل مغفرت ہیں اور الله ان سے راضی ہوا ۔ 

حوالہ درج ذیل ہے :

( شمس العارفین ، تحت خطبة الكتاب ، ص 26 ، مطبوعه سلطان الفقر پبلیکیشنز لاھور ، طبع دوم ۲۰۲۰ء )

( ۳ )_اسی کتاب کے ایک مقام پر فرماتے ہیں : " جب کوئی طالب مولی مجلسِ محمدی ﷺ میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کے وجود پر چار نظروں سے چار تاثیریں پیدا ہوتی ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کی نظر سے طالبِ مولی کے وجود میں صدق کی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے وجود سے جھوٹ اور نفاق نکل جاتا ہے ۔ حضرت عمر رضی الله عنہ کی نظر سے طالبِ مولی کے وجود میں عدل اور محاسبہ نفس کی تاثیر پیدا ہوتی ہے اور خطرات اور خواہشاتِ نفسانی طالب کے وجود سے مکمل طور پر نکل جاتی ہیں ۔ حضرت عثمان رضی الله عنہ کی نظر سے طالبِ مولی کے وجود میں ادب اور حیا کی تاثیر پیدا ہوتی ہے اور بے ادبی اور بے حیائی نکل جاتی ہیں ۔ جب حضرت علی رضی الله عنہ کی نظر طالبِ مولی پر پڑتی ہے تو اس کے وجود میں علم ، ہدایت اور فقر کی تاثیر پیدا ہوتی ہے اور جہالت اور دنیا کی محبت نکل جاتی ہے ۔ اس کے بعد طالبِ مولی تلقین کے لائق بنتا ہے ۔

 حوالہ درج ذیل ہے :

( شمس العارفین ، تحت " باب پنجم : مجلس محمدی ﷺ کا بیان  ، ص 96 تا 97 ، مطبوعه سلطان الفقر پبلیکیشنز لاھور ، طبع دوم ۲۰۲۰ء )

( ٤ )_کچھ لوگ سلطان العارفین رحمة الله عليہ کی طرف منسوب ایک شعر کو لے کر آپ کے عقائد کے بارے میں لوگوں کو شک میں ڈالتے ہیں آپ رحمة الله عليہ نے اپنی تصانیف میں کافی مقامات پر اپنے اہل سنت ہونے کا بیان فرمایا ہے اور اہلِ بیت اطہار و صحابہ کرام رضی الله عنہم سے اپنی محبت کو بیان فرمایا ہے آپ رحمة الله عليه اپنی کتاب *" عقل بیدار "* میں فرماتے ہیں : " مَیں رافضِی مذہب اور خارجی ملت سے بیزار ہوں ۔ مَیں اہل سنت ہوں اور میری دوستی حضور ﷺ کے چاروں یاروں سے ہے ۔ 

حوالہ درج ذیل ہے :

( عقل بیدار ، تحت " شرح علم دعوت و عامل دعوت ، ص 116 ، مطبوعه شبیر برادرز لاھور ، طبع ١٤٢٨ه‍/٢٠٠٧ء ) 

( ۵ )_ایک مقام پر فرماتے ہیں : " اہل ایمان کے دلوں میں اس قدر محبت کا جزبہ پیدا ہو جاتا کہ انہیں ایک دم کیلئے بھی آپ صلی الله علیہ وسلم سے فرقت گوارا نہ ہوتی گھر جاتے تو آٹا گوندھ کر روٹی پکانے کی بجائے آٹا پانی میں گھول کر پی لیتے تاکہ وقت ضائع نہ ہو اور دوبارہ حضور پاک ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو جاتے جب رسول پاک ﷺ نماز کیلئے وضو فرماتے تو صحابہ رضی الله عنہم پانی کا ایک قطرہ زمین پر نہ گرنے دیتے جس کسی کو یہ سعادت میسر نہ ہوتی وہ دوسرے صحابی رضی الله عنہ کے گیلے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رگڑ کر اسے اپنے منہ پر مل لیتا ۔ الله کی راہ پر مال خرچ کر دینے کے اعلان پر اپنا سب کچھ الله کی راہ میں قربان کر دینے سے ہرگز دریغ نہ کرتے اپنی ضرورتوں پر مساکین یتامی اور بیوہ عورتوں کی ضروریات کو ترجیح دیتے پس حضور پاک ﷺ نگاہ سے ہی ان کا ایسا تزکیہ کر دیتے کہ وہ دنیا میں ستاروں کی مانند رہنما بن کر چمکے اسی لئے حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جو کوئی ان کی پیروی کرے گا کبھی گمراہ نہ ہوگا ۔ الله تعالی نے فرمایا : " قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَكّٰىۙ " جس کا تزکیہ نفس ہو گیا ، اسی نے فلاح پائی ۔

حوالہ درج ذیل ہے :

( عقل بیدار ، تحت " شرح در شرح عقل بیدار  ، ص 199 ، مطبوعه شبیر برادرز لاھور ، طبع ١٤٢٨ه‍/٢٠٠٧ء )

( ٦ )_ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : " حضوری مجلس میں صدیق اکبر رضی الله عنہ کی نظر سے طالب کے وجود میں صدق و صفاء پیدا ہو جاتا ہے کبر اور نفاق اس کے وجود سے نکل جاتا ہے حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کی نظر سے اس کے وجود میں عدل اور محاسبہ نفسی پیدا ہو جاتا ہے جس سے حرص و ہوا نفسانی اور ہر قسم کے خطرات اس کے وجود سے نکل جاتے ہیں حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ کی نگاہ سے اس کے وجود میں ادب ، حیاء اور سخا پیدا ہو جاتی ہے بے ادبی ، بے حیائی اور بخل اس کے وجود سے نکل جاتا ہے حضرت علی کرم الله وجہہ کی نگاہ سے اس کے وجود میں علم ، ہدایت ، فقر اور تقوی پیدا ہو جاتا ہے جہالت ، دنیاوی محبت اس کے وجود سے اٹھ جاتی ہے ۔ 

حوالہ درج ذیل ہے :

( عقل بیدار ، تحت " جز حضوری ہر طریقہ راہزن  ، ص 246 ، مطبوعه شبیر برادرز لاھور ، طبع ١٤٢٨ه‍/٢٠٠٧ء )

 ( ۷ )_سب سے پہلے ایمان لانے والے صحابہ کرام رضی الله عنہم کا تذکرہ سلطان العارفین رحمة الله عليه اپنی کتاب *" عین الفقر "* میں یوں فرماتے ہیں : " سب سے پہلے کلمہ طیبہ رسول الله ﷺ پر الله تعالی نے پڑھا ، اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کی روح مبارک نے پڑھا لا اله الا الله محمد رسول الله ، اس کے بعد حضرت علی کرم الله وجہہ شکم مادر میں پڑھا " لا اله الا الله محمد رسول الله ۔ باقی اصحاب آپ کے معجزوں پر ایمان لاتے گئے ۔

حوالہ جات درج ذیل ہیں :

( عین الفقر ، تحت " باب اول : شرح برزخ اسم الله … ، تحت " تشریح اسم الله ٬ ص 37 ، مطبوعه اکبر بک سیلرز لاھور ، طبع ۲۰۰۷ء )

( اسرار قادری ، توحید مطلق ، تحت " اسم الله ذات کی تشریح ، ص 185 ، مطبوعه پروگریسو بکس لاھور ، طبع اول ۱۹۹٤ء )

( ۸ )_سلطان العارفین رحمة الله عليہ خلفائے راشدین کا ذکر اس طرح فرمایا ہے :  " حضرت ابو بکر رضی الله عنہ شریعت ہیں ، حضرت عمر رضی الله عنہ طریقت ہیں اور حضرت عثمان رضی الله عنہ حقیقت اور حضرت علی کرم الله وجہہ معرفت ہیں اور جناب رسول مقبول علیہ الصلوة و السلام سرّ ہیں ۔ 

اور حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ صدیق ہیں اور حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ عدل ہیں اور حضرت عثمان رضی الله عنہ حیا اور حضرت علی کرم الله وجہہ اور جناب رسول مقبول ﷺ فقر ہیں ۔

اور حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ ہوا کی طرح ساتھ ہیں اور حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ پانی کی طرح رقیق القلب ہیں اور حضرت عثمان رضی الله عنہ آگ کی طرح گرم اور تیز مزاج ہیں اور حضرت علی کرم الله وجہہ خاک کی طرح منکسر المزاج ہیں اور جناب رسول خدا ﷺ بمنزلہ اربع عناصر کے انسان کامل ہیں ۔ " الانسان سری و انا سرہ " جناب رسول مقبول علیہ الصلوة و السلام انسان کامل ہیں اور باقی لوگ حسب مراتب تقریب رکھتے ہیں ۔

صدیق صدق و عمر عدل پر حیا عثمان بود

گوئے فقرش از پیغمبر شاہِ مرداں مے ربود

( حضرت صدیق اکبر رضی الله عنہ صدق تھے اور حضرت عمر رضی الله عنہ عدل تھے اور حضرت عثمان رضی الله عنہ حیا سے پر تھے اور رسول الله ﷺ سے شاہِ مرداں یعنی حضرت علی کرم الله وجہہ نے فقر کی دولت پائی ۔

حوالہ درج ذیل ہے : 

( عین الفقر ، تحت " باب نہم : شراب کے ذکر اور حقائق اولیاء الله … ، تحت " لطیفہ  ٬ ص 184 تا 185 ، مطبوعه اکبر بک سیلرز لاھور ، طبع ۲۰۰۷ء )

( ۹ )_ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں : " چہار صفات صحابہ کرام رضی الله عنہم کو حاصل ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کو محاسبۂ نفس ، اور حضرت فاروق اعظم رضی الله عنہ کو عدل ، اور حضرت عثمان رضی الله عنہ کو حیا ، اور حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کو سخاوت ۔

حوالہ درج ذیل ہے :

( اسرار قادری ، تحت " فقیر کی صفات ، ص 143 تا 144 ، مطبوعه پروگریسو بکس لاھور ، طبع اول ۱۹۹٤ء )

( ۱۰ )_ آپ رحمة الله عليه اپنی کتاب *" محک الفقر (کلاں) "* میں فرماتے ہیں : " اے طالب صادق! جو کوئی آنحضرت ﷺ کی دوستی کا دعوی کرے اور ان کی آل و اصحاب اور علمائے شریعت کے ساتھ دوستی نہ رکھے اس کا دعوی غلط ہے ۔

حوالہ درج ذیل ہے :

( محک الفقر ( کلاں ) ، تحت " فقراء کے وجود میں چار دوست ہیں ، ص 66 ، مطبوعه اکبر بک سیلرز لاھور ، طبع ۲۰۰۹ء )

( ۱۱ )_آپ رحمة الله عليه اپنی کتاب *" محک الفقر "* میں فرماتے ہیں : " پس اے طالب صادق! یہ پانچ مرتبے کسی کو نصیب نہیں ہو سکتے ۔ پس جو شخص ان کا دعوی کرے ۔ وہ اسلام سے خارج ہے ۔ نعوذ بالله منها ( پناہ مانگتا ہوں الله کے ساتھ اس سے ) :

اول_      قرآن شریف سوائے آنحضرت ﷺ کے بعد کسی پر نازل نہیں ہوسکتا ۔

دوم_       ( بعد آنحضرت ﷺ کے ) کسی کو مرتبہ نبوت نہیں مل سکتا ۔

سوم_       معراج اب کسی کو حاصل کو حاصل نہیں ہو سکتی ۔

چہارم _       وحی الہی سوائے پیغمبروں کے کسی پر نہیں آتی ۔

پنجم_       اصحاب رسول الله ﷺ اور مزہب کے چاروں آئمہ مجتہدین کے برابر کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اگرچہ کتنا ہی افضل و بزرگی حاصل کرے ۔

حوالہ درج ذیل ہے :

( محک الفقر ( کلاں ) ، تحت " ابتدائیہ کتاب ، ص 29 ، مطبوعه اکبر بک سیلرز لاھور ، طبع ۲۰۰۹ء )

( ۱۲ )_ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں : " جو لوگ حضور محمد رسول ﷺ اور ان کے اصحاب رضی الله عنہم کی راہ پر چلے ہیں ۔ پس جو کوئی ان کی راہ پر چلے گا ۔ وہ اہل سنت و الجماعت سے ہوگا ۔

حوالہ درج ذیل ہے :

( محک الفقر ( کلاں ) ، تحت " خیر و شر کا مسئلہ اور اہل سنت و الجماعت کی تحقیق ، ص 77 ، مطبوعه اکبر بک سیلرز لاھور ، طبع ۲۰۰۹ء ) 

( ۱۳ )_ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں : پس اے طالب صادق! اب میں تجھ کو ادب اسم الله کا بتاتا ہوں ۔ یعنی جو کوئی ادب اسم الله اور ادب کلام الله اور ادب نبی الله ﷺ اور ادب اصحاب رسول الله ﷺ اور ادب شریعت اور ادب علماء اور ادب فقراء کا نہ کرے وہ ملعون اور بیدین ہے ۔ نعوذ بالله منها ۔

حوالہ درج ذیل ہے :

( محک الفقر ( کلاں ) ، فضائل و برکات لفظ الله ، تحت " ادب اسم الله ، ص 94 ، مطبوعه اکبر بک سیلرز لاھور ، طبع ۲۰۰۹ء )

( ١٤ )_ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں : " حضرت پیر مریدوں کے ساتھ ایسے ہیں ۔ جیسے جان جسم کے ساتھ اور آفتاب ذرہ کے ساتھ اور درخت پتوں کے ساتھ اور مہر نگینہ کے ساتھ ، اور حضرت محمد رسول الله ﷺ اصحاب رضی الله عنہم کے ساتھ ، جب ایسی صفت کا پیر نہ ہووے ۔ اس کے مرید خراب اور وہ عذاب میں ہوگا ۔

حوالہ درج ذیل ہے :

( محک الفقر ( کلاں ) ، مرشد کی شناخت ، تحت " قدمی علی رقاب کل ولی الله کی بحث  ، ص 215 ، مطبوعه اکبر بک سیلرز لاھور ، طبع ۲۰۰۹ء )

( ۱۵ )_سلطان العارفین رحمة الله عليه مہاجرین صحابہ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " صحابہ کرام رضی الله عنہم کو دین عزیز تھا ۔ ان کو ابو جہل نے دین کے بدلے مال و زر اور حکمرانی کی پیش کش کی لیکن انہوں نے اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا اور الله اور اس کے رسول ﷺ کی راہ میں جان تک قربان کر دی اور بعض لوگوں نے منافقت سے کام کیا، وہ کبھی مومن بن جاتے ، کبھی کافر ہو جاتے اور کبھی تذبذب کا شکار ہوجاتے ۔ جب سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ و السلام مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے جانے لگے تو آپ ﷺ کے اصحاب رضی الله عنہم نے جان و مال سے آپ کا ساتھ دیا اور اپنے زر و مال سے دریغ نہیں کیا ۔ آپ کا ساتھ دینے میں نہ ان کو کچھ عزیز و اقارب کی محبت اور نہ ہی اپنی زمین و جائیداد کی الفت رہی ۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آپ کے ہمراہ چلے گئے ۔ اس وقت جو کوئی آپ سے جدا ہوتا یا مخالفت کرتا تھا وہ محض دنیا کی وجہ سے مخالفت کرتا تھا ۔

حوالہ درج ذیل ہے :

( عین الفقر ، سلطان باھو ، تحت " باب دہم : ذکر فنا فی الله بقا بالله ٬ ص 201 ، مطبوعه اکبر بک سیلرز لاھور ، طبع ۲۰۰۷ء )