Friday, 18 December 2020

باغی گروہ ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

 *رافضیوں کا اعتراض اور اس کا تحقیقی جواب*


"عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا." 


شیعہ حضرات اکثر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اس حدیث کے مطابق حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ باغی ٹھہرے۔


اس حدیث میں جس باغی گروہ کی بات کی گئی ہے وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر میں موجود خارجی گروہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کیا اس سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بالکل مراد نہیں اور نہ ان کا نام موجود ہے حدیث میں، اسی طرح کے خارجی لوگ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر میں بھی موجود تھے جب ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا آپ کو خوشخبری ہو میں نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ (جو جنگ جمل میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے لشکر میں موجود تھے) کو قتل کر دیا ہے تو اس کے جواب میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میں تجھے جہنمی ہونے کی خوشخبری دیتا ہوں کیوں کہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں تو حدیث رسول تھی کہ جو ان کو قتل کرے گا وہ جہنمی ہوگا۔ اب جس طرح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر کوئی الزام نہیں جہنمی ہونے کا (کیوں کہ وہ شخص حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر میں سے تھا) اسی طرح حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی باغی ہونے کا کوئی الزام نہیں لگ سکتا۔


متقدمین شارحین بخاری میں ابن بطال رحمہ اللہ اور امام مہلب رحمہ اللہ سمیت بہت ساروں کا مؤقف یہی ہے کہ باغی جماعت سے مراد خوارج ہیں جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا کہ


"ابن بطال نے مہلّب کی پیروی میں کہا ہے: یہ بات اُن خوارج کے بارے میں درست ہے جن کی طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو بھیجا تھا کہ وہ اُنہیں جماعت کی طرف بلائیں، اور یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کے بارے میں کہنا صحیح نہیں ہے۔ اس بات میں شارحین کی ایک جماعت نے اُن کی پیروی کی ہے." 

ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 1/542


گو کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان سے اختلاف کیا ہے مگر متقدمین کی رائے ہی صائب ہے


حدیث عمار میں یہ الفاظ بھی وارد ہوے ہیں کہ باغی جماعت جہنم کی طرف بلانے والی ہوگی۔ یہی صفت حضرت حذیفہ کی روایت کے مطابق خوارج کی بیان کی گئی ہے۔ بخاری کے الفاظ ہیں: 'دعاة على أبواب جهنم من أجابهم إليها قذفوه فيها' جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے، جو شخص ان کی دعوت قبول کرے گا وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔ ابن حجر عسقلانی کے مطابق جہنم کی طرف بلانے والوں سے مراد خوارج کی جماعت ہے

مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق صحابی رسول ابو غادیہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا.. ابو غادیہ رضی اللہ عنہ بیعت رضوان والےاصحاب رضی اللہ عنہم میں سے ہیں جن کے 

بارے میں قرآن "رضی اللہ عنہ" فرما چکا اور حدیث پاک میں ہے کہ 

لَا يَدْخُلُ النَّارَ اِنْ شَآءَ اللَّهُ مِنْ اَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اَحَدٌ الَّذِينَ بَايَعُوۡا تَحْتَهَا یعنی جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی،اِنْ شَآءَ اللہ ان میں سےکوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم،ص1041،حدیث:6404)

اب یہ کیسے تصور کیا جائے کہ جنہیں قرآن رب کی رضا کا مژدہ سنا رہا ہے اور صحیح حدیث انکی آگ نجات کی بشارت دے رہی ہے، وہ خود آگ کی طرف بلانے والے تھے معاذاللہ ثم معاذاللہ 

اس سے واضح ہے اس معاملے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے بے باک تبصرے کرنے والے فہم قرآن و حدیث سے عاری اور خود قرآن و حدیث کے منکر ٹھہرتے ہیں 

 (مضمون کے آخر میں ہم بتائیں گے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی جنگ صفین کے دو طرف کے مقتولین کو جنتی قرار دیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم جہنم کی طرف بلانے والوں کو جنتی ہونے کی گارنٹی عطا فرمائیں) 


اسی طرح سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والے اور ان کے قاتلین حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہ الکریم کے لشکر میں شامل تھے جنہیں حدیث پاک میں منافقین فرمایا گیا ہے.. حدیث پاک ملاحظہ کریں 

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عثمان! اللہ تعالٰی آپ کو خلافت کی قمیص پہنائیں گے، اگر منافق آپ سے وہ قمیصِ خلافت چھیننا چاہیں تو آپ نے اسے اتارنا نہیں، یہاں تک مجھے آ ملو(شہید ہو جاؤ)۔پھر فرمایا : عثمان! اللہ تعالیٰ آپ کو خلعت ِ خلافت پہنائیں گے، اگر منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو آپ نے شہید ہونے تک اسے نہیں اتارنا۔یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔"


(مسند الامام احمد : 24566، وسندہ صحیح)


نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے واضح طور پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو فتنہ کے وقت حق پر ہونے کی بشارت ارشاد فرمائی تھی اور شہادت کو انکے لیے بطور اعزاز ارشاد فرمایا تھا.. سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے دی گئیں انہیں بشارتوں کی وجہ سے جب کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قاتلین اور باغیوں کو جو مدینہ کی حرمت پامال کرنے کے بھی مجرم تھے اور مدینہ منورہ کی حرمت پامال کرنے والوں پر حدیث میں لعنت بھیجی گئی ہے، انہیں باغیوں اور قاتلوں کو سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہ الکریم کے جھنڈے تلے دیکھا تو غلط فہمیوں اور بدگمانیاں کا پیدا ہونا لامحالہ لازم تھا جو کہ جنگ کی صورت اختیار کر گیا. 


صحابی رسول حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم کے لشکر کے  مقابل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں ہونے کی وجہ بیان فرماتے ہوئے کیا فرمایا ملاحظہ فرمائیں 


"حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امیر معاویہ کے لشکر میں تھے پس کعب بن مرہ بہزی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فلاں چیز نہ سنی ہوتی تو آج میں اس مقام پر کھڑا نہ ہوتا پس جب انہوں (حضرت معاویہ) نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر سنا تو لوگوں کو بٹھا دیا اور کہا : ایک دن ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ وہاں سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیدل گزرے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ضرور بالضرور اس جگہ سے جہاں میں کھڑا ہوں ایک فتنہ نکلے گا، یہ شخص اس دن (مسند خلافت پر) ہو گا جو اس کی اتباع کرے گا وہ ہدایت پر ہوگا پس عبداﷲ بن حوالہ ازدی منبر کے پاس سے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تو اس آدمی کا دوست ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! ابن حوالہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا میں اس مجلس میں موجود تھا اور اگر میں جانتا ہوتا کہ اس لشکر میں میری تصدیق کرنے والا کوئی موجود ہے تو سب سے پہلے یہ بات میں ہی کر دیتا۔ اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں اور امام طبرانی نے ’’المعجم الکبير‘‘ میں بیان کیا ہے۔‘‘


الحديث رقم 52 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 236، و الطبراني في المعجم الکبير، 20 / 316، الحديث رقم : 753، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 89، و الشيباني في الأحاد و المثاني، 3 / 66، الحديث رقم : 1381.


جس طرح ان باغیوں اور قاتلوں جن کو احادیث میں منافق اور موجب لعنت فرمایا گیا کہ سیدنا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہ الکریم کے لشکر میں ہونے کی بنا پر سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم کو معتوب نہیں کیا جا سکتا اور نہ معاذاللہ ناحق کہا جا سکتا ہے کیونکہ سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم خلیفہ برحق تھے اور اپنے اس مؤقف پر بھی حق پر تھے کہ باغیوں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی میں قصاص لینے پر باغی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد کسی اور بڑے نقصان کا موجب بن سکتے تھے اس لیے قصاص لینے کو مؤخر فرمایا... 


جبکہ مقابل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فوری قصاص لینے کے اپنے مؤقف کو حق سمجھنے کے باوجود خطائے اجتہادی پر تھے مگر اجتہادی خطا مطلقاً خطا یا گناہ نہیں ہوتی.. 


یہ بھی یاد رہے کہ اسی حدیثِ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ایک راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خود جنگ صفین میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے، چنانچہ امام ابی خیثمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں


"سیدنا ابوھریرۃ صفین میں سیدنا معاویہ کے ساتھ تھے اور فرماتے تھے


کہ اس میں میرے لیے تیر پھینکنا اھل عراق سے زیادہ مجھے محبوب ہے" 


(تاریخ ابن ابی خیثمہ ص 494 حدیث 2028


ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے امت کے سب سے بڑے محدثین صحابہ کرام میں سے ہیں جن سے صحاح ستہ سمیت انکی کم ازکم 5000 احادیث مروی ہیں. 


کیا راوی حدیث خود باغی گروہ کو نہ پہچان سکے؟ 


دل تھام کر سوچیۓ کہ اگر اس مقام پر اہلسنت کا مؤقف نہ اپنایا جائے اور اپنی عقلوں کے گھوڑے دوڑا کر رافضیوں یا ناصبیوں کی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بدگمانی کی جائے تو کیا ہم اپنا ایمان محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہم کذاب راویوں کی جھوٹی کہانیوں پر اعتماد کر کے ایک طرف کو بدگمانی پیدا کر لیں تو سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم سے بدگمان ناصبیوں کو کس منہ سے روکیں گے جو ان کے لشکر میں موجود باغیوں کے سبب انہیں معتوب کرتے ہیں معاذاللہ ثم معاذاللہ. 


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہمیں نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے جو حکم ارشاد فرمایا ہے ملاحظہ کریں 


’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کرام کو برا بھلا کہتے ہیں تو تم کہو : تم پر اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر کی وجہ سے. ایک روایت میں ہے : انہیں لعنت (و ملامت) کرو.‘‘


أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في فضل من رای النّبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 5 / 697، الرقم : 3866، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 397، الرقم : 606، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 190.191، الرقم : 8366.


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مقصد محض اپنی خلافت قائم کرنا نہ تھا بلکہ وہ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے سے افضل اور خلافت کا زیادہ حقدار سمجھتے تھے تاریخ الاسلام میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ


وحدثني يعلى بن عبيد: ثنا أبي قال: قال أبو مسلم الخولاني وجماعة لمعاوية: أنت تنازع عليا هل أنت مثله فقال: لا والله إني لأعلم أن عليا أفضل مني وأحق بالأمر، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، وإنما أطلب بدمه، فأتوا عليا فقولوا له: فليدفع إلي قتلة عثمان وأسلم له، فأتوا عليا فكلموه بذلك، فلم يدفعهم إليه. 


کتاب تاريخ الإسلام - الذهبي - ج 3 - الصفحة 540

ترجمہ:

حضرت ابومسلم خولانی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے اور فرمایا :آپ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے خلافت کے بارے میں تنازع کیوں کرتے ہیں؟ کیا آپ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ جیسے ہیں؟ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نہیں الله کی قسم میں جانتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مجھ سے افضل ہیں اور خلافت کے زیادہ حقدار ہیں لیکن تم نہیں جانتے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو ظلما قتل کردیا گیا؟ اور میں ان کا چچا زاد بھائی ہوں اور ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہا ہوں تم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ وہ قاتلان عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو میرے حوالے کردیں اور میں یہاں کا نظام ان کے سپرد کر دوں گا۔


اس سے پتہ چلا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو محض خلافت سے کوئی غرض نہیں تھی ان کا مطالبہ صرف قتل عثمان کا قصاص لینا تھا اور یہی بات مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مکتوب میں بھی موجود ہے۔


وكان بدء أمرنا أنا التقينا والقوم من أهل الشام. والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان. 


کتاب نهج البلاغة - خطب الإمام علي (ع) - مکتوب 58 - الصفحة 448

ترجمہ:

ہمارے معاملے کی ابتداء یہ ہے کہ ہم شام کے لشکر کے ساتھ ایک میدان میں جمع ہوئے جب کہ بظاہر دونوں کا خدا ایک تھا رسول ایک تھا پیغام ایک تھا نہ ہم اپنے ایمان و تصدیق میں اضافہ کے طلبگار تھے نہ وہ اپنے ایمان کو بڑھانا چاہتے تھے معاملہ بالکل ایک تھا صرف اختلاف خون عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں تھا۔


دوسری بات یہ کہ بخاری شریف میں فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں یہ الفاظ کہ امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائیں گے ایسے الفاظ ہیں کہ جن سے امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ والے گروہ کی بھی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ والے گروہ کے صاحب ایمان ہونے کی خود زبان نبوت نے تصدیق فرما دی اور صلح اور بیعت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کر کے امام حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی تائید مزید فرما دی۔


یہ حدیث شیعہ کتاب كشف الغمة میں بھی موجود ہے


روى عن أبي بكرة قال بينما رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يخطب إذ صعد إليه الحسن فضمه إليه وقال إن ابني هذا سيد وان الله عله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين عظمتين


کتاب كشف الغمة - ابن أبي الفتح الإربلي - ج 2 - الصفحة 320

ترجمہ:

ابی بکرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ ارشاد فرمانے کے دوران یکا یک امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ منبر پر چڑھ گئے تو آپ نے انہیں سینے سے لگایا اور فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور الله اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا


ذرا دل سے پوچھیئے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام ایک صلح کی بشارت ارشاد فرمائیں اور یہ بھی فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ صلح کروائے گا تو کیا کوئی صاحب ایمان نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی بشارت اور اللہ تعالیٰ کے صلح کروانے کو خیر و برکت کے بجائے ظلم و ستم کی نہ ختم ہونے والا سلسلہ سمجھ سکتا ہے؟ 


ہاں اس صلح کو خیر و برکت والا سمجھنے کے لیے ایمان کی شرط لازمی ہے. اس صلح کے بعد مسلمانوں میں کم از کم بیس تک ہر طرح کی خانہ جنگی رک گئی، بے شمار فتوحات ہوئیں، مسلمانوں میں خوشحالی آئی.. امام حسن و حسین  رضی اللہ عنہما بذات خود فتوحات میں شامل ہوئے.


تیسری بات یہ کہ اگر بالفرض اس حدیث کے مطابق حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ باغی ٹھہرے تو پھر امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالی عنہما کی حقانیت کیا رہ جاتی ہے کیوں کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نہ صرف بیعت کی بلکہ انہیں مسلمانوں کا امیر بھی بنا دیا کیا امام حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہما ایک باغی جہنمی کی بیعت کر سکتے ہیں اور انہیں سلطنت دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، اور اگر کوئی رافضی کہے کہ کر سکتے ہیں تو پھر امام عالی مقام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی یزید کی بیعت نہ کرنا اور سارا گھر لٹا دینا چہ معنی دارد؟... کیا یہ حدیث امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کو معلوم نہ تھی جو ان کی بیعت کرلی اور کیا اس حدیث کا مفہوم آج کل کے شیعہ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں یا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ؟ امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر دلائل اور بھی ہیں لیکن اختصار کے طور پر ایک حوالہ رجال کشی کا دے دیتے ہیں


امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے امام حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو مع ساتھیوں کے شام بلایا جب یہ سب آگئے تو


وأعد لهم الخطباء، فقال يا حسن قم فبايع فقام فبايع، ثم قال للحسين عليه السلام قم فبايع فقام فبايع، ثم قال قم يا قيس فبايع فالتفت إلى الحسين عليه السلام ينظر ما يأمره، فقال يا قيس انه امامي يعني الحسن عليه السلام


کتاب اختيار معرفة الرجال (رجال الكشي) - الشيخ الطوسي - ج 2 - الصفحة 104

ترجمہ:

ان کے لیے خطیب مقرر کیے گئے پھر کہا اے حسن رضی اللہ تعالی عنہ اٹھیئے اور بیعت کیجیئے وہ اٹھے اور بیعت کی پھر امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو کہا آپ اٹھیئے اور بیعت کیجیئے تو انہوں نے بھی اٹھ کر بیعت کی پھر قیس کو فرمایا اٹھ کر بیعت کرو اس نے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف نظر کی تاکہ مرضی معلوم کر سکے آپ نے فرمایا اے قیس امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ میرے امام ہیں۔


امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے کے بعد جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ، اپنے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے۔ ایک ہی دن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193)


حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193)


جب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھرپور عزت کرتے ۔ ( ابن کثیر۔ 11/477)


کچھ تواریخ کے مطابق سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے قسطنطنیہ کی طرف روانہ کیے گئے لشکر میں بھی شرکت فرمائی.. 


*یزید پلید کو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وصیت* 


  "اہل عراق حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو تمہارے مقابلے میں لا کر چھوڑ دیں گے . جب وہ تمہارے مقابلے میں آئیں اور تم کو ان پر قابو حاصل ہو جائے تو درگزر سے کام لینا کہ وہ قرابت دار ، بڑے حق دار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عزیز ہیں ۔" (تاریخ طبری ج:٥،ص:١٩٦)

(افسوس صد افسوس وہ ازلی بدبخت پاس نہ رکھ سکا) 


چوتھی اہم بات یہ کہ جس کو خود حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ باغی اور منافق نہ کہیں انہیں آج کل کہ شیعہ کس منہ سے کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے تو انہیں اپنا بھائی کہا ہے


شیعوں کے معروف و معتبر عالم عبداللہ بن جعفر الحمیری اپنی معتبر کتاب "قرب الاسناد" میں بسندِ صحیح روایت کرتا ہے اس سند کے دو راوی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے ہیں خود آئمہ معصومین ہیں اور باقی تین راوی معتبر اور ثقہ شیعہ راوی ہیں جن کو جمہور شیعہ علماء نے ثقہ اور صحیح کہا ہے


جعفر، عن أبيه: أن عليا عليه السلام كان يقول لأهل حربه

إنا لم نقاتلهم على التكفير لهم، ولم نقاتلهم على التكفير لنا، ولكنا رأينا أنا على حق، ورأوا أنهم على حق. 

کتاب قرب الاسناد - الحميري القمي - الصفحة 93


ترجمہ:

امام جعفر عليه السلام اپنے والد امام باقر عليه السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی عليه السلام اپنے مدِمقابل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کی لشکر کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے ان سے لڑائی اس لیئے نہیں کی کہ وہ ہمیں یا ہم ان کو کافر سمجھتے تھے لیکن ہوا یوں کہ انہوں نے اپنے آپ کو اور ہم نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا


جعفر، عن أبيه عليه السلام: أن عليا عليه السلام لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلى الشرك ولا إلى النفاق، ولكنه كان يقول: " هم إخواننا بغوا علينا


کتاب قرب الاسناد - الحميري القمي - الصفحة 94

ترجمہ:

امام جعفر صادق عليه السلام اپنے والد امام باقر عليه السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی عليه السلام اپنے مدمقابل (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں) میں سے کسی کو مشرک یا منافق کی نسبت یاد نہیں کرتے تھے لیکن یوں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی تھے ان سے زیادتی ہو گئی....... واللہ اعلم


*فیصلہ مولا کائنات سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خود فرما دیا*


 صفین کے بعد کچھ لوگوں نے اہلِ شام اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک گشتی مراسلہ اپنے ماتحت علاقہ کے لوگوں کو بھیجا، اور تاکید کی کہ کوئی بھی شخص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کو بُرا بھلا نہ کہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خط میں لکھا کہ''ہمارے معاملے کی ابتداء یوں ہوئی کہ ہمارا اور اور اہل شام (معاویہ  رضی اللہ عنہ )کا مقابلہ ہوا اور یہ بات تو ظاہر ہےکہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہے، ہمارا اوران کانبی ایک ہے، ہماری اور ان کی دعوت ایک ہے، اللہ پر ایمان رکھنے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صدیق کرنے میں دونوں کا برابر ہیں ،صرف خونِ عثمان کے بارے میں ہمارے اور ان کے درمیان میں اختلاف ہوااور ہم اس سے بری ہیں لیکن معاویہ میرے بھائی ہیں ( نہج البلاغہ۱۵۱)اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیاکہ دونوں لشکروں کے مقتولین کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا''قَتْلَانَا وَقَتْلَاهُمْ فِي الْجَنَّةِ''ہمارے اور ان کے لشکر کے مقتولین جنت میں جائیں گے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ، باب ما ذکر فی الصفین ، حدیث نمبر ۳۷۸۸۰)

Wednesday, 1 April 2020

منازل سلوک اور مسئلہ وحدت الوجود و وحدت الشہود

منازل سلوک اور مسئلہ وحدت الوجود و وحدت الشہود

سالکِ راہ خدا چار منازل سلوک کی سیر کی تکمیل کے بعد ولایت سے سرفراز کیا جاتا ہے. ذیل میں ان عوالم کی مختصر تفصیل پیش خدمت ہے.

عالم ناسوت: اسے عالم شہادت بھی کہتے ہیں جس میں اس ظاہری دنیا اور جسمانیت یعنی انفس و آفاق میں رب تعالیٰ کی نشانیوں اور قدرت کی مشاہدہ روحانیت کے مسافر (سالک) کو کرایا جاتا ہے. صوفیاء کرام کے نزدیک جسم انسانی کے اندر ہی ساری کائنات کا نقشہ موجود ہے اور اس عالم کی سیر میں رب العزت کی قدرت اور مشیّت سے ربط کا علم و ادارک سالک حاصل کرتا ہے. یہ سلوک الی اللہ کی پہلی منزل ہے.

عالم ملکوت: عالم  ناسوت کی سیر کی  تکمیل کے بعد سالک علم ملکوت کی سیر شروع کرتا ہے. ملکوت ارواح و ملائکہ کا عالم ہے. ناسوت کو عالم خلق اور ملکوت کو عالم امر بھی کہا جاتا ہے. اس عالم میں سالک انبیاء کرام علیہم السلام، فرشتوں، صالحین کی ارواح سے ملتا اور فیض یاب ہوتا ہے. اس عالم میں روح اور اس سے متعلقہ اسرار و لطائف سالک پر منکشف ہوتے ہیں.

عالم جبروت: یہ عالم رب العالمین کے اسماء و صفات کا ہے. یہاں سالک اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرتا اور صفات و اسماء کے مخلوق کے معاملات سے تعلق اور انکا فیض اس پر منکشف ہوتا ہے.. کس شخص یا شے میں سے کس صفت کا ظہور زیادہ ہے یا کس اسم مبارک سے اسے فیض مل رہا ہے یہ سب اس عالم سے متعلقہ ہے.. یہاں پر سالک کو زبردست روحانی قوت اور تصرف بھی عطا ہوتا ہے مگر منزل مقصود اس سے آگے ہے.. گو کہ یہ عالم عالم لاہوت سے مطلقاً جدا بھی نہیں اور اسکا عین بھی نہیں.

عالم لاہوت: یہ عالم ذات باری تعالیٰ کے وصال و قرب کا ہے. یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر سالک کو ولایت سے نوازا جاتا ہے. اس عالم کی کوئی انتہاء نہیں ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ لامحدود ہے جو اس عالم کی سیر میں جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی اسکے درجات بلند تر ہیں.
اس عالم میں سالک کو فنا فی اللہ اور بقا باللہ سے سرفراز کیا جاتا ہے.

وحدت الوجود اور وحدت الشہود:

وحدۃالوجود کی سادہ اور آسان تعریف کر یں تو اس سے مراد اللہ تعا لی کی یاد میں ایسے  گم ہو جانا ہے کہ سالک کے ذہن و حافظہ و وجدان و مشاہدہ میں سوائے ذات باری تعالیٰ کے کچھ نہ رہے حتی کہ سالک کی اپنی ذات بھی معدوم ہو جائے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جب سورج جلوہ افروز ہوتا ہے تو جاند ستارے غائب ہو جاتے ہیں.

اور وحدۃالشہود سے مراد "ایک دیکھنا ہے"یعنی چاروں طرف" تُو ہی تُو "ہے والا معاملہ ہو جاتا ہے ۔ سالک ہر چیز میں جلوہ باری تعالٰی دیکھا ہے یہاں بھی کیفیت وہی ہے کہ جیسے سورج کی جلوہ افروزی سے چاند ستارے غائب ہو جاتے لیکن سالک کے علم و شعور  میں اشیاء کا وجود باقی رہتا ہے۔

 یعنی وحدۃالوجود میں توحید الہٰی کے غلبہ، سرور کی کیفیات کے دوران میں سالک وجدانی طور پر ذات الہٰی میں ایسا محوو مستغرق ہوتا ہے کہ وجود باری کے علاوہ اور کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور سالک کے قلب و ذہن سے ما سوا اللہ یکسر دور ہو جاتے ہیں اور صرف وجود حق کا ادراک و احساس ہی باقی رہ جاتا ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ وجودی سلوک میں سالک کو کامل محویت و فنا حاصل ہوتی ہے جبکہ شہودی سلوک میں حقیقت اشیاء کا ادراک محو نہیں ہوتا جو کہ ظاہراً صحیح معلوم ہوتا ہے مگر وجودی حضرات کہ یہاں بھی حقیقت اشیاء کا انکار گمراہی ہے.  تخلیق و عنایات الہیہ کا انکار یا حلول و اتحاد کفر خالص ہے اس لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے اختلاف کو  نزاع لفظی کہا ہے جو کہ بہت حد تک درست بات ہے.

یہاں پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ کچھ جہلا و گمراہ لوگ جو وحدت الوجود کی الف ب تک نہیں سمجھتے وہ ہندوانہ و مشرکانہ نظریات کی پیروی کرتے ہوئے ہر شے کو خدا کا ذات کا حصہ یا خدا کو ہر شے میں حلول کیا ہوا جانتے ہیں اور ایسے لوگ اپنے آپ کو شریعت کی پابندیوں یعنی نماز روزہ وغیرہ سے بھی مبرا جانتے ہیں انکا اسلامی تصوف یا مسلمان صوفیاء کے نظریہ  وحدت الوجود سے دور کا بھی تعلق نہیں کیونکہ مسلمان صوفیاء کے  نزدیک خواہ وہ وجودی ہوں یا شہودی ذات باری تعالیٰ وراء الورا ثم وراء الوراء ہے اور خود کو شریعت کی پابندیوں سے آزاد جاننا جو کی پیغمبران عظام کے لیے بھی جائز نہ ہوا، ایسا عقیدہ محض الحاد و زندقہ ہے اسلامی تصوف تو شریعتِ اسلامی کی دل و جان و اخلاص اور کامل  پابندی کرتے ہوئے مرتبہ احسان تک پہنچنے کا نام ہے نہ کہ اطاعت خدا و رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے آزادی کا.

Tuesday, 31 March 2020

شرکیہ فتوؤں کی حقیقت، دعا صرف اللہ ہی سے کا اصل معنی اور استمداد کے دلائل


*دعا صرف اللہ ہی سے کا اصل معنی اور استمداد کے دلائل*
ماہرینِ لغت کہتے ہیں کہ دعا کے معنی عبادت، ندا ، تسمیہ (نام رکھنا) ، سوال ، کلام ، ترغیب اور مدد طلبی کےآتے ہیں
کبھی دعا کا معنی عبادت ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ عز وجل کا یہ فرمان ذی شان ہے:
    اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ (الأعراف194)۔
    ’’ یعنی جن لوگوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی تو ہیں۔‘‘
    اللہ تعالیٰ کا  کلام : لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰھًا(الکہف14)
سیدنا سعید بن مسیب ؓسے اس کی یہ تفسیر منقول ہے: ناممکن ہے کہ ہم اس (اللہ) کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کریں۔
سو کسی بھی معبود کے طور پر  پکارنا عبادت ہے
دعا بمعنی پکارنا (آواز دینا) :دعاکاایک معنی ’’ندا‘‘ یعنی آواز دینا بھی ہے۔اور اسی سے کہتے ہیں ’’دَعاَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ دَعْوًی وَدُعَائً ‘‘یعنی آدمی نے آدمی کو آواز دی۔ (خواہ بلانا کے لیے، متوجہ کرنے کے لیے، سوال کرنے یا مدد طلب کرنے کے لیے.
جیسا کہ ارشاد ہے
’’ لَا تَجْعَلُوْا *دُعَآءَ* الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا‘‘(نور:63)
(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں  ایسا نہ بنالو جیسے تم میں  سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔
اسی لیے (دُعَاۃٌ) ایسے لوگوں کو کہا جاتاہے جو ہدایت یا گمراہی کی طرف لوگوں کو بلائیں۔ اس کا واحد (دَاعٍ)آتاہے۔اور (رَجُلٌ داعِیَۃٌ)  ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو دین کی طرف یا بدعت کی طرف لوگوں کو بلائے۔اس میں (ۃ)مبالغہ کے لیے لگائی گئی ہے۔
نام رکھنا:امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں : کبھی دُعا کا لفظ تسمیہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔مثلا عرب کہتے ہیں:’’ دَعَوْتُ ابْنِي زَیْدًا‘‘  یعنی میں نے اپنے بیٹے کانام زید رکھا۔قرآن مجید میں اس کی مثال درج ذیل آیت میں موجود ہے۔
    اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہ(الأحزاب5)۔
    ’’لے پالکوں کو ان کے باپوں کی طرف نسبت کرکے پکارو ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے۔‘‘
اب دعا کے ان سب معنوں کو ذہن میں رکھیں اور کچھ لوگ جو اپنا من گھڑت بدعتی عقیدہ  ثابت کرنے کے لیے قرآن و حدیث اور لغت (ڈکشنری) سے ہٹ کر دعا کا ایک الگ معنی بیان کرتے ہیں اور  دعا غائب میں پکارنے کو کہتے ہیں یا بغیر اسباب (فوق الاسباب) پکارنے کو کہتے ہیں کی دھوکہ دہی ملاحظہ فرمائیں.
کسی کو بھی معبود سمجھ کر پکارنا خواہ وہ زندہ ہو، مردہ ہو، سامنے ہو یا غائب ہو یہ عبادت ہے. مثلاً زندہ اور سامنے بیٹھے فرعون، شداد، نمرود وغیرہ بادشاہوں جو کہ خدائی کے دعویدار تھے یا آنے والا دجال جو زندہ سلامت سامنے ہو کر خدائی (معبود ہونے) کا دعوی کرے گا (کسی روایت میں نہیں کہ ان بادشاہوں کو غائبانہ پکارا گیا یا دجال کو غائبانہ پکارا جائے گا) ان سب زندہ موجود لوگوں کو پکارنا بالکل ویسا ہی شرک ہے جیسے کسی بت یا دور و نزدیک یا فوت شدہ کو معبود سمجھ کر پکارا جائے...
پھر سے یاد رہے کہ دعا کا  معنی  غائب میں پکارنا نہ قرآن و حدیث میں ہے نہ ہی لغت کے اعتبار سے  صحیح ہے یعنی یہ معنی کرنا عقیدہ کے لحاظ سے بدعت اور شرک کے قریب ہے کہ زندہ موجود باطل معبود کو پکارنا شرک نہ ٹھہرا معاذاللہ ثم معاذاللہ اور لغوی اعتبار سے یہ جہالت اور دھوکہ دہی ہے
*کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غیر اللہ کو پکارنے یا مدد مانگنے کے لیے زندہ مردہ حاضر غائب اسباب بغیر اسباب  کا فرق کرتے تھے؟*
عرفہ کے دن ایک شخص لوگوں سے مانگ رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سنا تو اسے کہنے لگے ” آج کے دن اور اس جگہ تو اللہ کے سوا دوسروں سے مانگتا ہے؟” پھر اسے درے سے پیٹا۔ (احمد بحوالہ مشکوٰۃ باب من لایحل لہ المسئلہ فصل ثالث)
عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ ہم سات آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپ نے فرمایا کہ ” اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ پانچ نمازیں ادا کرو اور اللہ کی فرمانبرداری کرو اور ایک بات چپکے سے کہی کہ ” لوگوں سے کچھ نہ مانگنا۔” پھر میں نے ان میں بعض افراد کو دیکھا کہ اگر اونٹ سے ان کا کوڑا گر پڑتا تو کسی سے سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں پکڑا دے (ابو داؤد، نسائی،کتاب الزکوٰۃ باب النہی عن المسئلہ)
*کس کا عقیدہ قرآن مجید کے مطابق ہے ملاحظہ فرمائیں*
*عقیدہ توحید قرآن کی روشنی میں*
عقیدہ توحید کیوں کہ اسلام کی بنیاد ہے اور اسی پر باقی تمام عقائد و امور کی بنیاد کھڑی ہے لھذا اللہ کریم نے ہر گز توحید و شرک کو ناقابل فہم اور موشگافیوں سے پرُ کر کے بیان نہیں کیا کہ عام آدمی سمجھ ہی نہ سکے۔ قرآن کریم میں واضح ارشاد ہے اللہ کے ساتھ کسی کو بطور الہ یعنی معبود نہ پکارو۔ وَ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۟ کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجۡہَہٗ ؕ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ۔   سورہ القصص 28آیت 88)
اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارنا بجز اللہ تعالٰی کے کوئی اور معبود نہیں ، ہرچیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے، اسی کے لئے فرمانروائی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔
ہمارا عقیدہ قرآن والا ہے الحمدللہ رب العالمین کہ کسی کو بطور معبود پکارنا خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ دور ہو یا نزدیک.. فوق الاسباب ہو یا ما فوق.... مدد کے لیے ہو یا عبادت کے لیے شرک ہے....
قرآن مجید کی روشنی ےہمارا دوسرا عقیدہ
وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (آل عمران:126)
ترجمہ: اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمتوں والا ہے....
ہر مدد اللہ پاک ہی کی مدد ہے اور ہر  مدد  اللہ کے حکم سے ہی وقوع پذیر ہوتی ہے... جو کسی بھی طرح کی مدد کو خاص اللہ کی مدد نہ سمجھے خواہ اسباب سے ملے یا بے سبب.. خواہ کوئی پانی پلائے، روٹی کھلائے دریا میں ڈوبنے سے بجائے یا مافوق الاسباب کرامت کے طور پر کوئی مدد کرے.. اسے اللہ کی مدد نہ سمجھنا شرک ہے
اگر کسی کا عقیدہ ہے کہ پانی دینے والا اللہ کے حکم کے بغیر پانی دے سکتا ہے یا پھر اسکا یہ پانی دینا "باذن اللہ" نہیں ہے تو یہ پانی مانگنا خالص شرک ہے..
کیونکہ مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے ہی ہے..
اللہ کے بندوں کی مدد "باذن اللہ" ہوتی ہے..
اس عقیدہ میں شرک کا شائبہ بھی نہیں ہے الحمدللہ ثم الحمدللہ
قرآن مجید نے خود بندوںوں کی مدد کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو شرک کا الزام دینے والوں کی کمپنی بند کر دی ہوئی ہے... یہ بیچارے  جعلی کمپنی چلا رہے...
فان اللہ ھو مولہ مولاہ وجبریل و صالح المؤمنین والملئکۃ بعد ذلک ظھیر (پارہ 28 سورہ 66 آیت4)
“یعنی رسول کے مددگار اللہ اور جبرئیل اور متقی مسلمان ہیں بعد میں فرشتے ان کے مددگار ہیں۔“
ایک اور جگہ ارشاد ہے۔
انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوٰۃ ویؤتون الزکوٰۃ وھم راکعون (پارہ 6 سورہ 5 آیت55)
“یعنی اے مسلمانوں تمہارا مددگار اللہ اور رسول اور وہ مسلمان ہیں جو زکوٰۃ دیتے ہیں نماز پڑھتے ہیں۔“
ایک جگہ فرشتوں کا قول ارشاد ہوا
نحن اولیاءکم فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ
"ہم تمھارے مددگار ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی"
*کچھ احادیث نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے اختیارات، عطا اور تصرفات کے بارے میں*
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں رہا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاجت اور وضو کے لئے پانی لاتا ایک مرتبہ (میری خدمت سے خوش ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا : ’’مانگ کیا مانگتا ہے‘‘ میں نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) میں آپ سے جنت میں بھی آپ کی رفاقت مانگتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کے علاوہ ’’اور کچھ‘‘ میں نے عرض کیا : مجھے یہی کافی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (جاؤ جنت تو عطا کر دی اب) تم بھی کثرتِ سجود سے اپنے معاملہ میں میری مدد کرو۔‘
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : فضل السجود والحث عليه، 1 / 353، الرقم : 489
حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرا نام رکھو اور میری کنیت (ابو القاسم) نہ رکھو، میں ہی تقسیم کرنے والا ہوں اور میں ہی تم میں تقسیم کرتا ہوں۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں فرمایا : ’’میں قاسم بنا کر ہی بھیجا گیا ہوں اور میں ہی تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔‘‘
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : فرض الخمس، باب : قول اﷲ تعالی : فأن ﷲ خمسه وللرسول، 3 / 1133، الرقم : 2946، ومسلم في الصحيح، کتاب : الآداب، باب : النهي عن التکني بأبی القاسم، 3 / 1682، الرقم : 2133
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میں آپ سے بہت کچھ سنتا ہوں مگر بھول جاتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی چادر پھیلاؤ؟ میں نے اپنی چادر پھیلا دی. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (فضا میں) چُلّو بھر بھر کر اس میں ڈال دیئے اور فرمایا : اسے سینے سے لگالو۔ میں نے ایسا ہی کیا : پس اس کے بعد میں کبھی کچھ نہیں بھولا
أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب : العلم، باب : حفظ العلم، 1 / 56، الرقم : 119، ومسلم فی الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : من فضائل أبی هريرة الدوسی رضی الله عنه، 4 / 1939
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن (تیر لگنے سے) ان کی آنکھ ضائع ہو گئی اور ڈھیلا نکل کر چہرے پر بہہ گیا۔ دیگر صحابہ نے اسے کاٹ دینا چاہا۔ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرما دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اور آنکھ کو دوبارہ اس کے مقام پر رکھ دیا۔ سو حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی آنکھ اس طرح ٹھیک ہو گئی کہ معلوم بھی نہ ہوتا تھا کہ کون سی آنکھ خراب ہے۔‘‘
أخرجه أبو يعلی فی المسند،3 / 120، الرقم : 1549، وأبوعوانة فی المسند، 4 / 348، الرقم : 6929
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو رافع یہودی کی (سرکوبی کے لئے اس) طرف چند انصاری مردوں کو بھیجا اور حضرت عبداﷲ بن عتیک رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا۔ ابو رافع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف پہنچاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (دین کے) خلاف (کفار کی) مدد کرتا تھا اور سر زمین حجاز میں اپنے قلعہ میں رہتا تھا۔۔۔ (حضرت عبداﷲ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے ابو رافع یہودی کے قتل کی کارروائی بیان کرتے ہوئے فرمایا :) مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ پھر میں نے ایک ایک کر کے تمام دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ زمین پر آرہا۔ چاندنی رات تھی میں گر گیا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی تو میں نے اسے عمامہ سے باندھ دیا ۔۔۔ پھر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ عرض کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پاؤں آگے کرو۔ میں نے پاؤں پھیلا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر دستِ کرم پھیرا تو (ٹوٹی ہوئی پنڈلی جڑ گئی اور) پھر کبھی درد تک نہ ہوا۔‘‘
أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب : المغازی، باب : قتل أبی رافع عبداﷲ بن أبی الحُقَيْقِ، 4 / 1482، الرقم : 3813
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز شہدائے اُحد (کے مزارات پر) نماز پڑھنے کے لئے تشریف لے گئے جیسے میت پر نماز پڑھی جاتی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا : بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ بیشک خدا کی قسم! میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا : روئے زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور خدا کی قسم مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔‘‘
أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : الصلاة علی الشهيد، 1 / 451، الرقم : 1279، وفي کتاب : المغازي، باب : أحد يحبنا ونحبه، 4 / 1498، الرقم : 3857
*زمین اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ہے*
اسلموا تسلموا واعلموا ان الارض لله ورسوله، وإني اريد ان اجليكم من هذه الارض فمن يجد منكم بماله شيئا فليبعه، وإلا فاعلموا ان الارض لله ورسوله".
  نبی کریم صلی  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (یہود) سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے اور سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اور اس کے رسول کی ہے۔ اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس ملک سے نکال دوں، پھر تم میں سے اگر کسی کی جائیداد کی قیمت آئے تو اسے بیچ ڈالے۔ اگر تم اس پر تیار نہیں ہو، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ہی کی ہے۔
بخاری، حدیث نمبر: 3167,
باب: یہودیوں کو عرب کے ملک سے نکال باہر کرنا۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا عَائِشَةُ لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِي جِبَالُ الذَّهَبِ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عائشہ اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں
مشکوۃ المصابيح ،حدیث نمبر 5835
*اپنے چچا ابو طالب کو نفع پہنچانا*
حدثنا ابن ابي عمر ، حدثنا سفيان ، عن عبد الملك بن عمير ، عن عبد الله بن الحارث ، قال: سمعت العباس ، يقول: قلت: " يا رسول الله، إن ابا طالب كان يحوطك وينصرك، فهل نفعه ذلك؟ قال: نعم، وجدته في غمرات من النار فاخرجته إلى ضحضاح ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے سنا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ابو طالب، آپ کا بچاؤ کرتے تھے، اور آپ کی مدد کرتے تھے، آپ کے لئے لوگوں پر غصہ کرتے تھے، تو ان کو کچھ فائدہ ہوا ان باتوں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں میں نے ان کو سخت انگار میں پایا تو میں نکال لایا ان کو ہلکی آگ میں۔“
( صحيح مسلم - كتاب الإيمان - باب شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ - حدیث نمبر: 511)
*نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کو تین دن کی دوری سے مدد پکارا گیا اور آپ نے جواب ارشاد فرمایا*
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو خانے میں تین مرتبہ لبیک کہا اور تین مرتبہ نصرت (تیری اور تین مدد کی گئی ) کہا۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا ہے، گویا آپ کسی انسان سے گفتگو کر رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپ نے فرمایا : یہ بنو کعب کا رجز خواں مجھے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنو بکر کی مدد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ نے صحابہ کرام کو صبح کی نماز پڑھائی تو میں نے سنا کہ رجز خواں یہ اشعار پیش کر رہا تھا“ (المعجم الكبير للطبراني: 433/23، 434، ح:1052،، المعجم الصغير للطبراني: 167/2، ح:968، المخلصيات:1331، دلائل النبوة لابي القاسم الؤصبھاني:59)
یہ روایت بانی فرقہ محمد بن عبدالوہاب نجدی کے بیٹے عبداللہ نجدی نے اپنی کتاب *مختصر سیرت الرسول" میں بھی لکھی ہے اگر دور سے مدد کے لیے پکارنا شرک ہے تو وہابیوں کے امام نے شرکیہ روایت کیوں لکھی اور وہابی مکتبہ فکر نے یہ کتاب چھاپ کر مفت کیوں تقسیم کی؟
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا انفلتت دابة أحدكم بأرض فلاة فليناد : يا عباد الله ! احبسوا علي، يا عباد الله ! احبسوا علي، فإن لله في الأرض حاضرا، سيحبسه عليكم.
’’جب تم میں سے کسی کی سواری جنگل بیابان میں چھوٹ جائے تو اس شخص کو یوں پکارنا چاہیے : اے اللہ کے بندو ! میری سواری کو پکڑا دو، اے اللہ کے بندو ! میری سواری کو پکڑا دو، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے بہت سے بندے اس زمین میں ہوتے ہیں، وہ تمہیں (تمہاری سواری) پکڑا دیں گے۔ “ (المعجم الكبير للطبراني : 217/10، ح10518، واللفظ له، مسند أبي يعلي : 177/9، ح5269، عمل اليوم والليلة لابن السني : 509)
حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی حِصنِ حَصِین کی شَرْح،  ’’  اَلْحِرْزُالثَّمِین ‘‘  صفحہ 254 پر فرماتے ہیں : ’’  (یہاں )  بندوں  سے یا تو فِرِشتے یا مسلمان جِنّ یا رِجالُ الغیب یعنی اَبدال مُراد ہیں۔ ‘‘
علم حدیث کے بڑے امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اس کتاب حصن حصین کے پڑھنے کی اجازت امام جزری رحمہ اللہ سے لی تھی، کیا وہ غیر اللہ وہ مدد کے لیے پکارنے کے شرک ہونے سے واقف نہ تھے؟
شارِحِ مسلم حضرتِ سیِّدُناامام نَوَوِی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں  : میرے ایک استاذِ محترم جو کہ بَہُت بڑے عالِم تھے ،  ایک مرتبہ ریگستان میں  ا ن کی سُواری بھاگ گئی، اُن کو اِس حدیثِ پاک کا عِلْم تھا، اُنہوں  نے یہ کلمات کہے (یعنی دو بار کہا:یَاعِبَادَ اللہِ اِحْبِسُوْایعنی اے اللہ کے بندو!  اسے روک دو ) تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے اُس سُواری کو اُسی وَقْت روک دیا۔  (الاذکار صفحہ 181)
ابان بن صالح بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا نفرت دابة أحدكم أو بعيره بفلاة من الأرض، لا يري بھا أحد، فليقل : أعينوني عبادالله ! فإنه يستعان.
’’جب تم میں سے کسی کا جانور یا اونٹ صحرا میں بھاگ جائے اور وہ دکھائی نہ دے پا رہا ہو تو اس شخص کو کہنا چاہیے : اے اللہ بندو ! میری مدد کرو۔ یوں اس کی مدد کی جائے گی۔ “ (مصنف ابن أبي شيبه : 132/7)
عتبہ بن غزوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا أضل أحدكم شيئا أو أراد أحدكم عونا، وھو بأرض ليس بھا أنيس، فليقل : يا عباد الله أغيثوني، يا عبادالله أغيثوني، فإن لله عبادا لا نراھم، وقد جرب ذلك . ’’جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے یا تم میں سے کسی کو مدد چاہیے ہو اور وہ ایسی جگہ میں ہو جہاں اس کا کوئی مددگار نہ ہو، تو اسے یہ کہنا چاہیے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو، اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔ يقيناً اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں جنہیں ہم دیکھ نہیں سکتے اور یہ تجربہ شدہ بات ہے۔“ (المعجم الكبير للطبراني 118/17، 117)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن لله ملائكة في الأرض سوی الحفظة، يكتبون ا سقط من ورق الشجر، فإذا أصاب أحدكم عرجة بأرض فلاة، فليناد : أعينوا عبادالله.
’’زمین میں حفاظت والے فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہوتے ہیں جو درختوں کے گرنے والے پتوں کو لکھتے ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو ویرانے میں چلتے ہوئے پاؤں میں موچ آ جائے تو وہ کہے : اللہ کے بندو ! میری مدد کرو۔“ (كشف الأستار عن زوائد البزار:3128/1، وسنده حسن)
الله کےنبی محمد صلی الله تعالی عليه وآله وسلم نے فرمایا جب کسی مشکل میں مدد کی حاجت ہو تین بار کہے:
یا عِبَادَاﷲِ اَعِیْنُوْنِیْ
اے الله کے بندو! میری مدد کرو، غیب سے مدد ہوگی
(مجمع الزوائد باب مایقول اذا انفلتت دابته الخ 10 /132)
(کنزالعمال بحوالہ طب عن عتبہ بن غزوان حدیث (17498 6 /709)
صاف صاف نبی صلی الله تعالی عليه وآله وسلم نے الله کے بندوں سے مدد مانگنےنے کا حکم دیا
کیا اب نبی پر بھی شرک کا فتوی لگائیں گے
جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ فوج کی تعداد ساٹھ ہزار تھی، جبکہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ مقابلہ بہت شدید تھا۔ ایک وقت نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مسلمان مجاہدین کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سپہ سالار تھے۔ انہوں نے یہ حالت دیکھی تو : ونادي بشعارھم يومئذ، وكان شعارھم يومئذ: يا محمداه! ”انہوں نے مسلمانوں کا نعرہ بلند کیا۔ اس دن مسلمانوں کا نعرہ یا محمداہ تھا۔“ (تاریخ طبری:181/2، البدایہ والنھایہ لا بن كثير:324/6)
سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب بن ضمرہ رضی اللہ عنہ کو ایک ہزار افراد کے ہمراہ حلب کا جائزہ لینے کے لیے روانہ کیا۔ جب وہ حلب کے قریب پہنچے تو یوقنا پانچ ہزار افراد کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ مسلمان جم کر لڑنے لگے۔ اتنے میں پیچھے چھپے ہوئے پانچ ہزار افراد کے لشکر نے حملہ کر دیا۔ اس خطرناک صورت حال نے مسلمانوں کو بےحد پریشان کر دیا۔ سیدنا کعب بن ضمرہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھامے ہوئے بلند آواز سے پکارا : يا محمد، يا محمد، يا نصر الله، انزل! ’’اےمحمد ! اےمحمد ! اے اللہ کی مدد، اتر آ۔“ ( فتوح الشام لمحمد بن عمر الواقدي:196/1،طبع مصر:1394)
سیدنا امام  حسین رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنھا نے کہا : اے بہت ہی تعریف کیے ہوئے (یامحمداہ ! امداد، امداد. اللہ تعالیٰ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے اور آسمانی فرشتے دور بھیجیں۔ حسین رضی اللہ عنہ میدان میں ہیں، خون میں نہائے ہوئے، اعضاء کٹے ہوئے۔ یامحمد ! امداد. آپ کی بیٹیاں حراست میں ہیں۔ آپ کی اولاد شہید کر دی گئی ہے۔ باد صبا ان پر مٹی اڑا رہی ہے۔ ( البدایہ والنھایہ لا بن كثير:193/8)
کیا اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارنے کے لیے غائب حاضر زندہ مردہ کی شرط قرآن و حدیث میں موجود ہے؟
وہابیوں کے امام شوکانی کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن
يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ.
’’بیشک جن (بتوں) کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس (کام) کیلئے جمع ہوجائیں۔‘‘
سورۃ الحج، 22 : 73
(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) والمراد بما يدعونه من دون اﷲ : الاصنام التی کانت حول الکعبة و غيرها.
و قيل المراد بهم السعادة الذين صرفوهم عن طاعة اﷲ لکونهم أهل الحل والعقد فيهم.
و قيل الشياطين الذين حملوهم علي معصية اﷲ، والأول أوفق بالمقام و أظهر في التمثيل.
شوکاني، فتح القدير، 3 : 429
’’اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ سے مراد ایک تو وہ بت ہیں جو کعبۃ اﷲ کے ارد گرد تھے یا اس کے علاوہ دیگر بت جن کی مشرکین اﷲ کے سوا عبادت کرتے تھے۔
دوسرا یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے وہ سردار اور وڈیرے مراد ہیں جنہوں نے لوگوں کو اﷲ کی اطاعت سے روکا کیونکہ وہی ان کے ارباب بست و کشاد تھے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے مراد وہ شیاطین ہیں جنہوں نے ان کو اﷲ کی معصیت پر ابھارا۔ مذکورہ معانی میں سے پہلا معنی مقام و محل اور تمثیل کے اعتبار سے زیادہ موافق ہے۔‘‘
شوکانی نے واضح کر دیا کہ  پکارنے کی یہ آیت موقع و محل کے لحاظ سے بتوں پر ہی منطبق ہوتی ہے مگر اس سے مراد زندہ سردار یا شیاطین بھی ہو سکتے ہیں.
ان سب اور اس جیسے بہت سارے دلائل کے ساتھ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں سے (بندے سمجھتے ہوئے) مدد مانگنا جائز ہے کوئی فرض واجب یا اسلام کا بنیادی عقیدہ نہیں لیکن فریق مخالف اسے اسلام کا بنیادی عقیدہ بتاتا ہے یعنی اسے توحید و شرک کے طور پر لیتا ہے لیکن ان کے پاس قرآن و حدیث بلکہ لغت (ڈکشنری) سے بھی کوئی ایک دلیل ثابت نہیں کہ غائب یا دور والے یا وصال شدہ کو پکارنا حرام یا شرک ہو بلکہ کمال بے باکی سے کفار و مشرکین والی آیات مسلمانوں پر چسپاں کر کے اپنی خارجیت کا اظہار کرتے ہیں
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما انہیں (خوارج کو) بدترین مخلوق سمجھتے تھے اور فرماتے تھے : یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق اہلِ ایمان پر کرتے ہیں۔ (1-بخاري، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين و المعاندين و قتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين، 6 : 2539)
،(2. ابن عبد البر، التمهيد، 23 : 335)، (3. ابن حجر عسقلاني، تغليق التعليق، باب قتل الخوارج والملحدين، 5 : 259)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خوارج کو اس لئے اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے کہ وہ ان آیات کو جو کفار و مشرکین کے حق میں نازل ہوئی تھیں، اہلِ ایمان پر منطبق و چسپاں کرکے انہیں کافر و مشرک ٹھہراتے تھے۔ اس لئے آیات اور الفاظِ قرآنی کا اصل مورد و محل جانے بغیر انہیں اس طرح بے باکی کے ساتھ ہر جگہ استعمال کرنا بذاتِ خود ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔ قرآن کے ہر طالب علم کا اس گمراہی سے بچنا ضروری ہے.
"حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے قرآن پڑھا یہاں تک کہ جب اس پر اس قرآن کا جمال دیکھا گیا اور وہ اس وقت تک جب تک اﷲ نے چاہا اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا تھا۔ پس وہ اس قرآن سے دور ہو گیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا اور اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا اور اس پر شرک کا الزام لگایا" راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا،اے اﷲ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم !  ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب تھا؟ جس نے الزام لگایا یا جس پر شرک کا الزام لگایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرک کا الزام لگانے والا۔ (الحديث رقم 25 : أخرجه ابن حبان في الصحيح، 1 / 282، الرقم : 81، والبزار في المسند، 7 / 220.)
اللہ پاک اس دور فتن میں ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور قرآن و سنت کے اصل راستہ پر ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے. آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ و سلم

وہابیوں کے قبور اور اہل قبور کے بارے میں گمراہ کن نظریات کا تحقیقی جائزہ

*وہابیوں کے قبور اور اہل قبور کے بارے میں گمراہ کن نظریات کا تحقیقی جائزہ*

شدت پسند وہابی مبلغین کو اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مسلمانوں پر شرک کے جھوٹے الزام کو ثابت کرنے کے لیے قبروں کو بت اور اہل قبور کو پتھروں کی طرح بے شعور ثابت کرنے کے لیے  قرآن و حدیث کی باطل تاویلات کرتے ہیں اور کچھ کم علم انکے دام فریب کا شکار ہو کر اپنے ایمان کا بیڑہ غرق کر بیٹھتے ہیں. مندرجہ ذیل سطور میں ہم  انکے اس دجل و فریب کا پردہ چاک کریں گے. ان شاءاللہ

*کیا نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے مسلمانوں کی قبریں گرانے کا حکم دیا تھا ؟*

امام  بخاری رحمہ اللہ نے بخاری شریف جلد اول میں ایک باب باندھا *’’باب ہل ینبش قبور مشرکین الجاہلیۃ‘‘*
ترجمہ: کیا مشرکین زمانہ جاہلیت کی قبریں اکھیڑ دی جائیں؟۔

 امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین (مسلمانوں) کے سوا ساری قبریں ڈھائی جائیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کی قبریں ڈھانے (مٹانے) میں ان کی توہین ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے جو  باب باندھا ہے اور ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی وضاحت سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قبریں اکھاڑنے کا جو حکم نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے دیا وہ کفار و مشرکین کی قبروں کے لیے تھا نہ کہ مسلمانوں کی قبروں کے لیے کیونکہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے دفن میں سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم خود شرکت فرماتے تھے، نیز صحابہ کرام علیہم الرضون کوئی کام سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے مشورے کے بغیر نہ کرتے تھے لہذا اس وقت جس قدر مسلمانوں کی قبریں بنیں، وہ یا تو سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی موجودگی میں یا آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی اجازت سے بنیں تو وہ کون سے مسلمانوں کی قبریں تھیں جوکہ ناجائز بن گئیں اور ان کو برابر کرناپڑا؟ ہاں البتہ غیر مسلموں، مشرکین و یہود وغیرہ کی قبریں اونچی ہوتی تھیں جس کو مٹانے کا حکم سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو دیا.
ستم دیکھیے کہ بات اس قدر واضح ہونے کے باوجود خوارج کی نسل آل سعود و وہابیہ نے قبور کو گرانے والی روایت کو صحابہ کرام و اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قبور پر منطبق کر کے ان پر بلڈورز چلا دیئے معاذاللہ اور اس حرام عمل کو سنت کا احیاء قرار دیا معاذاللہ حالانکہ اسلامی شریعت میں قبر کا بہت زیادہ احترام  کیا جاتا ہے، اس لئے شرعی طور پر قبروں کی اہانت، اور قبروں کیساتھ زیادتی  جائز نہیں ہے، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے قبر پر بیٹھنے کو شدت کیساتھ حرام قرار دیا ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (ایک آدمی دہکتے ہوئے انگارے پر بیٹھ  جائے جو اسکے کپڑے جلا کر اسکی جلد بھی جلا دے، یہ اسکے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے) (صحیح مسلم حدیث 971)

امام حاکم علیہ الرحمہ و امام طبرانی علیہ الرحمہ، حضرت عمارہ بن حزم رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے مجھے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا اور قبر والے! قبر سے اُتر آ، نہ تو قبر والے کو ایذا دے نہ وہ تجھے
( طبرانی و حاکم)

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ قبور پر عمارت  تعمیر  کرنے کے حوالے سے قرآن و احادیث میں ہمیں کیا ذکر ملتا ہے.

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے
 وَکَذَلِکَ اَعثَرْنَا عَلَیْہِمْ لَِیَعْلَمُوا اَنَّ وَعْدَ اللّہِ حَقٌّ وَاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیْبَ فِیْھَا اِذْ َتَنَازَعُونَ بَیْنُمْ اَمْرَہُمْ فَقَالُوْا ابنُوْا عَلَیِْھِم بُنْیَانًا رَّبَُّھُم اَعْلَمُ بِِھِمْ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوا عَلَیٰ اَمرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی کہ لوگ جان لیں کہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں۔ جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بنائو ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے۔ وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے، قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے
(سورۂ کہف، آیت 21، پارہ 15)

اگر مزار اولیاء تعمیر کرنا حرام و شرک و بدعت ہوتا تو کیا قرآن اس واقعہ کو بیان کر کے اسکی مذمت نہ  کرتا اور اسے اصحاب کہف رضی اللہ عنہم کے فضائل میں بیان کرتا؟
سب کو معلوم ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر مبارک امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے حجرہ مبارک میں بنائی گئی اور فقط نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی نہیں بلکہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کی قبور بھی. اگر قبر کے اوپر عمارت ناجائز ہوتی تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے نا آشنا تھے. حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم جنہوں نے خود نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی تجہیز و تکفین کے معاملات کیے وہ اس حکم کو بھول گئے تھے کہ قبور کو برابر کر دو جبکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر مبارک عمارت کے اندر گوہان نما بنائی گئی..
اگر یہ جائز نہ تھا تو صحابہ کرام علیہم الرضوان اس کو گرا دیتے  مگر یہ نہ کیا بلکہ قاطع شرک و بدعت حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کے گرد کچی اینٹوں کی گول دیوار کھینچوادی پھر صحابی رسول حضرت عبداﷲ ابن زبیر رضی اﷲ عنہ نے تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں اس عمارت کو نہایت مضبوط بنایا اور اس میں پتھر لگوائے۔
’’بخاری  کتاب الجنائز باب ماجاء فی قبر النبی و ابی بکر و عمر‘‘ میں ہے کہ ولید ابن عبدالملک کے زمانے میں روضہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی ایک دیوار گر گئی تو ’’اخذوفی بنائہ‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان اس دیوار کے بنانے میں مشغول ہوگئے۔

بخاری جلد اول کتاب الجنائز اور مشکوٰۃ باب البکا علی المیت میں ہے کہ حضرت امام حسن مثنی بن حسن ابن علی رضی اﷲ عنہم کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا۔
یہ بھی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں ہوا مگر کسی نے اس کا انکار نہ کیا۔

بخاری کتاب الجنائز باب الجرید علی القبر میں تعلیقًاہے حضرت خارجہ فرماتے کہ ہم زمانہ عثمانی میں تھے اور ہم سے بڑا پھلانگنے والا وہ تھا جو عثمان ابن مظعون کی قبر کو پھلانگ جاتا تھا
۔معلوم ہوا کہ وہ قبر اتنی اونچی بنائی گئی تھی جسے پھلانگنا دشوار تھا اوریہ قبر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنائی تھی۔  مشکوٰۃ شریف میں حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ابن مظعون کی قبر کے سرہانے کی طرف پتھر نصب کیا تھا ۔افسوس نجدیوں نے حرمین طیبین میں صحابہ کبار،اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قبروں کو تو گرایا مگر اسی علاقہ میں امریکن تیل کمپنی جس کا ٹھیکہ نجدیوں نے امریکہ کو دیا ہے ان کے فوت شدہ انگریزوں کی بڑی بڑی اونچی ہیں مگر ہاتھ نہ لگایا یعنی جن کے لیے حدیث تھی ان پرعمل نہ کیا گیا مسلمانوں کی قبروں پر یہ ستم کیا گیا۔
بخاری بخاری کی رٹ لگانے والے وہابیوں خارجیوں کے رد کے لیے فقط بخاری شریف کا باب الجنائز ہی کافی ہے

اب آئیے ان احادیث کی وضاحت کی طرف جن میں قبر کو پختہ بنانے اور ان پر تعمیرات سے منع فرمایا ہے.
قبر میں تین چیزیں ہیں:ایک اس کا اندرونی حصہ جو میت کے جسم سے ملا ہوا ہوتاہے اسے پختہ کرنا،وہاں لکڑی یا پکی اینٹ لگانا مطلقًا ممنوع ہے خواہ ولی کی قبر ہو یا عام مسلمان کی،جسم میت مٹی میں رہناچاہئیے حتی کہ اگر کسی وقت مجبورًا میت کو تابوت یا صندوق میں دفن کرنا پڑے تب بھی اس کے اندرونی حصے میں مٹی سے کہگل کردی جائے۔ باہر کے حصہ کو بھی اوپر سے خالی رکھا جائے مگر قبر کے مٹ جانے کے خدشہ کے سبب اطراف سے پختہ کیا جا سکتا ہے. اس کے علاوہ جہاں قبور ہوں وہاں تعمیرات کرنا یعنی انکے اوپر مکان، دکان یا کوئی اور عمارت نہ بنائی جائے یہ سب کے نزدیک متفقہ ہے کہ قبر یا قبرستان پر تعمیرات کرنا جائز نہیں مگر جیسا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبور کے اوپر عمارت تھی اسے ناجائز اور حرام و بدعت کہنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کو معاذاللہ الزام دینا اور انہیں بدعتی قرار دینا ٹھہرتا ہے.

کچھ لوگ جو گنبد خضرا اور اولیاء کرام کے مزارات پر گنبد کو بدعت کہتے ہیں ان سے عرض ہے کہ گنبد اور مینار  صرف مزارات پر ہی نہیں بلکہ مسجدوں پر بھی اسی طرح بعد کے زمانے میں رائج ہوئے تو پہلے مسجد میں جس گنبد کے نیچے بیٹھ کر مزار کے گنبد کے خلاف فتوے دے رہے ہیں اسکی طرف بھی سر اٹھا کر دیکھ لیں شاید ضمیر انگڑائی لے لے.

*مشتری ہشیار باش*
آپ نے اکثر شرک سازوں سے سنا ہو گا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں کو *سجدہ گاہ*  بنا لیا اسکے بعد وہ مسلمانوں پر یہود و نصاریٰ کی پیروی کا الزام لگاتے ہیں.
 پہلے حدیث مبارکہ کے عربی الفاظ اور اسکا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں

"لَعْنَةُ الله على اليهود والنصارى، اتخذوا قبور أنبيائهم *مساجد*" متفق علیہ
 ’’یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو *مساجد* بنالیا۔‘‘

*یہود و نصاری نے قبروں کو مساجد بنا لیا..*
 ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اپنی شرح بخاری میں فرماتے ہیں کہ یہود و نصاری اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں پر مسجدیں بناتے اور انکو قبلہ بنا کر انکی  طرف نماز پڑھتے تھے.

عربی عبارت غور سے پڑھیں کہ انہوں نے *مساجد* بنا لیا... کیا یہ شرک ساز *مساجد* کا باقی جگہ بھی ترجمہ *سجدہ گاہ* ہی کرتے ہیں؟ یہاں لفظ مسجد کیوں استعمال نہیں کرتے؟.. کیونکہ مسجد کہیں تو سب کہیں گے کہ مسلمانوں نے تو قبروں کو مسجدیں نہیں بنایا... مگر سجدہ گاہ ترجمہ کر کے فراڈ کرنا ان شرک سازوں کو ہی زیب دیتا ہے.  قبر یا غیر اللہ کو سجدہ کرنا بالاتفاق حرام ہے اور عبادت کی نیت سے صاف شرک ہے مگر جن کیفیات مثلاً قبر کو بوسہ دینے یا بغیر سجدہ کی حالت بنائے عقیدت یا محبت سے سر یا رخسار کو قبر سے مس کرنے کو بھی  یہ شرک ساز *سجدہ* اور شرک تک بنا دیتے ہیں حتی کہ ایسی کیفیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے.

*شرک سازوں کے نزدیک*
*صحابی رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم  شرک اور قبر کو سجدہ کے مرتکب ہوئے..*

حضرت داؤد بن صالح سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز خلیفہ مروان بن الحکم روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے اسے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ تو یہ کیا کر رہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ وہ *حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ* ہیں، انہوں نے جواب دیا :

نَعَمْ، جِئْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ لَمْ آتِ الْحَجَرَ.

’’ہاں (میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں)، میں اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں کسی *پتھر* کے پاس نہیں آیا۔‘‘

1. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 422
2. حاکم، المستدرک، 4 : 560، رقم : 8571
3. طبراني، المعجم الکبير، 4 : 158، رقم : 3999
امام احمد بن حنبل کی بیان کردہ روایت کی اِسناد صحیح ہیں۔ امام حاکم نے اسے شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام ذہبی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

*کیا فوت شدہ اور  اہل قبور بتوں کی طرح بے شعور ہوتے ہیں؟*
وہابی حضرات اکثر بتوں اور پتھروں والی آیات اہل قبور پر لگاتے ہیں مگر تفسیر ابن کثیر جو انکے یہاں سب سے معتبر ہے سمیت اکابرین مفسرین میں سے کوئی بھی انکے اس مؤقف کی تائید نہیں کرتا. بتوں کے بارے میں نازل ہونے والی ایک آیت جو یہ لوگ شد و مد سے اہل قبور پر لگاتے ہیں اسکی تفسیر ملاحظہ کیجئے
أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
21 النحل
تفسير بن كثير
تفسیر ابن کثیر بمعہ شان نزول
وقوله : ( أموات غير أحياء ) أي : هي جمادات لا أرواح فيها فلا تسمع ولا تبصر ولا تعقل .
اللہ کا قول *(مردہ ہیں ان میں زندگی نہیں)*
: *"یہ پتھر ہیں ان میں روح نہیں، سن نہیں سکتے، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ شعور رکھتے ہیں"*
یہی تفسیر شان نزول کے مطابق سب امہات تفاسیر مثلا تفسیر طبری، قرطبی، جلالین وغیرہ میں بیان ہوئی  ہے مگر وہابی  اسے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام اور صالحین پر منطبق کرتے ہیں معاذاللہ.

اب ہم احادیث کی روشنی میں انکے گمراہ عقیدہ کی جانچ کرتے ہیں
حدیث پاک میں ہے کہ
"مردے کو اِس بات کی پہچان ہوتی ہے کہ اُسے کون غسل دے رہا ہے اور کون اس کو اُٹھا رہا ہے نیز اسے قبر میں کون اُتارتا ہے ۔"    (مُسْنَد اِمام اَحمَد بن حنبل، حدیث 10997 )

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور لوگ اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اس وقت اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد آگے بڑھائے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے کہ ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس کی یہ آواز انسان کے سوا ہر اللہ کہ مخلوق سنتی ہے۔ کہیں اگر انسان سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔"
بخاری کتاب الجنائز.. حدیث 1316

 نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے مقتول کافروں سے پکارکرفرمایا کہ "بولو میرے تمام فرمان سچے تھے یا نہیں"۔ فاروق اعظم نے عرض کیا کہ بے جان مردو مں سے آپ کلام کیوں فرماتے ہیں تو فرمایا "وہ تم سے زیادہ سنتے ہیں" ۔ (صحیح البخاری،کتاب الجنائز، باب فی عذاب القبر، الحدیث1370

*روح کا بدن میں لوٹایا جانا*

"قبر میں مردے کی روح اسکے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟"
ابوداؤد، حدیث 4753

*مردہ لواحقین کی جوتوں کی آواز سنتا ہے*
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفن کر کے اس کے لوگ پیٹھ موڑ کر رخصت ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے"
صحیح بخاری
كتاب الجنائز، حدیث نمبر: 1338

*سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا عقیدہ*
 "حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں اس مکان میں جہاں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد گرامی مدفون ہیں جب داخل ہوتی تو یہ خیال کرکے اپنی چادر (جسے بطور برقع اوڑھتی وہ) اتار دیتی کہ یہ میرے شوہرِ نامدار اور والدِ گرامی ہی تو ہیں لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا تو اللہ کی قسم میں عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے بغیر کپڑا لپیٹے کبھی داخل نہ ہوئی۔‘‘
(مسند أحمد 25132،رجال الصحيح)
اس صحیح روایت سے عیاں ہے کہ اہل قبور صاحب شعور ہوتے ہیں اور قبر پر آنے والے کو دیکھتے پہچانتے بھی ہیں ورنہ امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بعد وفات پردہ کیا معنی رکھتا ہے.

*انبیاء کرام علیہم قبور میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں*
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی قبر کے پاس گذرا(تو میں نے دیکھا کہ)وہ اپنی قبر میںکھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے(صحیح مسلم ،کتاب الفضا ئل،باب من فضائل موسیٰ علیہ السلام ، حدیث :2375۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ:الانبیاء أحیاء فی قبورھم یصلون۔انبیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔
(حیاۃ الانبیاء للبیہقی،ص:70؍حدیث:1)


*قبر سے تلاوت کی آواز*
 "عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے ، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ " تبارك الذي بيدہ الملك" پڑھ رہا تھا ، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا ، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے ۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ " تبارك الملك" پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ آپ نے فرمایا :  "ہي المانعۃ ” یہ سورۃ مانعہ ہے ، یہ نجات دینے والی ہے ، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“
سنن ترمذی -کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل --- باب : سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان ۔حدیث نمبر: 2890

 مندرجہ بالا سب روایات واضح کرتی ہیں کہ قبور اور اہل قبور کے بارے میں وہابیہ کا نظریہ کہ قبور بتوں کی مانند ہیں اور اہل قبور پتھروں کی طرح بے شعور ہیں  بدعت اور گمراہی پر مبنی ہے مگر ڈھٹائی سے خوارج کی طرح بتوں والی آیات مسلمانوں اور اہل قبور پر چسپاں کر کے خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں.

مقتتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ یا سورت پڑھنا کیسا


 مقتدی کا امام کے پیچھے قرات کرنا کیسا؟
ارشاد ربانی ہے’’اذا قری القرآن فا ستمعو الہ و انصتو ا لعلکم تر حمون‘‘ (سورہ الاعراف،آیت:204)جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور چپ رہو،تاکہ تم رحم کئے جاؤ۔
آیت کی تفسیر: حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جو جلیل القدر صحابی تھے انہوں نے آیت مذکورہ کو اس بات کی دلیل کے طورپر ذکر فرمایا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی قرأت نہ کرے ، نہ سورہ فاتحہ نہ ہی کوئی اور سورہ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ذکر کی ہے کہ ’’ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو امام کے پیچھے کچھ لوگوں کو قرأت کرتے ہوئے سنا ۔ جب امامت سے فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم سمجھو اور سوچو؟ جب قرآن پڑھاجائے تو اسے دھیان سے سنو اور چپ رہو پھر انہوں نے آیت مذکورہ کی تلاوت کی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے۔
(تفسیر ابن کثیر )

رسول اللہ ﷺ  فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنی صفیں درست کر لو پھر تم میں سے ایک آدمی امامت کرے جب امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو اور جب قرأت کرے تو تم چپ رہو
(بروایت جریر عن سلیمان عن قتادۃ : صحیح مسلم حدیث نمبر 809)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا :امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ۔جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو،اور جب ’سمع اللہ لمن حمدہ‘کہے تو تم ’اللھم ربنا لک الحمد ‘کہو۔
(سنن نسائی،کتاب الافتتاح ،باب تأویل قولہ عز وجل اذا قری القرآن فا ستمعو الہ و انصتو ا لعلکم تر حمون ،حدیث:921)

 حضرت ابو نعیم وھب بن کیسان سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ کو یہ فر ماتے ہوئے سنا کہ:جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورہ ء فاتحہ نہ پڑھی تو گویا اس نے نماز ہی نہ پڑھی ۔سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو(یعنی جب امام کے پیچھے ہو تو اس کو پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
(ترمذی،کتاب الصلاۃ عن رسول ﷺ،باب ماجاء فی ترک القرأۃ خلف الامام اذا جھر الامام بالقرأۃ ،حدیث :313)

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ :وہ مسجد میں اس وقت پہونچے جب کہ حضور ﷺ رکوع میں جا چکے تھے (تو وہ رکعت چھوٹنے کے ڈر سے)صف کے پیچھے ہی جلدی سے رکوع میں چلے گئے ۔جب حضور ﷺکو یہ بتایا گیا تو آپ ﷺنے ان سے فر مایا’ زادک اللہ حرصا ولاتعد‘اللہ تعالی تمہارے دل میں نماز کی خواہش اور زیادہ کرے ۔لیکن دوبارہ ایسا نہ کرنا(یعنی صف میں پہونچنے سے پہلے پیچھے ہی رکوع میں مت چلے جانا)۔

(صحیح بخاری،کتاب الاٰذان ،باب اذا رکع دون الصف ،حدیث:783)
غور کریں ! حضرت ابو بکرہ مسجد اس وقت پہونچے جب کہ حضور ﷺ رکوع میں جا چکے تھے تو وہ بھی جلدی سے نیت باندھ کر رکوع میں چلے گئے۔نہ سورہ فاتحہ پڑ ھی اور نہ ہی سورت اس کے باوجود حضور ﷺنے انہیں نماز دہرانے کے لئے نہیں کہا، اگر سورہ فاتحہ کے بغیر امام کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہ تو یقیناً نبی کریم ﷺ انہیں نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم ارشاد فرماتے.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی جاتی ہے وہ ناقص ہوتی ہے ۔ہاں مگر یہ کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔
(سنن الدار قطنی،باب ذکر قولہ ﷺ من کان لہ امام فقرأۃ الامام لہ قرأۃ، حدیث: 1241)