Tuesday, 25 May 2021

اماموں کو انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ماننا کفر ہے

 سوال:

علامہ صاحب کیا واقعی شیعہ کتب میں لکھا ہے کہ انبیاء کرام سے بارہ امام افضل ہیں اور کیا یہ عقیدہ اہلسنت کے مطابق کفر ہے؟ نیز انبیاء کرام علیھم السلام کے افضل ہونے پر دلائل بھی ضرور ارسال فرمائیں

.

جواب:

جی ہاں شیعہ کی کتب میں یہ عقیدہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ ائمہ کرام بارہ امام تو تمام مخلوق ، تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں سوائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے...چند حوالہ جات درج ذیل ہیں:

إن النبي والأئمة الاثني عشري ع أفضل من سائر المخلوقات من الأنبياء والأوصياء السابقين والملائكة وغيرهم

بےشک نبی مکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور بارہ امام افضل ہیں انبیاء سے اوصیاء سابقین سے ملائکہ وغیرہ تمام مخلوقات سے

(شیعہ کتاب فصول مھمۃ1/403)

.

تفضيل الأئمة عليهم السلام بعد النبي صلى الله عليه وآله على جميع الخلق

نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد(انبیاء اولیاء وغیرہ)تمام مخلوق سے ائمہ( بارہ امام )افضل ہیں

(شیعہ کتاب بحار الانوار27/332)

.

أئمة عليهم السلام أفضل الخلق بعد رسول الله

نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد(انبیاء اولیاء وغیرہ)تمام مخلوق سے ائمہ(بارہ امام)افضل ہیں

(شیعہ کتاب حلیة الابرار2/397)

.

مسألة تفضيل الأئمة (عليهم السلام) على الأنبياء (عليهم السلام) هذه المسألة مطروحة في كتب أصحابنا

ائمہ کی انبیاء پر فضیلت، ہمارے اصحاب کی کتب(شیعہ کی کتب)اس مسلے سے بھری پڑی ہیں

(شیعہ کتاب تفضیل الائمۃ  ص7)

.=====================

انبیاء کرام علیھم السلام بےشک ائمہ صحابہ اہلبیت تمام مخلوق سے افضل ہیں چند دلائل درج ذیل ہیں:

اللہ کریم نے قرآن مجید میں کم و بیش بائیس انبیاء کرام کا ذکر فرمایا پھر فرمایا کہ:

القرآن:

کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی  الۡعٰلَمِیۡنَ

ترجمہ:

بے شک ہم نے ہر نبی کو تمام مخلوق پر فضلیت دی ہے

(سورہ انعام آیت86)

.

وَمِنَ الْأَحْكَامِ الْمُسْتَنْبَطَةِ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ: أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ يَجِبُ أَنْ يَكُونُوا أَفْضَلَ مِنْ كُلِّ الْأَوْلِيَاءِ، لِأَنَّ عُمُومَ قَوْلِهِ تَعَالَى: وَكلًّا فَضَّلْنا عَلَى الْعالَمِينَ يُوجِبُ ذَلِكَ

اس آیت مبارکہ سے ثابت ہونے والے احکام میں سے یہ ہے کہ لازم ہے کہ انبیاء علیہم السلام اولیاء پر فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی کے اس فرمان کا عموم یہ تقاضا کر رہا ہے 

[مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير ,13/53]

.


وفضلنا جميعهم على العالمين

اور ہم نے انبیاء کرام کو تمام مخلوق پر فضیلت دی ہے 

[تفسير الطبري = جامع البيان ,11/512]


وفيه دليل على فضلهم على من عداهم من الخلق

اس میں دلیل ہے کہ انبیائے کرام کو فضیلت ہے تمام مخلوقات پر 

[تفسير البيضاوي = أنوار التنزيل وأسرار التأويل ,2/171]

.

أنهم فضلوا على العالمين بالنبوة

انبیائے کرام علیہم السلام کو تمام مخلوق پر نبوت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے 

[تفسير الماتريدي = تأويلات أهل السنة ,4/154]

.

القرآن:

أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّالِحِينَ

اللہ نے جن پر فضل کیا یعنی انبیائے کرام صدیقین شہداء صالحین 

(سورہ نساء آیت69)

.

أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا ذَكَرَ مَرَاتِبَ أَوْلِيَائِهِ فِي كِتَابِهِ بَدَأَ بِالْأَعْلَى مِنْهُمْ وَهُمُ النَّبِيُّونَ

اللہ تعالی نے اس آیت میں اپنے پیاروں کے مراتب کا ذکر کیا ہے اور سب سے اعلیٰ و افضل سے ابتدا کی ہے اور وہ انبیاء ہیں 

[تفسير القرطبي ,5/273]

.

قسمهم أربعة بحسب منازلهم

اللہ نے اپنے پیاروں کو چار اقسام پر تقسیم کیا ہے ان کے مرتبےفضیلت  کے لحاظ سے(یعنی پہلا مرتبہ انبیاء کرام کا ہے پھر صدیقین کا ہے پھر شہداء کا پھر صالحین کا) 

[تفسير البيضاوي = أنوار التنزيل وأسرار التأويل ,2/82]

.========================

الحدیث:

حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم بن بهدلة، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، قال: قلت: يا رسول الله , اي الناس اشد بلاء؟ قال: " الانبياء، ثم الامثل، فالامثل،

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے اشد ابتلاء کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”انبیاء پر، پھر ان پر کم جو ان سے کم مرتبہ و فضیلت میں ہیں، پھر ان پر کم جو ان سے کم مرتبہ و فضیلت میں ہیں

امام ترمذی کہتے ہیں: 

 یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

(ترمذی حدیث2398 ابن ماجہ حدیث4023

صحیح ابن حبان حدیث2900

شیعہ کتاب وسائل الشیعہ3/262

شیعہ کتاب بحار الانوار74/142

شیعہ کتاب میزان الحکمۃ1/302

شیعہ کتاب الکافی2/252

شیعہ کتاب الفصول المھمۃ3/304

.

اس حدیث پاک میں واضح فرمان موجود ہے کہ انبیاء کرام علیھم السلام مخلوق میں سب سے افضل ہیں 

.

امام بخاری لکھتے ہیں

أَشَدُّ النَّاسِ بَلاَءً الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ

سب سے اشد ابتلاء انبیاء پر، پھر ان پر کم جو ان سے کم مرتبہ و فضیلت میں ہیں، پھر ان پر کم جو ان سے کم مرتبہ و فضیلت میں ہیں

(صحيح البخاري  قبل الحدیث5648)

۔

اس حدیث پاک میں الامثل کا لفظ آیا ہے جس جس کا معنی سنی شیعہ کتابوں میں افضل و اشرف ہے

أَيِ: الْأَفْضَلُ فَالْأَفْضَلُ

امثل سے مراد افضل ہے 

[حاشية السندي على سنن ابن ماجه ,2/490]

.

أي الأشرف فالأشرف والأعلى فالأعلى في الرتبة والمنزلة

امثل سے مراد یہ ہے کہ سب سے زیادہ شرف و فضیلت والا مرتبہ اور منزلت میں اعلی

شیعہ کتاب حاشية بحار الانوار74/142

.

الحدیث:

: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اخْتَارَ أَصْحَابِي عَلَى جَمِيعِ الْعَالَمِينَ , إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی نے تمام تمام مخلوق پر میرے صحابہ کو فضیلت دی ہے سوائے نبیوں کے اور رسولوں کے( یعنی نبی اور رسول تو صحابہ اہل بیت ائمہ وغیرہ سب مخلوق سے افضل ہیں )

(الشريعة للآجري حدیث1153)

[جامع الأحاديث حدیث36945]

[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد حدیث16383]

[كشف الأستار عن زوائد البزار حدیث2763]


رجالہ موثون

اس حدیث پاک کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں(لہذا یہ حدیث حسن صحیح ہے معتبر قابل حجت ہے )

[روضة المحدثين ,8/151]

.======================

وَلَا نُفَضِّلُ أَحَدًا مِنَ الْأَوْلِيَاءِ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ،

ہم اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ہم کسی بھی ولی کو کسی بھی نبی پر فضیلت نہیں دیتے 

[العقيدة الطحاوية مع الشرح ت الأرناؤوط2/741]


من فضل ولياً على نبي من الأنبياء فقد كفر؛ لأن هذا يخالف صريح القرآن وصريح السنة،

جس نے ولی کو کسی بھی نبی پر فضیلت دی تو بے شک اس نے کفر کیا کیونکہ اس کا یہ فعل صریح قرآن اور صریح سنت کے خلاف ہے 

[شرح الطحاوية - يوسف الغفيص ,29/6]

.

وأنه يكفر من قال: إن  الولي أفضل من النبي

اور بے شک اسکو کافر قرار دیا جائے گا جس نے کہا کہ ولی تو نبی سے افضل ہے

(اعلام بقواطع الاسلام ص203)


تفضيل الولي على النبي وهو  كفر جلي

ولی کو کسی بھی نبی پر فضیلت دینا واضح کفر ہے 

(تفسیر نسفی، تفسیر مدارک2/315)

.

مِنْ تَفْضِيلِ الْوَلِيِّ كُفْرٌ

ولی کو نبی پر فضیلت دینا کفر ہے 

(بریقہ محمودیہ1/207)

.

فَالنَّبِيُّ أَفْضَلُ مِنَ الْوَلِيِّ وَهُوَ أَمْرٌ مَقْطُوعٌ بِهِ عَقْلًا وَنَقْلًا وَالصَّائِرُ إِلَى خِلَافِهِ كَافِرٌ لِأَنَّهُ أَمْرٌ مَعْلُومٌ مِنَ الشَّرْعِ بِالضَّرُورَةِ

تو بےشک ہر نبی ولی سے افضل ہے اور یہ قطعی عقیدہ ہے عقلا اور منقولا ثابت ہے اور جو اس کے خلاف کہے،اسکے خلاف عقیدہ رکھے وہ کافر ہے کیونکہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے 

[فتح الباري لابن حجر ,1/221]

[شرح القسطلاني = إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري ,1/214]

[كوثر المعاني الدراري في كشف خبايا صحيح البخاري ,4/100

.


كَذَلِكَ نَقْطَعُ بِتَكْفِيرِ غُلَاةِ الرَّافِضَةِ فِي قَوْلِهِمْ: إِنَّ الْأَئِمَّةَ أَفْضَلُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ

اور اسی طرح ہم یقینی کافر جانتے ہیں اُن غالی رافضیوں کو جو ائمہ کو انبیاء سے افضل بتاتے ہیں

(شفاء شریف 2/616)

(شرح شفاءلملا علی قاری 5/442)

(نسیم الریاض4/156)

(فتاوی رضویہ14/262)

.

سوال:

یہ کیا کفر منافقت لگا رکھا ہے...فرقہ واریت غیبتیں مت پھیلاؤ، تم کون ہوتے ہو کفر گمراہ کہنے والے.....؟؟

.

الحدیث:

من كتم غالا فإنه مثله

ترجمہ:

جو(زندہ یا مردہ)غل کرنے والے(خیانت کرپشن کرنے والے، چھپکے سے کمی بیشی کرنے والے،کھوٹ و دھوکےبازی کرنے والے) کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اسی کی طرح(مجرم و گناہ گار) ہے

(ابو داؤد حدیث2716)

.

الحدیث:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أترعون عن ذكر الفاجر؟، اذكروه بما فيه يعرفه الناس

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کیا تم(زندہ یا مردہ) فاجر(فاسق معلن منافق ,بدعقیدہ ، کافر مرتد، خائن، دھوکے باز گمراہ بدمذہب) کو واضح کرنے سے ہچکچاتے ہو...؟

(جیسا وہ ہے ویسا کہنے سے گھبراتے ہو...؟؟)

اسے ان چیزوں(ان کفر گمراہیوں گستاخیوں کرتوتوں، عیبوں اعلانیہ گناہوں ، خیانتوں، منافقتوں دھوکے بازیوں) کے ساتھ واضح کرو جو اس میں ہوں تاکہ لوگ اسے پہچان لیں(اور اسکی گمراہی خیانت منافقت بدعملی دھوکے بازی مکاری سے بچ سکیں)

(طبرانی کبیر حدیث1010)

یہ حدیث پاک  کتبِ حدیث و تفاسیر اور فقہ و تصوف کی کئی کتب میں موجود ہے... مثلا جامع صغیر، شعب الایمان، احیاء العلوم، جامع الاحادیث، کنزالعمال، کشف الخفاء ردالمحتار ، عنایہ شرح ہدایہ، فتاوی رضویہ، تفسیر ثعالبی، تفسیر درمنثور وغیرہ کتب میں موجود ہے

.


القرآن..ترجمہ:

حق سے باطل کو نا ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ

(سورہ بقرہ آیت42)

.

حدیث پاک کے مطابق:

عدل.و.حق کی بات کہنا افضل جھاد ہے..

(ابوداؤد حدیث نمبر4344)

.

الحدیث..ترجمہ:

تکبر تو یہ ہے کہ حق کی پرواہ نا کی جاے, حق ٹھکرایا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جاے..

(صحیح مسلم حدیث نمبر147)

.

الحدیث..ترجمہ:

خبردار...!!جب کسی کو حق معلوم ہو تو لوگوں کی ھیبت

(رعب مفاد دبدبہ خوف لالچ) اسے حق بیانی سے ہرگز نا روکے

(ترمذی حدیث2191)

.

الحدیث.. ترجمہ:

حق کہو اگرچے کسی کو کڑوا لگے

(مشکاۃ حدیث5259)

.


لیھذا ایسوں کے عیوب مکاریاں منافقتیں خیانتیں دھوکے بازیاں کفر گمراہیاں گستاخیاں بیان کرنا برحق ہے لازم ہے اسلام کا حکم ہے، یہ ذمہ داری ہے جو اسلام نے دی ہے باشعور وسیع القلب اہل استنباط علماء کو...یہ عیب جوئی نہین..... غیبت نہیں، ایسوں کی پردہ پوشی کرنا جرم ہے... یہ فرقہ واریت نہین، یہ حسد نہین.... بغض نہیں بلکہ حق کی پرواہ ہے اسلام کے حکم کی پیروی ہے...

 ہاں حدیث پاک مین یہ بھی واضح ہے کہ وہ عیوب، وہ خیانتیں، وہ دھوکے بازیاں وہ کرتوت وہ کفر و گمراہیاں وہ گستاخیاں بیان کیے جائیں جو اس مین ہوں...جھوٹ و الزام تراشیاں ٹھیک نہیں......!!

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر القادری

No comments:

Post a Comment