صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ثقہ اور جنتی ہیں
محدثین کی اصطلاح میں ایسے راوی حدیث کو عدل کہتے ہیں جو مسلمان ہو، بالغ ہو اور اسباب فسق اور مروءت کے منافی امور سے پاک ہو۔ یعنی ان تمام امور سے احتراز کرتا ہو جو عرف عام میں مذموم سمجھی جاتی ہوں۔ ابن مبارک سے پوچھا گیا کہ عدل کس کو کہیں گے تو انہوں نے فرمایا جس میں پانچ خصال پائی جائیں وہ عدل ہے۔
۱۔ وہ جماعت میں حاضر رہتا ہو۔
۲۔ شراب نہ پیتا ہو۔
۳۔ دینی اعتبار سے اس میں کوئی خرابی نہ ہو۔
۴۔ جھوٹ نہ بولتا ہو۔
۵۔ عقل میں کوئی فتور نہ ہو۔
اوپر جو معانی ذکر کیے گئے ہیں وہ تمام معانی صحابۂ کرام میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔ اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے نزدیک یہ حضرات محترم اور پسندیدہ تھے۔ شراب پیتے تھے نہ جھوٹ بولتے تھے۔ ان کے دین میں کوئی خرابی نہ تھی جو انہیں ساقط الاعتبار قرار دیتی۔
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قسمتوں کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے:
’’لاَّ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَى [النساء : 95]‘‘
ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے، جو کسی تکلیف میں نہیں اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے اور ہر ایک سے اللہ نے اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے۔
سورۃ النساء کی اس آیت میں غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کےلیے کسی معذوری کے بغیر شریک نہ ہونے والوں سے درجہ کی بلندی اور برتری کا ذکر فرمایا ہے، اس فرق مراتب کے باوجود فرمایا: ’’وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَى ‘‘ اللہ کا وعدہ دونوں کےلیے جنت کا ہے۔ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے بارے میں درجات کی بلندی، مغفرت ورحمت کی بشارتیں ہیں، اہل بدر ہی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے بارے میں فرمایا ہے: تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہارے لیے جنت واجب کردی ہے۔ (صحیح البخاری: 3983)
مگر بدر میںشریک نہ ہونے والے بھی سعادت سے محروم نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کےلیے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
بالکل یہی بشارت اسی اسلوب میں فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرنے والوں اور فتح مکہ کے بعد جان ومال سے جہاد کرنے والوں کے بارے میں پے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ [الحديد : 10]‘‘
تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (اور یہ عمل بعد میں کرنے والے) برابر نہیں، یہ لوگ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور قتال کیا اور ان سب سے اللہ نے اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو خوب باخبر ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی درجہ بندی کی ہے۔ ایک وہ جو فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جان ومال خرچ کرنے سے دریغ نہیں کیا، دوسرے وہ جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے بھی اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا۔ فرق مراتب کے باوجود دونوں ہی کے بارے میں فرمایا: ’’وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى ‘‘ اللہ نے حسنیٰ یعنی اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے۔ ”الحسنیٰ“ کا لفظ جنت ہی کے معنیٰ میں قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔
اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں ان کی مدح وثناء فرمائی ہے، آپ کا ارشاد ہے:
"لا تسبوا أحدا من أصحابي . فإن أحدكم لو أنفق مثل أحد ذهبا ، ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه" (متفق علیہ)
"میرے صحابہ میں سے کسی کو بھی برا نہ کہو، اگر تم میں کا کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا آدھا مد کے خرچ کی فضیلت کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔"
نیز آپ نے فرمایا:
"صحابي أمان لأمتي" (صحیح مسلم)
"میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں۔"
جب یہ نہیں رہیں گے تو دین میں فتنہ وفساد برپا ہوگا نیز حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے جملہ حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
"أﻻ ﻓﻠﯿﺒﻠﻎ اﻟﺸﺎھﺪ اﻟﻐﺎﺋﺐ"
"سن لو جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ غیرموجود لوگوں تک ہماری باتیں پہنچا دیں ۔"
اگر یہ لوگ قابل اعتماد، ثقہ اور صادق نہ ہوتے تو ان کو تبلیغ کی یہ ذمہ داری ہرگز نہ دی جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں یہ ذمہ داری دینا آپ کی طرف سے ان کی ثقاہت وصداقت پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے۔
اللہ اور اس کے رسول کی تعدیل کے بعد ان کے لیے کسی اور تعدیل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اسی لیے محدثین نے 'الصحابۃ عدول' کا کلی ضابطہ اور اصول وضع کیا جس کے معنی 'صحابہ عادل ہیں' یعنی ان سے روایت حدیث میں کوئی ایسی غلطی واقع نہیں ہو سکتی جس پر عمداً جھوٹ بولنے کا اطلاق ہو اور انہیں ساقط الاعتبار قرار دے دیا جائے۔ اگر بتقاضائے بشری ان سے کوئی غلطی واقع ہوئی بھی تو وہ ایسی غلطی نہ ہوگی جو ان کی روایت کو قبول کرنے میں مانع ہو۔ علامہ ابن انباری 'الصحابۃ عدول' کے معنی کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"المراد قبول روايتهم من غير تكلف ببحث عن أسباب العدالة وطلب التزكية، إلا إن ثبت ارتكاب قادح، ولم يثبت ذلك ولله الحمد"
"'عدالت صحابہ' سے مراد یہ ہے کہ ان کی روایت مطلقاً قابل قبول ہے۔ ان میں اسباب عدالت کی تلاش وجستجو اور طلب تزکیہ کے تکلفات کی بالکل ضرورت نہیں، الا یہ کہ ان سے کوئی ایسی غلطی ثابت ہو جائے جو قبول روایت کے لیے قادح ہو، لیکن کوئی چیز ثابت نہیں۔"
شاہ ولی اللہ محمد دہلوی ؒفرماتے ہیں:
"وبالتتبع وجدنا أن جمیع الصحابۃ یعتقدون أن الکذب علی رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم أشدالذنوب ویحترزون عنہ غایۃالإحتراز"
"تتبع سے ہم نے یہ پایا ہے کہ صحابۂ کرام یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑنا سخت گناہ ہے اور وہ سب حد درجہ اس سے احتراز کرتے تھے۔"
علامہ آلوسی ؒ "(الأجوبة العراقية على الأسئلة الإيرانية) " میں فرماتے ہیں:
"إنہ ما مات من ابتلی منھم بمفسق إلا تائبا عدلا ببرکۃ نورالصحبۃ"
"ان میں سے جس سے بھی کوئی غلطی ہوئی وہ نور صحبت کی برکت سے اس وقت تک اس دنیا سے رخصت نہیں ہوا جب تک کہ وہ توبہ کرکے پاک وصاف نہ ہوگیا ہو۔"
وہ فرماتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک عدالت صحابہ سے یہی معنی مراد ہے۔
ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مزیدفرماتے ہیں:
"لایقال إذا کانت العدالۃالتی ادعیتموھا للصحابۃ رضی اللہ عنھم بذلک المعنی یلزم من التوقف فی قبول روایۃمن وقع منہ فسق إلی أن یعلم أنھابعدالتوبۃلأن نقول بعدالإلتزام بأنہ لابدمن أن یتوب ببرکۃالصحبۃ التی ھی الإکسیرالأعظم لاإحتمال لکون روایتہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کذبا وإفتراء علیہ الصلاۃ والسلام لأن صحۃ توبتہ یقتضی تلافی
ذلک بالأخبارعن أمرہ"
"یہ نہ کہا جائے کہ اگر عدالت سے یہی معنی مراد ہے جس کا تم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں دعوی کر رہے ہو تو اس سے ان لوگو ں کی روایت کے قبول کرنے میں جن سے کوئی معصیت واقع ہوئی ہو اس وقت تک کے لیے توقف لازم آتا ہے جب تک یہ نہ معلوم ہو جائے کہ ان کی یہ روایت توبہ کے بعد کی ہے، کیونکہ صحبت جو کہ ان کے لیے اکسیر اعظم کی حیثیت رکھتی ہے کی برکت سے ان کے لیے توبہ کے ضروری ہو جانے کے بعد یہ احتمال نہیں رہ جاتا کہ ان حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں عمداً دروغ بیانی سے کام لیا ہو۔ اس لیے کہ ان کے توبہ کی صحت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان سے جو غلطی واقع ہوئی ہے اس کی تلافی ہو چکی ہے۔"
آگے وہ مزید فرماتے ہیں:
"وبذلک یتضح بأن المراد بالعدالۃ الثابتۃ لجمیع الصحابۃ عند المحدثین ھی تجنب تعمد الکذب فی الروایۃ والإنحراف فیھا بإرتکاب مایوجب عدم قبولھافإن الذنب علی فرض وقوعہ لای منع من قبولھا"
"اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عدالت جو صحابہ کے لیے مسلم امر ہے اس سے مراد روایت حدیث میں ان کے عمداً جھوٹ بولنے سے احتراز کرنا اور ان تمام کجرویوں سے بچنا ہے جن سے روایت کا عدم قبول لازم آتا ہو۔ اگر بالفرض ان سے کسی غلطی کے واقع ہونے کو مان بھی لیا جائے تو یہ ایسی غلطی نہ ہوگی جو ان کی روایت کو قبول کرنے سے مانع ہو۔"
واضح رہے کہ یہ شرف و امتیاز اس امت میں صرف صحابۂ کرام کو حاصل ہے ان کے علاوہ امت کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جس کی عدالت کو بحث وتمحیص اور طلب تزکیہ سے بالا تر مانا جاتا ہو۔ امام الحرمین ان کے اس شرف کی تعلیل وتوجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"والسبب فی عدم الفحص عن عدالتھم أنھم حملۃالشریعۃ فلو ثبت توقف فی روایت ھم لا ان حصرت الشریعۃ علی عصرہ صلی اللہ علیہ وسلم ولما استرس لتسائرالأعصار"
"ان کی عدالت کو بلاکسی بحث تمحیص کے مان لینے کی و جہ یہ ہے کہ یہ حضرات حاملین شریعت تھے۔ اگر ان کی روایت میں توقف ثابت ہو جائے تو شریعت عصر نبوی کے لیے خاص ہو جائےگی اور باقی ادوار کے لیے نہ ہوگی۔"
اسی لیے ان کے عادل اور خیر امت ہونے کی گواہی خود باری تعالیٰ نے دی، ارشاد ہے:
(وَكَذَلِك َجَعَلْ نَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاءعَلَى النَّاسِ) (البقرۃ:143)
"اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں کے لیے گواہ ہو جاؤ۔"
اس آیت میں 'وَسَطًا' کے معنی 'عدولاً' کے ہیں۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
(كُنتُمْ خَيْرَأُمَّةٍأُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (اٰل عمران:110)
"تم خیر امت ہو جو لوگوں کے لیے برپا کی گئی ہے۔"
ان دونوں آیتوں میں خطاب ان حضرات کو ہے جو ان آیتوں کے نزول کے وقت موجو د تھے اور یہ صحابۂ کرام ہی کا مقدس گروہ ہے ۔ 'الصحابۃ عدول' کا یہ حکم عام ہے اس میں سبھی صحابہ داخل ہیں۔ حافظ ابن عبد البر متوفی ۴۶۳ھ فرماتے ہیں:
"أجمع أھل الحق من المسلمین علی أن الصحابة كلهم عدول "
"مسلمانوں میں سے تمام اہل حق کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں۔ خطیب بغدادی متوفی ۴۶۳ھ فرماتے ہیں: کتاب وسنت کے واضح دلائل کی روشنی میں صحابۂ کرام کی عدالت وپاکیزگی کا قطعی پتہ چل جاتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدیل کے بعد کسی کے تعدیل کی قطعاً کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ آگے وہ فرماتے ہیں:
"ھذا مذھب کافۃ العلماء ومن یعتدبہ من الفقھاء""یہی سارے علماء اور ان فقہاء کا مذہب ہے جن کے قول کا اعتبار کیا جاتا ہے۔"
مام نووی ؒ متوفی ۶۷۶ھ فرماتے ہیں:
"الصحابۃ کلھم عدول من لبس الفتن وغیرھم بإجماع من یعتد بہ"
"صحابہ سب کے سب عادل ہیں خواہ وہ فتنے میں شریک رہے ہوں یا نہ رہے ہوں، اس پر ان تمام لوگوں کا اجماع ہے جن کا اعتبار کیا جاتا ہے۔"
رہے معتزلہ وغیرہ جنہوں نے بعض صحابہ کو اس حکم سے خارج مانا ہے تو ان کے قول کی کوئی حیثیت نہیں۔ علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں:
"القول بالتعمیم ھو الذی صرح بہ الجمھور وھو المعتبر"
"تعمیم ہی کے قول کی جمہور نے تصریح کی ہے اور یہی معتبر قول ہے۔"
امام ابو رازی فرماتے ہیں:
"إذا رأیت الرجل ینتقص أحدا من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأعلم أنہ زندیق، وذلک أن الرسول حقٌ، والقرآن حقٌ، وما جاء بہ حقٌ، وإنما أدی ذلک کلہ إلینا الصحابۃ،وھولاءالزنادقۃیریدون أن یجرحواشھودنا لیبطلوا الکتاب والسنۃ،فالجرحبھم أولی"
"جب تم کسی آدمی کو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کی تنقیص کرتے ہوئے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق (گمراہ) ہے اور یہ اس وجہ سے کہ رسول حق ہے، قرآن حق ہے، جسے رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے اور ان تمام چیزوں کو ہم تک صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے پہنچایا ہے۔ یہ زنادقہ ہمارے گواہوں کو مجروح کر دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ کتاب وسنت کو باطل قرار دے دیں۔ لہذا صحابہ کے بجائے خود یہی لوگ جرح کے زیادہ مستحق ہیں۔"
عاشق رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے شفا شریف میں تحریر فرمایا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عنہم کی تنقیص کرنے والا ملعون ہے . قارئین شفا شریف کا کیا عظیم مقام ہے آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں .
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : جو شخص صحابہ میں سے کسی ایک کو بھی گمراہی پر مانے اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے گالی دی اسے سخت سزا دیجائے گی .
علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اپنے رسالہ القام الحجر میں اس بات پر اجماع نقل کیا کہ کسی بھی صحابی کو گالی دینے والا فاسق ہے اگر اسے وہ حلال نہ جانے اور اگر وہ حلال جانے تو کافر ہے اس لیے کہ اس توہین کا ادنی درجہ فسق ہے اور فسق کو حلال جاننا کفر ہے .
علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہل حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام امور میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ حق پر تھے اور فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین عادل ہیں اور ساری جنگیں اور اختلافات تاویل پر مبنی ہیں ان کے سبب کوئی بھی عدالت سے خارج نہیں اس لیے کہ وہ مجتہد ہیں.
حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک سے پوچھا گیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز افضل ہیں یا حضرت امیر معاویہ آپ نے فرمایا. رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جہاد کے موقع پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ناک میں جو غبار داخل ہوا وہ غبار حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ سے افضل ہے. الناہیہ ص16 علامہ قاضی عیاض علامہ معافی بن عمران علیہما الرحمہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ علامہ معافی نے فرمایا کہ صحابی پر کسی کسی کو بھی قیاس نہیں کیا جائے گا
محدثین کی اصطلاح میں ایسے راوی حدیث کو عدل کہتے ہیں جو مسلمان ہو، بالغ ہو اور اسباب فسق اور مروءت کے منافی امور سے پاک ہو۔ یعنی ان تمام امور سے احتراز کرتا ہو جو عرف عام میں مذموم سمجھی جاتی ہوں۔ ابن مبارک سے پوچھا گیا کہ عدل کس کو کہیں گے تو انہوں نے فرمایا جس میں پانچ خصال پائی جائیں وہ عدل ہے۔
۱۔ وہ جماعت میں حاضر رہتا ہو۔
۲۔ شراب نہ پیتا ہو۔
۳۔ دینی اعتبار سے اس میں کوئی خرابی نہ ہو۔
۴۔ جھوٹ نہ بولتا ہو۔
۵۔ عقل میں کوئی فتور نہ ہو۔
اوپر جو معانی ذکر کیے گئے ہیں وہ تمام معانی صحابۂ کرام میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔ اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے نزدیک یہ حضرات محترم اور پسندیدہ تھے۔ شراب پیتے تھے نہ جھوٹ بولتے تھے۔ ان کے دین میں کوئی خرابی نہ تھی جو انہیں ساقط الاعتبار قرار دیتی۔
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قسمتوں کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے:
’’لاَّ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَى [النساء : 95]‘‘
ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے، جو کسی تکلیف میں نہیں اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے اور ہر ایک سے اللہ نے اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے۔
سورۃ النساء کی اس آیت میں غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کےلیے کسی معذوری کے بغیر شریک نہ ہونے والوں سے درجہ کی بلندی اور برتری کا ذکر فرمایا ہے، اس فرق مراتب کے باوجود فرمایا: ’’وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَى ‘‘ اللہ کا وعدہ دونوں کےلیے جنت کا ہے۔ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے بارے میں درجات کی بلندی، مغفرت ورحمت کی بشارتیں ہیں، اہل بدر ہی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے بارے میں فرمایا ہے: تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہارے لیے جنت واجب کردی ہے۔ (صحیح البخاری: 3983)
مگر بدر میںشریک نہ ہونے والے بھی سعادت سے محروم نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کےلیے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
بالکل یہی بشارت اسی اسلوب میں فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرنے والوں اور فتح مکہ کے بعد جان ومال سے جہاد کرنے والوں کے بارے میں پے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ [الحديد : 10]‘‘
تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (اور یہ عمل بعد میں کرنے والے) برابر نہیں، یہ لوگ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور قتال کیا اور ان سب سے اللہ نے اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو خوب باخبر ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی درجہ بندی کی ہے۔ ایک وہ جو فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جان ومال خرچ کرنے سے دریغ نہیں کیا، دوسرے وہ جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے بھی اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا۔ فرق مراتب کے باوجود دونوں ہی کے بارے میں فرمایا: ’’وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى ‘‘ اللہ نے حسنیٰ یعنی اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے۔ ”الحسنیٰ“ کا لفظ جنت ہی کے معنیٰ میں قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔
اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں ان کی مدح وثناء فرمائی ہے، آپ کا ارشاد ہے:
"لا تسبوا أحدا من أصحابي . فإن أحدكم لو أنفق مثل أحد ذهبا ، ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه" (متفق علیہ)
"میرے صحابہ میں سے کسی کو بھی برا نہ کہو، اگر تم میں کا کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا آدھا مد کے خرچ کی فضیلت کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔"
نیز آپ نے فرمایا:
"صحابي أمان لأمتي" (صحیح مسلم)
"میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں۔"
جب یہ نہیں رہیں گے تو دین میں فتنہ وفساد برپا ہوگا نیز حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے جملہ حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
"أﻻ ﻓﻠﯿﺒﻠﻎ اﻟﺸﺎھﺪ اﻟﻐﺎﺋﺐ"
"سن لو جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ غیرموجود لوگوں تک ہماری باتیں پہنچا دیں ۔"
اگر یہ لوگ قابل اعتماد، ثقہ اور صادق نہ ہوتے تو ان کو تبلیغ کی یہ ذمہ داری ہرگز نہ دی جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں یہ ذمہ داری دینا آپ کی طرف سے ان کی ثقاہت وصداقت پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے۔
اللہ اور اس کے رسول کی تعدیل کے بعد ان کے لیے کسی اور تعدیل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اسی لیے محدثین نے 'الصحابۃ عدول' کا کلی ضابطہ اور اصول وضع کیا جس کے معنی 'صحابہ عادل ہیں' یعنی ان سے روایت حدیث میں کوئی ایسی غلطی واقع نہیں ہو سکتی جس پر عمداً جھوٹ بولنے کا اطلاق ہو اور انہیں ساقط الاعتبار قرار دے دیا جائے۔ اگر بتقاضائے بشری ان سے کوئی غلطی واقع ہوئی بھی تو وہ ایسی غلطی نہ ہوگی جو ان کی روایت کو قبول کرنے میں مانع ہو۔ علامہ ابن انباری 'الصحابۃ عدول' کے معنی کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"المراد قبول روايتهم من غير تكلف ببحث عن أسباب العدالة وطلب التزكية، إلا إن ثبت ارتكاب قادح، ولم يثبت ذلك ولله الحمد"
"'عدالت صحابہ' سے مراد یہ ہے کہ ان کی روایت مطلقاً قابل قبول ہے۔ ان میں اسباب عدالت کی تلاش وجستجو اور طلب تزکیہ کے تکلفات کی بالکل ضرورت نہیں، الا یہ کہ ان سے کوئی ایسی غلطی ثابت ہو جائے جو قبول روایت کے لیے قادح ہو، لیکن کوئی چیز ثابت نہیں۔"
شاہ ولی اللہ محمد دہلوی ؒفرماتے ہیں:
"وبالتتبع وجدنا أن جمیع الصحابۃ یعتقدون أن الکذب علی رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم أشدالذنوب ویحترزون عنہ غایۃالإحتراز"
"تتبع سے ہم نے یہ پایا ہے کہ صحابۂ کرام یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑنا سخت گناہ ہے اور وہ سب حد درجہ اس سے احتراز کرتے تھے۔"
علامہ آلوسی ؒ "(الأجوبة العراقية على الأسئلة الإيرانية) " میں فرماتے ہیں:
"إنہ ما مات من ابتلی منھم بمفسق إلا تائبا عدلا ببرکۃ نورالصحبۃ"
"ان میں سے جس سے بھی کوئی غلطی ہوئی وہ نور صحبت کی برکت سے اس وقت تک اس دنیا سے رخصت نہیں ہوا جب تک کہ وہ توبہ کرکے پاک وصاف نہ ہوگیا ہو۔"
وہ فرماتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک عدالت صحابہ سے یہی معنی مراد ہے۔
ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مزیدفرماتے ہیں:
"لایقال إذا کانت العدالۃالتی ادعیتموھا للصحابۃ رضی اللہ عنھم بذلک المعنی یلزم من التوقف فی قبول روایۃمن وقع منہ فسق إلی أن یعلم أنھابعدالتوبۃلأن نقول بعدالإلتزام بأنہ لابدمن أن یتوب ببرکۃالصحبۃ التی ھی الإکسیرالأعظم لاإحتمال لکون روایتہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کذبا وإفتراء علیہ الصلاۃ والسلام لأن صحۃ توبتہ یقتضی تلافی
ذلک بالأخبارعن أمرہ"
"یہ نہ کہا جائے کہ اگر عدالت سے یہی معنی مراد ہے جس کا تم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں دعوی کر رہے ہو تو اس سے ان لوگو ں کی روایت کے قبول کرنے میں جن سے کوئی معصیت واقع ہوئی ہو اس وقت تک کے لیے توقف لازم آتا ہے جب تک یہ نہ معلوم ہو جائے کہ ان کی یہ روایت توبہ کے بعد کی ہے، کیونکہ صحبت جو کہ ان کے لیے اکسیر اعظم کی حیثیت رکھتی ہے کی برکت سے ان کے لیے توبہ کے ضروری ہو جانے کے بعد یہ احتمال نہیں رہ جاتا کہ ان حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں عمداً دروغ بیانی سے کام لیا ہو۔ اس لیے کہ ان کے توبہ کی صحت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان سے جو غلطی واقع ہوئی ہے اس کی تلافی ہو چکی ہے۔"
آگے وہ مزید فرماتے ہیں:
"وبذلک یتضح بأن المراد بالعدالۃ الثابتۃ لجمیع الصحابۃ عند المحدثین ھی تجنب تعمد الکذب فی الروایۃ والإنحراف فیھا بإرتکاب مایوجب عدم قبولھافإن الذنب علی فرض وقوعہ لای منع من قبولھا"
"اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عدالت جو صحابہ کے لیے مسلم امر ہے اس سے مراد روایت حدیث میں ان کے عمداً جھوٹ بولنے سے احتراز کرنا اور ان تمام کجرویوں سے بچنا ہے جن سے روایت کا عدم قبول لازم آتا ہو۔ اگر بالفرض ان سے کسی غلطی کے واقع ہونے کو مان بھی لیا جائے تو یہ ایسی غلطی نہ ہوگی جو ان کی روایت کو قبول کرنے سے مانع ہو۔"
واضح رہے کہ یہ شرف و امتیاز اس امت میں صرف صحابۂ کرام کو حاصل ہے ان کے علاوہ امت کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جس کی عدالت کو بحث وتمحیص اور طلب تزکیہ سے بالا تر مانا جاتا ہو۔ امام الحرمین ان کے اس شرف کی تعلیل وتوجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"والسبب فی عدم الفحص عن عدالتھم أنھم حملۃالشریعۃ فلو ثبت توقف فی روایت ھم لا ان حصرت الشریعۃ علی عصرہ صلی اللہ علیہ وسلم ولما استرس لتسائرالأعصار"
"ان کی عدالت کو بلاکسی بحث تمحیص کے مان لینے کی و جہ یہ ہے کہ یہ حضرات حاملین شریعت تھے۔ اگر ان کی روایت میں توقف ثابت ہو جائے تو شریعت عصر نبوی کے لیے خاص ہو جائےگی اور باقی ادوار کے لیے نہ ہوگی۔"
اسی لیے ان کے عادل اور خیر امت ہونے کی گواہی خود باری تعالیٰ نے دی، ارشاد ہے:
(وَكَذَلِك َجَعَلْ نَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاءعَلَى النَّاسِ) (البقرۃ:143)
"اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں کے لیے گواہ ہو جاؤ۔"
اس آیت میں 'وَسَطًا' کے معنی 'عدولاً' کے ہیں۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
(كُنتُمْ خَيْرَأُمَّةٍأُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (اٰل عمران:110)
"تم خیر امت ہو جو لوگوں کے لیے برپا کی گئی ہے۔"
ان دونوں آیتوں میں خطاب ان حضرات کو ہے جو ان آیتوں کے نزول کے وقت موجو د تھے اور یہ صحابۂ کرام ہی کا مقدس گروہ ہے ۔ 'الصحابۃ عدول' کا یہ حکم عام ہے اس میں سبھی صحابہ داخل ہیں۔ حافظ ابن عبد البر متوفی ۴۶۳ھ فرماتے ہیں:
"أجمع أھل الحق من المسلمین علی أن الصحابة كلهم عدول "
"مسلمانوں میں سے تمام اہل حق کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ سب کے سب عادل ہیں۔ خطیب بغدادی متوفی ۴۶۳ھ فرماتے ہیں: کتاب وسنت کے واضح دلائل کی روشنی میں صحابۂ کرام کی عدالت وپاکیزگی کا قطعی پتہ چل جاتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدیل کے بعد کسی کے تعدیل کی قطعاً کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ آگے وہ فرماتے ہیں:
"ھذا مذھب کافۃ العلماء ومن یعتدبہ من الفقھاء""یہی سارے علماء اور ان فقہاء کا مذہب ہے جن کے قول کا اعتبار کیا جاتا ہے۔"
مام نووی ؒ متوفی ۶۷۶ھ فرماتے ہیں:
"الصحابۃ کلھم عدول من لبس الفتن وغیرھم بإجماع من یعتد بہ"
"صحابہ سب کے سب عادل ہیں خواہ وہ فتنے میں شریک رہے ہوں یا نہ رہے ہوں، اس پر ان تمام لوگوں کا اجماع ہے جن کا اعتبار کیا جاتا ہے۔"
رہے معتزلہ وغیرہ جنہوں نے بعض صحابہ کو اس حکم سے خارج مانا ہے تو ان کے قول کی کوئی حیثیت نہیں۔ علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں:
"القول بالتعمیم ھو الذی صرح بہ الجمھور وھو المعتبر"
"تعمیم ہی کے قول کی جمہور نے تصریح کی ہے اور یہی معتبر قول ہے۔"
امام ابو رازی فرماتے ہیں:
"إذا رأیت الرجل ینتقص أحدا من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأعلم أنہ زندیق، وذلک أن الرسول حقٌ، والقرآن حقٌ، وما جاء بہ حقٌ، وإنما أدی ذلک کلہ إلینا الصحابۃ،وھولاءالزنادقۃیریدون أن یجرحواشھودنا لیبطلوا الکتاب والسنۃ،فالجرحبھم أولی"
"جب تم کسی آدمی کو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کی تنقیص کرتے ہوئے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق (گمراہ) ہے اور یہ اس وجہ سے کہ رسول حق ہے، قرآن حق ہے، جسے رسول لے کر آئے ہیں وہ حق ہے اور ان تمام چیزوں کو ہم تک صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے پہنچایا ہے۔ یہ زنادقہ ہمارے گواہوں کو مجروح کر دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ کتاب وسنت کو باطل قرار دے دیں۔ لہذا صحابہ کے بجائے خود یہی لوگ جرح کے زیادہ مستحق ہیں۔"
عاشق رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے شفا شریف میں تحریر فرمایا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عنہم کی تنقیص کرنے والا ملعون ہے . قارئین شفا شریف کا کیا عظیم مقام ہے آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں .
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : جو شخص صحابہ میں سے کسی ایک کو بھی گمراہی پر مانے اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے گالی دی اسے سخت سزا دیجائے گی .
علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اپنے رسالہ القام الحجر میں اس بات پر اجماع نقل کیا کہ کسی بھی صحابی کو گالی دینے والا فاسق ہے اگر اسے وہ حلال نہ جانے اور اگر وہ حلال جانے تو کافر ہے اس لیے کہ اس توہین کا ادنی درجہ فسق ہے اور فسق کو حلال جاننا کفر ہے .
علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہل حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام امور میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ حق پر تھے اور فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین عادل ہیں اور ساری جنگیں اور اختلافات تاویل پر مبنی ہیں ان کے سبب کوئی بھی عدالت سے خارج نہیں اس لیے کہ وہ مجتہد ہیں.
حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک سے پوچھا گیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز افضل ہیں یا حضرت امیر معاویہ آپ نے فرمایا. رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جہاد کے موقع پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ناک میں جو غبار داخل ہوا وہ غبار حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ سے افضل ہے. الناہیہ ص16 علامہ قاضی عیاض علامہ معافی بن عمران علیہما الرحمہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ علامہ معافی نے فرمایا کہ صحابی پر کسی کسی کو بھی قیاس نہیں کیا جائے گا
No comments:
Post a Comment