مقتدی کا امام کے پیچھے قرات کرنا کیسا؟
ارشاد ربانی ہے’’اذا قری القرآن فا ستمعو الہ و انصتو ا لعلکم تر حمون‘‘ (سورہ الاعراف،آیت:204)جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور چپ رہو،تاکہ تم رحم کئے جاؤ۔
آیت کی تفسیر: حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جو جلیل القدر صحابی تھے انہوں نے آیت مذکورہ کو اس بات کی دلیل کے طورپر ذکر فرمایا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی قرأت نہ کرے ، نہ سورہ فاتحہ نہ ہی کوئی اور سورہ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ذکر کی ہے کہ ’’ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو امام کے پیچھے کچھ لوگوں کو قرأت کرتے ہوئے سنا ۔ جب امامت سے فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم سمجھو اور سوچو؟ جب قرآن پڑھاجائے تو اسے دھیان سے سنو اور چپ رہو پھر انہوں نے آیت مذکورہ کی تلاوت کی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے۔
(تفسیر ابن کثیر )
رسول اللہ ﷺ فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنی صفیں درست کر لو پھر تم میں سے ایک آدمی امامت کرے جب امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو اور جب قرأت کرے تو تم چپ رہو
(بروایت جریر عن سلیمان عن قتادۃ : صحیح مسلم حدیث نمبر 809)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا :امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ۔جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو،اور جب ’سمع اللہ لمن حمدہ‘کہے تو تم ’اللھم ربنا لک الحمد ‘کہو۔
(سنن نسائی،کتاب الافتتاح ،باب تأویل قولہ عز وجل اذا قری القرآن فا ستمعو الہ و انصتو ا لعلکم تر حمون ،حدیث:921)
حضرت ابو نعیم وھب بن کیسان سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ کو یہ فر ماتے ہوئے سنا کہ:جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورہ ء فاتحہ نہ پڑھی تو گویا اس نے نماز ہی نہ پڑھی ۔سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو(یعنی جب امام کے پیچھے ہو تو اس کو پڑھنے کی ضرورت نہیں۔
(ترمذی،کتاب الصلاۃ عن رسول ﷺ،باب ماجاء فی ترک القرأۃ خلف الامام اذا جھر الامام بالقرأۃ ،حدیث :313)
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ :وہ مسجد میں اس وقت پہونچے جب کہ حضور ﷺ رکوع میں جا چکے تھے (تو وہ رکعت چھوٹنے کے ڈر سے)صف کے پیچھے ہی جلدی سے رکوع میں چلے گئے ۔جب حضور ﷺکو یہ بتایا گیا تو آپ ﷺنے ان سے فر مایا’ زادک اللہ حرصا ولاتعد‘اللہ تعالی تمہارے دل میں نماز کی خواہش اور زیادہ کرے ۔لیکن دوبارہ ایسا نہ کرنا(یعنی صف میں پہونچنے سے پہلے پیچھے ہی رکوع میں مت چلے جانا)۔
(صحیح بخاری،کتاب الاٰذان ،باب اذا رکع دون الصف ،حدیث:783)
غور کریں ! حضرت ابو بکرہ مسجد اس وقت پہونچے جب کہ حضور ﷺ رکوع میں جا چکے تھے تو وہ بھی جلدی سے نیت باندھ کر رکوع میں چلے گئے۔نہ سورہ فاتحہ پڑ ھی اور نہ ہی سورت اس کے باوجود حضور ﷺنے انہیں نماز دہرانے کے لئے نہیں کہا، اگر سورہ فاتحہ کے بغیر امام کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہ تو یقیناً نبی کریم ﷺ انہیں نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم ارشاد فرماتے.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی جاتی ہے وہ ناقص ہوتی ہے ۔ہاں مگر یہ کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔
(سنن الدار قطنی،باب ذکر قولہ ﷺ من کان لہ امام فقرأۃ الامام لہ قرأۃ، حدیث: 1241)
No comments:
Post a Comment