مستدرک حاکم کی 13 روایات کا تحقیقی جائزہ 🔴*
مرزا جہلمی اور اس کے مقلدین مستدرک حاکم کی یہ 13 روایات پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں اور کہتے ہیں حجر ابن عدی کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ظلماً شہید کروایا
ان 13 روایات میں 10 دس روایات ضعیف ہیں اور باقی 3 صحیح روایات مرزا کے دعوی پر پوری نہیں اترتیں
🔴 پہلی روایت (مستدرک حاکم 5972)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، حَدَّثَنِي مَوْلَى زِيَادٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي زِيَادٌ إِلَى حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ وَيُقَالُ فِيهِ: ابْنُ الْأَدْبَرِ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ، ثُمَّ أَعَادَنِي الثَّانِيَةَ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، إِنِّي أُحَذِّرُكَ أَنْ تَرْكَبَ أَعْجَازَ أُمُورٍ هَلَكَ مَنْ رَكِبَ صُدُورَهَا.
زیاد کے آزادکردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ مجھے زیادنے حضرت حجر بن عدی کی جانب ان کو بلانے کے لئے بھیجا ، ان کو’ابن ادبر کہا جا تا تھا۔ حضرت حجر نے آنے سے انکار کر دیا۔ زیاد نے دوسری مرتبہ بھیجا لیکن انہوں نے اس باربھی آنے سے منع کر دیا۔ اس نے تیسری مرتبہ یہ کہ کر بھیجا کہ تم ایسے امور کی دم کے پیچھے پڑنے سے باز آ جاؤ جن امور کے سینوں پر سوار ہونے والے بھی ہلاک ہو گئے ۔
یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں محمد بن الزبیر الحنظلی متروک ہے اور مولی زیاد مجہول ہے
🔴 دوسری روایت (مستدرک حاکم 5973)
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبَى بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عُلَاثَةَ قَالَ: رَأَيْتُ حُجْرَ بْنَ الْأَدْبَرِ حِينَ أَخْرَجَ بِهِ زِيَادٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَرِجْلَاهُ مِنْ جَانِبٍ وَهُوَ عَلَى بَعِيرٍ.
زیاد بن علاثہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت حجر بن ادبر کو دیکھا جب زیاد نے ان کوحضرت معاویہ کی جانب بھیجا۔ (ان کی کیفیت یہ تھی کہ ان کو اونٹ کے ساتھ ایک جانب باندھا گیا تھا اوران کے پاؤں ایک جانب لٹک رہے تھے۔
یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں سلیمان بن مہران الاعمش مدلس ہیں عن سے بیان کر رہے ہیں اور سماع کی صراحت موجود نہیں
🔴 تیسری روایت (مستدرک حاکم 5974)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ الْكِنْدِيُّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَ قَدْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ- وَشَهِدَ الْقَادِسِيَّةَ، وَشَهِدَ الْجَمَلَ، وَصِفِّينَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَتَلَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبَى سُفْيَانَ بِمَرْجِ عَذْرَاءَ، وَكَانَ لَهُ ابْنَانِ: عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَتَلَهُمَا مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ صَبْرًا، وَقُتِلَ حُجْرٌ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَخَمْسِينَ.
مصعب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں حجر بن عدی کندی کی کنیت ’’ابوعبد الرحمن‘‘ تھی ۔ آپ رسول اللہ کی بارگاہ میں آۓ تھے، جنگ قادسیہ، جنگ جمل اورصفین میں حضرت علی رض کے ہمراہ شریک ہوۓ تھے ۔ معاویہ بن ابوسفیان رض نے ان کو مقام ’’ مرج عذراء‘‘ پر شہید کیا ،ان کے دو بیٹے تھے ،عبداللہ اور عبدالرحمن ۔ان دونوں کو مصعب بن عمیر نے باندھ کر شہید کیا تھا ۔ حضرت حجر بن عدی با ۵۳ ہجری میں شہید ہوۓ ۔
یہ روایت سخت منقطع ہے
امام مصعب بن عبداللہ الزبیری 156 ہجری میں پیدا ہوئے ہیں اور حجر بن عدی کا قتل 51 ہجری میں ہوا یعنی حجر ابن عدی کے قتل کے 105 سال بعد امام مصعب بن عبداللہ الزبیری پیدا ہوئے اور اس روایت میں امام مصعب بن عبداللہ الزبیری اور حجر ابن عدی کے درمیان سند موجود نہیں
🔴 چوتھی روایت (مستدرک حاکم 5976)
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: رَأَيْتُ حُجْرَ بْنَ عَدِيٍّ وَهُوَ يَقُولُ: أَلَا إِنِّي عَلَى بَيْعَتِي لَا أَقِيلُهَا، وَلَا أَسْتَقِيلُهَا سَمَاعَ اللَّهِ وَالنَّاسِ.
ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے حجر ابن عدی کو دیکھا ہے وہ اللہ تعالی اور لوگوں کو گواہ بناتے ہوۓ کہہ رہے تھے خبر دار! میں اپنی بیعت پر قائم ہوں نہ میں نے اس کوتوڑا ہے اور نہ توڑنے کی خواہش رکھتا ہوں۔
یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں سفیان ثوری مدلس ہیں اور عن سے بیان کر رہے ہیں اور سماع کی صراحت موجود نہیں
🔴 پانچویں روایت (مستدرک حاکم 5978)
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِي، بِبَغْدَادَ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرِيدِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبَى شَيْخٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا أَبُو مِخْنَفٍ، أَنَّ هَدِيَّةَ بْنَ فَيَّاضٍ الْأَعْوَرَ، أُمِرَ بِقَتْلِ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ، فَمَشَى إِلَيْهِ بِالسَّيْفِ، فَارْتَعَدَتْ فَرَائِصُهُ، فَقَالَ: يَا حُجْرُ، أَلَيْسَ زَعَمْتَ أَنَّكَ لَا تَجْزَعُ مِنَ الْمَوْتِ، فَإِنَّا نَدَعُكَ فَقَالَ: وَمَا لِي لَا أَجْزَعُ، وَأَنَا أَرَى قَبْرًا مَحْفُورًا، وَكَفَنًا مَنْشُورًا، وَسَيْفًا مَشْهُورًا، وَإِنَّنِي وَاللَّهِ لَنْ أَقُولَ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ قَالَ: فَقَتَلَهُ وَذَلِكَ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ.
ابومخنف فرماتے ہیں: ہدیہ بن فیاض اعور کو حکم دیا گیا کہ حجر بن عدی کوقتل کردو، وہ اپنی تلوار لے کر ان کی جانب بڑھا، تو حجر پر کپکپی طاری ہوگئی ، ہدیہ بن فیاض نے کہا: کیا تم یہ دعوی نہیں کیا کرتے تھے کہ تم موت سے نہیں گھبراتے ہو؟ تا کہ ہم تجھے چھوڑ دیں ۔ حجر نے کہا: میں کیوں نہ گھبراؤں کہ مجھے کھودی ہوئی قبر نظر آ رہی ہے، مجھے بکھرا ہوا کفن دکھائی دے رہا ہے، اورتلوار سونتی ہوئی نظر آ رہی ہے ۔ اور خدا کی قسم! میں وہ بات ہر گز نہیں کہہ سکتاجو اللہ تبارک وتعالی کو ناراض کر دے ۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد ہدیہ بن فیاض نے اس کو شہید کر دیا۔ یہ واقعہ شعبان کے مہینے میں ۵۱ ہجری کا ہے ۔
یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں ابومخنف لوط بن یحیی رافضی کذاب راوی ہے محدثین کی ابومخنف پر شدید جرح موجود ہے محدثین اس کو کذاب اور رافضی کہا ہے
🔴 چھٹی روایت (مستدرک حاکم 5979)
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ: لَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا، وَلَا تُطْلِقُوا عَنِّي قَيْدًا، وَادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي فَإِنَّا نَلْتَقِي غَدًا بِالْجَادَّةِ.
محمد بن سیرین فرماتے ہیں: حجر بن عدی نے فرمایا: تم میراخون نہ دھونا ، اور نہ ہی میری بیڑیاں اتارنا اور مجھے میرے انہی کپڑوں میں دفن کرنا ، کیونکہ کل ہماری ملاقات اپنے نظریے پر قائم رہتے ہوۓ ہوگی ۔
یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں اشعث بن سوار ضعیف راوی ہے
یہاں ایک وضاحت ضروری ہے امام طبری نے اس روایت کی ایک سند بیان کی ہے لیکن اس میں بھی ھشام بن حسان کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے
(تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 256)
🔴 ساتویں روایت (مستدرک حاکم 5981)
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ زِيَادًا، أَطَالَ الْخُطْبَةَ، فَقَالَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ: الصَّلَاةَ، فَمَضَى فِي خُطْبَتِهِ، فَقَالَ لَهُ: الصَّلَاةَ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَصَى، وَضَرَبَ النَّاسُ بِأَيْدِيهِمْ إِلَى الْحَصَى، فَنَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ كَتَبَ فِيهِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ: أَنْ سَرِّحْ بِهِ إِلَيَّ، فَسَرَّحَهُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنَا؟ إِنِّي لَا أُقِيلُكَ، وَلَا أَسْتَقِيلُكَ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَلَمَّا انْطَلِقُوا بِهِ طَلَبَ مِنْهُمْ أَنْ يَأْذَنُوا لَهُ، فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، فَأْذِنُوا لَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُطْلِقُوا عَنِّي حَدِيدًا، وَلَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا، وَادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ قَالَ: فَقُتِلَ.
محمد بن سیرین فرماتے ہیں: زیاد نے خطبہ لمبا کر دیا تو حجر بن عدی نے کہا: نماز کا وقت ہو چکا ہے۔ لیکن زیاد نے اپنا خطبہ جاری رکھا ، حضرت حجر نے دوبارہ کہا کہ نماز کا وقت ہو چکا ہے اور ساتھ اپنا ہاتھ زمین پر مارا، ساتھ ہی دوسرے لوگوں نے بھی ہاتھ زمین پر مارے۔ زیاد منبر سے نیچے اترا اور نماز پڑھا دی اور حجر کے بارے حضرت معاویہ کی جانب خط لکھا، سیدنا معاویہ رض نے جوابی مکتوب میں لکھا کہ ان کو میرے پاس بھیج دو، زیاد نے ان کو سیدنا معاویہ رض کے پاس بھیج دیا ، جب حجر بن عدی سیدنا معاویہ رض کے پاس پہنچے، تو کہا: السلام علیک یا امیرالمومنین ساتھ ہی فرمایا: اور امیر المؤمنین تو میں خود ہوں ۔ میں نہ تجھ سے کوئی بات کروں گا اور نہ تیری سنوں گا ۔ سیدنا معاویہ رض نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ جب ان کوقتل کے لئے لے کر جار ہے تھے تو انہوں نے نماز پڑھنے کے لیے کچھ دیر مہلت کا مطالبہ کیا ان کو مہلت دی گئی ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی پھر فرمایا: میری بیڑیاں مجھ سے نہ اتارنا اور نہ ہی میرے جسم سے میراخون دھونا ، مجھے میرے انہی کپڑوں میں کفن دینا، کیونکہ ( کل قیامت کے دن میراتمہارے ساتھ جھگڑا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد اس کو قتل کر دیا گیا۔ ہشام کہتے ہیں محمد بن سیرین سے جب بھی شہید کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ حجر والا واقعہ سنایا کرتے تھے
یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں ھشام بن حسان مدلس ہیں عن سے بیان کر رہےہیں
🔴 آٹھویں روایت (مستدرک حاکم 5982)
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا مَخْشِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ- خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ: " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ قَالَ: " فَأَيُّ شَهْرٍ؟ " قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، كَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
مخشی بن حجر بن عدی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ کون سادن ہے ؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا دن ہے۔ آپ نے پوچھا: یہ شہر کون ساشہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والاشہر ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون سامہینہ ہے ؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اس طرح حرام ہیں، جیسے آج کے دن کی حرمت ہے، جیسے اس مہینے کی حرمت ہے، جیسے اس شہر کی حرمت ہے ۔ تم میں سے جولوگ اس وقت یہاں موجود ہیں ان کو چاہئے کہ یہ باتیں ان لوگوں تک بھی پہنچا دیں جو اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں ۔ تم میرے بعد کفر میں مت لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔
یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں عباد بن عمر لکھا اصل میں میں یہ عبادہ بن عمر ہے یہ مجہول راوی ہے
اس روایت میں مخشی بن حجر بن عدی لکھا ہے ہالانکہ مخشی بن حجر کوئی راوی نہیں ہے یہ مخشی بن حجیر ہے اس کا کوئی پتا نہیں یہ کون ہے
مخشی بن حجیر کو مخشی بن حجر بن عدی لکھنا یہ امام حاکم کی خطاء ہے
اور یہ خطاء الحاکم کے رجال پر جو کتاب لکھی گئی اس میں یہ بیان کیا ہے کہ مخشی بن حجیر کو امام حاکم نے حجر بن عدی کے ترجمے میں ذکر کیا ہے لیکن امام طبرانی رح اور امام حجر رح کو اس خطاء کا پتا چل گیا انہوں نے اس کو حجیر نامی صحابی کے ترجمے میں ذکر کیا ہے لہٰذا حجر بن عدی اور ہے اور حجیر اور ہیں
(الرجال الحاکم جلد 2 صفحہ 318)
🔴 نویں روایت (مستدرک حاکم 5983)
سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ قُتَيْبَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: قَدْ أَدْرَكَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ الْجَاهِلِيَّةَ، وَأَكَلَ الدَّمَ فِيهَا، ثُمَّ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ- وَسَمِعَ مِنْهُ، وَشَهِدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْجَمَلَ، وَصِفِّينَ، وَقُتِلَ فِي مُوَالَاةِ عَلِيٍّ.
ابراہیم بن یعقوب فرماتے ہیں کہ حجر بن عدی نے زمانہ جاہلیت بھی پایا ، اس زمانے میں خون بھی کھایا، پھر رسول اللہ ﷺ کی صحبت بھی پائی ، آپ ﷺ سے دین کے احکام بھی سنے ۔ حضرت علی رض کے ہمراہ جنگ جمل اورسفین میں شریک بھی ہوۓ ،اور حضرت علی رض کے وفاداروں میں شہید ہوۓ
یہ روایت سخت منقطع ہے
ابراہیم بن یعقوب سے حجر بن عدی کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے ان دونوں کے درمیان سند موجود نہیں
🔴 دسویں روایت (مستدرک حاکم 5984)
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- فَقَالَتْ: يَا مُعَاوِيَةُ، قَتَلْتَ حُجْرًا وَأَصْحَابَهُ، وَفَعَلْتَ الَّذِي فَعَلْتَ، وَذَكَرَ الْحِكَايَةَ بِطُولِهَا.
حضرت سعید بن مسیب،مروان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (مروان کہتا ہے کہ میں حضرت معاویہ کے ہمراہ ام المؤمنین حضرت عائشہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، ام المؤمنین نے کہا: تو نے حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا ہے اور ان کے ساتھ تم نے بہت زیادتی کی ہے، اس کے بعد راوی نے پورا قصہ بیان کیا ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے اس روایت میں علی بن زید بن جدعان سخت ضعیف راوی ہے
🔴 مستدرک الحاکم کی 13 روایات میں سے 3 صحیح روایات 🔴
🔴 گیارہویں روایت (مستدرک حاکم 5977)
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَهِشَامٌ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَبْدٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ زِيَادٌ بِحُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بِحَبْسِهِ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ: مَرْجُ عَذْرَاءَ، ثُمَّ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِيهِ قَالَ: فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: الْقَتْلَ الْقَتْلَ.
قَالَ: فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسَدٍ الْبَجَلِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْتَ رَاعِينَا وَنَحْنُ رَعِيَّتُكَ، وَأَنْتَ رُكْنُنَا وَنَحْنُ عِمَادُكَ، إِنْ عَاقَبْتَ قُلْنَا: أَصَبْتَ، وَإِنْ عَفَوْتَ قُلْنَا: أَحْسَنْتَ وَالْعَفْوُ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى، وَكُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ: فَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ قَوْلِهِ.
جب زیاد نے حجر ابن عدی کو گرفتار کرکے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو معاویہ رضی اللہ عنہ اس کو مرجع عذراء نامی جگہ پر قید کرنے کا حکم دیا اور لوگوں سے مشورہ کیا اور سارے لوگ کہنے لگے کہ اس فسادی کو قتل کرو عبداللہ بن زید بن اسد البجلی اٹھے اور کہا اے امیر المؤمنین آپ ہمارے حکمران ہیں اور ہم آپ کی رعایا اگر آپ اس کو سزا دیں تو ہم اس کو درست سمجھیں گے اور اگر آپ معاف کر دیں تو ہم اُسے بھی اچھا ہی سمجھیں گے میری رائے یہ ہے کہ اس کو معاف کر دیں معاف کرنا تقوی کے زیادہ قریب ہے لوگ ان یہ بات سن کر منتشر ہو گئے
🔴 بارہویں روایت (مستدرک حاکم 5980)
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَارِزِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ قَيْسٍ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ: مَا وَفَدَ جَرِيرٌ قَطُّ إِلَّا وَفَدْتُ مَعَهُ، وَمَا دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ إِلَّا دَخَلْتُ مَعَهُ، وَمَا دَخَلْنَا مَعَهُ عَلَيْهِ إِلَّا ذَكَرَ قَتْلَ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ.
ابو زرعہ بن عمرو بن جریر بیان کرتے ہیں جریر جب بھی سفر پر گئے میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہا ہوں اور وہ جب بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے میں ہمیشہ ان کے ہمراہ رہا ہوں اور ہم جب بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے حجر ابن عدی کے قتل کا تذکرہ ضرور ہوا
🔴 تیرہویں روایت (مستدرک حاکم 5975)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ لَيَالِي بَعْثِ حُجْرٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ جَعَلَ النَّاسُ يَتَحَيَّرُونَ وَيَقُولُونَ: مَا فَعَلَ حُجْرٌ؟ فَأَتَى خَبَرُهُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ مُخْتَبِئٌ فِي السُّوقِ، فَأَطْلَقَ حَبْوَتَهُ وَوَثَبَ، وَانْطَلَقَ فَجَعَلْتُ أَسْمَعُ نَحِيبَهُ، وَهُوَ مُوَلٍّ.
نافع فرماتے ہیں: جب حجر بن عدی کو سیدنا معاویہ رض کی جانب بھیجا جار ہاتھا ، لوگ بہت حیران تھے اور پوچھتے تھے کہ مجرم کا قصور کیا ہے؟ یہ خبر حضرت عبداللہ بن عمر رض تک پہنچی ، وہ اس وقت بازار میں کسی جگہ روپوش تھے، آپ نے روپوشی ختم کی اور لوگوں کے درمیان آگئے ۔ جب وہ واپس جار ہے تھے تو میں ان کی پھوٹ پھوٹ کر رونے کی آواز میں سن رہا تھا۔
اس روایت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ابن عمر رض حجر ابن عدی کے ظلماً شہید کیئے جانے پر روئے ہالانکہ یہ بات درست نہیں کیونکہ مستدرک حاکم 5977 نمبر روایت کو دیکھا جائے تو حجر ابن عدی کو لوگوں سے مشورے کے بعد ہی قتل کیا گیا وہ اتفاقی طور پر ایک فسادی آدمی تھا
No comments:
Post a Comment