قرآن کریم ارشاد ہے
مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(179) ترجَمہ:اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔(پ 4،اٰل عمرٰن:179)
وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(113) ( ترجَمہ: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113
اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں امام ابوجعفر محمد بن جریر طَبَری علیہ رحمۃ اللہ القَوی لکھتے ہیں: مِنْ خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِيْنَ، وَمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَكُلُّ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِِ اللّٰه عَلَيْك یعنی اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اوّلین و آخِرین کی خبریں دیں اور جو کچھ ہو چکا اور جو ہو گا اس سب کا علم عطا فرمادیا اور یہ سب کچھ آپ پر آپ کے ربّ کا فضل ہے۔(تفسیر طبری،4/275)
(تفسیر طبری اولین تفسیر ہے جس سے ابن کثیر وغیرہ نے نقل کیا ہے)
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(26) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(27) ترجَمہ: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرّر کر دیتا ہے۔ (پ 29، الجن:26-27)
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ جو اولین مفسرین میں سے ہیں اس آیت سے خاص قیامت کا علم مراد لیتے ہیں جو خاص غیوب میں سے ہے
وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(24) ترجَمہ:اوریہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30، التکویر:24)
اب سوال یہ ہے کہ جو غیب جانتا ہی نہیں اسکے بارے میں کہنا ہے کہ وہ غیب بتانے میں بخل یعنی کنجوسی نہیں کرتا کا کیا مطلب ہوا؟
اس طرح کی دیگر آیات مبارکہ بھی ہیں جن میں انبیاء کرام علیہم السلام کے علم غیب کا بیان ہے.
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جو علم اللہ نے دیا وہ غیب نہیں ہے لیکن قرآن تو اسے غیب ہی فرما رہا ہے آیات میں.
*نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے علم غیب کے بارے میں احادیث*
امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے درمیان کھڑے تھے تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے ہمیں مخلوق کی پیدائش سے بتانا شروع کیا حتّٰی کہ جنّتی اپنی مَنازِل پر جنّت میں داخل ہوگئے اورجہنمی جہنم میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے۔ جس نے اس بیان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا جو بھول گیا سو بھول گیا۔ (بخاری،ج2،ص375،حدیث:3192)
حضرت سیّدنا عَمرو بن اَخْطَب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:ایک دن نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نمازِ فجر سے غروبِِ آفتاب تک خطبہ ارشاد فرمایا، درمیان میں ظہر و عصر کی نمازوں کے علاوہ کوئی کام نہ کیا۔ حضرت عَمرو بن اَخْطَب فرماتے ہیں: فَاَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ یعنی جو کچھ ہو چکا تھا اور قیامت تک جو کچھ ہونا تھا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہ سب کچھ بیان فرمادیا۔ ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے جسے زیادہ یاد رہا۔(مسلم،ص1184،حدیث:7267)
مدینہ کے منافقوں نے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے علمِ پاک پر اعتراض کیا اور کہا کہ”ہم ان کے زمانے میں اِن کے ساتھ رہ کے انہیں دھوکہ دیتے ہیں اور یہ ہمیں نہیں پہچان پاتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قیامت تک کہ سارے لوگوں کی اصلیت کو جانتے ہیں”جب حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم تک یہ بات پہونچی تو کیا ہوا ،حدیث کی زبانی سنئے اور خود فیصلہ لیجئے کہ کیا اس حدیث کے بعد بھی مصطفیٰ جانِ رحمت کے علمِ غیب سے انکار کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے؟؟؟ پوری حدیث حاضر خدمت ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سورج ڈھلنے کے بعد باہر تشریف لائے اور ظہر کی نمازپڑ ھائی۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم منبر پر کھڑ ے ہو گئے اور قیامت کا ذکر فر مایا اوربتا یا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے معاملات ہوں گے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ:جس کو کسی چیزکے بارے میں پوچھنا ہو وہ پوچھ لے۔قسم بخدا،تم مجھ سے جس چیزکے بارے میں پوچھو گے میں اِسی جگہ رہتے ہوئے تمہیں اُس کے بارے میں بتا دوں گا،{صحیح مسلم کے حدیث نمبر :2360/میں یہ لفظ ہے کہ :حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فر مایا”سلونی عمّ شئتم “مجھ سے جو چا ہو پو چھو}تو لوگ رونے لگے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم بار بار فر ماتے رہےکہ”مجھ سے پوچھو”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پو چھا کہ:یا رسول اللہ!میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ:تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔پھر حضرت عبد اللہ بن حذافہ کھڑے ہوئے اور پوچھے کہ:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم!میرے باپ کون ہیں؟(انکے باپ کے بارے شک اور طعن کیا جاتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ:تمہارے باپ حذافہ ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فر ماتے ہیں کہ :پھر حضور بار بار فر مانے لگے کہ:مجھ سے پو چھو،مجھ سے پو چھو۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے اور عر ض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم!ہم اللہ کے رب،اسلام کے دین اور محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے رسول ہونے سے راضی اور خوش ہیں۔تب حضور صلی اللہ علیہ والہ و سلم خاموش ہوئے۔
(صحیح بخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب ما یکرہ من کثرۃ السوال،حدیث:7294۔صحیح مسلم،حدیث:2359)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ:رسول اللہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے مجھے قیامت تک ہونے والی تمام باتیں بتادی۔اور کوئی ایسی بات نہ رہی جس کے بارے میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے نہ پوچھا ہو،البتہ میں نے یہ نہ پوچھا کہ مدینہ میں رہنے والوں کو ،کون سی چیزمدینہ سے نکال دے گی۔
(صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب اخبار النبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم فیما یکون الی قیام الساعۃ،حدیث:2891)
یہ سب کوئی شرعی مسائل تو نہیں جو نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام سے پوچھے جا رہے ہیں بلکہ غیب کی خبریں ہیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے علم غیب کے بارے میں کیا تھا؟ کیا وہ موجودہ خوارج کی طرح اسے شرک سممجتے تھے؟
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے ہم میں آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون جا کر ملے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو گا۔ اب ہم نے لکڑی سے ناپنا شروع کر دیا تو سودہ رضی اللہ عنہا سب سے لمبے ہاتھ والی نکلیں۔ ہم نے بعد میں سمجھا کہ لمبے ہاتھ والی ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صدقہ زیادہ کرنے والی سے تھی۔ اور سودہ رضی اللہ عنہا ہم سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملیں ‘ صدقہ کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھا۔
بخاری شریف، حدیث نمبر 1420
اگر ازواج مطہرات کا یہ عقیدہ نہ ہوتا کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کو اللہ نے غیب کا علم علطا فرمایا ہے تو ایسا سوال کرنا جو کہ خاص پانچ غیب کی چیزوں میں سے ہے کیا معنی رکھے گا؟
حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی : لقد ترکنارسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وما یحّرک طائر جناحیہ فی السمّاء الّا ذکر لنا منہ علما۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس حال پر چھوڑا کہ ہوا میں کوئی پرندہ پَر مارنے والا ایسا نہیں جس کا علم حضور نے ہمارے سامنے بیان نہ فرمادیا ہو۔
( مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر غفار ی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت 5/153)
(مجمع الزوائد عن ابی الدرداء کتاب علامات النبوۃ باب فیما اوقی من العلم، الخ دارالکتاب 8 /246)
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
رایت ربی عزوجل فی أحسن صوره قال فیم یختصم الملاء الاعلی قلت أنت أعلم قال فوضع کفه بین کتفی فوجدت بردها بین ثدیی فعلمت ما فی السموات والارض وتلا وکذلک نری ابراهیم ملکوت السموات والارض ولیکون من الموقنین.
ترمذی، السنن، کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورۃ ص، 5 / 342، الرقم : 3233
’’میں نے اپنے عزت و جلال والے رب کو بہترین صورت میں دیکھا۔ اﷲتعالیٰ نے فرمایا عالم بالا کے فرشتے کسی بات میں جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی تو بہتر جانتا ہے پھر اس نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا پر میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ پھر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی، ’’ہم یونہی دکھاتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت کہ وہ یقین والوں میں سے رہیں۔ ‘‘
دوسری روایت میں ہے
فتجلّی لی کلَ شیئیٍ وعرفتُ
ترمذی، کتاب التفسیر القرآن، باب سورۃ، ص، الرقم : 3235
’’سو میرے لئے ہر شے روشن ہو گئی اور میں نے ہر چیز پہچان لی۔ ‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فر مایا کہ:کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں صرف اپنے سامنے دیکھتا ہوں؟قسم بخدا،مجھ پر تمہارے رکوع وسجود کی ظاہری حالت مجھ پر پو شیدہ رہتی ہے اور نہ ہی باطنی خشوع وخضوع،بے شک میں اپنے پیچھے سے تمہیں ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے سامنے سے۔
(بخاری،کتاب الاذان،باب الخشوع فی الصلاۃ،حدیث:741۔742۔مسلم،کتاب الصلاۃ،باب الامر بتحسین الصلاۃ واتمامھا والخشوع فیھا،حدیث:423۔424۔425)
طبرانی معجم کبیر اور نصیم بن حماد کتاب الفتن اور ابونعیم حلیہ میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ قدرفع لی الدنیا فانا انظر الیہا والٰی ما ھوکائن فیہا الٰی یوم القیامۃ کانمّا انظر الٰی کفی ھذہ جلیان من اﷲ جلاّہ لنبیّہ کما جلّاہ لنبیّن من قبلہ.
بے شک میرے سامنے اﷲ عزوجل نے دنیا اٹھالی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ، اس روشنی کے سبب جو اﷲ تعالٰی نے اپنے نبی کے لیے روشن فرمائی جیسے محمد سے پہلے انبیاء کے لیے روشن کی تھی۔صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
( حلیۃ الاولیاء ترجمہ 338 حدید بن کریب دارلکتاب العربی بیروت 4 /101)
(کنزالعمال حدیث 31810 و 31971 موسستہ الرسالہ بیروت 11 /378 و 620)
اس طرح کی احادیث کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن یہ چند ایک روایات ہیں جو نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام سے محبت رکھنے والے کے لیے کافی ہیں لیکن حجت باز یا ضدی لوگ تو کبھی نہیں مانتے اور وہ آیات اور احادیث جن میں نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے لیے ذاتی طور پر غیب جاننے کی نفی ہے بیان کر کر کے مسلمانوں کو زبردستی شرک کا الزام دیتے ہیں. جیسے مسلم شریف میں ایک روایت ہے کہ امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ جو یہ کہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کل کی بات جانتے ہیں اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا... اس روایت میں ذاتی طور پر جاننے کی نفی ہے نہ بالکل نہ جاننے کی ورنہ اوپر بیان کی گئی سب آیات اور احادیث کا انکار لازم آئے گا بلکہ خود امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام سے غیب کی باتیں روایت کرنا کہ کون کب مرے گا اور مستقبل میں کیا ہو گا کہ بہت سی روایات کا کیا بنے گا جبکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام جانتے ہی نہ تھے.
ایک اور بات یاد رکھیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کو کچھ چیزیں کچھ وقت کے لیے بھلا بھی دی جاتی تھیں انکے علم میں ہونے کے باوجود. اس میں مصلحت یہ تھی کہ اس بھول سے بہت سے نئے شرعی مسائل امت کی آسانی کے لیے اللہ پاک کی طرف سے بتا دئیے جاتے تھے جیسے سجدہ سہو، تیمم وغیرہ کے مسائل اور بعض اوقات کسی طرف توجہ نہ ہونا بھی ثابت ہے کہ ظاہر ہے نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام انسان تھے گو کہ سب انسانوں کے سردار لیکن خدا تو نہیں تھے جسے نیند یا اونگھ نہیں آتی یا بھول نہیں سکتا..
لیکن قرآن مجید اور صحیح احادیث میں آپ علیہ الصلوۃ و السلام کے علم کی جو وسعت ہے وہ واضح ہے جس کا انکار بدبخت ہی کرے گا.
No comments:
Post a Comment