امام بخاری رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں قول لائے ہیں جس میں ایک شخص سیدنا ابن عباس سے آکر کہتا ہے کہ معاویہ ایک وتر پڑھتے ھیں آپ انکے بارے میں کہا کہتے ھیں تو ابن عباس فرماتے ھیں کہ انکو چھوڑدو وہ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کے صحابی ہیں اور اسی کے بعد دوسری روایت میں کہا کہ انکو چھوڑدو وہ فقیہ ہے۔
۔ (صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی حدیث نمبر 3764، 3765)
یعنی انکے بارے میں اس طرح کے سوالات نہ کرو انکو نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کی صحبت کاشرف بھی حاصل ہے اور وہ خود بھی فقیہ ہے لہذا ان پر اعتراضات کرنا چھوڑدو وہ سنت کی مخالفت نہیں کرینگے۔
اس روایت کو لاکر امام بخاری نے قیامت تک آنے والے رافضیوں کے منہ بند کر دیے اور اھل بیت رضی اللہ عنہم کا عقیدہ بیان کردیا
بخاری شریف کے سب سے مستند شارح ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ھیں کہ:
تَنْبِيهٌ عَبَّرَ الْبُخَارِيُّ فِي هَذِهِ التَّرْجَمَةِ بِقَوْلِهِ ذِكْرُ وَلَمْ يَقُلْ فَضِيلَة وَلَا منقبة لكَون الْفَضِيلَة لاتؤخذ من حَدِيث الْبَاب لَان ظَاهر شَهَادَة بن عَبَّاسٍ لَهُ بِالْفِقْهِ وَالصُّحْبَةِ دَالَّةٌ عَلَى الْفَضْلِ الْكثير (فتح الباری 7-104 )
تنبیہ امام بخاری نے یہاں باب مٰن لفظ منقبۃ اور فضل کی جگہ ذکر کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ فضیلت حدیث باب سے نہیں لی جاتی اور کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنی کی سیدنا معاویہ کے بارے میں فقیہ اور صحابی ہونے کی گواہی بہت بڑی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لَكِنْ بدقيق نظره استنبط مَا يدْفع بِهِ رُؤُوس الرَّوَافِضِ (فتح الباری 7-104)
لیکن امام بخاری نے اپنی دقت نظری سے ایسا استنباط کیا ہے جس روافض کے سر دور ہوجاتے ہے۔
پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : أول جيش من أمتي يغزون البحر، قد أوجبوا ۔
ترجمہ : میری امت میں سے پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا انہوں نے (مغفرت و جنت کو) واجب کر لیا ۔ (صحيح البخاري : 410/1، ح : 2924 )
شارحِ صحیح بخاری حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ (852-773ھ) فرماتے ہیں : وقوله : قد أوجبوا، أى فعلوا فعلا، وجبت لهم به الجنة ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے فرمان کہ انہوں نے واجب کر لیا ، کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے وہ کارِ خیر سرانجام دیا ، جس کی بنا پر ان کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ (فتح الباري : 103/6)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنة ملحان، فاتكأ عندها، ثم ضحك، فقالت : لم تضحك يا رسول الله؟ فقال : ناس من أمتي يركبون البحر الـأخضر فى سبيل الله، مثلهم مثل الملوك على الـأسرة ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ایک دن (سیدہ ام حرام ) بنت ِ ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہاں ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ، (اسی حالت میں سو گئے) پھر آپ (بیدار ہوئے اور) مسکرائے ۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کیوں مسکرائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : میری امت میں کچھ لوگ جہاد کے لیے سبز سمندر میں سفر کریں گے ۔ وہ تختوں پر براجمان بادشاہوں کی طرح ہوں گے ۔ )صحيح البخاري : 403/1، ح : 2877، 2878)(صحيح مسلم : 142-141/2، ح : 1912)
صحیح مسلم میں ہے کہ اس سمندری جہاد کی سعادت و قیادت اور فضیلت بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی ۔ اس بات پر امت کا اجماع و اتفاق ہے کہ پہلا لشکر جس نے بحری جہاد کیا ، اس کے کمانڈر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس حدیث سے آپ رضی اللہ عنہ کی منقبت و فضیلت کو چار چاند لگ گئے ہیں ۔ ثابت ہوا کہ یقیناً آپ رضی اللہ عنہ کو جنت کی سند حاصل ہے ۔
امامِ اندلس علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ (463-368 ھ) فرماتے ہیں : وفيه فضل لمعاوية رحمه الله، إذ جعل من غزا تحت رايته من الـأولين ، ورؤيا الـأنبياء ، صلوات الله عليهم، وحي ۔
ترجمہ : اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے (بوحی الہٰی) ان کی کمان میں جہاد کرنے والوں کو اولین قرار دیا ہے اور انبیائے کرام علیہم السّلام کے خواب وحی ہی ہوتے ہیں ۔ (التمهيد لما فى المؤطإ من المعاني والأسانيد : 235/1 )
امام بخاری رحمہ اللہ نے جب اپنی شہرہ آفاق کتاب التاریخ الکبیر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ فرمایا تو سب سے پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا وہ قول پیش کیا جس میں وہ فرمارہے ہیں کہ میں نے معاویہ سے زیادہ کسی کو حکومت کے لئے مناسب نہیں دیکھا۔
پھر وہ حدیث ذکر کی جس میں ہے کہ نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا اللهمَّ عَلِّم مُعاوِيَةَ الحِسابَ، وقِهِ العَذابَ
اے اللہ معاویہ کو حساب سکھا اور عذاب سے بچا۔
پھر نبی علیہ الصلوۃ و السلام کی وہ حدیث ذکر کی جس میں ہے کہ نبی علیہ السلام نے سیدنا معاویہ کے بارے میں فرمایا اللهمَّ اجعَلهُ هادِيًا مَهدِيًّا، واهدِهِ، واهدِ بِهِ کہ اے اللہ اسکو رہنما بنا اور ھدایت یافتہ بنا اور اسکو ھدایت دے اور اسکے ذریعہ لوگوں کو ھدایت دے۔
پھر یہ حدیث ذکر فرمائی لاَ تَزالُ طائِفَةٌ مِن أُمَّتِي قائِمَةً عَلى أَمرِ اللهِ، أَو عَلى الحَقِّ، لاَ يَضُرُّهُم مَن خالَفَهُم، ولاَ يَنقُصُهُم مَن خَذَلَهُم، حَتَّى يَأتِيَ أَمرُ اللهِ، أَو حَتَّى تَقُومَ السّاعَةُ جسکو سیدنا معاویہ نبی کریم علیہ السلام سے روایت کرہے ہیں۔
پھر سیدنا عمیر بن سعید رضی اللہ عنہ کا قول ذکر فرمایا کہ لاَ تَذكُرُوا مُعاوِيَةَ إِلاَّ بِخَيرٍ، فَإِنِّي سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم يقولُ: اللهمَّ اهدِهِ کہ معاویہ کا ذکر صرف بھلائے کے ساتھ ہی کیا کرو کیونکہ میں نبی کریم علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے اللہ معاویہ کو ھدایت دے۔
پھر یہ حدیث ذکر فرمائی لاَ تَركَبُوا الخَزَّ، ولاَ النِّمارَ اسکو بھی سیدنا معاویہ نبی علیہ السلام سے روایت کرہے ھیں۔
اور امام ابن سیرین کا قول نقل فرمایا کہ كَانَ مُعاوِيَةُ لاَ يُتَّهَمُ فِى الحَدِيثِ عَن رَسُولِ اللهِ صَلى اللَّهُ عَلَيه وسَلم معاویہ نبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے حدیث بیان کرنے میں متھم نہیں ہیں (التاریخ الکبیر ت: 1405)
حضرت امام قاضی علی بن محمد بن ابی العز الدمشقی فرماتے ہیں
وأول ملوك المسلمين معاوية وهو خير ملوك المسلمين
حضرت امیر معاویہ پہلے مسلمان بادشاہ تھے اور مسلمان بادشاہوں میں سب سے بہترین بادشاہ تھے۔ شرح العقیدہ الطحاویہ صفحہ 722
یہ اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے جو حضرت امام طحاوی نے لکھا ہے پھر یہ بھی کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ کو خلافت سپرد کی اور بیعت بھی کی اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ ظالم بادشاہ ہوتے تو امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ بیعت نہ کرتے اور نہ ہی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تحفے قبول کرتے اگر رافضی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ظالم بادشاہ کہے گا تو وہ حسنین کریمین کے تعلق سے کیا کہے گا کہ انہوں نے بیعت کی تحفہ قبول کیے اور انکی سرپرستی میں جہاد میں شریک ہوئے اور دونوں خاندانوں میں رشتہ داریاں بھی ہوئیں
حضرت علامہ بدرالدین عینی اور حضرت علامہ علی قاری حنفی رحمہ اللہ کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں موقف۔
علامہ بدرالدین حنفی رحمہ اللہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ۔
والجواب الصحيح في هذا أنهم كانوا مجتهدين ظانين أنهم يدعونه إلى الجنة، وإن كان في نفس الأمر خلاف ذلك، فلا لوم عليهم في اتباع ظنونهم، فإن قلت: المجتهد إذا أصاب فله أجران، وإذا أخطأ فله أجر، فكيف الأمر ههنا. قلت: الذي قلنا جواب إقناعي فلا يليق أن يذكر في حق الصحابة خلاف ذلك، لأن اللہ تعالى أثنى عليهم وشهد لهم بالفضل، بقوله: {كنتم خير أمة أخرجت للناس} (آل عمران: 011) ، قال المفسرون: هم أصحاب محمد.
عمدۃ القاری۔۔جلد 4 ص۔۔308 تحت حدیث عمار
درست جواب یہ ہے کہ وہ سب صحابہ مجتھد تھے اوریہ گمان کرتے تھے کہ وہ سب جنت کی طرف بلانے والے ہیں. اگرچہ نفس الامرمیں اس سے خلاف ہو۔ ان کے اپنے گمان پر فیصلے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ہے(کیونکہ وہ تو متجھد تھے ۔۔انہوں نے اپنے علم اور سوچ پر عمل کیا)اگر توں یہ اعتراض کرے ۔۔مجتھد جب درست فتوی دے تو دو ثواب جب غلطی کرے تو ایک۔ یہاں کیسے یہ ہو سکتا ہے؟؟؟قلتُ۔میں کہتا ہوں یہ جواب کافی ہے۔اس پر گزارا کروں صحابہ کے حق میں اس کے خلاف بات ذکر کرنا اچھی بات نہیں۔کیونکہ ان کی تعریفیں تو رب تعالیٰ نے کی ہے اور ان کی فضیلتوں کی گواہی دی ہے۔۔فرمایا:۔۔تم لوگوں میں نکلنے والی بہترین امت ہو۔مفسرین فرماتے کنتم سے مراد آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے صحابہ ہیں۔
(اتهموا رأيكم) ، قال ذلك يوم صفين، وكان مع علي، رضي الله تعالى عنه، يعني: اتهموا رأيكم في هذا القتال، يعظ الفريقين، لأن كل فريق منهما يقاتل على رأي يراه واجتهاد يجتهده
عمدۃ القاری۔۔جلد 15 ص 130۔
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جب صفین میں نہ گئے لوگوں نے اعتراض کیا تو فرمایا:۔اس جنگ کے معاملے میں اپنی رائے اپنے پاس رکھو۔ یہ صفین کے دن فرمایا اور آپ مولا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔اور واپس آگئے۔(عینی فرماتے ہیں) آپ نے دونوں فریقین کو نصیحت کی اس لیے کہ دونوں فریق اپنی اپنی رائے کے مطابق اور اپنے اجتھاد کے مطابق عمل کر رہے تھے
حضرت ملاعلی قاری حنفی مکی رحمہ اللہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
ولعل المراد بهذه الفتنة الحرب التي وقعت بين أمير المؤمنين علي - رضي الله عنه - وبين معاوية - رضي الله عنه
ولا شك أن من ذكر أحدا من هذين الصدرين وأصحابهما يكون مبتدعا ; لأن أكثرهم كانوا أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - اهـ.
وقد قال - صلى الله عليه وسلم: " «إذا ذكر أصحابي فأمسكوا» " أي: عن الطعن فيهم، فإن رضا الله تعالى في مواضع من القرآن تعلق بهم، ا بد أن يكون مآلهم إلى التقوى ورضا المولى وجنة المأوى، وأيضا لهم حقوق ثابتة في ذمة الأمة، فلا ينبغي لهم أن يذكروهم إلا
بالثناء الجميل والدعاء الجزيل، الخ
شاید اس فتنے سے مراد وہ جنگ تھی امیر المومنین مولا علی اورا میر معاویہ رضی اللہ عنھما کے درمیان واقع ہوئی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ جو ان دونوں گروہوں کے سرداروں اور ساتھیوں کے بارے منفی بات کرے گا وہ بدعتی (بدمذہب ) ہے کیونکہ ان دونوں گروہوں کے اکثر لوگ آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے صحابہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا فرمان ہے:جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ (منہ بند رکھو)۔۔یعنی ان پرر طعم کرنے سے رک جاؤ کیونکہ قرآن کریم میں ان اصحاب کے لیے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہے تو ضروری طور پر ان کا انجام تقوی،رب تعالیٰ کی رضااور جنت ماؤی ہے۔۔اور اس کے ساتھ امت پر بھی ان کے حقوق ثابت ہیں۔۔تو جائز نہیں کسی کے لیے کہ ان کا ذکر کرے مگر فضائل ،تعریفات اور دعاؤں کے ساتھ۔
اس ساتھ تقریبا دو صفحات اور پچاس سے زائد سطروں میں اپنا عقیدہ بیان کیا۔طوالت کی وجہ سے خلاصہ درج کیا ہے .
دونون گروہ مجتھد تھے، حق مولا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اورامیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجتھادی خطا ہوئی۔
کوئی عالم ،ولی حتی کہ عمر بن عبدالعزیز بھی سیدنا امیر معاویہ کے برابر نہیں ہوسکتے ۔
جو ان پر شتم کے ذریعے یا غیبت کے ساتھ زبان چلائے یا جو ان کو مارنے کا قصد کرنے ۔اس کے اور ان کافرون کے کاموں میں کوئی فرق نہیں جنھوں نے صحابہ سے جنگ کی۔
ان پر طعن سے زبان کو روکا جائے گا ۔۔کیونکہ دونوں مجتھد تھے۔مسلمانوں کے لیے نفع مند یہی ہے کہ وہ ان کے معاملے میں نہ پڑے۔
عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں۔اللہ نے ان کے خون سے ہمارے ہاتھ بچائے ہیں تو۔ہم اپنی زبانوں کو ان معاملات کے ذکر سے پاک رکھے گے
قال نووی:بعض حق پر تھے۔بعض خطا پر۔۔اور وہ خطا میں معذور تھے۔کیونکہ سب اجتھاد کی وجہ سے تھا۔۔مجتھد ہی خطا پر اسے گناہ نہیں ملتا۔۔الخ۔
مرقاۃ جلد 10 ص 31۔۔۔۔حدیث5401
عَن زفر أن الإمام سُئل عَن عَلي وَمَعاوية وَقتلى صفين، فقال: ((إذاقدمت عَلى الله يَسألني عَما كلفني وَلاَ يَسألني عَن أمورهم)).
وروي أنه قالَ: ((تلكَ دماء طهّرَ اللهُ مِنْها سناتنا (1) أفلاَ نطهر مِنها لسَاننا؟!)) (2) وَفي روَاية قرأ تلك الآية (3).
شَمُّ العَوارِضِ في ذمِّ الرُّوَافِضِ ص66
امام زفر سے مروی ہےکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے مولا علی،امیر معاویہ اور شہدا صفین کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا: جب میں اللہ کی بارگاہ میں جاؤ گا تو اللہ مجھ سے ان امور کے متعلق پوچھے گا۔جن کا میں مکلف ہوں. وہ مجھ سے صحابہ کے معاملات کے بارے میں سوال نہ کرے گا
اور فرمایا کہ ان کے خون سے اللہ نے ہمارے نیزے محفوظ رکھے تو کیوں نہ ہم ان کے خون سے اپنی زبانوں کو پاک رکھے
فلایدل علی عدم صحۃ خلافتہ ولا علی تضلیل مخالفیہ فی ولایتہ اذ لم یکن ذلک عن نزاع فی حقیۃ امارتہ بل کان عن خطا فی اجتھادھم حیث انکروا علیہ ترک القود من قتلۃ عثمان رضی اللہ عنہ ۔والمخطی فی الاجتھاد لا یضل ولا یفسق علی ماعلیہ الاعتماد
شرح فقہ الاکبر ص114 مکتبہ المدینہ
پس یہ (فتنہ قتل عثمان )مولا علی کی خلافت کے درست نہ ہونے پر بھی دلالت نہیں کرتا ۔۔اور۔۔نہ ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کے مخالف گمراہی پر تھے۔۔۔کیونکہ یہ معاملہ حکومت کی طلب کے لیے نہیں تھا۔۔یہ ان کی اجتھادی خطا تھی جو انہوں نے قتل عثمان کا قصاص نہ لینے پر حضرت علی کی خلافت کا انکار کیا۔۔۔۔۔اوراجتھاد میں خطا کرنے والے پر معتمد قول کے مطابق گمراہیت اور فسق کا حکم نہیں لگتا.
حضرت امام نسائی فرماتے ہیں
سئل أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ النَّسَائي عَنْ معاوية بْن أَبي سفيان صاحب رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ: إنما الإسلام كدار لها باب، فباب الإسلام الصحابة، فمن آذى الصحابة إنما أراد الإسلام، كمن نقر الباب إنما يريد دخول الدار، قال: فمن أراد معاوية فإنما أراد الصحابة
‘ اسلام کی مثال گھر کی ہے جس کا دروازہ ہے ,صحابہ کرام اسلام کا دروازہ ہیں جو کوئی صحابہ کو ایذا پہنچاتا ہے اس کا ارادہ اسلام کو ہدف بنانے کا ہے جیسے کوئی گھر کا دراوازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ گھر میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اسی طرح جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرتا ہے وہ صحابہ کرام پر اعتراض کا ارادہ رکھتا ہے
تہذیب الکمال فی اسماء الرجال جلد 1 صفحہ339،340
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی عبارت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے فرماتے ہیں
‘حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق فقیر کی جانب سے کوئی سست باتیں نہیں ہوئیں ہیں ،اگر تحفہ اثنا عشریہ میں ملتی ہیں تو وہ کسی نے مکر وفریب سے فتنہ انگیزی کے لئے یہ کام کیا ہوگا کیونکہ زامنہ قدیم سے رافضیوں کا یہ ہی طریقہ کار ہے جیسا کے بندہ نے بھی سنا ہے کہ الحاق شروع ہوچکا ہے اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور یہ اعتراضیہ جملے معتبر نسخوں میں نہیں پائے جاتے"
حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ بھائی بھائی۔یہ بات امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے بتائی
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے رافضی امیج بناتے ہیں کہ معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا دشمن کہتے تھے جبکہ انہیں رافضیوں کے معتبر ترین اماموں میں عبد اللہ بن جعفر حمیری نے اپنی کتاب قرب الاسناد میں لکھا ہے
‘ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے مد مقابل {حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ} اور ان کے ساتھیوں میں سے کسی کو مشرک یا منافق نہیں کہتے تھے لیکن یو فرمایا کرتے تھے کہ وہ ہمارے بھائی تھے ان سے زیادتی ہوگئی
قرب الاسناد صفحہ 94
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’جاننا چاہئے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنهم ایک شخص تھے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے اور زمرہ صحابہ رضوان اللہ علیہم میں بڑے صاحب فضیلت تھے تم کبھی اُن کے حق میں بد گمانی نہ کرنا اور ان کی بد گوئی میں مبتلا نہ ہونا ورنہ تم حرام کے مرتکب ہوگے’ ۔۔
ازالۃ الخفاء جلد اول صفحہ 349
حضرت شاہ ولی اﷲ رحمتہ اﷲ علیہ نے لکھا ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو ہدایت یافتہ اور ذریعہ ہدایت فرمایا اس لئے کہ انہوں نے مسلمانوں کا خلیفہ بننا تھا اور نبی امت پر شفیق ہے ۔ (ازالۃ الخلفاء ‘ ج 1ص 573)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بالجملہ ہم اہلِ حق كے نزدیک حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے جو نسبت ہے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنه کو امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا و مولانا علی المرتضی كرم الله تعالى وجهه الاسنی سے ہے کہ :
فرق مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار مگر معاویہ بھی ہمارے سردار طعن ان پر بھی کار فجار
جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں عیاذ باﷲ حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کے سبقت و اوّلیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی اور جو حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کی محبت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت و نسبت بارگاہ حضرت رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی ہے یہی روش آداب بحمد ﷲ تعالٰی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے ـ (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 201 قدیم ایڈیشن)،(فتاویٰ رضویہ، جلد10، صفحہ199، مطبوعہ رضا فاؤبڈیشن لاھور)
No comments:
Post a Comment