ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ ہمارا سب ان سب کو جنتی فرماتا ہے.
’’لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‘‘
تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (اور یہ عمل بعد میں کرنے والے) برابر نہیں، یہ لوگ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور قتال کیا اور ان سب سے اللہ نے اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو خوب باخبر ہے۔
[الحديد : 10]
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ قرآنِ مجید صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اڑنے والے گرد و غبار کی قسمیں کھاتا ہے:
وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًاo فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًاo فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاo فَاَثَرْنَ بِهِ نَقْعًاo
’’(میدانِ جہاد میں) تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی قَسم جو ہانپتے ہیں۔ پھر جو پتھروں پر سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر جو صبح ہوتے ہی (دشمن پر) اچانک حملہ کر ڈالتے ہیں۔ پھر وہ اس (حملے والی) جگہ سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔‘‘
العاديت، 100: 4
جن شہسواروں سے گھوڑوں کو، گھوڑوں سے گرد وغبار کو یہ مقام ملا، ان شہسواروں کی شان کیا ہو گی۔
ہمیں صحابہ کرام سے پیار ہے چونکہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کی بدزبانی سے منع کیا ہے، ارشاد نبوی ہے: {اذا ذکر اصحابی فامسکوا}۔ (الطبرانی) جب بھی میرے صحابہ کے بارے میں بات ہو رہی ہو تو ان کی طعن وتشنیع مت کرو۔
ہمیں صحابہ کرام سے ہمیں محبت ہےچونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امت مسلمہ کے امن وقرار کا سبب قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: {لنجوم أمنة للسماء، فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد، وأنا أمنة لأصحابي فإذا ذهبتُ أتى أصحابي ما يوعدون، وأصحابي أمنة لأمتي، فإذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون}؛ (مسلم)۔
ترجمہ: ستارے آسمان کے لئے امان ہیں جب ستاروں کا نکلنا بند ہو جائے گا تو پھر آسمان پر وہی آجائے گا جس کا وعدہ کیا گیا میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں اور میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں پھر جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں تو جب صحابہ کرام چلے جائیں گے تو ان پر وہ فتنے آن پڑیں گے کہ جن سے ڈرایا جاتا ہے۔
آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس امت کے بہترین افراد قرار دیا ہے اسی لیے ہمیں ان سے محبت ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: {خير أمتي القرن الذي بعثت فيه، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم} (مسلم)۔
ترجمہ: میری امت کے بہترین اشخاص وہ ہیں جن کے درمیان میری بعثت ہوئی (صحابہ کرام)، پھر (وہ نسل) جو ان کے بعد آئے (تابعین)، پھر (سب سے بہترین افراد وہ ہیں) جو ان کے بعد آئیں (تبع تابعین)۔
ہم صحابہ سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ہمارے پیارے نبی علیہ السلام نے ہمیں صحابہ کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا ہے، فرمان نبوی ہے: {لا تسبوا أصحابي ، فوالذي نفسي بيده لو أنَّ أحدكم أنفق مثل أحد ذهباً ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نصيفه}۔ (مسلم)؛ ترجمہ: میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو، اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرڈالے تو ان کے ایک مد( مٹھی) غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر.
صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت کرتے ہیں چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ہر اس شخص پر جو صحابہ رضي الله تعالى عنهم أجمعين کو گالی دیتا ہے، فرماتے ہیں: {لعن اللہ من سبّ اصحابی}۔ (الطبرانی)؛ اللہ تعالی کی لعنت ہو اس شخص پر جو میرے صحابہ کو بُرا بھلا کہے۔
ہمیں صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ان کے ذریعے دین پھیلے گا اور اسلام کی نصرت ہوگی۔ امر واقع بھی یہی ہے۔ ارشاد نبوی ہے: {يأتي على الناس زمان، يغزو فئام من الناس، فيقال: فيكم من صاحب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان، فيغزو فئام من الناس، فيقال لهم: فيكم من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان، فيغزو فئام من الناس، فيقال لهم: هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم}۔ (بخاری ومسلم)؛ ترجمہ: ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگ جہاد کریں گے، ان سے پوچھا جائے گا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ہمرکاب رہا ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، اس طرح (مقابلے کے بعد) وہ لوگ فتح یاب ہوں گے۔ پھر کسی اور زمانے میں مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرنے جائے گا، ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا بندہ ہے جو صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کے ساتھ رہاہو؟ جواب آئے گا کہ جی ہاں، پھر مجاہدین کا وہ گروہ فتح یاب ہوگا۔ ایک ایسا دور بھی آئے گا کہ بعض لوگ جہاد کے لیے نکلیں گے تو ان سے سوال ہوگا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو صحابہ کرام کے ساتھیوں کے ہمرکاب رہاہو؟ وہ کہیں گے: جی، تو کامیاب ہوں گے۔
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ہے چونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر اور مدد گار ساتھی تھے، اس بارے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: {ن الله تبارك وتعالى اختارني، واختار لي أصحاباً، فجعل لي منهم وزراء وأنصاراً وأصهاراً، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل}۔ (رواہ حاکم وصحّحہ)۔ ترجمہ: حضور اکرم نے فرمایا: اللہ نے مجھے منتخب فرمایا ہے اور میرے لئے میرے صحابہ کو منتخب کیا ان کو میرا وزیر‘ مددگار اور رشتہ دار بنایا جو ان کو برا کہے اس پر اللہ تعالیٰ کی‘ فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض اور کوئی کفارہ قبول نہ کرے گا.
ہم صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ان سے محبت کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے محبت کرنا ہے اور صحابہ سے نفرت آپ صلى الله عليه وسلم سے نفرت کی دلیل وعلامت ہے، اسی بارے میں فرمان نبوی ہے: {الله الله في أصحابي، لا تتخذوهم غرضاً بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله أوشك أن يأخذه} (رواہ احمد وترمذی وجعلہ حسناً)؛ ترجمہ: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا )نشانہ نہ بنانا (یاد رکھو) جس نے اِن سے محبت کی ،پس میری محبت کی وجہ سے اِس نے اُن سے محبت کی ۔ جس نے اُن سے بغض رکھا پس میرے بغض کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا اور جس نے اُن کو اذیت دی پس اس نے مجھے اَذیت دی جس نے مجھے اَذیت دی ، اس نے اللہ کواذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی، پس قریب ہے کہ وہ اس کو گرفت کر لے.
ہمیں صحابہ کرام سے پیار ہے چونکہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے احترام وعزت کو اپنے ہی احترام کے مترادف قرار دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: {احفظوني في أصحابي، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم}۔ (ابن ماجہ)
ترجمہ: میری منزلت وعزت کی حفاظت کے لیے میرے صحابہ اور ان کے بعد آنے والے دو صدیوں کے لوگوں کی منزلت وعزت کا خیال رکھو۔
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَو رأى من رَآنِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا (ترمذی)
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ ہمارے اکابر نے انکی عزت و احترام اور ان سے پیار کا درس دیا ہے
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے مقدمہ فتح الباری "ھدی الساری" (ص:479) میں ذکر کیا ہے کہ :
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ کی تعداد 1080 (ألف وثمانين) ہے۔ ان تمام کے اسماء کا ذکر یقیناً طویل ہوگا۔ اس لیے اس ذکر کو نظرانداز کرتے ہوئے عرض ہے کہ ۔۔۔ یہ سب شیوخ کرام اس بات پر متفق تھے کہ صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کے بارے میں ہمیشہ بخشش کی دعا ہی کرنا چاہئے اور انہیں برا کہنے یا ان کی عزت و عصمت کو داغدار کرنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئے !
ملا علی قاری رحمۃ اللہ شرح فقہ الاکبر میں لکھتے ہیں :
ہم سب صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے محبت کرتے ہیں اور کسی بھی صحابی کا ذکر بھلائی کے علاوہ نہیں کرتے۔
گو کہ بعض صحابہ سے صورۃ شر صادر ہوا ہے مگر وہ کسی فساد یا عناد کے نتیجہ میں نہ تھا بلکہ اجتہاد کی بنا پر ایسا ہوا اور ان کا شر سے رجوع بہتر انجام کی طرف تھا ، ان سے حسن ظن کا یہی تقاضا ہے۔
بحوالہ : شرح الفقہ الاکبر ، ص:71
الفقہ الاکبر کے ایک اور شارح علامہ ابوالمنتہی احمد بن محمد المغنی ساوی لکھتے ہیں :
اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کی تعظیم و تکریم کی جائے اور ان کی اسی طرح تعریف کی جائے جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔
بحوالہ : شرح الفقہ الاکبر ، مطبوعہ مجموعۃ الرسائل السبعۃ حیدرآباد دکن - 1948ء
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدہ و عمل کے ترجمان امام ابوجعفر احمد بن محمد طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب "العقیدہ الطحاویۃ" میں لکھا ہے :
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں، ان میں سے نہ کسی ایک کی محبت میں افراط کا شکار ہیں اور نہ ہی کسی سے براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جو ان سے بغض رکھتا ہے اور خیر کے علاوہ ان کا ذکر کرتا ہے ہم اس سے بغض رکھتے ہیں اور ہم ان کا ذکر صرف بھلائی سے کرتے ہیں۔ ان سے محبت دین و ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض کفر و نفاق اور سرکشی ہے۔
بحوالہ : شرح العقیدہ الطحاویۃ ، ص:467
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں
واضح اور آشکار مسائل میں سے ایک صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کی تمام خوبیوں کو بیان کرنا، ان کی غلطیوں اور آپس کے اختلافات کو بیان کرنے سے گزیر کرنا ہے۔ اس لیے جو شخص کسی بھی صحابی کی شاں میں گستاخی کرے، برا بھلا کہے اور طعنہ زنی کرے یا کسی صحابی کی عیب جوئی کرے تو وہ شخص بدعتی، ناپاک، رافضی او اہل سنت کا مخالف ہے۔
اللہ تعالی (قیامت کے دن) نہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا نہ کوئی فدیہ وکفارہ اس کی جان چھڑا سکے گا۔
اس کے برعکس صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت سنت اور ضروری ہے، ان کے لیے نیک دعاء کرنا قرب الہی کا باعث ہے۔ ان کی پیروی باعث نجات ہے اور ان کی راہ پرچلنا فضیلت شمار ہوتاہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سب سے اچھے لوگ تھے، کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ انہیں گالیاں دے یا عیب جوئی کرکے ان کی شان میں گستاخی کرے اور انہیں گندی زبان سے یاد کرے۔
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں ایک کتاب لکھی ہے.
"امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک نظر میں"
آپ فرماتے ہیں جس دن نے یہ کتاب لکھی اسی رات نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی. نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے میرے صحابی رضی اللہ عنہ کی عزت بچانے کی کوشش کی اللہ پاک تمھاری عزت بچائے گا.
حیات سالک
مام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں واضح ہو کہ اس تالیف پر میرے لئے باعث وسبب اگرچہ میرا ہاتھ یہاں کے حقائق سے کوتاہ ہے وہ حدیث ہوئی جو خطیب بغدادی نے جامع میں اور ان کے سوا اور محدثین نے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہو ں اور میرے صحابہ کو براکہا جائے تو واجب ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے جو ایسا نہ کرے گا ا س پر اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ تعالٰی نہ اس کا فرض قبول فرمائے نہ نفل۔
آج پندرہویں صدی میں وصال فرمانے والوں کے ایام تو تنقید کرنے والے خود شان و شوکت سے مناتے ہیں مگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو صحابی بھی مانتے ہوئے جس دن رافضی اس صحابی رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بغض و عناد میں خوشیاں مناتے ہیں اور انہیں گالیاں دیتےان کا دفاع کرنا نام نہاد اہلسنت کو بہت برا لگ گیا. یہ پوشیدہ رفض نہیں تو اور کیا ہے ؟
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ ہمارا سب ان سب کو جنتی فرماتا ہے.
’’لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‘‘
تم میں سے جس نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (اور یہ عمل بعد میں کرنے والے) برابر نہیں، یہ لوگ درجے میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور قتال کیا اور ان سب سے اللہ نے اچھی جزا (جنت) کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو خوب باخبر ہے۔
[الحديد : 10]
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ قرآنِ مجید صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اڑنے والے گرد و غبار کی قسمیں کھاتا ہے:
وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًاo فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًاo فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاo فَاَثَرْنَ بِهِ نَقْعًاo
’’(میدانِ جہاد میں) تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی قَسم جو ہانپتے ہیں۔ پھر جو پتھروں پر سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر جو صبح ہوتے ہی (دشمن پر) اچانک حملہ کر ڈالتے ہیں۔ پھر وہ اس (حملے والی) جگہ سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔‘‘
العاديت، 100: 4
جن شہسواروں سے گھوڑوں کو، گھوڑوں سے گرد وغبار کو یہ مقام ملا، ان شہسواروں کی شان کیا ہو گی۔
ہمیں صحابہ کرام سے پیار ہے چونکہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کی بدزبانی سے منع کیا ہے، ارشاد نبوی ہے: {اذا ذکر اصحابی فامسکوا}۔ (الطبرانی) جب بھی میرے صحابہ کے بارے میں بات ہو رہی ہو تو ان کی طعن وتشنیع مت کرو۔
ہمیں صحابہ کرام سے ہمیں محبت ہےچونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امت مسلمہ کے امن وقرار کا سبب قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: {لنجوم أمنة للسماء، فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد، وأنا أمنة لأصحابي فإذا ذهبتُ أتى أصحابي ما يوعدون، وأصحابي أمنة لأمتي، فإذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون}؛ (مسلم)۔
ترجمہ: ستارے آسمان کے لئے امان ہیں جب ستاروں کا نکلنا بند ہو جائے گا تو پھر آسمان پر وہی آجائے گا جس کا وعدہ کیا گیا میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں اور میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں پھر جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں تو جب صحابہ کرام چلے جائیں گے تو ان پر وہ فتنے آن پڑیں گے کہ جن سے ڈرایا جاتا ہے۔
آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس امت کے بہترین افراد قرار دیا ہے اسی لیے ہمیں ان سے محبت ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: {خير أمتي القرن الذي بعثت فيه، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم} (مسلم)۔
ترجمہ: میری امت کے بہترین اشخاص وہ ہیں جن کے درمیان میری بعثت ہوئی (صحابہ کرام)، پھر (وہ نسل) جو ان کے بعد آئے (تابعین)، پھر (سب سے بہترین افراد وہ ہیں) جو ان کے بعد آئیں (تبع تابعین)۔
ہم صحابہ سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ہمارے پیارے نبی علیہ السلام نے ہمیں صحابہ کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا ہے، فرمان نبوی ہے: {لا تسبوا أصحابي ، فوالذي نفسي بيده لو أنَّ أحدكم أنفق مثل أحد ذهباً ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نصيفه}۔ (مسلم)؛ ترجمہ: میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو، اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرڈالے تو ان کے ایک مد( مٹھی) غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر.
صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت کرتے ہیں چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ہر اس شخص پر جو صحابہ رضي الله تعالى عنهم أجمعين کو گالی دیتا ہے، فرماتے ہیں: {لعن اللہ من سبّ اصحابی}۔ (الطبرانی)؛ اللہ تعالی کی لعنت ہو اس شخص پر جو میرے صحابہ کو بُرا بھلا کہے۔
ہمیں صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ان کے ذریعے دین پھیلے گا اور اسلام کی نصرت ہوگی۔ امر واقع بھی یہی ہے۔ ارشاد نبوی ہے: {يأتي على الناس زمان، يغزو فئام من الناس، فيقال: فيكم من صاحب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان، فيغزو فئام من الناس، فيقال لهم: فيكم من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان، فيغزو فئام من الناس، فيقال لهم: هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم}۔ (بخاری ومسلم)؛ ترجمہ: ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگ جہاد کریں گے، ان سے پوچھا جائے گا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ہمرکاب رہا ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، اس طرح (مقابلے کے بعد) وہ لوگ فتح یاب ہوں گے۔ پھر کسی اور زمانے میں مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرنے جائے گا، ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا بندہ ہے جو صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کے ساتھ رہاہو؟ جواب آئے گا کہ جی ہاں، پھر مجاہدین کا وہ گروہ فتح یاب ہوگا۔ ایک ایسا دور بھی آئے گا کہ بعض لوگ جہاد کے لیے نکلیں گے تو ان سے سوال ہوگا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو صحابہ کرام کے ساتھیوں کے ہمرکاب رہاہو؟ وہ کہیں گے: جی، تو کامیاب ہوں گے۔
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ہے چونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر اور مدد گار ساتھی تھے، اس بارے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: {ن الله تبارك وتعالى اختارني، واختار لي أصحاباً، فجعل لي منهم وزراء وأنصاراً وأصهاراً، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل}۔ (رواہ حاکم وصحّحہ)۔ ترجمہ: حضور اکرم نے فرمایا: اللہ نے مجھے منتخب فرمایا ہے اور میرے لئے میرے صحابہ کو منتخب کیا ان کو میرا وزیر‘ مددگار اور رشتہ دار بنایا جو ان کو برا کہے اس پر اللہ تعالیٰ کی‘ فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض اور کوئی کفارہ قبول نہ کرے گا.
ہم صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ان سے محبت کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے محبت کرنا ہے اور صحابہ سے نفرت آپ صلى الله عليه وسلم سے نفرت کی دلیل وعلامت ہے، اسی بارے میں فرمان نبوی ہے: {الله الله في أصحابي، لا تتخذوهم غرضاً بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله أوشك أن يأخذه} (رواہ احمد وترمذی وجعلہ حسناً)؛ ترجمہ: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا )نشانہ نہ بنانا (یاد رکھو) جس نے اِن سے محبت کی ،پس میری محبت کی وجہ سے اِس نے اُن سے محبت کی ۔ جس نے اُن سے بغض رکھا پس میرے بغض کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا اور جس نے اُن کو اذیت دی پس اس نے مجھے اَذیت دی جس نے مجھے اَذیت دی ، اس نے اللہ کواذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی، پس قریب ہے کہ وہ اس کو گرفت کر لے.
ہمیں صحابہ کرام سے پیار ہے چونکہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے احترام وعزت کو اپنے ہی احترام کے مترادف قرار دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: {احفظوني في أصحابي، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم}۔ (ابن ماجہ)
ترجمہ: میری منزلت وعزت کی حفاظت کے لیے میرے صحابہ اور ان کے بعد آنے والے دو صدیوں کے لوگوں کی منزلت وعزت کا خیال رکھو۔
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَو رأى من رَآنِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا (ترمذی)
ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیار ہے اس لیے کہ ہمارے اکابر نے انکی عزت و احترام اور ان سے پیار کا درس دیا ہے
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے مقدمہ فتح الباری "ھدی الساری" (ص:479) میں ذکر کیا ہے کہ :
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ کی تعداد 1080 (ألف وثمانين) ہے۔ ان تمام کے اسماء کا ذکر یقیناً طویل ہوگا۔ اس لیے اس ذکر کو نظرانداز کرتے ہوئے عرض ہے کہ ۔۔۔ یہ سب شیوخ کرام اس بات پر متفق تھے کہ صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کے بارے میں ہمیشہ بخشش کی دعا ہی کرنا چاہئے اور انہیں برا کہنے یا ان کی عزت و عصمت کو داغدار کرنے کی جسارت نہیں کرنی چاہئے !
ملا علی قاری رحمۃ اللہ شرح فقہ الاکبر میں لکھتے ہیں :
ہم سب صحابہ (رضی اللہ عنہم) سے محبت کرتے ہیں اور کسی بھی صحابی کا ذکر بھلائی کے علاوہ نہیں کرتے۔
گو کہ بعض صحابہ سے صورۃ شر صادر ہوا ہے مگر وہ کسی فساد یا عناد کے نتیجہ میں نہ تھا بلکہ اجتہاد کی بنا پر ایسا ہوا اور ان کا شر سے رجوع بہتر انجام کی طرف تھا ، ان سے حسن ظن کا یہی تقاضا ہے۔
بحوالہ : شرح الفقہ الاکبر ، ص:71
الفقہ الاکبر کے ایک اور شارح علامہ ابوالمنتہی احمد بن محمد المغنی ساوی لکھتے ہیں :
اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کی تعظیم و تکریم کی جائے اور ان کی اسی طرح تعریف کی جائے جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔
بحوالہ : شرح الفقہ الاکبر ، مطبوعہ مجموعۃ الرسائل السبعۃ حیدرآباد دکن - 1948ء
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدہ و عمل کے ترجمان امام ابوجعفر احمد بن محمد طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب "العقیدہ الطحاویۃ" میں لکھا ہے :
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں، ان میں سے نہ کسی ایک کی محبت میں افراط کا شکار ہیں اور نہ ہی کسی سے براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جو ان سے بغض رکھتا ہے اور خیر کے علاوہ ان کا ذکر کرتا ہے ہم اس سے بغض رکھتے ہیں اور ہم ان کا ذکر صرف بھلائی سے کرتے ہیں۔ ان سے محبت دین و ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض کفر و نفاق اور سرکشی ہے۔
بحوالہ : شرح العقیدہ الطحاویۃ ، ص:467
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں
واضح اور آشکار مسائل میں سے ایک صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کی تمام خوبیوں کو بیان کرنا، ان کی غلطیوں اور آپس کے اختلافات کو بیان کرنے سے گزیر کرنا ہے۔ اس لیے جو شخص کسی بھی صحابی کی شاں میں گستاخی کرے، برا بھلا کہے اور طعنہ زنی کرے یا کسی صحابی کی عیب جوئی کرے تو وہ شخص بدعتی، ناپاک، رافضی او اہل سنت کا مخالف ہے۔
اللہ تعالی (قیامت کے دن) نہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا نہ کوئی فدیہ وکفارہ اس کی جان چھڑا سکے گا۔
اس کے برعکس صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت سنت اور ضروری ہے، ان کے لیے نیک دعاء کرنا قرب الہی کا باعث ہے۔ ان کی پیروی باعث نجات ہے اور ان کی راہ پرچلنا فضیلت شمار ہوتاہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سب سے اچھے لوگ تھے، کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ انہیں گالیاں دے یا عیب جوئی کرکے ان کی شان میں گستاخی کرے اور انہیں گندی زبان سے یاد کرے۔
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں ایک کتاب لکھی ہے.
"امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک نظر میں"
آپ فرماتے ہیں جس دن نے یہ کتاب لکھی اسی رات نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی. نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے میرے صحابی رضی اللہ عنہ کی عزت بچانے کی کوشش کی اللہ پاک تمھاری عزت بچائے گا.
حیات سالک
مام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں واضح ہو کہ اس تالیف پر میرے لئے باعث وسبب اگرچہ میرا ہاتھ یہاں کے حقائق سے کوتاہ ہے وہ حدیث ہوئی جو خطیب بغدادی نے جامع میں اور ان کے سوا اور محدثین نے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہو ں اور میرے صحابہ کو براکہا جائے تو واجب ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے جو ایسا نہ کرے گا ا س پر اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ تعالٰی نہ اس کا فرض قبول فرمائے نہ نفل۔
آج پندرہویں صدی میں وصال فرمانے والوں کے ایام تو تنقید کرنے والے خود شان و شوکت سے مناتے ہیں مگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو صحابی بھی مانتے ہوئے جس دن رافضی اس صحابی رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بغض و عناد میں خوشیاں مناتے ہیں اور انہیں گالیاں دیتےان کا دفاع کرنا نام نہاد اہلسنت کو بہت برا لگ گیا. یہ پوشیدہ رفض نہیں تو اور کیا ہے ؟
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
No comments:
Post a Comment