*وہابیوں کے قبور اور اہل قبور کے بارے میں گمراہ کن نظریات کا تحقیقی جائزہ*
شدت پسند وہابی مبلغین کو اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مسلمانوں پر شرک کے جھوٹے الزام کو ثابت کرنے کے لیے قبروں کو بت اور اہل قبور کو پتھروں کی طرح بے شعور ثابت کرنے کے لیے قرآن و حدیث کی باطل تاویلات کرتے ہیں اور کچھ کم علم انکے دام فریب کا شکار ہو کر اپنے ایمان کا بیڑہ غرق کر بیٹھتے ہیں. مندرجہ ذیل سطور میں ہم انکے اس دجل و فریب کا پردہ چاک کریں گے. ان شاءاللہ
*کیا نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے مسلمانوں کی قبریں گرانے کا حکم دیا تھا ؟*
امام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری شریف جلد اول میں ایک باب باندھا *’’باب ہل ینبش قبور مشرکین الجاہلیۃ‘‘*
ترجمہ: کیا مشرکین زمانہ جاہلیت کی قبریں اکھیڑ دی جائیں؟۔
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین (مسلمانوں) کے سوا ساری قبریں ڈھائی جائیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کی قبریں ڈھانے (مٹانے) میں ان کی توہین ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے جو باب باندھا ہے اور ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی وضاحت سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قبریں اکھاڑنے کا جو حکم نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے دیا وہ کفار و مشرکین کی قبروں کے لیے تھا نہ کہ مسلمانوں کی قبروں کے لیے کیونکہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے دفن میں سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم خود شرکت فرماتے تھے، نیز صحابہ کرام علیہم الرضون کوئی کام سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے مشورے کے بغیر نہ کرتے تھے لہذا اس وقت جس قدر مسلمانوں کی قبریں بنیں، وہ یا تو سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی موجودگی میں یا آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی اجازت سے بنیں تو وہ کون سے مسلمانوں کی قبریں تھیں جوکہ ناجائز بن گئیں اور ان کو برابر کرناپڑا؟ ہاں البتہ غیر مسلموں، مشرکین و یہود وغیرہ کی قبریں اونچی ہوتی تھیں جس کو مٹانے کا حکم سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو دیا.
ستم دیکھیے کہ بات اس قدر واضح ہونے کے باوجود خوارج کی نسل آل سعود و وہابیہ نے قبور کو گرانے والی روایت کو صحابہ کرام و اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قبور پر منطبق کر کے ان پر بلڈورز چلا دیئے معاذاللہ اور اس حرام عمل کو سنت کا احیاء قرار دیا معاذاللہ حالانکہ اسلامی شریعت میں قبر کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے، اس لئے شرعی طور پر قبروں کی اہانت، اور قبروں کیساتھ زیادتی جائز نہیں ہے، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے کو شدت کیساتھ حرام قرار دیا ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایک آدمی دہکتے ہوئے انگارے پر بیٹھ جائے جو اسکے کپڑے جلا کر اسکی جلد بھی جلا دے، یہ اسکے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے) (صحیح مسلم حدیث 971)
امام حاکم علیہ الرحمہ و امام طبرانی علیہ الرحمہ، حضرت عمارہ بن حزم رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے مجھے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا اور قبر والے! قبر سے اُتر آ، نہ تو قبر والے کو ایذا دے نہ وہ تجھے
( طبرانی و حاکم)
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ قبور پر عمارت تعمیر کرنے کے حوالے سے قرآن و احادیث میں ہمیں کیا ذکر ملتا ہے.
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے
وَکَذَلِکَ اَعثَرْنَا عَلَیْہِمْ لَِیَعْلَمُوا اَنَّ وَعْدَ اللّہِ حَقٌّ وَاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیْبَ فِیْھَا اِذْ َتَنَازَعُونَ بَیْنُمْ اَمْرَہُمْ فَقَالُوْا ابنُوْا عَلَیِْھِم بُنْیَانًا رَّبَُّھُم اَعْلَمُ بِِھِمْ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوا عَلَیٰ اَمرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی کہ لوگ جان لیں کہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں۔ جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بنائو ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے۔ وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے، قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے
(سورۂ کہف، آیت 21، پارہ 15)
اگر مزار اولیاء تعمیر کرنا حرام و شرک و بدعت ہوتا تو کیا قرآن اس واقعہ کو بیان کر کے اسکی مذمت نہ کرتا اور اسے اصحاب کہف رضی اللہ عنہم کے فضائل میں بیان کرتا؟
سب کو معلوم ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر مبارک امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے حجرہ مبارک میں بنائی گئی اور فقط نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی نہیں بلکہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کی قبور بھی. اگر قبر کے اوپر عمارت ناجائز ہوتی تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے نا آشنا تھے. حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم جنہوں نے خود نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی تجہیز و تکفین کے معاملات کیے وہ اس حکم کو بھول گئے تھے کہ قبور کو برابر کر دو جبکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر مبارک عمارت کے اندر گوہان نما بنائی گئی..
اگر یہ جائز نہ تھا تو صحابہ کرام علیہم الرضوان اس کو گرا دیتے مگر یہ نہ کیا بلکہ قاطع شرک و بدعت حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کے گرد کچی اینٹوں کی گول دیوار کھینچوادی پھر صحابی رسول حضرت عبداﷲ ابن زبیر رضی اﷲ عنہ نے تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں اس عمارت کو نہایت مضبوط بنایا اور اس میں پتھر لگوائے۔
’’بخاری کتاب الجنائز باب ماجاء فی قبر النبی و ابی بکر و عمر‘‘ میں ہے کہ ولید ابن عبدالملک کے زمانے میں روضہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی ایک دیوار گر گئی تو ’’اخذوفی بنائہ‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان اس دیوار کے بنانے میں مشغول ہوگئے۔
بخاری جلد اول کتاب الجنائز اور مشکوٰۃ باب البکا علی المیت میں ہے کہ حضرت امام حسن مثنی بن حسن ابن علی رضی اﷲ عنہم کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا۔
یہ بھی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں ہوا مگر کسی نے اس کا انکار نہ کیا۔
بخاری کتاب الجنائز باب الجرید علی القبر میں تعلیقًاہے حضرت خارجہ فرماتے کہ ہم زمانہ عثمانی میں تھے اور ہم سے بڑا پھلانگنے والا وہ تھا جو عثمان ابن مظعون کی قبر کو پھلانگ جاتا تھا
۔معلوم ہوا کہ وہ قبر اتنی اونچی بنائی گئی تھی جسے پھلانگنا دشوار تھا اوریہ قبر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنائی تھی۔ مشکوٰۃ شریف میں حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ابن مظعون کی قبر کے سرہانے کی طرف پتھر نصب کیا تھا ۔افسوس نجدیوں نے حرمین طیبین میں صحابہ کبار،اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قبروں کو تو گرایا مگر اسی علاقہ میں امریکن تیل کمپنی جس کا ٹھیکہ نجدیوں نے امریکہ کو دیا ہے ان کے فوت شدہ انگریزوں کی بڑی بڑی اونچی ہیں مگر ہاتھ نہ لگایا یعنی جن کے لیے حدیث تھی ان پرعمل نہ کیا گیا مسلمانوں کی قبروں پر یہ ستم کیا گیا۔
بخاری بخاری کی رٹ لگانے والے وہابیوں خارجیوں کے رد کے لیے فقط بخاری شریف کا باب الجنائز ہی کافی ہے
اب آئیے ان احادیث کی وضاحت کی طرف جن میں قبر کو پختہ بنانے اور ان پر تعمیرات سے منع فرمایا ہے.
قبر میں تین چیزیں ہیں:ایک اس کا اندرونی حصہ جو میت کے جسم سے ملا ہوا ہوتاہے اسے پختہ کرنا،وہاں لکڑی یا پکی اینٹ لگانا مطلقًا ممنوع ہے خواہ ولی کی قبر ہو یا عام مسلمان کی،جسم میت مٹی میں رہناچاہئیے حتی کہ اگر کسی وقت مجبورًا میت کو تابوت یا صندوق میں دفن کرنا پڑے تب بھی اس کے اندرونی حصے میں مٹی سے کہگل کردی جائے۔ باہر کے حصہ کو بھی اوپر سے خالی رکھا جائے مگر قبر کے مٹ جانے کے خدشہ کے سبب اطراف سے پختہ کیا جا سکتا ہے. اس کے علاوہ جہاں قبور ہوں وہاں تعمیرات کرنا یعنی انکے اوپر مکان، دکان یا کوئی اور عمارت نہ بنائی جائے یہ سب کے نزدیک متفقہ ہے کہ قبر یا قبرستان پر تعمیرات کرنا جائز نہیں مگر جیسا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبور کے اوپر عمارت تھی اسے ناجائز اور حرام و بدعت کہنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کو معاذاللہ الزام دینا اور انہیں بدعتی قرار دینا ٹھہرتا ہے.
کچھ لوگ جو گنبد خضرا اور اولیاء کرام کے مزارات پر گنبد کو بدعت کہتے ہیں ان سے عرض ہے کہ گنبد اور مینار صرف مزارات پر ہی نہیں بلکہ مسجدوں پر بھی اسی طرح بعد کے زمانے میں رائج ہوئے تو پہلے مسجد میں جس گنبد کے نیچے بیٹھ کر مزار کے گنبد کے خلاف فتوے دے رہے ہیں اسکی طرف بھی سر اٹھا کر دیکھ لیں شاید ضمیر انگڑائی لے لے.
*مشتری ہشیار باش*
آپ نے اکثر شرک سازوں سے سنا ہو گا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں کو *سجدہ گاہ* بنا لیا اسکے بعد وہ مسلمانوں پر یہود و نصاریٰ کی پیروی کا الزام لگاتے ہیں.
پہلے حدیث مبارکہ کے عربی الفاظ اور اسکا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں
"لَعْنَةُ الله على اليهود والنصارى، اتخذوا قبور أنبيائهم *مساجد*" متفق علیہ
’’یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو *مساجد* بنالیا۔‘‘
*یہود و نصاری نے قبروں کو مساجد بنا لیا..*
ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اپنی شرح بخاری میں فرماتے ہیں کہ یہود و نصاری اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں پر مسجدیں بناتے اور انکو قبلہ بنا کر انکی طرف نماز پڑھتے تھے.
عربی عبارت غور سے پڑھیں کہ انہوں نے *مساجد* بنا لیا... کیا یہ شرک ساز *مساجد* کا باقی جگہ بھی ترجمہ *سجدہ گاہ* ہی کرتے ہیں؟ یہاں لفظ مسجد کیوں استعمال نہیں کرتے؟.. کیونکہ مسجد کہیں تو سب کہیں گے کہ مسلمانوں نے تو قبروں کو مسجدیں نہیں بنایا... مگر سجدہ گاہ ترجمہ کر کے فراڈ کرنا ان شرک سازوں کو ہی زیب دیتا ہے. قبر یا غیر اللہ کو سجدہ کرنا بالاتفاق حرام ہے اور عبادت کی نیت سے صاف شرک ہے مگر جن کیفیات مثلاً قبر کو بوسہ دینے یا بغیر سجدہ کی حالت بنائے عقیدت یا محبت سے سر یا رخسار کو قبر سے مس کرنے کو بھی یہ شرک ساز *سجدہ* اور شرک تک بنا دیتے ہیں حتی کہ ایسی کیفیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے.
*شرک سازوں کے نزدیک*
*صحابی رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم شرک اور قبر کو سجدہ کے مرتکب ہوئے..*
حضرت داؤد بن صالح سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز خلیفہ مروان بن الحکم روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے اسے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ تو یہ کیا کر رہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ وہ *حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ* ہیں، انہوں نے جواب دیا :
نَعَمْ، جِئْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ لَمْ آتِ الْحَجَرَ.
’’ہاں (میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں)، میں اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں کسی *پتھر* کے پاس نہیں آیا۔‘‘
1. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 422
2. حاکم، المستدرک، 4 : 560، رقم : 8571
3. طبراني، المعجم الکبير، 4 : 158، رقم : 3999
امام احمد بن حنبل کی بیان کردہ روایت کی اِسناد صحیح ہیں۔ امام حاکم نے اسے شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام ذہبی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
*کیا فوت شدہ اور اہل قبور بتوں کی طرح بے شعور ہوتے ہیں؟*
وہابی حضرات اکثر بتوں اور پتھروں والی آیات اہل قبور پر لگاتے ہیں مگر تفسیر ابن کثیر جو انکے یہاں سب سے معتبر ہے سمیت اکابرین مفسرین میں سے کوئی بھی انکے اس مؤقف کی تائید نہیں کرتا. بتوں کے بارے میں نازل ہونے والی ایک آیت جو یہ لوگ شد و مد سے اہل قبور پر لگاتے ہیں اسکی تفسیر ملاحظہ کیجئے
أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
21 النحل
تفسير بن كثير
تفسیر ابن کثیر بمعہ شان نزول
وقوله : ( أموات غير أحياء ) أي : هي جمادات لا أرواح فيها فلا تسمع ولا تبصر ولا تعقل .
اللہ کا قول *(مردہ ہیں ان میں زندگی نہیں)*
: *"یہ پتھر ہیں ان میں روح نہیں، سن نہیں سکتے، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ شعور رکھتے ہیں"*
یہی تفسیر شان نزول کے مطابق سب امہات تفاسیر مثلا تفسیر طبری، قرطبی، جلالین وغیرہ میں بیان ہوئی ہے مگر وہابی اسے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام اور صالحین پر منطبق کرتے ہیں معاذاللہ.
اب ہم احادیث کی روشنی میں انکے گمراہ عقیدہ کی جانچ کرتے ہیں
حدیث پاک میں ہے کہ
"مردے کو اِس بات کی پہچان ہوتی ہے کہ اُسے کون غسل دے رہا ہے اور کون اس کو اُٹھا رہا ہے نیز اسے قبر میں کون اُتارتا ہے ۔" (مُسْنَد اِمام اَحمَد بن حنبل، حدیث 10997 )
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور لوگ اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اس وقت اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد آگے بڑھائے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے کہ ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس کی یہ آواز انسان کے سوا ہر اللہ کہ مخلوق سنتی ہے۔ کہیں اگر انسان سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔"
بخاری کتاب الجنائز.. حدیث 1316
نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے مقتول کافروں سے پکارکرفرمایا کہ "بولو میرے تمام فرمان سچے تھے یا نہیں"۔ فاروق اعظم نے عرض کیا کہ بے جان مردو مں سے آپ کلام کیوں فرماتے ہیں تو فرمایا "وہ تم سے زیادہ سنتے ہیں" ۔ (صحیح البخاری،کتاب الجنائز، باب فی عذاب القبر، الحدیث1370
*روح کا بدن میں لوٹایا جانا*
"قبر میں مردے کی روح اسکے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟"
ابوداؤد، حدیث 4753
*مردہ لواحقین کی جوتوں کی آواز سنتا ہے*
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفن کر کے اس کے لوگ پیٹھ موڑ کر رخصت ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے"
صحیح بخاری
كتاب الجنائز، حدیث نمبر: 1338
*سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا عقیدہ*
"حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں اس مکان میں جہاں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد گرامی مدفون ہیں جب داخل ہوتی تو یہ خیال کرکے اپنی چادر (جسے بطور برقع اوڑھتی وہ) اتار دیتی کہ یہ میرے شوہرِ نامدار اور والدِ گرامی ہی تو ہیں لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا تو اللہ کی قسم میں عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے بغیر کپڑا لپیٹے کبھی داخل نہ ہوئی۔‘‘
(مسند أحمد 25132،رجال الصحيح)
اس صحیح روایت سے عیاں ہے کہ اہل قبور صاحب شعور ہوتے ہیں اور قبر پر آنے والے کو دیکھتے پہچانتے بھی ہیں ورنہ امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بعد وفات پردہ کیا معنی رکھتا ہے.
*انبیاء کرام علیہم قبور میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں*
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی قبر کے پاس گذرا(تو میں نے دیکھا کہ)وہ اپنی قبر میںکھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے(صحیح مسلم ،کتاب الفضا ئل،باب من فضائل موسیٰ علیہ السلام ، حدیث :2375۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ:الانبیاء أحیاء فی قبورھم یصلون۔انبیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔
(حیاۃ الانبیاء للبیہقی،ص:70؍حدیث:1)
*قبر سے تلاوت کی آواز*
"عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے ، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ " تبارك الذي بيدہ الملك" پڑھ رہا تھا ، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا ، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے ۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ " تبارك الملك" پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ آپ نے فرمایا : "ہي المانعۃ ” یہ سورۃ مانعہ ہے ، یہ نجات دینے والی ہے ، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“
سنن ترمذی -کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل --- باب : سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان ۔حدیث نمبر: 2890
مندرجہ بالا سب روایات واضح کرتی ہیں کہ قبور اور اہل قبور کے بارے میں وہابیہ کا نظریہ کہ قبور بتوں کی مانند ہیں اور اہل قبور پتھروں کی طرح بے شعور ہیں بدعت اور گمراہی پر مبنی ہے مگر ڈھٹائی سے خوارج کی طرح بتوں والی آیات مسلمانوں اور اہل قبور پر چسپاں کر کے خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں.
شدت پسند وہابی مبلغین کو اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مسلمانوں پر شرک کے جھوٹے الزام کو ثابت کرنے کے لیے قبروں کو بت اور اہل قبور کو پتھروں کی طرح بے شعور ثابت کرنے کے لیے قرآن و حدیث کی باطل تاویلات کرتے ہیں اور کچھ کم علم انکے دام فریب کا شکار ہو کر اپنے ایمان کا بیڑہ غرق کر بیٹھتے ہیں. مندرجہ ذیل سطور میں ہم انکے اس دجل و فریب کا پردہ چاک کریں گے. ان شاءاللہ
*کیا نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے مسلمانوں کی قبریں گرانے کا حکم دیا تھا ؟*
امام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری شریف جلد اول میں ایک باب باندھا *’’باب ہل ینبش قبور مشرکین الجاہلیۃ‘‘*
ترجمہ: کیا مشرکین زمانہ جاہلیت کی قبریں اکھیڑ دی جائیں؟۔
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین (مسلمانوں) کے سوا ساری قبریں ڈھائی جائیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کی قبریں ڈھانے (مٹانے) میں ان کی توہین ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے جو باب باندھا ہے اور ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی وضاحت سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قبریں اکھاڑنے کا جو حکم نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے دیا وہ کفار و مشرکین کی قبروں کے لیے تھا نہ کہ مسلمانوں کی قبروں کے لیے کیونکہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے دفن میں سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم خود شرکت فرماتے تھے، نیز صحابہ کرام علیہم الرضون کوئی کام سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے مشورے کے بغیر نہ کرتے تھے لہذا اس وقت جس قدر مسلمانوں کی قبریں بنیں، وہ یا تو سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی موجودگی میں یا آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی اجازت سے بنیں تو وہ کون سے مسلمانوں کی قبریں تھیں جوکہ ناجائز بن گئیں اور ان کو برابر کرناپڑا؟ ہاں البتہ غیر مسلموں، مشرکین و یہود وغیرہ کی قبریں اونچی ہوتی تھیں جس کو مٹانے کا حکم سرکار صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو دیا.
ستم دیکھیے کہ بات اس قدر واضح ہونے کے باوجود خوارج کی نسل آل سعود و وہابیہ نے قبور کو گرانے والی روایت کو صحابہ کرام و اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قبور پر منطبق کر کے ان پر بلڈورز چلا دیئے معاذاللہ اور اس حرام عمل کو سنت کا احیاء قرار دیا معاذاللہ حالانکہ اسلامی شریعت میں قبر کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے، اس لئے شرعی طور پر قبروں کی اہانت، اور قبروں کیساتھ زیادتی جائز نہیں ہے، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے کو شدت کیساتھ حرام قرار دیا ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایک آدمی دہکتے ہوئے انگارے پر بیٹھ جائے جو اسکے کپڑے جلا کر اسکی جلد بھی جلا دے، یہ اسکے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے) (صحیح مسلم حدیث 971)
امام حاکم علیہ الرحمہ و امام طبرانی علیہ الرحمہ، حضرت عمارہ بن حزم رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے مجھے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا اور قبر والے! قبر سے اُتر آ، نہ تو قبر والے کو ایذا دے نہ وہ تجھے
( طبرانی و حاکم)
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ قبور پر عمارت تعمیر کرنے کے حوالے سے قرآن و احادیث میں ہمیں کیا ذکر ملتا ہے.
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے
وَکَذَلِکَ اَعثَرْنَا عَلَیْہِمْ لَِیَعْلَمُوا اَنَّ وَعْدَ اللّہِ حَقٌّ وَاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیْبَ فِیْھَا اِذْ َتَنَازَعُونَ بَیْنُمْ اَمْرَہُمْ فَقَالُوْا ابنُوْا عَلَیِْھِم بُنْیَانًا رَّبَُّھُم اَعْلَمُ بِِھِمْ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوا عَلَیٰ اَمرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی کہ لوگ جان لیں کہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں۔ جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بنائو ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے۔ وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے، قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے
(سورۂ کہف، آیت 21، پارہ 15)
اگر مزار اولیاء تعمیر کرنا حرام و شرک و بدعت ہوتا تو کیا قرآن اس واقعہ کو بیان کر کے اسکی مذمت نہ کرتا اور اسے اصحاب کہف رضی اللہ عنہم کے فضائل میں بیان کرتا؟
سب کو معلوم ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر مبارک امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے حجرہ مبارک میں بنائی گئی اور فقط نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی نہیں بلکہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کی قبور بھی. اگر قبر کے اوپر عمارت ناجائز ہوتی تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے نا آشنا تھے. حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم جنہوں نے خود نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی تجہیز و تکفین کے معاملات کیے وہ اس حکم کو بھول گئے تھے کہ قبور کو برابر کر دو جبکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر مبارک عمارت کے اندر گوہان نما بنائی گئی..
اگر یہ جائز نہ تھا تو صحابہ کرام علیہم الرضوان اس کو گرا دیتے مگر یہ نہ کیا بلکہ قاطع شرک و بدعت حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کے گرد کچی اینٹوں کی گول دیوار کھینچوادی پھر صحابی رسول حضرت عبداﷲ ابن زبیر رضی اﷲ عنہ نے تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں اس عمارت کو نہایت مضبوط بنایا اور اس میں پتھر لگوائے۔
’’بخاری کتاب الجنائز باب ماجاء فی قبر النبی و ابی بکر و عمر‘‘ میں ہے کہ ولید ابن عبدالملک کے زمانے میں روضہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی ایک دیوار گر گئی تو ’’اخذوفی بنائہ‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان اس دیوار کے بنانے میں مشغول ہوگئے۔
بخاری جلد اول کتاب الجنائز اور مشکوٰۃ باب البکا علی المیت میں ہے کہ حضرت امام حسن مثنی بن حسن ابن علی رضی اﷲ عنہم کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا۔
یہ بھی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجودگی میں ہوا مگر کسی نے اس کا انکار نہ کیا۔
بخاری کتاب الجنائز باب الجرید علی القبر میں تعلیقًاہے حضرت خارجہ فرماتے کہ ہم زمانہ عثمانی میں تھے اور ہم سے بڑا پھلانگنے والا وہ تھا جو عثمان ابن مظعون کی قبر کو پھلانگ جاتا تھا
۔معلوم ہوا کہ وہ قبر اتنی اونچی بنائی گئی تھی جسے پھلانگنا دشوار تھا اوریہ قبر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنائی تھی۔ مشکوٰۃ شریف میں حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ابن مظعون کی قبر کے سرہانے کی طرف پتھر نصب کیا تھا ۔افسوس نجدیوں نے حرمین طیبین میں صحابہ کبار،اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قبروں کو تو گرایا مگر اسی علاقہ میں امریکن تیل کمپنی جس کا ٹھیکہ نجدیوں نے امریکہ کو دیا ہے ان کے فوت شدہ انگریزوں کی بڑی بڑی اونچی ہیں مگر ہاتھ نہ لگایا یعنی جن کے لیے حدیث تھی ان پرعمل نہ کیا گیا مسلمانوں کی قبروں پر یہ ستم کیا گیا۔
بخاری بخاری کی رٹ لگانے والے وہابیوں خارجیوں کے رد کے لیے فقط بخاری شریف کا باب الجنائز ہی کافی ہے
اب آئیے ان احادیث کی وضاحت کی طرف جن میں قبر کو پختہ بنانے اور ان پر تعمیرات سے منع فرمایا ہے.
قبر میں تین چیزیں ہیں:ایک اس کا اندرونی حصہ جو میت کے جسم سے ملا ہوا ہوتاہے اسے پختہ کرنا،وہاں لکڑی یا پکی اینٹ لگانا مطلقًا ممنوع ہے خواہ ولی کی قبر ہو یا عام مسلمان کی،جسم میت مٹی میں رہناچاہئیے حتی کہ اگر کسی وقت مجبورًا میت کو تابوت یا صندوق میں دفن کرنا پڑے تب بھی اس کے اندرونی حصے میں مٹی سے کہگل کردی جائے۔ باہر کے حصہ کو بھی اوپر سے خالی رکھا جائے مگر قبر کے مٹ جانے کے خدشہ کے سبب اطراف سے پختہ کیا جا سکتا ہے. اس کے علاوہ جہاں قبور ہوں وہاں تعمیرات کرنا یعنی انکے اوپر مکان، دکان یا کوئی اور عمارت نہ بنائی جائے یہ سب کے نزدیک متفقہ ہے کہ قبر یا قبرستان پر تعمیرات کرنا جائز نہیں مگر جیسا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبور کے اوپر عمارت تھی اسے ناجائز اور حرام و بدعت کہنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کو معاذاللہ الزام دینا اور انہیں بدعتی قرار دینا ٹھہرتا ہے.
کچھ لوگ جو گنبد خضرا اور اولیاء کرام کے مزارات پر گنبد کو بدعت کہتے ہیں ان سے عرض ہے کہ گنبد اور مینار صرف مزارات پر ہی نہیں بلکہ مسجدوں پر بھی اسی طرح بعد کے زمانے میں رائج ہوئے تو پہلے مسجد میں جس گنبد کے نیچے بیٹھ کر مزار کے گنبد کے خلاف فتوے دے رہے ہیں اسکی طرف بھی سر اٹھا کر دیکھ لیں شاید ضمیر انگڑائی لے لے.
*مشتری ہشیار باش*
آپ نے اکثر شرک سازوں سے سنا ہو گا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں کو *سجدہ گاہ* بنا لیا اسکے بعد وہ مسلمانوں پر یہود و نصاریٰ کی پیروی کا الزام لگاتے ہیں.
پہلے حدیث مبارکہ کے عربی الفاظ اور اسکا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں
"لَعْنَةُ الله على اليهود والنصارى، اتخذوا قبور أنبيائهم *مساجد*" متفق علیہ
’’یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو *مساجد* بنالیا۔‘‘
*یہود و نصاری نے قبروں کو مساجد بنا لیا..*
ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اپنی شرح بخاری میں فرماتے ہیں کہ یہود و نصاری اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں پر مسجدیں بناتے اور انکو قبلہ بنا کر انکی طرف نماز پڑھتے تھے.
عربی عبارت غور سے پڑھیں کہ انہوں نے *مساجد* بنا لیا... کیا یہ شرک ساز *مساجد* کا باقی جگہ بھی ترجمہ *سجدہ گاہ* ہی کرتے ہیں؟ یہاں لفظ مسجد کیوں استعمال نہیں کرتے؟.. کیونکہ مسجد کہیں تو سب کہیں گے کہ مسلمانوں نے تو قبروں کو مسجدیں نہیں بنایا... مگر سجدہ گاہ ترجمہ کر کے فراڈ کرنا ان شرک سازوں کو ہی زیب دیتا ہے. قبر یا غیر اللہ کو سجدہ کرنا بالاتفاق حرام ہے اور عبادت کی نیت سے صاف شرک ہے مگر جن کیفیات مثلاً قبر کو بوسہ دینے یا بغیر سجدہ کی حالت بنائے عقیدت یا محبت سے سر یا رخسار کو قبر سے مس کرنے کو بھی یہ شرک ساز *سجدہ* اور شرک تک بنا دیتے ہیں حتی کہ ایسی کیفیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے.
*شرک سازوں کے نزدیک*
*صحابی رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم شرک اور قبر کو سجدہ کے مرتکب ہوئے..*
حضرت داؤد بن صالح سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز خلیفہ مروان بن الحکم روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے اسے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ تو یہ کیا کر رہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ وہ *حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ* ہیں، انہوں نے جواب دیا :
نَعَمْ، جِئْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ لَمْ آتِ الْحَجَرَ.
’’ہاں (میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں)، میں اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں کسی *پتھر* کے پاس نہیں آیا۔‘‘
1. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 422
2. حاکم، المستدرک، 4 : 560، رقم : 8571
3. طبراني، المعجم الکبير، 4 : 158، رقم : 3999
امام احمد بن حنبل کی بیان کردہ روایت کی اِسناد صحیح ہیں۔ امام حاکم نے اسے شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام ذہبی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
*کیا فوت شدہ اور اہل قبور بتوں کی طرح بے شعور ہوتے ہیں؟*
وہابی حضرات اکثر بتوں اور پتھروں والی آیات اہل قبور پر لگاتے ہیں مگر تفسیر ابن کثیر جو انکے یہاں سب سے معتبر ہے سمیت اکابرین مفسرین میں سے کوئی بھی انکے اس مؤقف کی تائید نہیں کرتا. بتوں کے بارے میں نازل ہونے والی ایک آیت جو یہ لوگ شد و مد سے اہل قبور پر لگاتے ہیں اسکی تفسیر ملاحظہ کیجئے
أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
21 النحل
تفسير بن كثير
تفسیر ابن کثیر بمعہ شان نزول
وقوله : ( أموات غير أحياء ) أي : هي جمادات لا أرواح فيها فلا تسمع ولا تبصر ولا تعقل .
اللہ کا قول *(مردہ ہیں ان میں زندگی نہیں)*
: *"یہ پتھر ہیں ان میں روح نہیں، سن نہیں سکتے، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ شعور رکھتے ہیں"*
یہی تفسیر شان نزول کے مطابق سب امہات تفاسیر مثلا تفسیر طبری، قرطبی، جلالین وغیرہ میں بیان ہوئی ہے مگر وہابی اسے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام اور صالحین پر منطبق کرتے ہیں معاذاللہ.
اب ہم احادیث کی روشنی میں انکے گمراہ عقیدہ کی جانچ کرتے ہیں
حدیث پاک میں ہے کہ
"مردے کو اِس بات کی پہچان ہوتی ہے کہ اُسے کون غسل دے رہا ہے اور کون اس کو اُٹھا رہا ہے نیز اسے قبر میں کون اُتارتا ہے ۔" (مُسْنَد اِمام اَحمَد بن حنبل، حدیث 10997 )
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور لوگ اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اس وقت اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد آگے بڑھائے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے کہ ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس کی یہ آواز انسان کے سوا ہر اللہ کہ مخلوق سنتی ہے۔ کہیں اگر انسان سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔"
بخاری کتاب الجنائز.. حدیث 1316
نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے مقتول کافروں سے پکارکرفرمایا کہ "بولو میرے تمام فرمان سچے تھے یا نہیں"۔ فاروق اعظم نے عرض کیا کہ بے جان مردو مں سے آپ کلام کیوں فرماتے ہیں تو فرمایا "وہ تم سے زیادہ سنتے ہیں" ۔ (صحیح البخاری،کتاب الجنائز، باب فی عذاب القبر، الحدیث1370
*روح کا بدن میں لوٹایا جانا*
"قبر میں مردے کی روح اسکے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟"
ابوداؤد، حدیث 4753
*مردہ لواحقین کی جوتوں کی آواز سنتا ہے*
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفن کر کے اس کے لوگ پیٹھ موڑ کر رخصت ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے"
صحیح بخاری
كتاب الجنائز، حدیث نمبر: 1338
*سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا عقیدہ*
"حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں اس مکان میں جہاں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد گرامی مدفون ہیں جب داخل ہوتی تو یہ خیال کرکے اپنی چادر (جسے بطور برقع اوڑھتی وہ) اتار دیتی کہ یہ میرے شوہرِ نامدار اور والدِ گرامی ہی تو ہیں لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا تو اللہ کی قسم میں عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے بغیر کپڑا لپیٹے کبھی داخل نہ ہوئی۔‘‘
(مسند أحمد 25132،رجال الصحيح)
اس صحیح روایت سے عیاں ہے کہ اہل قبور صاحب شعور ہوتے ہیں اور قبر پر آنے والے کو دیکھتے پہچانتے بھی ہیں ورنہ امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بعد وفات پردہ کیا معنی رکھتا ہے.
*انبیاء کرام علیہم قبور میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں*
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی قبر کے پاس گذرا(تو میں نے دیکھا کہ)وہ اپنی قبر میںکھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے(صحیح مسلم ،کتاب الفضا ئل،باب من فضائل موسیٰ علیہ السلام ، حدیث :2375۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ:الانبیاء أحیاء فی قبورھم یصلون۔انبیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔
(حیاۃ الانبیاء للبیہقی،ص:70؍حدیث:1)
*قبر سے تلاوت کی آواز*
"عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے ، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ " تبارك الذي بيدہ الملك" پڑھ رہا تھا ، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا ، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے ۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ " تبارك الملك" پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ آپ نے فرمایا : "ہي المانعۃ ” یہ سورۃ مانعہ ہے ، یہ نجات دینے والی ہے ، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“
سنن ترمذی -کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل --- باب : سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان ۔حدیث نمبر: 2890
مندرجہ بالا سب روایات واضح کرتی ہیں کہ قبور اور اہل قبور کے بارے میں وہابیہ کا نظریہ کہ قبور بتوں کی مانند ہیں اور اہل قبور پتھروں کی طرح بے شعور ہیں بدعت اور گمراہی پر مبنی ہے مگر ڈھٹائی سے خوارج کی طرح بتوں والی آیات مسلمانوں اور اہل قبور پر چسپاں کر کے خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں.
No comments:
Post a Comment